Yusuf( يوسف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ المُبينِ(1)
ا، ل، ر یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتی ہے(1)
إِنّا أَنزَلنٰهُ قُرءٰنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُم تَعقِلونَ(2)
ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم (اہل عرب) اس کو اچھی طرح سمجھ سکو(2)
نَحنُ نَقُصُّ عَلَيكَ أَحسَنَ القَصَصِ بِما أَوحَينا إِلَيكَ هٰذَا القُرءانَ وَإِن كُنتَ مِن قَبلِهِ لَمِنَ الغٰفِلينَ(3)
اے محمدؐ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزو ں سے) تم بالکل ہی بے خبر تھے(3)
إِذ قالَ يوسُفُ لِأَبيهِ يٰأَبَتِ إِنّى رَأَيتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوكَبًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ رَأَيتُهُم لى سٰجِدينَ(4)
یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا "ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں"(4)
قالَ يٰبُنَىَّ لا تَقصُص رُءياكَ عَلىٰ إِخوَتِكَ فَيَكيدوا لَكَ كَيدًا ۖ إِنَّ الشَّيطٰنَ لِلإِنسٰنِ عَدُوٌّ مُبينٌ(5)
جواب میں اس کے باپ نے کہا، "بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے(5)
وَكَذٰلِكَ يَجتَبيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأويلِ الأَحاديثِ وَيُتِمُّ نِعمَتَهُ عَلَيكَ وَعَلىٰ ءالِ يَعقوبَ كَما أَتَمَّها عَلىٰ أَبَوَيكَ مِن قَبلُ إِبرٰهيمَ وَإِسحٰقَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ عَليمٌ حَكيمٌ(6)
اور ایسا ہی ہوگا (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے کہ) تیرا رب تجھے (اپنے کام کے لیے) منتخب کرے گا اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا اور تیرے اوپر اور آل یعقوبؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا رب علیم اور حکیم ہے"(6)
۞ لَقَد كانَ فى يوسُفَ وَإِخوَتِهِ ءايٰتٌ لِلسّائِلينَ(7)
حقیقت یہ ہے کہ یوسفؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں(7)
إِذ قالوا لَيوسُفُ وَأَخوهُ أَحَبُّ إِلىٰ أَبينا مِنّا وَنَحنُ عُصبَةٌ إِنَّ أَبانا لَفى ضَلٰلٍ مُبينٍ(8)
یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا "یہ یوسفؑ اور اس کا بھائی، دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان با لکل ہی بہک گئے ہیں(8)
اقتُلوا يوسُفَ أَوِ اطرَحوهُ أَرضًا يَخلُ لَكُم وَجهُ أَبيكُم وَتَكونوا مِن بَعدِهِ قَومًا صٰلِحينَ(9)
چلو یوسفؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا"(9)
قالَ قائِلٌ مِنهُم لا تَقتُلوا يوسُفَ وَأَلقوهُ فى غَيٰبَتِ الجُبِّ يَلتَقِطهُ بَعضُ السَّيّارَةِ إِن كُنتُم فٰعِلينَ(10)
اس پر ان میں سے ایک بولا "یوسفؑ کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا"(10)
قالوا يٰأَبانا ما لَكَ لا تَأمَ۫نّا عَلىٰ يوسُفَ وَإِنّا لَهُ لَنٰصِحونَ(11)
اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا "ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسفؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟(11)
أَرسِلهُ مَعَنا غَدًا يَرتَع وَيَلعَب وَإِنّا لَهُ لَحٰفِظونَ(12)
کل اسے ہمارے ساتھ بھیج د یجیے، کچھ چر چگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں"(12)
قالَ إِنّى لَيَحزُنُنى أَن تَذهَبوا بِهِ وَأَخافُ أَن يَأكُلَهُ الذِّئبُ وَأَنتُم عَنهُ غٰفِلونَ(13)
باپ نے کہا "تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھا ئے جبکہ تم اس سے غافل ہو"(13)
قالوا لَئِن أَكَلَهُ الذِّئبُ وَنَحنُ عُصبَةٌ إِنّا إِذًا لَخٰسِرونَ(14)
انہوں نے جواب دیا "اگر ہمارے ہوتے اسے بھڑ یے نے کھا لیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں، تب تو ہم بڑے ہی نکمے ہوں گے"(14)
فَلَمّا ذَهَبوا بِهِ وَأَجمَعوا أَن يَجعَلوهُ فى غَيٰبَتِ الجُبِّ ۚ وَأَوحَينا إِلَيهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمرِهِم هٰذا وَهُم لا يَشعُرونَ(15)
اِس طرح اصرار کر کے جب وہ اُسے لے گئے اور انہوں نے طے کر لیا کہ اسے ایک اندھے کنویں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یوسفؑ کو وحی کی کہ "ایک وقت آئے گا جب تو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں"(15)
وَجاءو أَباهُم عِشاءً يَبكونَ(16)
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے(16)
قالوا يٰأَبانا إِنّا ذَهَبنا نَستَبِقُ وَتَرَكنا يوسُفَ عِندَ مَتٰعِنا فَأَكَلَهُ الذِّئبُ ۖ وَما أَنتَ بِمُؤمِنٍ لَنا وَلَو كُنّا صٰدِقينَ(17)
