Sad( ص)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ص ۚ وَالقُرءانِ ذِى الذِّكرِ(1)
ص، قسم ہے نصیحت بھرے قرآن کی(1)
بَلِ الَّذينَ كَفَروا فى عِزَّةٍ وَشِقاقٍ(2)
بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبر اور ضد میں مبتلا ہیں(2)
كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِن قَرنٍ فَنادَوا وَلاتَ حينَ مَناصٍ(3)
اِن سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور جب اُن کی شامت آئی ہے) تو وہ چیخ اٹھے ہیں، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا(3)
وَعَجِبوا أَن جاءَهُم مُنذِرٌ مِنهُم ۖ وَقالَ الكٰفِرونَ هٰذا سٰحِرٌ كَذّابٌ(4)
اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا منکرین کہنے لگے کہ "یہ ساحرہے، سخت جھوٹا ہے(4)
أَجَعَلَ الءالِهَةَ إِلٰهًا وٰحِدًا ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ عُجابٌ(5)
کیا اِس نے سارے خداؤں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"(5)
وَانطَلَقَ المَلَأُ مِنهُم أَنِ امشوا وَاصبِروا عَلىٰ ءالِهَتِكُم ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ يُرادُ(6)
اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ "چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر یہ بات تو کسی اور ہی غرض سے کہی جا رہی ہے(6)
ما سَمِعنا بِهٰذا فِى المِلَّةِ الءاخِرَةِ إِن هٰذا إِلَّا اختِلٰقٌ(7)
یہ بات ہم نے زمانہ قریب کی ملت میں کسی سے نہیں سنی یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات(7)
أَءُنزِلَ عَلَيهِ الذِّكرُ مِن بَينِنا ۚ بَل هُم فى شَكٍّ مِن ذِكرى ۖ بَل لَمّا يَذوقوا عَذابِ(8)
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟" اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے "ذکر"پر شک کر رہے ہیں، اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزا چکھا نہیں ہے(8)
أَم عِندَهُم خَزائِنُ رَحمَةِ رَبِّكَ العَزيزِ الوَهّابِ(9)
کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟(9)
أَم لَهُم مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما ۖ فَليَرتَقوا فِى الأَسبٰبِ(10)
کیا یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں؟ اچھا تو یہ عالم اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کر دیکھیں!(10)
جُندٌ ما هُنالِكَ مَهزومٌ مِنَ الأَحزابِ(11)
یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے(11)
كَذَّبَت قَبلَهُم قَومُ نوحٍ وَعادٌ وَفِرعَونُ ذُو الأَوتادِ(12)
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون(12)
وَثَمودُ وَقَومُ لوطٍ وَأَصحٰبُ لـَٔيكَةِ ۚ أُولٰئِكَ الأَحزابُ(13)
اور ثمود، اور قوم لوط، اور اَیکہ والے جھٹلا چکے ہیں جتھے وہ تھے(13)
إِن كُلٌّ إِلّا كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ عِقابِ(14)
ان میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا(14)
وَما يَنظُرُ هٰؤُلاءِ إِلّا صَيحَةً وٰحِدَةً ما لَها مِن فَواقٍ(15)
یہ لوگ بھی بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکا نہ ہوگا(15)
وَقالوا رَبَّنا عَجِّل لَنا قِطَّنا قَبلَ يَومِ الحِسابِ(16)
اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلدی سے دے دے(16)
اصبِر عَلىٰ ما يَقولونَ وَاذكُر عَبدَنا داوۥدَ ذَا الأَيدِ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(17)
اے نبیؐ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داؤدؑ کا قصہ بیان کرو جو بڑی قوتوں کا مالک تھا ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا(17)
إِنّا سَخَّرنَا الجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحنَ بِالعَشِىِّ وَالإِشراقِ(18)
ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے(18)
وَالطَّيرَ مَحشورَةً ۖ كُلٌّ لَهُ أَوّابٌ(19)
پرندے سمٹ آتے اور سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے(19)
وَشَدَدنا مُلكَهُ وَءاتَينٰهُ الحِكمَةَ وَفَصلَ الخِطابِ(20)
ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھے، اس کو حکمت عطا کی تھے اور فیصلہ کن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی(20)
۞ وَهَل أَتىٰكَ نَبَؤُا۟ الخَصمِ إِذ تَسَوَّرُوا المِحرابَ(21)
پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے اُن مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اُس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے؟(21)
