Ta-ha( طه)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ طه(1)
طٰہٰ(1)
ما أَنزَلنا عَلَيكَ القُرءانَ لِتَشقىٰ(2)
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ(2)
إِلّا تَذكِرَةً لِمَن يَخشىٰ(3)
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو ڈرے(3)
تَنزيلًا مِمَّن خَلَقَ الأَرضَ وَالسَّمٰوٰتِ العُلَى(4)
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو(4)
الرَّحمٰنُ عَلَى العَرشِ استَوىٰ(5)
وہ رحمان (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے(5)
لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ وَما بَينَهُما وَما تَحتَ الثَّرىٰ(6)
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں(6)
وَإِن تَجهَر بِالقَولِ فَإِنَّهُ يَعلَمُ السِّرَّ وَأَخفَى(7)
تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو، وہ تو چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی تر بات بھی جانتا ہے(7)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ(8)
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں(8)
وَهَل أَتىٰكَ حَديثُ موسىٰ(9)
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟(9)
إِذ رَءا نارًا فَقالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارًا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِقَبَسٍ أَو أَجِدُ عَلَى النّارِ هُدًى(10)
جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ " ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے"(10)
فَلَمّا أَتىٰها نودِىَ يٰموسىٰ(11)
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!(11)
إِنّى أَنا۠ رَبُّكَ فَاخلَع نَعلَيكَ ۖ إِنَّكَ بِالوادِ المُقَدَّسِ طُوًى(12)
میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں ہے(12)
وَأَنَا اختَرتُكَ فَاستَمِع لِما يوحىٰ(13)
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے(13)
إِنَّنى أَنَا اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا أَنا۠ فَاعبُدنى وَأَقِمِ الصَّلوٰةَ لِذِكرى(14)
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر(14)
إِنَّ السّاعَةَ ءاتِيَةٌ أَكادُ أُخفيها لِتُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما تَسعىٰ(15)
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے(15)
فَلا يَصُدَّنَّكَ عَنها مَن لا يُؤمِنُ بِها وَاتَّبَعَ هَوىٰهُ فَتَردىٰ(16)
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا(16)
وَما تِلكَ بِيَمينِكَ يٰموسىٰ(17)
اور اے موسیٰؑ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟"(17)
قالَ هِىَ عَصاىَ أَتَوَكَّؤُا۟ عَلَيها وَأَهُشُّ بِها عَلىٰ غَنَمى وَلِىَ فيها مَـٔارِبُ أُخرىٰ(18)
موسیٰؑ نے جواب دیا "یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں"(18)
قالَ أَلقِها يٰموسىٰ(19)
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"(19)
فَأَلقىٰها فَإِذا هِىَ حَيَّةٌ تَسعىٰ(20)
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا(20)
قالَ خُذها وَلا تَخَف ۖ سَنُعيدُها سيرَتَهَا الأولىٰ(21)
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی(21)
وَاضمُم يَدَكَ إِلىٰ جَناحِكَ تَخرُج بَيضاءَ مِن غَيرِ سوءٍ ءايَةً أُخرىٰ(22)
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے(22)
لِنُرِيَكَ مِن ءايٰتِنَا الكُبرَى(23)
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں(23)
اذهَب إِلىٰ فِرعَونَ إِنَّهُ طَغىٰ(24)
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"(24)
قالَ رَبِّ اشرَح لى صَدرى(25)
موسیٰؑ نے عرض کیا " پروردگار، میرا سینہ کھول دے(25)
وَيَسِّر لى أَمرى(26)
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے(26)
وَاحلُل عُقدَةً مِن لِسانى(27)
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے(27)
يَفقَهوا قَولى(28)