اور کہا "ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسفؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آ کر اُسے کھا گیا آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں"(17)
وَجاءو عَلىٰ قَميصِهِ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قالَ بَل سَوَّلَت لَكُم أَنفُسُكُم أَمرًا ۖ فَصَبرٌ جَميلٌ ۖ وَاللَّهُ المُستَعانُ عَلىٰ ما تَصِفونَ(18)
اور وہ یوسفؑ کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کر آئے تھے یہ سن کر ان کے باپ نے کہا "بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا اچھا، صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا، جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے"(18)
وَجاءَت سَيّارَةٌ فَأَرسَلوا وارِدَهُم فَأَدلىٰ دَلوَهُ ۖ قالَ يٰبُشرىٰ هٰذا غُلٰمٌ ۚ وَأَسَرّوهُ بِضٰعَةً ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ بِما يَعمَلونَ(19)
ادھر ایک قافلہ آیا اور اُس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیجا سقے نے جو کنویں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر) پکار اٹھا "مبارک ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے" ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا، حالانکہ جو کچھ وہ کر رہے تھے خدا اس سے باخبر تھا(19)
وَشَرَوهُ بِثَمَنٍ بَخسٍ دَرٰهِمَ مَعدودَةٍ وَكانوا فيهِ مِنَ الزّٰهِدينَ(20)
آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے(20)
وَقالَ الَّذِى اشتَرىٰهُ مِن مِصرَ لِامرَأَتِهِ أَكرِمى مَثوىٰهُ عَسىٰ أَن يَنفَعَنا أَو نَتَّخِذَهُ وَلَدًا ۚ وَكَذٰلِكَ مَكَّنّا لِيوسُفَ فِى الأَرضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِن تَأويلِ الأَحاديثِ ۚ وَاللَّهُ غالِبٌ عَلىٰ أَمرِهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(21)
مصر کے جس شخص نے اسے خریدا اس نے اپنی بیوی سے کہا "اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں" اس طرح ہم نے یوسفؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں(21)
وَلَمّا بَلَغَ أَشُدَّهُ ءاتَينٰهُ حُكمًا وَعِلمًا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(22)
اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوت فیصلہ اور علم عطا کیا، اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں(22)
وَرٰوَدَتهُ الَّتى هُوَ فى بَيتِها عَن نَفسِهِ وَغَلَّقَتِ الأَبوٰبَ وَقالَت هَيتَ لَكَ ۚ قالَ مَعاذَ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ رَبّى أَحسَنَ مَثواىَ ۖ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(23)
جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی "آ جا" یوسفؑ نے کہا "خدا کی پناہ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں!) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے"(23)
وَلَقَد هَمَّت بِهِ ۖ وَهَمَّ بِها لَولا أَن رَءا بُرهٰنَ رَبِّهِ ۚ كَذٰلِكَ لِنَصرِفَ عَنهُ السّوءَ وَالفَحشاءَ ۚ إِنَّهُ مِن عِبادِنَا المُخلَصينَ(24)
وہ اُس کی طرف بڑھی اور یوسفؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا ایسا ہوا، تاکہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیں، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا(24)
وَاستَبَقَا البابَ وَقَدَّت قَميصَهُ مِن دُبُرٍ وَأَلفَيا سَيِّدَها لَدَا البابِ ۚ قالَت ما جَزاءُ مَن أَرادَ بِأَهلِكَ سوءًا إِلّا أَن يُسجَنَ أَو عَذابٌ أَليمٌ(25)
آخر کار یوسفؑ اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسفؑ کا قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دیا دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، "کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے"(25)
قالَ هِىَ رٰوَدَتنى عَن نَفسى ۚ وَشَهِدَ شاهِدٌ مِن أَهلِها إِن كانَ قَميصُهُ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَت وَهُوَ مِنَ الكٰذِبينَ(26)
یوسفؑ نے کہا "یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی" اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ "اگر یوسفؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا(26)
وَإِن كانَ قَميصُهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ فَكَذَبَت وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقينَ(27)
اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا"(27)
فَلَمّا رَءا قَميصَهُ قُدَّ مِن دُبُرٍ قالَ إِنَّهُ مِن كَيدِكُنَّ ۖ إِنَّ كَيدَكُنَّ عَظيمٌ(28)