إِذ دَخَلوا عَلىٰ داوۥدَ فَفَزِعَ مِنهُم ۖ قالوا لا تَخَف ۖ خَصمانِ بَغىٰ بَعضُنا عَلىٰ بَعضٍ فَاحكُم بَينَنا بِالحَقِّ وَلا تُشطِط وَاهدِنا إِلىٰ سَواءِ الصِّرٰطِ(22)
جب وہ داؤدؑ کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گیا انہوں نے کہا "ڈریے نہیں، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجیے، بے انصافی نہ کیجیے اور ہمیں راہ راست بتائیے(22)
إِنَّ هٰذا أَخى لَهُ تِسعٌ وَتِسعونَ نَعجَةً وَلِىَ نَعجَةٌ وٰحِدَةٌ فَقالَ أَكفِلنيها وَعَزَّنى فِى الخِطابِ(23)
یہ میرا بھائی ہے، اِس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دنبی بھی میرے حوالے کر دے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا"(23)
قالَ لَقَد ظَلَمَكَ بِسُؤالِ نَعجَتِكَ إِلىٰ نِعاجِهِ ۖ وَإِنَّ كَثيرًا مِنَ الخُلَطاءِ لَيَبغى بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ إِلَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَليلٌ ما هُم ۗ وَظَنَّ داوۥدُ أَنَّما فَتَنّٰهُ فَاستَغفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ راكِعًا وَأَنابَ ۩(24)
داؤدؑ نے جواب دیا: "اِس شخص نے اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری دنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا، اور واقعہ یہ ہے کہ مل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عمل صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں" (یہ بات کہتے کہتے) داؤدؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے، چنانچہ اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدے میں گر گیا اور رجوع کر لیا(24)
فَغَفَرنا لَهُ ذٰلِكَ ۖ وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ(25)
تب ہم نے اس کا وہ قصور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے(25)
يٰداوۥدُ إِنّا جَعَلنٰكَ خَليفَةً فِى الأَرضِ فَاحكُم بَينَ النّاسِ بِالحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَضِلّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ بِما نَسوا يَومَ الحِسابِ(26)
(ہم نے اس سے کہا) "اے داؤدؑ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھول گئے"(26)
وَما خَلَقنَا السَّماءَ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما بٰطِلًا ۚ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذينَ كَفَروا ۚ فَوَيلٌ لِلَّذينَ كَفَروا مِنَ النّارِ(27)
ہم نے اس آسمان اور زمین کو، اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے(27)
أَم نَجعَلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالمُفسِدينَ فِى الأَرضِ أَم نَجعَلُ المُتَّقينَ كَالفُجّارِ(28)
کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کر دیں؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں؟(28)
كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ مُبٰرَكٌ لِيَدَّبَّروا ءايٰتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ(29)
یہ ایک بڑی برکت والی کتاب ہے جو (اے محمدؐ) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں(29)
وَوَهَبنا لِداوۥدَ سُلَيمٰنَ ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(30)
اور داؤدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا) عطا کیا، بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا(30)
إِذ عُرِضَ عَلَيهِ بِالعَشِىِّ الصّٰفِنٰتُ الجِيادُ(31)
قابل ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس کے سامنے خوب سدھے ہوئے تیز رو گھوڑے پیش کیے گئے(31)
فَقالَ إِنّى أَحبَبتُ حُبَّ الخَيرِ عَن ذِكرِ رَبّى حَتّىٰ تَوارَت بِالحِجابِ(32)
تو اس نے کہا "میں نے اس مال کی محبت اپنے رب کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے" یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہو گئے(32)
رُدّوها عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسحًا بِالسّوقِ وَالأَعناقِ(33)
تو (اس نے حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے(33)
وَلَقَد فَتَنّا سُلَيمٰنَ وَأَلقَينا عَلىٰ كُرسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنابَ(34)
اور (دیکھو کہ) سلیمانؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا پھر اس نے رجوع کیا(34)
