Muhammad( محمد)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعمٰلَهُم(1)
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا، اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کر دیا(1)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَءامَنوا بِما نُزِّلَ عَلىٰ مُحَمَّدٍ وَهُوَ الحَقُّ مِن رَبِّهِم ۙ كَفَّرَ عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَأَصلَحَ بالَهُم(2)
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اُس چیز کو مان لیا جو محمدؐ پر نازل ہوئی ہے اور ہے وہ سراسر حق اُن کے رب کی طرف سے اللہ نے ان کی برائیاں اُن سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا(2)
ذٰلِكَ بِأَنَّ الَّذينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا البٰطِلَ وَأَنَّ الَّذينَ ءامَنُوا اتَّبَعُوا الحَقَّ مِن رَبِّهِم ۚ كَذٰلِكَ يَضرِبُ اللَّهُ لِلنّاسِ أَمثٰلَهُم(3)
یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اُس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے اِس طرح اللہ لوگوں کو اُن کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے(3)
فَإِذا لَقيتُمُ الَّذينَ كَفَروا فَضَربَ الرِّقابِ حَتّىٰ إِذا أَثخَنتُموهُم فَشُدُّوا الوَثاقَ فَإِمّا مَنًّا بَعدُ وَإِمّا فِداءً حَتّىٰ تَضَعَ الحَربُ أَوزارَها ۚ ذٰلِكَ وَلَو يَشاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنهُم وَلٰكِن لِيَبلُوَا۟ بَعضَكُم بِبَعضٍ ۗ وَالَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعمٰلَهُم(4)
پس جب اِن کافروں سے تمہاری مڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے یہ ہے تمہارے کرنے کا کام اللہ چاہتا تو خود ہی اُن سے نمٹ لیتا، مگر (یہ طریقہ اُس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہ کرے گا(4)
سَيَهديهِم وَيُصلِحُ بالَهُم(5)
وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کر دے گا(5)
وَيُدخِلُهُمُ الجَنَّةَ عَرَّفَها لَهُم(6)
اور ان کو اس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے(6)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُركُم وَيُثَبِّت أَقدامَكُم(7)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم مضبوط جما دے گا(7)
وَالَّذينَ كَفَروا فَتَعسًا لَهُم وَأَضَلَّ أَعمٰلَهُم(8)
رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے، تو اُن کے لیے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے(8)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كَرِهوا ما أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحبَطَ أَعمٰلَهُم(9)
کیونکہ انہوں نے اُس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے، لہٰذا اللہ نے اُن کے اعمال ضائع کر دیے(9)
۞ أَفَلَم يَسيروا فِى الأَرضِ فَيَنظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيهِم ۖ وَلِلكٰفِرينَ أَمثٰلُها(10)
کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ اُن لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ اللہ نے اُن کا سب کچھ اُن پر الٹ دیا، اور ایسے نتائج اِن کافروں کے لیے مقدر ہیں(10)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَولَى الَّذينَ ءامَنوا وَأَنَّ الكٰفِرينَ لا مَولىٰ لَهُم(11)
یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں(11)
إِنَّ اللَّهَ يُدخِلُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ وَالَّذينَ كَفَروا يَتَمَتَّعونَ وَيَأكُلونَ كَما تَأكُلُ الأَنعٰمُ وَالنّارُ مَثوًى لَهُم(12)
ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے(12)
وَكَأَيِّن مِن قَريَةٍ هِىَ أَشَدُّ قُوَّةً مِن قَريَتِكَ الَّتى أَخرَجَتكَ أَهلَكنٰهُم فَلا ناصِرَ لَهُم(13)
اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا(13)
أَفَمَن كانَ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم(14)
بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ اُن لوگوں کی طرح ہو جائے جن کے لیے اُن کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں؟(14)
مَثَلُ الجَنَّةِ الَّتى وُعِدَ المُتَّقونَ ۖ فيها أَنهٰرٌ مِن ماءٍ غَيرِ ءاسِنٍ وَأَنهٰرٌ مِن لَبَنٍ لَم يَتَغَيَّر طَعمُهُ وَأَنهٰرٌ مِن خَمرٍ لَذَّةٍ لِلشّٰرِبينَ وَأَنهٰرٌ مِن عَسَلٍ مُصَفًّى ۖ وَلَهُم فيها مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغفِرَةٌ مِن رَبِّهِم ۖ كَمَن هُوَ خٰلِدٌ فِى النّارِ وَسُقوا ماءً حَميمًا فَقَطَّعَ أَمعاءَهُم(15)
پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟(15)
وَمِنهُم مَن يَستَمِعُ إِلَيكَ حَتّىٰ إِذا خَرَجوا مِن عِندِكَ قالوا لِلَّذينَ أوتُوا العِلمَ ماذا قالَ ءانِفًا ۚ أُولٰئِكَ الَّذينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَاتَّبَعوا أَهواءَهُم(16)
اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں(16)
وَالَّذينَ اهتَدَوا زادَهُم هُدًى وَءاتىٰهُم تَقوىٰهُم(17)
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ اُن کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں اُن کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے(17)
فَهَل يَنظُرونَ إِلَّا السّاعَةَ أَن تَأتِيَهُم بَغتَةً ۖ فَقَد جاءَ أَشراطُها ۚ فَأَنّىٰ لَهُم إِذا جاءَتهُم ذِكرىٰهُم(18)
اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک اِن پر آ جائے؟ اُس کی علامات تو آ چکی ہیں جب وہ خود آ جائے گی تو اِن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟(18)
فَاعلَم أَنَّهُ لا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاستَغفِر لِذَنبِكَ وَلِلمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ مُتَقَلَّبَكُم وَمَثوىٰكُم(19)
پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے(19)
وَيَقولُ الَّذينَ ءامَنوا لَولا نُزِّلَت سورَةٌ ۖ فَإِذا أُنزِلَت سورَةٌ مُحكَمَةٌ وَذُكِرَ فيهَا القِتالُ ۙ رَأَيتَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ يَنظُرونَ إِلَيكَ نَظَرَ المَغشِىِّ عَلَيهِ مِنَ المَوتِ ۖ فَأَولىٰ لَهُم(20)
جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی (جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھا گئی ہو افسوس اُن کے حال پر(20)
طاعَةٌ وَقَولٌ مَعروفٌ ۚ فَإِذا عَزَمَ الأَمرُ فَلَو صَدَقُوا اللَّهَ لَكانَ خَيرًا لَهُم(21)
(اُن کی زبان پر ہے) اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اُس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو انہی کے لئے اچھا تھا(21)
فَهَل عَسَيتُم إِن تَوَلَّيتُم أَن تُفسِدوا فِى الأَرضِ وَتُقَطِّعوا أَرحامَكُم(22)
اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے تو زمین میں پھر فساد برپا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟(22)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُم وَأَعمىٰ أَبصٰرَهُم(23)
یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا(23)
أَفَلا يَتَدَبَّرونَ القُرءانَ أَم عَلىٰ قُلوبٍ أَقفالُها(24)
کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟(24)
إِنَّ الَّذينَ ارتَدّوا عَلىٰ أَدبٰرِهِم مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الهُدَى ۙ الشَّيطٰنُ سَوَّلَ لَهُم وَأَملىٰ لَهُم(25)
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اِس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کر رکھا ہے(25)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم قالوا لِلَّذينَ كَرِهوا ما نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطيعُكُم فى بَعضِ الأَمرِ ۖ وَاللَّهُ يَعلَمُ إِسرارَهُم(26)
اِسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے اللہ اُن کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے(26)
فَكَيفَ إِذا تَوَفَّتهُمُ المَلٰئِكَةُ يَضرِبونَ وُجوهَهُم وَأَدبٰرَهُم(27)
پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور اِن کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے؟(27)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعوا ما أَسخَطَ اللَّهَ وَكَرِهوا رِضوٰنَهُ فَأَحبَطَ أَعمٰلَهُم(28)
یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اُس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور اُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا اِسی بنا پر اُس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیے(28)
أَم حَسِبَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ أَن لَن يُخرِجَ اللَّهُ أَضغٰنَهُم(29)
کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا؟(29)
وَلَو نَشاءُ لَأَرَينٰكَهُم فَلَعَرَفتَهُم بِسيمٰهُم ۚ وَلَتَعرِفَنَّهُم فى لَحنِ القَولِ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ أَعمٰلَكُم(30)
ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو مگر ان کے انداز کلام سے تو تم ان کو جان ہی لو گے اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے(30)
وَلَنَبلُوَنَّكُم حَتّىٰ نَعلَمَ المُجٰهِدينَ مِنكُم وَالصّٰبِرينَ وَنَبلُوَا۟ أَخبارَكُم(31)
ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں(31)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ وَشاقُّوا الرَّسولَ مِن بَعدِ ما تَبَيَّنَ لَهُمُ الهُدىٰ لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيـًٔا وَسَيُحبِطُ أَعمٰلَهُم(32)
جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہو چکی تھی، در حقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کر سکتے، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا(32)
۞ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَلا تُبطِلوا أَعمٰلَكُم(33)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کر لو(33)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا وَصَدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ ثُمَّ ماتوا وَهُم كُفّارٌ فَلَن يَغفِرَ اللَّهُ لَهُم(34)
کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا(34)
فَلا تَهِنوا وَتَدعوا إِلَى السَّلمِ وَأَنتُمُ الأَعلَونَ وَاللَّهُ مَعَكُم وَلَن يَتِرَكُم أَعمٰلَكُم(35)
پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا(35)
إِنَّمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا لَعِبٌ وَلَهوٌ ۚ وَإِن تُؤمِنوا وَتَتَّقوا يُؤتِكُم أُجورَكُم وَلا يَسـَٔلكُم أَموٰلَكُم(36)
یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا(36)
إِن يَسـَٔلكُموها فَيُحفِكُم تَبخَلوا وَيُخرِج أَضغٰنَكُم(37)
اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کر لے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ ابھار لائے گا(37)
هٰأَنتُم هٰؤُلاءِ تُدعَونَ لِتُنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَن يَبخَلُ ۖ وَمَن يَبخَل فَإِنَّما يَبخَلُ عَن نَفسِهِ ۚ وَاللَّهُ الغَنِىُّ وَأَنتُمُ الفُقَراءُ ۚ وَإِن تَتَوَلَّوا يَستَبدِل قَومًا غَيرَكُم ثُمَّ لا يَكونوا أَمثٰلَكُم(38)
دیکھو، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اِس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے اللہ تو غنی ہے، تم ہی اس کے محتاج ہو اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے(38)