جب شوہر نے دیکھا کہ یوسفؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا "یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑ ے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں(28)
يوسُفُ أَعرِض عَن هٰذا ۚ وَاستَغفِرى لِذَنبِكِ ۖ إِنَّكِ كُنتِ مِنَ الخاطِـٔينَ(29)
یوسفؑ، اس معاملے سے درگزر کر اور اے عورت، تو اپنے قصور کی معافی مانگ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی"(29)
۞ وَقالَ نِسوَةٌ فِى المَدينَةِ امرَأَتُ العَزيزِ تُرٰوِدُ فَتىٰها عَن نَفسِهِ ۖ قَد شَغَفَها حُبًّا ۖ إِنّا لَنَرىٰها فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(30)
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ "عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے"(30)
فَلَمّا سَمِعَت بِمَكرِهِنَّ أَرسَلَت إِلَيهِنَّ وَأَعتَدَت لَهُنَّ مُتَّكَـًٔا وَءاتَت كُلَّ وٰحِدَةٍ مِنهُنَّ سِكّينًا وَقالَتِ اخرُج عَلَيهِنَّ ۖ فَلَمّا رَأَينَهُ أَكبَرنَهُ وَقَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ وَقُلنَ حٰشَ لِلَّهِ ما هٰذا بَشَرًا إِن هٰذا إِلّا مَلَكٌ كَريمٌ(31)
اس نے جو اُن کی یہ مکارانہ باتیں سنیں تو اُن کو بلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک چھری رکھ دی (پھر عین اس وقت جبکہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں) اس نے یوسفؑ کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ جب ان عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پکا ر اٹھیں "حاشاللّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے"(31)
قالَت فَذٰلِكُنَّ الَّذى لُمتُنَّنى فيهِ ۖ وَلَقَد رٰوَدتُهُ عَن نَفسِهِ فَاستَعصَمَ ۖ وَلَئِن لَم يَفعَل ما ءامُرُهُ لَيُسجَنَنَّ وَلَيَكونًا مِنَ الصّٰغِرينَ(32)
عزیز کی بیوی نے کہا "دیکھ لیا! یہ ہے یہ وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں بے شک میں نے اِسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا(32)
قالَ رَبِّ السِّجنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمّا يَدعونَنى إِلَيهِ ۖ وَإِلّا تَصرِف عَنّى كَيدَهُنَّ أَصبُ إِلَيهِنَّ وَأَكُن مِنَ الجٰهِلينَ(33)
یوسفؑ نے کہا "اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا(33)
فَاستَجابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنهُ كَيدَهُنَّ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(34)
اس کے رب نے اس کی دعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں، بے شک وہی ہے جو سب کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے(34)
ثُمَّ بَدا لَهُم مِن بَعدِ ما رَأَوُا الءايٰتِ لَيَسجُنُنَّهُ حَتّىٰ حينٍ(35)
پھر ان لوگوں کو یہ سوجھی کہ ایک مدت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے(35)
وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجنَ فَتَيانِ ۖ قالَ أَحَدُهُما إِنّى أَرىٰنى أَعصِرُ خَمرًا ۖ وَقالَ الءاخَرُ إِنّى أَرىٰنى أَحمِلُ فَوقَ رَأسى خُبزًا تَأكُلُ الطَّيرُ مِنهُ ۖ نَبِّئنا بِتَأويلِهِ ۖ إِنّا نَرىٰكَ مِنَ المُحسِنينَ(36)
قید خانہ میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں" دوسرے نے کہا "میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں" دونوں نے کہا "ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں"(36)
قالَ لا يَأتيكُما طَعامٌ تُرزَقانِهِ إِلّا نَبَّأتُكُما بِتَأويلِهِ قَبلَ أَن يَأتِيَكُما ۚ ذٰلِكُما مِمّا عَلَّمَنى رَبّى ۚ إِنّى تَرَكتُ مِلَّةَ قَومٍ لا يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم كٰفِرونَ(37)
یوسفؑ نے کہا: "یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اِن خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا یہ علم اُن علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں(37)
وَاتَّبَعتُ مِلَّةَ ءاباءى إِبرٰهيمَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ ۚ ما كانَ لَنا أَن نُشرِكَ بِاللَّهِ مِن شَيءٍ ۚ ذٰلِكَ مِن فَضلِ اللَّهِ عَلَينا وَعَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَشكُرونَ(38)
اپنے بزرگوں، ابراہیمؑ، اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرائیں در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے(38)
يٰصىٰحِبَىِ السِّجنِ ءَأَربابٌ مُتَفَرِّقونَ خَيرٌ أَمِ اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ(39)
اے زنداں کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب غالب ہے؟(39)
