Saba( سبأ)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ وَلَهُ الحَمدُ فِى الءاخِرَةِ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ الخَبيرُ(1)
حمد اُس خدا کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے وہ دانا اور باخبر ہے(1)
يَعلَمُ ما يَلِجُ فِى الأَرضِ وَما يَخرُجُ مِنها وَما يَنزِلُ مِنَ السَّماءِ وَما يَعرُجُ فيها ۚ وَهُوَ الرَّحيمُ الغَفورُ(2)
جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے(2)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لا تَأتينَا السّاعَةُ ۖ قُل بَلىٰ وَرَبّى لَتَأتِيَنَّكُم عٰلِمِ الغَيبِ ۖ لا يَعزُبُ عَنهُ مِثقالُ ذَرَّةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ وَلا أَصغَرُ مِن ذٰلِكَ وَلا أَكبَرُ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ(3)
منکرین کہتے ہیں کہ کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آ رہی ہے! کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آ کر رہے گی اُس سے ذرہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں نہ ذرے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے(3)
لِيَجزِىَ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۚ أُولٰئِكَ لَهُم مَغفِرَةٌ وَرِزقٌ كَريمٌ(4)
اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم(4)
وَالَّذينَ سَعَو فى ءايٰتِنا مُعٰجِزينَ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مِن رِجزٍ أَليمٌ(5)
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے زور لگایا ہے، ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے(5)
وَيَرَى الَّذينَ أوتُوا العِلمَ الَّذى أُنزِلَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ هُوَ الحَقَّ وَيَهدى إِلىٰ صِرٰطِ العَزيزِ الحَميدِ(6)
اے نبیؐ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے(6)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا هَل نَدُلُّكُم عَلىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُم إِذا مُزِّقتُم كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُم لَفى خَلقٍ جَديدٍ(7)
منکرین لوگوں سے کہتے ہیں "ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاؤ گے؟(7)
أَفتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِ جِنَّةٌ ۗ بَلِ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ فِى العَذابِ وَالضَّلٰلِ البَعيدِ(8)
نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے ہے یا اسے جنون لاحق ہے" نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور و ہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں(8)
أَفَلَم يَرَوا إِلىٰ ما بَينَ أَيديهِم وَما خَلفَهُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ ۚ إِن نَشَأ نَخسِف بِهِمُ الأَرضَ أَو نُسقِط عَلَيهِم كِسَفًا مِنَ السَّماءِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِكُلِّ عَبدٍ مُنيبٍ(9)
کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گرا دیں در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو(9)
۞ وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ مِنّا فَضلًا ۖ يٰجِبالُ أَوِّبى مَعَهُ وَالطَّيرَ ۖ وَأَلَنّا لَهُ الحَديدَ(10)
ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا(10)
أَنِ اعمَل سٰبِغٰتٍ وَقَدِّر فِى السَّردِ ۖ وَاعمَلوا صٰلِحًا ۖ إِنّى بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(11)
اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ (اے آل داؤدؑ) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں(11)
وَلِسُلَيمٰنَ الرّيحَ غُدُوُّها شَهرٌ وَرَواحُها شَهرٌ ۖ وَأَسَلنا لَهُ عَينَ القِطرِ ۖ وَمِنَ الجِنِّ مَن يَعمَلُ بَينَ يَدَيهِ بِإِذنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغ مِنهُم عَن أَمرِنا نُذِقهُ مِن عَذابِ السَّعيرِ(12)