قالَ رَبِّ اغفِر لى وَهَب لى مُلكًا لا يَنبَغى لِأَحَدٍ مِن بَعدى ۖ إِنَّكَ أَنتَ الوَهّابُ(35)
اور کہا کہ "اے میرے رب، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بیشک تو ہی اصل داتا ہے"(35)
فَسَخَّرنا لَهُ الرّيحَ تَجرى بِأَمرِهِ رُخاءً حَيثُ أَصابَ(36)
تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا(36)
وَالشَّيٰطينَ كُلَّ بَنّاءٍ وَغَوّاصٍ(37)
اور شیاطین کو مسخر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور(37)
وَءاخَرينَ مُقَرَّنينَ فِى الأَصفادِ(38)
اور دوسرے جو پابند سلاسل تھے(38)
هٰذا عَطاؤُنا فَامنُن أَو أَمسِك بِغَيرِ حِسابٍ(39)
(ہم نے اُس سے کہا) "یہ ہماری بخشش ہے، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں"(39)
وَإِنَّ لَهُ عِندَنا لَزُلفىٰ وَحُسنَ مَـٔابٍ(40)
یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے(40)
وَاذكُر عَبدَنا أَيّوبَ إِذ نادىٰ رَبَّهُ أَنّى مَسَّنِىَ الشَّيطٰنُ بِنُصبٍ وَعَذابٍ(41)
اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو، جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے(41)
اركُض بِرِجلِكَ ۖ هٰذا مُغتَسَلٌ بارِدٌ وَشَرابٌ(42)
(ہم نے اُسے حکم دیا) اپنا پاؤں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے(42)
وَوَهَبنا لَهُ أَهلَهُ وَمِثلَهُم مَعَهُم رَحمَةً مِنّا وَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(43)
ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر(43)
وَخُذ بِيَدِكَ ضِغثًا فَاضرِب بِهِ وَلا تَحنَث ۗ إِنّا وَجَدنٰهُ صابِرًا ۚ نِعمَ العَبدُ ۖ إِنَّهُ أَوّابٌ(44)
(اور ہم نے اس سے کہا) تنکوں کا ایک مٹھا لے اور اُس سے مار دے، اپنی قسم نہ توڑ ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رجوع کرنے والا(44)
وَاذكُر عِبٰدَنا إِبرٰهيمَ وَإِسحٰقَ وَيَعقوبَ أُولِى الأَيدى وَالأَبصٰرِ(45)
اور ہمارے بندوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے(45)
إِنّا أَخلَصنٰهُم بِخالِصَةٍ ذِكرَى الدّارِ(46)
ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دار آخرت کی یاد تھی(46)
وَإِنَّهُم عِندَنا لَمِنَ المُصطَفَينَ الأَخيارِ(47)
یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے(47)
وَاذكُر إِسمٰعيلَ وَاليَسَعَ وَذَا الكِفلِ ۖ وَكُلٌّ مِنَ الأَخيارِ(48)
اور اسماعیلؑ اور الیسع اور ذوالکفلؑ کا ذکر کرو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے(48)
هٰذا ذِكرٌ ۚ وَإِنَّ لِلمُتَّقينَ لَحُسنَ مَـٔابٍ(49)
یہ ایک ذکر تھا (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے(49)
جَنّٰتِ عَدنٍ مُفَتَّحَةً لَهُمُ الأَبوٰبُ(50)
ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھلے ہوں گے(50)
مُتَّكِـٔينَ فيها يَدعونَ فيها بِفٰكِهَةٍ كَثيرَةٍ وَشَرابٍ(51)
ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے(51)
۞ وَعِندَهُم قٰصِرٰتُ الطَّرفِ أَترابٌ(52)
اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوں گی(52)
هٰذا ما توعَدونَ لِيَومِ الحِسابِ(53)
یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے(53)
إِنَّ هٰذا لَرِزقُنا ما لَهُ مِن نَفادٍ(54)
یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں(54)
هٰذا ۚ وَإِنَّ لِلطّٰغينَ لَشَرَّ مَـٔابٍ(55)
یہ تو ہے متقیوں کا انجام اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے(55)
جَهَنَّمَ يَصلَونَها فَبِئسَ المِهادُ(56)
جہنم جس میں وہ جھلسے جائیں گے، بہت ہی بری قیام گاہ(56)
هٰذا فَليَذوقوهُ حَميمٌ وَغَسّاقٌ(57)
یہ ہے اُن کے لیے، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ لہو(57)
وَءاخَرُ مِن شَكلِهِ أَزوٰجٌ(58)
اور اسی قسم کی دوسری تلخیوں کا(58)
هٰذا فَوجٌ مُقتَحِمٌ مَعَكُم ۖ لا مَرحَبًا بِهِم ۚ إِنَّهُم صالُوا النّارِ(59)
(وہ جہنم کی طرف اپنے پیروؤں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے) "یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آ رہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھلسنے والے ہیں"(59)
قالوا بَل أَنتُم لا مَرحَبًا بِكُم ۖ أَنتُم قَدَّمتُموهُ لَنا ۖ فَبِئسَ القَرارُ(60)
وہ اُن کو جواب دیں گے "نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جا رہے ہو، کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو، کیسی بری ہے یہ جائے قرار"(60)
قالوا رَبَّنا مَن قَدَّمَ لَنا هٰذا فَزِدهُ عَذابًا ضِعفًا فِى النّارِ(61)