ما تَعبُدونَ مِن دونِهِ إِلّا أَسماءً سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما أَنزَلَ اللَّهُ بِها مِن سُلطٰنٍ ۚ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ ۚ ذٰلِكَ الدّينُ القَيِّمُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(40)
اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں(40)
يٰصىٰحِبَىِ السِّجنِ أَمّا أَحَدُكُما فَيَسقى رَبَّهُ خَمرًا ۖ وَأَمَّا الءاخَرُ فَيُصلَبُ فَتَأكُلُ الطَّيرُ مِن رَأسِهِ ۚ قُضِىَ الأَمرُ الَّذى فيهِ تَستَفتِيانِ(41)
اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رب (شاہ مصر) کو شراب پلائے گا، رہا دوسرا تو اسے سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے فیصلہ ہو گیا اُس بات کا جو تم پوچھ رہے تھے"(41)
وَقالَ لِلَّذى ظَنَّ أَنَّهُ ناجٍ مِنهُمَا اذكُرنى عِندَ رَبِّكَ فَأَنسىٰهُ الشَّيطٰنُ ذِكرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِى السِّجنِ بِضعَ سِنينَ(42)
پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یوسفؑ نے کہا کہ "اپنے رب (شاہ مصر) سے میرا ذکر کرنا" مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رب (شاہ مصر) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسفؑ کئی سال قید خانے میں پڑا رہا(42)
وَقالَ المَلِكُ إِنّى أَرىٰ سَبعَ بَقَرٰتٍ سِمانٍ يَأكُلُهُنَّ سَبعٌ عِجافٌ وَسَبعَ سُنبُلٰتٍ خُضرٍ وَأُخَرَ يابِسٰتٍ ۖ يٰأَيُّهَا المَلَأُ أَفتونى فى رُءيٰىَ إِن كُنتُم لِلرُّءيا تَعبُرونَ(43)
ایک روز بادشاہ نے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں، اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی اے اہل دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو"(43)
قالوا أَضغٰثُ أَحلٰمٍ ۖ وَما نَحنُ بِتَأويلِ الأَحلٰمِ بِعٰلِمينَ(44)
لوگوں نے کہا "یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے"(44)
وَقالَ الَّذى نَجا مِنهُما وَادَّكَرَ بَعدَ أُمَّةٍ أَنا۠ أُنَبِّئُكُم بِتَأويلِهِ فَأَرسِلونِ(45)
اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا "میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسفؑ کے پاس) بھیج دیجیے"(45)
يوسُفُ أَيُّهَا الصِّدّيقُ أَفتِنا فى سَبعِ بَقَرٰتٍ سِمانٍ يَأكُلُهُنَّ سَبعٌ عِجافٌ وَسَبعِ سُنبُلٰتٍ خُضرٍ وَأُخَرَ يابِسٰتٍ لَعَلّى أَرجِعُ إِلَى النّاسِ لَعَلَّهُم يَعلَمونَ(46)
اس نے جا کر کہا "یوسفؑ، اے سراپا راستی، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں"(46)
قالَ تَزرَعونَ سَبعَ سِنينَ دَأَبًا فَما حَصَدتُم فَذَروهُ فى سُنبُلِهِ إِلّا قَليلًا مِمّا تَأكُلونَ(47)
یوسفؑ نے کہا "سات بر س تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا ساحصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو(47)
ثُمَّ يَأتى مِن بَعدِ ذٰلِكَ سَبعٌ شِدادٌ يَأكُلنَ ما قَدَّمتُم لَهُنَّ إِلّا قَليلًا مِمّا تُحصِنونَ(48)
پھر سات برس بہت سخت آئیں گے اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو(48)
ثُمَّ يَأتى مِن بَعدِ ذٰلِكَ عامٌ فيهِ يُغاثُ النّاسُ وَفيهِ يَعصِرونَ(49)
اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے"(49)
وَقالَ المَلِكُ ائتونى بِهِ ۖ فَلَمّا جاءَهُ الرَّسولُ قالَ ارجِع إِلىٰ رَبِّكَ فَسـَٔلهُ ما بالُ النِّسوَةِ الّٰتى قَطَّعنَ أَيدِيَهُنَّ ۚ إِنَّ رَبّى بِكَيدِهِنَّ عَليمٌ(50)
بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ مگر جب شاہی فرستادہ یوسفؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا "اپنے رب کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا رب تو ان کی مکاری سے واقف ہی ہے"(50)
قالَ ما خَطبُكُنَّ إِذ رٰوَدتُنَّ يوسُفَ عَن نَفسِهِ ۚ قُلنَ حٰشَ لِلَّهِ ما عَلِمنا عَلَيهِ مِن سوءٍ ۚ قالَتِ امرَأَتُ العَزيزِ الـٰٔنَ حَصحَصَ الحَقُّ أَنا۠ رٰوَدتُهُ عَن نَفسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصّٰدِقينَ(51)
اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا "تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یوسفؑ کو رجھانے کی کوشش کی تھی؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا "حاشاللہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا" عزیز کی بیوی بول اٹھی "اب حق کھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے"(51)
ذٰلِكَ لِيَعلَمَ أَنّى لَم أَخُنهُ بِالغَيبِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهدى كَيدَ الخائِنينَ(52)
(یوسفؑ نے کہا) "اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز) یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی، اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا(52)