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں(28)
وَاجعَل لى وَزيرًا مِن أَهلى(29)
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے(29)
هٰرونَ أَخِى(30)
ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے(30)
اشدُد بِهِ أَزرى(31)
اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر(31)
وَأَشرِكهُ فى أَمرى(32)
اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے(32)
كَى نُسَبِّحَكَ كَثيرًا(33)
تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں(33)
وَنَذكُرَكَ كَثيرًا(34)
اور خوب تیرا چرچا کریں(34)
إِنَّكَ كُنتَ بِنا بَصيرًا(35)
تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"(35)
قالَ قَد أوتيتَ سُؤلَكَ يٰموسىٰ(36)
فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ(36)
وَلَقَد مَنَنّا عَلَيكَ مَرَّةً أُخرىٰ(37)
ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا(37)
إِذ أَوحَينا إِلىٰ أُمِّكَ ما يوحىٰ(38)
یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے(38)
أَنِ اقذِفيهِ فِى التّابوتِ فَاقذِفيهِ فِى اليَمِّ فَليُلقِهِ اليَمُّ بِالسّاحِلِ يَأخُذهُ عَدُوٌّ لى وَعَدُوٌّ لَهُ ۚ وَأَلقَيتُ عَلَيكَ مَحَبَّةً مِنّى وَلِتُصنَعَ عَلىٰ عَينى(39)
کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اٹھا لے گا میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے(39)
إِذ تَمشى أُختُكَ فَتَقولُ هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ مَن يَكفُلُهُ ۖ فَرَجَعنٰكَ إِلىٰ أُمِّكَ كَى تَقَرَّ عَينُها وَلا تَحزَنَ ۚ وَقَتَلتَ نَفسًا فَنَجَّينٰكَ مِنَ الغَمِّ وَفَتَنّٰكَ فُتونًا ۚ فَلَبِثتَ سِنينَ فى أَهلِ مَديَنَ ثُمَّ جِئتَ عَلىٰ قَدَرٍ يٰموسىٰ(40)
یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟" اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھیرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ(40)
وَاصطَنَعتُكَ لِنَفسِى(41)
میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے(41)
اذهَب أَنتَ وَأَخوكَ بِـٔايٰتى وَلا تَنِيا فى ذِكرِى(42)
جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ ا ور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا(42)
اذهَبا إِلىٰ فِرعَونَ إِنَّهُ طَغىٰ(43)
جاؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے(43)
فَقولا لَهُ قَولًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَو يَخشىٰ(44)
اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے"(44)
قالا رَبَّنا إِنَّنا نَخافُ أَن يَفرُطَ عَلَينا أَو أَن يَطغىٰ(45)
دونوں نے عرض کیا " پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا"(45)
قالَ لا تَخافا ۖ إِنَّنى مَعَكُما أَسمَعُ وَأَرىٰ(46)
فرمایا " ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں(46)
فَأتِياهُ فَقولا إِنّا رَسولا رَبِّكَ فَأَرسِل مَعَنا بَنى إِسرٰءيلَ وَلا تُعَذِّبهُم ۖ قَد جِئنٰكَ بِـٔايَةٍ مِن رَبِّكَ ۖ وَالسَّلٰمُ عَلىٰ مَنِ اتَّبَعَ الهُدىٰ(47)
جاؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے(47)
إِنّا قَد أوحِىَ إِلَينا أَنَّ العَذابَ عَلىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(48)
ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جھُٹلائے اور منہ موڑے"(48)
قالَ فَمَن رَبُّكُما يٰموسىٰ(49)
فرعون نے کہا " اچھا، تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰؑ؟"(49)
قالَ رَبُّنَا الَّذى أَعطىٰ كُلَّ شَيءٍ خَلقَهُ ثُمَّ هَدىٰ(50)
موسیٰؑ نے جواب دیا "ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا"(50)
قالَ فَما بالُ القُرونِ الأولىٰ(51)
فرعون بولا "اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟"(51)
قالَ عِلمُها عِندَ رَبّى فى كِتٰبٍ ۖ لا يَضِلُّ رَبّى وَلا يَنسَى(52)
موسیٰؑ نے کہا "اُس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے میرا رب نہ چُوکتا ہے نہ بھُولتا ہے"(52)
الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ مَهدًا وَسَلَكَ لَكُم فيها سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجنا بِهِ أَزوٰجًا مِن نَباتٍ شَتّىٰ(53)
وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی(53)
كُلوا وَارعَوا أَنعٰمَكُم ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِأُولِى النُّهىٰ(54)
کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چَراؤ یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے(54)
۞ مِنها خَلَقنٰكُم وَفيها نُعيدُكُم وَمِنها نُخرِجُكُم تارَةً أُخرىٰ(55)
اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے، اِسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے(55)
وَلَقَد أَرَينٰهُ ءايٰتِنا كُلَّها فَكَذَّبَ وَأَبىٰ(56)
ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا(56)
قالَ أَجِئتَنا لِتُخرِجَنا مِن أَرضِنا بِسِحرِكَ يٰموسىٰ(57)
کہنے لگا "اے موسیٰؑ، کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟(57)
فَلَنَأتِيَنَّكَ بِسِحرٍ مِثلِهِ فَاجعَل بَينَنا وَبَينَكَ مَوعِدًا لا نُخلِفُهُ نَحنُ وَلا أَنتَ مَكانًا سُوًى(58)
اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویساہی جادو لاتے ہیں طے کر لے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تو پھریو کھُلے میدان میں سامنے آ جا"(58)
قالَ مَوعِدُكُم يَومُ الزّينَةِ وَأَن يُحشَرَ النّاسُ ضُحًى(59)
موسیٰؑ نے کہا "جشن کا دن طے ہوا، ا ور دن چڑھے لوگ جمع ہوں"(59)
فَتَوَلّىٰ فِرعَونُ فَجَمَعَ كَيدَهُ ثُمَّ أَتىٰ(60)
فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آ گیا(60)
قالَ لَهُم موسىٰ وَيلَكُم لا تَفتَروا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا فَيُسحِتَكُم بِعَذابٍ ۖ وَقَد خابَ مَنِ افتَرىٰ(61)
موسیٰؑ نے (عین موقع پر گروہ مقابل کو مخاطب کر کے) کہا "شامت کے مارو، نہ جھُوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا"(61)
فَتَنٰزَعوا أَمرَهُم بَينَهُم وَأَسَرُّوا النَّجوىٰ(62)
یہ سُن کر اُن کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے(62)
قالوا إِن هٰذٰنِ لَسٰحِرٰنِ يُريدانِ أَن يُخرِجاكُم مِن أَرضِكُم بِسِحرِهِما وَيَذهَبا بِطَريقَتِكُمُ المُثلىٰ(63)
آخر کار کچھ لوگو ں نے کہا کہ "یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کر دیں(63)
فَأَجمِعوا كَيدَكُم ثُمَّ ائتوا صَفًّا ۚ وَقَد أَفلَحَ اليَومَ مَنِ استَعلىٰ(64)
اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور اَیکا کر کے میدان میں آؤبس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا"(64)
قالوا يٰموسىٰ إِمّا أَن تُلقِىَ وَإِمّا أَن نَكونَ أَوَّلَ مَن أَلقىٰ(65)
جادوگر بولے "موسیٰؑ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟"(65)
قالَ بَل أَلقوا ۖ فَإِذا حِبالُهُم وَعِصِيُّهُم يُخَيَّلُ إِلَيهِ مِن سِحرِهِم أَنَّها تَسعىٰ(66)
موسیٰؑ نے کہا "نہیں، تم ہی پھینکو" یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادو کے زور سے موسیٰؑ کو دَوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں(66)
فَأَوجَسَ فى نَفسِهِ خيفَةً موسىٰ(67)
اور موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گیا(67)
قُلنا لا تَخَف إِنَّكَ أَنتَ الأَعلىٰ(68)
ہم نے کہا "مت ڈر، تو ہی غالب رہے گا(68)
وَأَلقِ ما فى يَمينِكَ تَلقَف ما صَنَعوا ۖ إِنَّما صَنَعوا كَيدُ سٰحِرٍ ۖ وَلا يُفلِحُ السّاحِرُ حَيثُ أَتىٰ(69)
پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادوگر کا فریب ہے، اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے"(69)
فَأُلقِىَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قالوا ءامَنّا بِرَبِّ هٰرونَ وَموسىٰ(70)
آخر کو یہی ہُوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرا دیے گئے اور پکار اٹھے "مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے رب کو"(70)