پھر وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے"(61)
وَقالوا ما لَنا لا نَرىٰ رِجالًا كُنّا نَعُدُّهُم مِنَ الأَشرارِ(62)
اور وہ آپس میں کہیں گے "کیا بات ہے، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے؟(62)
أَتَّخَذنٰهُم سِخرِيًّا أَم زاغَت عَنهُمُ الأَبصٰرُ(63)
ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں؟"(63)
إِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخاصُمُ أَهلِ النّارِ(64)
بے شک یہ بات سچی ہے، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں(64)
قُل إِنَّما أَنا۠ مُنذِرٌ ۖ وَما مِن إِلٰهٍ إِلَّا اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ(65)
(اے نبیؐ) اِن سے کہو، "میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں کوئی حقیقی معبود نہیں مگر اللہ، جو یکتا ہے، سب پر غالب(65)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُمَا العَزيزُ الغَفّٰرُ(66)
آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں، زبردست اور درگزر کرنے والا"(66)
قُل هُوَ نَبَؤٌا۟ عَظيمٌ(67)
اِن سے کہو "یہ ایک بڑی خبر ہے(67)
أَنتُم عَنهُ مُعرِضونَ(68)
جس کو سن کر تم منہ پھیرتے ہو"(68)
ما كانَ لِىَ مِن عِلمٍ بِالمَلَإِ الأَعلىٰ إِذ يَختَصِمونَ(69)
(ان سے کہو) "مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا(69)
إِن يوحىٰ إِلَىَّ إِلّا أَنَّما أَنا۠ نَذيرٌ مُبينٌ(70)
مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھلا کھلا خبردار کرنے والا ہوں"(70)
إِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن طينٍ(71)
جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا "میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں(71)
فَإِذا سَوَّيتُهُ وَنَفَختُ فيهِ مِن روحى فَقَعوا لَهُ سٰجِدينَ(72)
پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ"(72)
فَسَجَدَ المَلٰئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ(73)
اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گر گئے(73)
إِلّا إِبليسَ استَكبَرَ وَكانَ مِنَ الكٰفِرينَ(74)
مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہو گیا(74)
قالَ يٰإِبليسُ ما مَنَعَكَ أَن تَسجُدَ لِما خَلَقتُ بِيَدَىَّ ۖ أَستَكبَرتَ أَم كُنتَ مِنَ العالينَ(75)
رب نے فرمایا "اے ابلیس، تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟"(75)
قالَ أَنا۠ خَيرٌ مِنهُ ۖ خَلَقتَنى مِن نارٍ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ(76)
اُس نے جواب دیا "میں اُس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے"(76)
قالَ فَاخرُج مِنها فَإِنَّكَ رَجيمٌ(77)
فرمایا "اچھا تو یہاں سے نکل جا، تو مردود ہے(77)
وَإِنَّ عَلَيكَ لَعنَتى إِلىٰ يَومِ الدّينِ(78)
اور تیرے اوپر یوم الجزاء تک میری لعنت ہے"(78)
قالَ رَبِّ فَأَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(79)
وہ بولا "ا ے میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس وقت تک کے لیے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے"(79)
قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(80)
فرمایا، "اچھا، تجھے اُس روز تک کی مہلت ہے(80)
إِلىٰ يَومِ الوَقتِ المَعلومِ(81)
جس کا وقت مجھے معلوم ہے"(81)
قالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغوِيَنَّهُم أَجمَعينَ(82)
اس نے کہا "تیری عزت کی قسم، میں اِن سب لوگو ں کو بہکا کر رہوں گا(82)
إِلّا عِبادَكَ مِنهُمُ المُخلَصينَ(83)
بجز تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے"(83)
قالَ فَالحَقُّ وَالحَقَّ أَقولُ(84)
فرمایا "تو حق یہ ہے، اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں(84)
لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكَ وَمِمَّن تَبِعَكَ مِنهُم أَجمَعينَ(85)
کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے"(85)
قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ وَما أَنا۠ مِنَ المُتَكَلِّفينَ(86)
(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں(86)
إِن هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(87)
یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے(87)
وَلَتَعلَمُنَّ نَبَأَهُ بَعدَ حينٍ(88)
اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو جائے گا(88)