۞ وَما أُبَرِّئُ نَفسى ۚ إِنَّ النَّفسَ لَأَمّارَةٌ بِالسّوءِ إِلّا ما رَحِمَ رَبّى ۚ إِنَّ رَبّى غَفورٌ رَحيمٌ(53)
میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو، بے شک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"(53)
وَقالَ المَلِكُ ائتونى بِهِ أَستَخلِصهُ لِنَفسى ۖ فَلَمّا كَلَّمَهُ قالَ إِنَّكَ اليَومَ لَدَينا مَكينٌ أَمينٌ(54)
بادشاہ نے کہا "اُنہیں میرے پاس لاؤ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصوص کر لوں" جب یوسفؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا "اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے"(54)
قالَ اجعَلنى عَلىٰ خَزائِنِ الأَرضِ ۖ إِنّى حَفيظٌ عَليمٌ(55)
یوسفؑ نے کہا، "ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں"(55)
وَكَذٰلِكَ مَكَّنّا لِيوسُفَ فِى الأَرضِ يَتَبَوَّأُ مِنها حَيثُ يَشاءُ ۚ نُصيبُ بِرَحمَتِنا مَن نَشاءُ ۖ وَلا نُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ(56)
اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسفؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا(56)
وَلَأَجرُ الءاخِرَةِ خَيرٌ لِلَّذينَ ءامَنوا وَكانوا يَتَّقونَ(57)
اور آخرت کا اجر اُن لوگو ں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے(57)
وَجاءَ إِخوَةُ يوسُفَ فَدَخَلوا عَلَيهِ فَعَرَفَهُم وَهُم لَهُ مُنكِرونَ(58)
یوسفؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے(58)
وَلَمّا جَهَّزَهُم بِجَهازِهِم قالَ ائتونى بِأَخٍ لَكُم مِن أَبيكُم ۚ أَلا تَرَونَ أَنّى أوفِى الكَيلَ وَأَنا۠ خَيرُ المُنزِلينَ(59)
پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، "اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں(59)
فَإِن لَم تَأتونى بِهِ فَلا كَيلَ لَكُم عِندى وَلا تَقرَبونِ(60)
اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا"(60)
قالوا سَنُرٰوِدُ عَنهُ أَباهُ وَإِنّا لَفٰعِلونَ(61)
انہوں نے کہا، "ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر ر اضی ہو جائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے"(61)
وَقالَ لِفِتيٰنِهِ اجعَلوا بِضٰعَتَهُم فى رِحالِهِم لَعَلَّهُم يَعرِفونَها إِذَا انقَلَبوا إِلىٰ أَهلِهِم لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(62)
یوسفؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ "اِن لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو" یہ یوسفؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں(62)
فَلَمّا رَجَعوا إِلىٰ أَبيهِم قالوا يٰأَبانا مُنِعَ مِنَّا الكَيلُ فَأَرسِل مَعَنا أَخانا نَكتَل وَإِنّا لَهُ لَحٰفِظونَ(63)
جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا "ابا جان، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلہ لے کر آئیں اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں"(63)
قالَ هَل ءامَنُكُم عَلَيهِ إِلّا كَما أَمِنتُكُم عَلىٰ أَخيهِ مِن قَبلُ ۖ فَاللَّهُ خَيرٌ حٰفِظًا ۖ وَهُوَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ(64)
باپ نے جواب دیا "کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے"(64)
وَلَمّا فَتَحوا مَتٰعَهُم وَجَدوا بِضٰعَتَهُم رُدَّت إِلَيهِم ۖ قالوا يٰأَبانا ما نَبغى ۖ هٰذِهِ بِضٰعَتُنا رُدَّت إِلَينا ۖ وَنَميرُ أَهلَنا وَنَحفَظُ أَخانا وَنَزدادُ كَيلَ بَعيرٍ ۖ ذٰلِكَ كَيلٌ يَسيرٌ(65)
پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کر دیا گیا ہے یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے "ابا جان، اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا"(65)
قالَ لَن أُرسِلَهُ مَعَكُم حَتّىٰ تُؤتونِ مَوثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأتُنَّنى بِهِ إِلّا أَن يُحاطَ بِكُم ۖ فَلَمّا ءاتَوهُ مَوثِقَهُم قالَ اللَّهُ عَلىٰ ما نَقولُ وَكيلٌ(66)
ان کے باپ نے کہا "میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اِسے میرے پا س ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاؤ" جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا "دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے"(66)
وَقالَ يٰبَنِىَّ لا تَدخُلوا مِن بابٍ وٰحِدٍ وَادخُلوا مِن أَبوٰبٍ مُتَفَرِّقَةٍ ۖ وَما أُغنى عَنكُم مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۖ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ ۖ وَعَلَيهِ فَليَتَوَكَّلِ المُتَوَكِّلونَ(67)