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے(12)
يَعمَلونَ لَهُ ما يَشاءُ مِن مَحٰريبَ وَتَمٰثيلَ وَجِفانٍ كَالجَوابِ وَقُدورٍ راسِيٰتٍ ۚ اعمَلوا ءالَ داوۥدَ شُكرًا ۚ وَقَليلٌ مِن عِبادِىَ الشَّكورُ(13)
وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں(13)
فَلَمّا قَضَينا عَلَيهِ المَوتَ ما دَلَّهُم عَلىٰ مَوتِهِ إِلّا دابَّةُ الأَرضِ تَأكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الجِنُّ أَن لَو كانوا يَعلَمونَ الغَيبَ ما لَبِثوا فِى العَذابِ المُهينِ(14)
پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے(14)
لَقَد كانَ لِسَبَإٍ فى مَسكَنِهِم ءايَةٌ ۖ جَنَّتانِ عَن يَمينٍ وَشِمالٍ ۖ كُلوا مِن رِزقِ رَبِّكُم وَاشكُروا لَهُ ۚ بَلدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفورٌ(15)
سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی، دو باغ دائیں اور بائیں کھاؤ اپنے رب کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاؤ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا(15)
فَأَعرَضوا فَأَرسَلنا عَلَيهِم سَيلَ العَرِمِ وَبَدَّلنٰهُم بِجَنَّتَيهِم جَنَّتَينِ ذَواتَى أُكُلٍ خَمطٍ وَأَثلٍ وَشَيءٍ مِن سِدرٍ قَليلٍ(16)
مگر وہ منہ موڑ گئے آخرکار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں(16)
ذٰلِكَ جَزَينٰهُم بِما كَفَروا ۖ وَهَل نُجٰزى إِلَّا الكَفورَ(17)
یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے(17)
وَجَعَلنا بَينَهُم وَبَينَ القُرَى الَّتى بٰرَكنا فيها قُرًى ظٰهِرَةً وَقَدَّرنا فيهَا السَّيرَ ۖ سيروا فيها لَيالِىَ وَأَيّامًا ءامِنينَ(18)
اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ(18)
فَقالوا رَبَّنا بٰعِد بَينَ أَسفارِنا وَظَلَموا أَنفُسَهُم فَجَعَلنٰهُم أَحاديثَ وَمَزَّقنٰهُم كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ(19)
مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو(19)
وَلَقَد صَدَّقَ عَلَيهِم إِبليسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعوهُ إِلّا فَريقًا مِنَ المُؤمِنينَ(20)
اُن کے معاملہ میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اُسی کی پیروی کی، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا(20)
وَما كانَ لَهُ عَلَيهِم مِن سُلطٰنٍ إِلّا لِنَعلَمَ مَن يُؤمِنُ بِالءاخِرَةِ مِمَّن هُوَ مِنها فى شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ حَفيظٌ(21)
ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے(21)
قُلِ ادعُوا الَّذينَ زَعَمتُم مِن دونِ اللَّهِ ۖ لا يَملِكونَ مِثقالَ ذَرَّةٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ وَما لَهُم فيهِما مِن شِركٍ وَما لَهُ مِنهُم مِن ظَهيرٍ(22)
(اے نبیؐ، اِن مشرکین سے) کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں ان میں سے کوئی اللہ کا مدد گار بھی نہیں ہے(22)
وَلا تَنفَعُ الشَّفٰعَةُ عِندَهُ إِلّا لِمَن أَذِنَ لَهُ ۚ حَتّىٰ إِذا فُزِّعَ عَن قُلوبِهِم قالوا ماذا قالَ رَبُّكُم ۖ قالُوا الحَقَّ ۖ وَهُوَ العَلِىُّ الكَبيرُ(23)
اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ (سفارش کرنے والوں سے) پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے(23)
۞ قُل مَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ وَإِنّا أَو إِيّاكُم لَعَلىٰ هُدًى أَو فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(24)
(اے نبیؐ) اِن سے پوچھو، "کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟" کہو "اللہ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے"(24)
قُل لا تُسـَٔلونَ عَمّا أَجرَمنا وَلا نُسـَٔلُ عَمّا تَعمَلونَ(25)
ان سے کہو، "جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی"(25)
قُل يَجمَعُ بَينَنا رَبُّنا ثُمَّ يَفتَحُ بَينَنا بِالحَقِّ وَهُوَ الفَتّاحُ العَليمُ(26)
کہو، "ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے"(26)