قالَ ءامَنتُم لَهُ قَبلَ أَن ءاذَنَ لَكُم ۖ إِنَّهُ لَكَبيرُكُمُ الَّذى عَلَّمَكُمُ السِّحرَ ۖ فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيدِيَكُم وَأَرجُلَكُم مِن خِلٰفٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُم فى جُذوعِ النَّخلِ وَلَتَعلَمُنَّ أَيُّنا أَشَدُّ عَذابًا وَأَبقىٰ(71)
فرعون نے کہا " تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہو گیا کہ یہ تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیر پا ہے" (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ)(71)
قالوا لَن نُؤثِرَكَ عَلىٰ ما جاءَنا مِنَ البَيِّنٰتِ وَالَّذى فَطَرَنا ۖ فَاقضِ ما أَنتَ قاضٍ ۖ إِنَّما تَقضى هٰذِهِ الحَيوٰةَ الدُّنيا(72)
جادوگروں نے جواب دیا "قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آ جانے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں، تُو جو کچھ کرنا چاہے کر لے تو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دُنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے(72)
إِنّا ءامَنّا بِرَبِّنا لِيَغفِرَ لَنا خَطٰيٰنا وَما أَكرَهتَنا عَلَيهِ مِنَ السِّحرِ ۗ وَاللَّهُ خَيرٌ وَأَبقىٰ(73)
ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے"(73)
إِنَّهُ مَن يَأتِ رَبَّهُ مُجرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ لا يَموتُ فيها وَلا يَحيىٰ(74)
حقیقت یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اُس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا(74)
وَمَن يَأتِهِ مُؤمِنًا قَد عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَأُولٰئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ العُلىٰ(75)
اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہو گا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں(75)
جَنّٰتُ عَدنٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ وَذٰلِكَ جَزاءُ مَن تَزَكّىٰ(76)
سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے(76)
وَلَقَد أَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَن أَسرِ بِعِبادى فَاضرِب لَهُم طَريقًا فِى البَحرِ يَبَسًا لا تَخٰفُ دَرَكًا وَلا تَخشىٰ(77)
ہم نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنا لے، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے(77)
فَأَتبَعَهُم فِرعَونُ بِجُنودِهِ فَغَشِيَهُم مِنَ اليَمِّ ما غَشِيَهُم(78)
پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا اور پھر سمندر اُن پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا(78)
وَأَضَلَّ فِرعَونُ قَومَهُ وَما هَدىٰ(79)
فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی(79)
يٰبَنى إِسرٰءيلَ قَد أَنجَينٰكُم مِن عَدُوِّكُم وَوٰعَدنٰكُم جانِبَ الطّورِ الأَيمَنَ وَنَزَّلنا عَلَيكُمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ(80)
اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا اور تم پر من و سلویٰ اتارا(80)
كُلوا مِن طَيِّبٰتِ ما رَزَقنٰكُم وَلا تَطغَوا فيهِ فَيَحِلَّ عَلَيكُم غَضَبى ۖ وَمَن يَحلِل عَلَيهِ غَضَبى فَقَد هَوىٰ(81)
کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا(81)
وَإِنّى لَغَفّارٌ لِمَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا ثُمَّ اهتَدىٰ(82)
البتہ جو توبہ کر لے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں(82)
۞ وَما أَعجَلَكَ عَن قَومِكَ يٰموسىٰ(83)
اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ؟(83)
قالَ هُم أُولاءِ عَلىٰ أَثَرى وَعَجِلتُ إِلَيكَ رَبِّ لِتَرضىٰ(84)
اُس نے عرض کیا " وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں میں جلدی کر کے تیرے حضور آ گیا ہوں اے میرے رب، تاکہ تو مجھ سے خوش ہو جائے"(84)