پھر اس نے کہا "میرے بچو، مصر کے دارالسطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اسی پر کرے"(67)
وَلَمّا دَخَلوا مِن حَيثُ أَمَرَهُم أَبوهُم ما كانَ يُغنى عَنهُم مِنَ اللَّهِ مِن شَيءٍ إِلّا حاجَةً فى نَفسِ يَعقوبَ قَضىٰها ۚ وَإِنَّهُ لَذو عِلمٍ لِما عَلَّمنٰهُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(68)
اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی ہاں بس یعقوبؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کر لی بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں(68)
وَلَمّا دَخَلوا عَلىٰ يوسُفَ ءاوىٰ إِلَيهِ أَخاهُ ۖ قالَ إِنّى أَنا۠ أَخوكَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَعمَلونَ(69)
یہ لوگ یوسفؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ "میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں"(69)
فَلَمّا جَهَّزَهُم بِجَهازِهِم جَعَلَ السِّقايَةَ فى رَحلِ أَخيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا العيرُ إِنَّكُم لَسٰرِقونَ(70)
جب یوسفؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا "اے قافلے والو، تم لو گ چور ہو"(70)
قالوا وَأَقبَلوا عَلَيهِم ماذا تَفقِدونَ(71)
انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟ "(71)
قالوا نَفقِدُ صُواعَ المَلِكِ وَلِمَن جاءَ بِهِ حِملُ بَعيرٍ وَأَنا۠ بِهِ زَعيمٌ(72)
سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"(72)
قالوا تَاللَّهِ لَقَد عَلِمتُم ما جِئنا لِنُفسِدَ فِى الأَرضِ وَما كُنّا سٰرِقينَ(73)
ان بھائیوں نے کہا "خدا کی قسم، تو لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں"(73)
قالوا فَما جَزٰؤُهُ إِن كُنتُم كٰذِبينَ(74)
اُنہوں نے کہا "اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟"(74)
قالوا جَزٰؤُهُ مَن وُجِدَ فى رَحلِهِ فَهُوَ جَزٰؤُهُ ۚ كَذٰلِكَ نَجزِى الظّٰلِمينَ(75)
اُنہوں نے کہا "اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے"(75)
فَبَدَأَ بِأَوعِيَتِهِم قَبلَ وِعاءِ أَخيهِ ثُمَّ استَخرَجَها مِن وِعاءِ أَخيهِ ۚ كَذٰلِكَ كِدنا لِيوسُفَ ۖ ما كانَ لِيَأخُذَ أَخاهُ فى دينِ المَلِكِ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ نَرفَعُ دَرَجٰتٍ مَن نَشاءُ ۗ وَفَوقَ كُلِّ ذى عِلمٍ عَليمٌ(76)
تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی اِس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے(76)
۞ قالوا إِن يَسرِق فَقَد سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِن قَبلُ ۚ فَأَسَرَّها يوسُفُ فى نَفسِهِ وَلَم يُبدِها لَهُم ۚ قالَ أَنتُم شَرٌّ مَكانًا ۖ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِما تَصِفونَ(77)
ان بھائیوں نے کہا "یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے" یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ "بڑے ہی برے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے"(77)
قالوا يٰأَيُّهَا العَزيزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَيخًا كَبيرًا فَخُذ أَحَدَنا مَكانَهُ ۖ إِنّا نَرىٰكَ مِنَ المُحسِنينَ(78)
انہوں نے کہا "اے سردار ذی اقتدار (عزیز)، اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں"(78)
قالَ مَعاذَ اللَّهِ أَن نَأخُذَ إِلّا مَن وَجَدنا مَتٰعَنا عِندَهُ إِنّا إِذًا لَظٰلِمونَ(79)
یوسفؑ نے کہا "پناہ بخدا، دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے"(79)
فَلَمَّا استَيـَٔسوا مِنهُ خَلَصوا نَجِيًّا ۖ قالَ كَبيرُهُم أَلَم تَعلَموا أَنَّ أَباكُم قَد أَخَذَ عَلَيكُم مَوثِقًا مِنَ اللَّهِ وَمِن قَبلُ ما فَرَّطتُم فى يوسُفَ ۖ فَلَن أَبرَحَ الأَرضَ حَتّىٰ يَأذَنَ لى أَبى أَو يَحكُمَ اللَّهُ لى ۖ وَهُوَ خَيرُ الحٰكِمينَ(80)
جب وہ یوسفؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا "تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر کیا عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسفؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے(80)
ارجِعوا إِلىٰ أَبيكُم فَقولوا يٰأَبانا إِنَّ ابنَكَ سَرَقَ وَما شَهِدنا إِلّا بِما عَلِمنا وَما كُنّا لِلغَيبِ حٰفِظينَ(81)
تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ "ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے(81)
وَسـَٔلِ القَريَةَ الَّتى كُنّا فيها وَالعيرَ الَّتى أَقبَلنا فيها ۖ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(82)
آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجیے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں"(82)
قالَ بَل سَوَّلَت لَكُم أَنفُسُكُم أَمرًا ۖ فَصَبرٌ جَميلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأتِيَنى بِهِم جَميعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ العَليمُ الحَكيمُ(83)
باپ نے یہ داستان سن کر کہا "دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا اچھا اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملا ئے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں"(83)
وَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يٰأَسَفىٰ عَلىٰ يوسُفَ وَابيَضَّت عَيناهُ مِنَ الحُزنِ فَهُوَ كَظيمٌ(84)
پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ "ہا ئے یوسف!" وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں(84)
قالوا تَاللَّهِ تَفتَؤُا۟ تَذكُرُ يوسُفَ حَتّىٰ تَكونَ حَرَضًا أَو تَكونَ مِنَ الهٰلِكينَ(85)
بیٹوں نے کہا "خدارا! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں نوبت یہ آ گئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے"(85)
قالَ إِنَّما أَشكوا بَثّى وَحُزنى إِلَى اللَّهِ وَأَعلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(86)
اُس نے کہا "میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو(86)
يٰبَنِىَّ اذهَبوا فَتَحَسَّسوا مِن يوسُفَ وَأَخيهِ وَلا تَا۟يـَٔسوا مِن رَوحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لا يَا۟يـَٔسُ مِن رَوحِ اللَّهِ إِلَّا القَومُ الكٰفِرونَ(87)
میرے بچو، جا کر یوسفؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں"(87)
فَلَمّا دَخَلوا عَلَيهِ قالوا يٰأَيُّهَا العَزيزُ مَسَّنا وَأَهلَنَا الضُّرُّ وَجِئنا بِبِضٰعَةٍ مُزجىٰةٍ فَأَوفِ لَنَا الكَيلَ وَتَصَدَّق عَلَينا ۖ إِنَّ اللَّهَ يَجزِى المُتَصَدِّقينَ(88)
جب یہ لوگ مصر جا کر یوسفؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ "اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مبتلا ہیں اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھر پور غلہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں، اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے"(88)
قالَ هَل عَلِمتُم ما فَعَلتُم بِيوسُفَ وَأَخيهِ إِذ أَنتُم جٰهِلونَ(89)
(یہ سن کریوسفؑ سے نہ رہا گیا) اُس نے کہا "تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسفؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جبکہ تم نادان تھے"(89)
قالوا أَءِنَّكَ لَأَنتَ يوسُفُ ۖ قالَ أَنا۠ يوسُفُ وَهٰذا أَخى ۖ قَد مَنَّ اللَّهُ عَلَينا ۖ إِنَّهُ مَن يَتَّقِ وَيَصبِر فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ(90)
وہ چونک کر بولے "کیا تم یوسفؑ ہو؟" اُس نے کہا، "ہاں، میں یوسفؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے اللہ نے ہم پر احسان فرمایا حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا"(90)
قالوا تَاللَّهِ لَقَد ءاثَرَكَ اللَّهُ عَلَينا وَإِن كُنّا لَخٰطِـٔينَ(91)
انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے"(91)
قالَ لا تَثريبَ عَلَيكُمُ اليَومَ ۖ يَغفِرُ اللَّهُ لَكُم ۖ وَهُوَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ(92)
اس نے جواب دیا، "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے(92)
اذهَبوا بِقَميصى هٰذا فَأَلقوهُ عَلىٰ وَجهِ أَبى يَأتِ بَصيرًا وَأتونى بِأَهلِكُم أَجمَعينَ(93)
جاؤ، میرا یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آؤ"(93)
وَلَمّا فَصَلَتِ العيرُ قالَ أَبوهُم إِنّى لَأَجِدُ ريحَ يوسُفَ ۖ لَولا أَن تُفَنِّدونِ(94)
جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا "میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں"(94)
قالوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفى ضَلٰلِكَ القَديمِ(95)
گھر کے لوگ بولے "خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں"(95)
فَلَمّا أَن جاءَ البَشيرُ أَلقىٰهُ عَلىٰ وَجهِهِ فَارتَدَّ بَصيرًا ۖ قالَ أَلَم أَقُل لَكُم إِنّى أَعلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(96)
پھر جب خو ش خبری لانے والا آیا تو اس نے یوسفؑ کا قمیص یعقوبؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکا یک اس کی بینائی عود کر آئی تب اس نے کہا "میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے"(96)
قالوا يٰأَبانَا استَغفِر لَنا ذُنوبَنا إِنّا كُنّا خٰطِـٔينَ(97)