قُل أَرونِىَ الَّذينَ أَلحَقتُم بِهِ شُرَكاءَ ۖ كَلّا ۚ بَل هُوَ اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ(27)
اِن سے کہو، "ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے" ہرگز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے(27)
وَما أَرسَلنٰكَ إِلّا كافَّةً لِلنّاسِ بَشيرًا وَنَذيرًا وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(28)
اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں(28)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(29)
یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو؟(29)
قُل لَكُم ميعادُ يَومٍ لا تَستَـٔخِرونَ عَنهُ ساعَةً وَلا تَستَقدِمونَ(30)
کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو(30)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لَن نُؤمِنَ بِهٰذَا القُرءانِ وَلا بِالَّذى بَينَ يَدَيهِ ۗ وَلَو تَرىٰ إِذِ الظّٰلِمونَ مَوقوفونَ عِندَ رَبِّهِم يَرجِعُ بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ القَولَ يَقولُ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَروا لَولا أَنتُم لَكُنّا مُؤمِنينَ(31)
یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"(31)
قالَ الَّذينَ استَكبَروا لِلَّذينَ استُضعِفوا أَنَحنُ صَدَدنٰكُم عَنِ الهُدىٰ بَعدَ إِذ جاءَكُم ۖ بَل كُنتُم مُجرِمينَ(32)
وہ بڑے بننے والے ان دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے "کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں، بلکہ تم خود مجرم تھے"(32)
وَقالَ الَّذينَ استُضعِفوا لِلَّذينَ استَكبَروا بَل مَكرُ الَّيلِ وَالنَّهارِ إِذ تَأمُرونَنا أَن نَكفُرَ بِاللَّهِ وَنَجعَلَ لَهُ أَندادًا ۚ وَأَسَرُّوا النَّدامَةَ لَمّا رَأَوُا العَذابَ وَجَعَلنَا الأَغلٰلَ فى أَعناقِ الَّذينَ كَفَروا ۚ هَل يُجزَونَ إِلّا ما كانوا يَعمَلونَ(33)
وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے، "نہیں، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھیرائیں" آخرکار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟(33)
وَما أَرسَلنا فى قَريَةٍ مِن نَذيرٍ إِلّا قالَ مُترَفوها إِنّا بِما أُرسِلتُم بِهِ كٰفِرونَ(34)
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے(34)
وَقالوا نَحنُ أَكثَرُ أَموٰلًا وَأَولٰدًا وَما نَحنُ بِمُعَذَّبينَ(35)
انہیں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ہم تم سے زیادہ مال اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہرگز سزا پانے والے نہیں ہیں(35)
قُل إِنَّ رَبّى يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(36)
اے نبیؐ، اِن سے کہو میرا رب جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا عطا کرتا ہے، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے(36)
وَما أَموٰلُكُم وَلا أَولٰدُكُم بِالَّتى تُقَرِّبُكُم عِندَنا زُلفىٰ إِلّا مَن ءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ لَهُم جَزاءُ الضِّعفِ بِما عَمِلوا وَهُم فِى الغُرُفٰتِ ءامِنونَ(37)
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دہری جزا ہے، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے(37)
وَالَّذينَ يَسعَونَ فى ءايٰتِنا مُعٰجِزينَ أُولٰئِكَ فِى العَذابِ مُحضَرونَ(38)
رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں، تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے(38)
قُل إِنَّ رَبّى يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ وَيَقدِرُ لَهُ ۚ وَما أَنفَقتُم مِن شَيءٍ فَهُوَ يُخلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيرُ الرّٰزِقينَ(39)
اے نبیؐ، ان سے کہو، "میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے(39)
وَيَومَ يَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ يَقولُ لِلمَلٰئِكَةِ أَهٰؤُلاءِ إِيّاكُم كانوا يَعبُدونَ(40)
اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا "کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟"(40)
قالوا سُبحٰنَكَ أَنتَ وَلِيُّنا مِن دونِهِم ۖ بَل كانوا يَعبُدونَ الجِنَّ ۖ أَكثَرُهُم بِهِم مُؤمِنونَ(41)
تو وہ جواب دیں گے کہ "پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ اِن لوگوں سے دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے"(41)
فَاليَومَ لا يَملِكُ بَعضُكُم لِبَعضٍ نَفعًا وَلا ضَرًّا وَنَقولُ لِلَّذينَ ظَلَموا ذوقوا عَذابَ النّارِ الَّتى كُنتُم بِها تُكَذِّبونَ(42)
(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے(42)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ قالوا ما هٰذا إِلّا رَجُلٌ يُريدُ أَن يَصُدَّكُم عَمّا كانَ يَعبُدُ ءاباؤُكُم وَقالوا ما هٰذا إِلّا إِفكٌ مُفتَرًى ۚ وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لِلحَقِّ لَمّا جاءَهُم إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(43)
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"(43)
وَما ءاتَينٰهُم مِن كُتُبٍ يَدرُسونَها ۖ وَما أَرسَلنا إِلَيهِم قَبلَكَ مِن نَذيرٍ(44)
حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا(44)
وَكَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَما بَلَغوا مِعشارَ ما ءاتَينٰهُم فَكَذَّبوا رُسُلى ۖ فَكَيفَ كانَ نَكيرِ(45)
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اُس کے عشر عشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں مگر جب انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی(45)
۞ قُل إِنَّما أَعِظُكُم بِوٰحِدَةٍ ۖ أَن تَقوموا لِلَّهِ مَثنىٰ وَفُرٰدىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّروا ۚ ما بِصاحِبِكُم مِن جِنَّةٍ ۚ إِن هُوَ إِلّا نَذيرٌ لَكُم بَينَ يَدَى عَذابٍ شَديدٍ(46)
اے نبیؐ، اِن سے کہو کہ "میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مل کر اپنا دماغ لڑاؤ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جنون کی ہو؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے"(46)
قُل ما سَأَلتُكُم مِن أَجرٍ فَهُوَ لَكُم ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدٌ(47)
اِن سے کہو، "اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے"(47)
قُل إِنَّ رَبّى يَقذِفُ بِالحَقِّ عَلّٰمُ الغُيوبِ(48)
ان سے کہو "میرا رب (مجھ پر) حق کا القا کرتا ہے اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے"(48)
قُل جاءَ الحَقُّ وَما يُبدِئُ البٰطِلُ وَما يُعيدُ(49)
کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"(49)
قُل إِن ضَلَلتُ فَإِنَّما أَضِلُّ عَلىٰ نَفسى ۖ وَإِنِ اهتَدَيتُ فَبِما يوحى إِلَىَّ رَبّى ۚ إِنَّهُ سَميعٌ قَريبٌ(50)
کہو "اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے"(50)
وَلَو تَرىٰ إِذ فَزِعوا فَلا فَوتَ وَأُخِذوا مِن مَكانٍ قَريبٍ(51)
کاش تم دیکھو اِنہیں اُس وقت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جا سکیں گے، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے(51)
وَقالوا ءامَنّا بِهِ وَأَنّىٰ لَهُمُ التَّناوُشُ مِن مَكانٍ بَعيدٍ(52)
اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لے آئے حالانکہ اب دور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے(52)
وَقَد كَفَروا بِهِ مِن قَبلُ ۖ وَيَقذِفونَ بِالغَيبِ مِن مَكانٍ بَعيدٍ(53)
اِس سے پہلے یہ کفر کر چکے تھے اور بلا تحقیق دور دور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے(53)
وَحيلَ بَينَهُم وَبَينَ ما يَشتَهونَ كَما فُعِلَ بِأَشياعِهِم مِن قَبلُ ۚ إِنَّهُم كانوا فى شَكٍّ مُريبٍ(54)
اُس وقت جس چیز کی یہ تمنا کر رہے ہوں گے اس سے محروم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رو ہم مشرب محروم ہو چکے ہوں گے یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے(54)