قالَ فَإِنّا قَد فَتَنّا قَومَكَ مِن بَعدِكَ وَأَضَلَّهُمُ السّامِرِىُّ(85)
فرمایا "اچھا، تو سنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا"(85)
فَرَجَعَ موسىٰ إِلىٰ قَومِهِ غَضبٰنَ أَسِفًا ۚ قالَ يٰقَومِ أَلَم يَعِدكُم رَبُّكُم وَعدًا حَسَنًا ۚ أَفَطالَ عَلَيكُمُ العَهدُ أَم أَرَدتُم أَن يَحِلَّ عَلَيكُم غَضَبٌ مِن رَبِّكُم فَأَخلَفتُم مَوعِدى(86)
موسیٰؑ سخت غصّے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا جا کر اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟"(86)
قالوا ما أَخلَفنا مَوعِدَكَ بِمَلكِنا وَلٰكِنّا حُمِّلنا أَوزارًا مِن زينَةِ القَومِ فَقَذَفنٰها فَكَذٰلِكَ أَلقَى السّامِرِىُّ(87)
انہوں نے جواب دیا "ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہُوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا" پھر اس طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا(87)
فَأَخرَجَ لَهُم عِجلًا جَسَدًا لَهُ خُوارٌ فَقالوا هٰذا إِلٰهُكُم وَإِلٰهُ موسىٰ فَنَسِىَ(88)
اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی لوگ پکار اٹھے "یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ کا خدا، موسیٰؑ اسے بھول گیا"(88)
أَفَلا يَرَونَ أَلّا يَرجِعُ إِلَيهِم قَولًا وَلا يَملِكُ لَهُم ضَرًّا وَلا نَفعًا(89)
کیا وہ نہ دیکھتے تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟(89)
وَلَقَد قالَ لَهُم هٰرونُ مِن قَبلُ يٰقَومِ إِنَّما فُتِنتُم بِهِ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحمٰنُ فَاتَّبِعونى وَأَطيعوا أَمرى(90)
ہارونؑ (موسیٰؑ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ "لوگو، تم اِس کی وجہ سے فتنے میں پڑ گئے ہو، تمہارا رب تو رحمٰن ہے، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو"(90)
قالوا لَن نَبرَحَ عَلَيهِ عٰكِفينَ حَتّىٰ يَرجِعَ إِلَينا موسىٰ(91)
مگر اُنہوں نے اس سے کہہ دیا کہ "ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آ جائے"(91)
قالَ يٰهٰرونُ ما مَنَعَكَ إِذ رَأَيتَهُم ضَلّوا(92)
موسیٰؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارونؑ کی طرف پلٹا اور) بولا "ہارونؑ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں(92)
أَلّا تَتَّبِعَنِ ۖ أَفَعَصَيتَ أَمرى(93)
تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟"(93)
قالَ يَبنَؤُمَّ لا تَأخُذ بِلِحيَتى وَلا بِرَأسى ۖ إِنّى خَشيتُ أَن تَقولَ فَرَّقتَ بَينَ بَنى إِسرٰءيلَ وَلَم تَرقُب قَولى(94)
ہارونؑ نے جواب دیا "اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا"(94)
قالَ فَما خَطبُكَ يٰسٰمِرِىُّ(95)
موسیٰؑ نے کہا "اور سامری، تیرا کیا معاملہ ہے؟"(95)
قالَ بَصُرتُ بِما لَم يَبصُروا بِهِ فَقَبَضتُ قَبضَةً مِن أَثَرِ الرَّسولِ فَنَبَذتُها وَكَذٰلِكَ سَوَّلَت لى نَفسى(96)
اس نے جواب دیا "میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سجھایا"(96)
قالَ فَاذهَب فَإِنَّ لَكَ فِى الحَيوٰةِ أَن تَقولَ لا مِساسَ ۖ وَإِنَّ لَكَ مَوعِدًا لَن تُخلَفَهُ ۖ وَانظُر إِلىٰ إِلٰهِكَ الَّذى ظَلتَ عَلَيهِ عاكِفًا ۖ لَنُحَرِّقَنَّهُ ثُمَّ لَنَنسِفَنَّهُ فِى اليَمِّ نَسفًا(97)
موسیٰؑ نے کہا " اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لیے بازپُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تو ریجھا ہُوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے(97)
إِنَّما إِلٰهُكُمُ اللَّهُ الَّذى لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَيءٍ عِلمًا(98)
لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اُس کا علم حاوی ہے"(98)
كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنباءِ ما قَد سَبَقَ ۚ وَقَد ءاتَينٰكَ مِن لَدُنّا ذِكرًا(99)
اے محمدؐ، ا س طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک "ذکر"(درسِ نصیحت) عطا کیا ہے(99)