سب بول اٹھے "ابا جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے"(97)
قالَ سَوفَ أَستَغفِرُ لَكُم رَبّى ۖ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(98)
اُس نے کہا "میں اپنے رب سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کروں گا، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے"(98)
فَلَمّا دَخَلوا عَلىٰ يوسُفَ ءاوىٰ إِلَيهِ أَبَوَيهِ وَقالَ ادخُلوا مِصرَ إِن شاءَ اللَّهُ ءامِنينَ(99)
پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اُس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (اپنے سب کنبے والوں سے) کہا "چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے"(99)
وَرَفَعَ أَبَوَيهِ عَلَى العَرشِ وَخَرّوا لَهُ سُجَّدًا ۖ وَقالَ يٰأَبَتِ هٰذا تَأويلُ رُءيٰىَ مِن قَبلُ قَد جَعَلَها رَبّى حَقًّا ۖ وَقَد أَحسَنَ بى إِذ أَخرَجَنى مِنَ السِّجنِ وَجاءَ بِكُم مِنَ البَدوِ مِن بَعدِ أَن نَزَغَ الشَّيطٰنُ بَينى وَبَينَ إِخوَتى ۚ إِنَّ رَبّى لَطيفٌ لِما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ هُوَ العَليمُ الحَكيمُ(100)
(شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جھک گئے یوسفؑ نے کہا "ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا واقعہ یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے، بے شک و ہ علیم اور حکیم ہے(100)
۞ رَبِّ قَد ءاتَيتَنى مِنَ المُلكِ وَعَلَّمتَنى مِن تَأويلِ الأَحاديثِ ۚ فاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ أَنتَ وَلِيّۦ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۖ تَوَفَّنى مُسلِمًا وَأَلحِقنى بِالصّٰلِحينَ(101)
اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا"(101)
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيهِ إِلَيكَ ۖ وَما كُنتَ لَدَيهِم إِذ أَجمَعوا أَمرَهُم وَهُم يَمكُرونَ(102)
اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی(102)
وَما أَكثَرُ النّاسِ وَلَو حَرَصتَ بِمُؤمِنينَ(103)
مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو اِن میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں(103)
وَما تَسـَٔلُهُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ ۚ إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(104)
حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اجرت بھی نہیں مانگتے ہو یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے(104)
وَكَأَيِّن مِن ءايَةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ يَمُرّونَ عَلَيها وَهُم عَنها مُعرِضونَ(105)
زمین اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے(105)
وَما يُؤمِنُ أَكثَرُهُم بِاللَّهِ إِلّا وَهُم مُشرِكونَ(106)
ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شر یک ٹھیراتے ہیں(106)
أَفَأَمِنوا أَن تَأتِيَهُم غٰشِيَةٌ مِن عَذابِ اللَّهِ أَو تَأتِيَهُمُ السّاعَةُ بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ(107)
کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آ جائے گی؟(107)
قُل هٰذِهِ سَبيلى أَدعوا إِلَى اللَّهِ ۚ عَلىٰ بَصيرَةٍ أَنا۠ وَمَنِ اتَّبَعَنى ۖ وَسُبحٰنَ اللَّهِ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِكينَ(108)
تم ان سے صاف کہہ دو کہ "میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں"(108)
وَما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ إِلّا رِجالًا نوحى إِلَيهِم مِن أَهلِ القُرىٰ ۗ أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۗ وَلَدارُ الءاخِرَةِ خَيرٌ لِلَّذينَ اتَّقَوا ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(109)
اے محمدؐ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور انہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام انہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر) تقویٰ کی روش اختیار کی کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟(109)
حَتّىٰ إِذَا استَيـَٔسَ الرُّسُلُ وَظَنّوا أَنَّهُم قَد كُذِبوا جاءَهُم نَصرُنا فَنُجِّىَ مَن نَشاءُ ۖ وَلا يُرَدُّ بَأسُنا عَنِ القَومِ المُجرِمينَ(110)
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا(110)
لَقَد كانَ فى قَصَصِهِم عِبرَةٌ لِأُولِى الأَلبٰبِ ۗ ما كانَ حَديثًا يُفتَرىٰ وَلٰكِن تَصديقَ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَتَفصيلَ كُلِّ شَيءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ(111)
اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت(111)