مَن أَعرَضَ عَنهُ فَإِنَّهُ يَحمِلُ يَومَ القِيٰمَةِ وِزرًا(100)
جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے دن سخت بار گناہ اٹھائے گا(100)
خٰلِدينَ فيهِ ۖ وَساءَ لَهُم يَومَ القِيٰمَةِ حِملًا(101)
اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن اُن کے لیے (اِس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا(101)
يَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ ۚ وَنَحشُرُ المُجرِمينَ يَومَئِذٍ زُرقًا(102)
اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) پتھرائی ہوئی ہوں گی(102)
يَتَخٰفَتونَ بَينَهُم إِن لَبِثتُم إِلّا عَشرًا(103)
آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے(103)
نَحنُ أَعلَمُ بِما يَقولونَ إِذ يَقولُ أَمثَلُهُم طَريقَةً إِن لَبِثتُم إِلّا يَومًا(104)
ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی تھی(104)
وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ الجِبالِ فَقُل يَنسِفُها رَبّى نَسفًا(105)
یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا(105)
فَيَذَرُها قاعًا صَفصَفًا(106)
اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا(106)
لا تَرىٰ فيها عِوَجًا وَلا أَمتًا(107)
کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے(107)
يَومَئِذٍ يَتَّبِعونَ الدّاعِىَ لا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الأَصواتُ لِلرَّحمٰنِ فَلا تَسمَعُ إِلّا هَمسًا(108)
اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے(108)
يَومَئِذٍ لا تَنفَعُ الشَّفٰعَةُ إِلّا مَن أَذِنَ لَهُ الرَّحمٰنُ وَرَضِىَ لَهُ قَولًا(109)
اُس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے(109)
يَعلَمُ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم وَلا يُحيطونَ بِهِ عِلمًا(110)
وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا عِلم نہیں ہے(110)
۞ وَعَنَتِ الوُجوهُ لِلحَىِّ القَيّومِ ۖ وَقَد خابَ مَن حَمَلَ ظُلمًا(111)
لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جھک جائیں گے نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو(111)
وَمَن يَعمَل مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَهُوَ مُؤمِنٌ فَلا يَخافُ ظُلمًا وَلا هَضمًا(112)
اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو(112)
وَكَذٰلِكَ أَنزَلنٰهُ قُرءانًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفنا فيهِ مِنَ الوَعيدِ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ أَو يُحدِثُ لَهُم ذِكرًا(113)
اور اے محمدؐ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں(113)
فَتَعٰلَى اللَّهُ المَلِكُ الحَقُّ ۗ وَلا تَعجَل بِالقُرءانِ مِن قَبلِ أَن يُقضىٰ إِلَيكَ وَحيُهُ ۖ وَقُل رَبِّ زِدنى عِلمًا(114)
پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہ حقیقی اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر(114)
وَلَقَد عَهِدنا إِلىٰ ءادَمَ مِن قَبلُ فَنَسِىَ وَلَم نَجِد لَهُ عَزمًا(115)
ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا(115)
وَإِذ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ أَبىٰ(116)
یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا(116)
فَقُلنا يٰـٔادَمُ إِنَّ هٰذا عَدُوٌّ لَكَ وَلِزَوجِكَ فَلا يُخرِجَنَّكُما مِنَ الجَنَّةِ فَتَشقىٰ(117)
اس پر ہم نے آدمؑ سے کہا کہ "دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جاؤ(117)
إِنَّ لَكَ أَلّا تَجوعَ فيها وَلا تَعرىٰ(118)
یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو(118)
وَأَنَّكَ لا تَظمَؤُا۟ فيها وَلا تَضحىٰ(119)
نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے"(119)
فَوَسوَسَ إِلَيهِ الشَّيطٰنُ قالَ يٰـٔادَمُ هَل أَدُلُّكَ عَلىٰ شَجَرَةِ الخُلدِ وَمُلكٍ لا يَبلىٰ(120)
لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا کہنے لگا "آدم، بتاؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟"(120)
فَأَكَلا مِنها فَبَدَت لَهُما سَوءٰتُهُما وَطَفِقا يَخصِفانِ عَلَيهِما مِن وَرَقِ الجَنَّةِ ۚ وَعَصىٰ ءادَمُ رَبَّهُ فَغَوىٰ(121)
آخرکار وہ دونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے نتیجہ یہ ہُوا کہ فوراً ہی ان کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے آدمؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا(121)
ثُمَّ اجتَبٰهُ رَبُّهُ فَتابَ عَلَيهِ وَهَدىٰ(122)
پھر اُس کے رب نے اُسے برگزیدہ کیا اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی(122)
قالَ اهبِطا مِنها جَميعًا ۖ بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمّا يَأتِيَنَّكُم مِنّى هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُداىَ فَلا يَضِلُّ وَلا يَشقىٰ(123)
اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا(123)
وَمَن أَعرَضَ عَن ذِكرى فَإِنَّ لَهُ مَعيشَةً ضَنكًا وَنَحشُرُهُ يَومَ القِيٰمَةِ أَعمىٰ(124)
اور جو میرے "ذِکر"(درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اٹھائیں گے"(124)
قالَ رَبِّ لِمَ حَشَرتَنى أَعمىٰ وَقَد كُنتُ بَصيرًا(125)
وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"(125)
قالَ كَذٰلِكَ أَتَتكَ ءايٰتُنا فَنَسيتَها ۖ وَكَذٰلِكَ اليَومَ تُنسىٰ(126)
اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے"(126)
وَكَذٰلِكَ نَجزى مَن أَسرَفَ وَلَم يُؤمِن بِـٔايٰتِ رَبِّهِ ۚ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبقىٰ(127)
اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں) بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے(127)
أَفَلَم يَهدِ لَهُم كَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِنَ القُرونِ يَمشونَ فى مَسٰكِنِهِم ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِأُولِى النُّهىٰ(128)
پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اس سبق سے) کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ در حقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں(128)
وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَكانَ لِزامًا وَأَجَلٌ مُسَمًّى(129)
اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا(129)
فَاصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ قَبلَ طُلوعِ الشَّمسِ وَقَبلَ غُروبِها ۖ وَمِن ءانائِ الَّيلِ فَسَبِّح وَأَطرافَ النَّهارِ لَعَلَّكَ تَرضىٰ(130)
پس اے محمدؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ(130)
وَلا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلىٰ ما مَتَّعنا بِهِ أَزوٰجًا مِنهُم زَهرَةَ الحَيوٰةِ الدُّنيا لِنَفتِنَهُم فيهِ ۚ وَرِزقُ رَبِّكَ خَيرٌ وَأَبقىٰ(131)
اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے(131)
وَأمُر أَهلَكَ بِالصَّلوٰةِ وَاصطَبِر عَلَيها ۖ لا نَسـَٔلُكَ رِزقًا ۖ نَحنُ نَرزُقُكَ ۗ وَالعٰقِبَةُ لِلتَّقوىٰ(132)
اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے(132)
وَقالوا لَولا يَأتينا بِـٔايَةٍ مِن رَبِّهِ ۚ أَوَلَم تَأتِهِم بَيِّنَةُ ما فِى الصُّحُفِ الأولىٰ(133)
وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیان واضح نہیں آ گیا؟(133)
وَلَو أَنّا أَهلَكنٰهُم بِعَذابٍ مِن قَبلِهِ لَقالوا رَبَّنا لَولا أَرسَلتَ إِلَينا رَسولًا فَنَتَّبِعَ ءايٰتِكَ مِن قَبلِ أَن نَذِلَّ وَنَخزىٰ(134)
اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے(134)
قُل كُلٌّ مُتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصوا ۖ فَسَتَعلَمونَ مَن أَصحٰبُ الصِّرٰطِ السَّوِىِّ وَمَنِ اهتَدىٰ(135)
اے محمدؐ، ان سے کہو، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے، پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں(135)