Maryam( مريم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ كهيعص(1)
ک، ہ، ی، ع، ص(1)
ذِكرُ رَحمَتِ رَبِّكَ عَبدَهُ زَكَرِيّا(2)
ذکر ہے اُس رحمت کا جو تیرے رب نے اپنے بندے زکریاؑ پر کی تھی(2)
إِذ نادىٰ رَبَّهُ نِداءً خَفِيًّا(3)
جبکہ اُس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا(3)
قالَ رَبِّ إِنّى وَهَنَ العَظمُ مِنّى وَاشتَعَلَ الرَّأسُ شَيبًا وَلَم أَكُن بِدُعائِكَ رَبِّ شَقِيًّا(4)
اُس نے عرض کیا "اے پروردگار، میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اے پروردگار، میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں رہا(4)
وَإِنّى خِفتُ المَوٰلِىَ مِن وَراءى وَكانَتِ امرَأَتى عاقِرًا فَهَب لى مِن لَدُنكَ وَلِيًّا(5)
مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے، اور میری بیوی بانجھ ہے تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے(5)
يَرِثُنى وَيَرِثُ مِن ءالِ يَعقوبَ ۖ وَاجعَلهُ رَبِّ رَضِيًّا(6)
جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوب کی میراث بھی پائے، اور اے پروردگار، اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا"(6)
يٰزَكَرِيّا إِنّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ اسمُهُ يَحيىٰ لَم نَجعَل لَهُ مِن قَبلُ سَمِيًّا(7)
(جواب دیا گیا) "اے زکریاؑ، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰؑ ہو گا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا"(7)
قالَ رَبِّ أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَكانَتِ امرَأَتى عاقِرًا وَقَد بَلَغتُ مِنَ الكِبَرِ عِتِيًّا(8)
عرض کیا، "پروردگار، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں؟"(8)
قالَ كَذٰلِكَ قالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ وَقَد خَلَقتُكَ مِن قَبلُ وَلَم تَكُ شَيـًٔا(9)
جواب ملا "ایسا ہی ہو گا تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا"(9)
قالَ رَبِّ اجعَل لى ءايَةً ۚ قالَ ءايَتُكَ أَلّا تُكَلِّمَ النّاسَ ثَلٰثَ لَيالٍ سَوِيًّا(10)
زکریاؑ نے کہا، "پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے" فرمایا "تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے"(10)
فَخَرَجَ عَلىٰ قَومِهِ مِنَ المِحرابِ فَأَوحىٰ إِلَيهِم أَن سَبِّحوا بُكرَةً وَعَشِيًّا(11)
چنانچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو(11)
يٰيَحيىٰ خُذِ الكِتٰبَ بِقُوَّةٍ ۖ وَءاتَينٰهُ الحُكمَ صَبِيًّا(12)
"اے یحییٰؑ! کتاب الٰہی کو مضبوط تھام لے" ہم نے اُسے بچپن ہی میں "حکم" سے نوازا(12)
وَحَنانًا مِن لَدُنّا وَزَكوٰةً ۖ وَكانَ تَقِيًّا(13)
اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیزگار(13)
وَبَرًّا بِوٰلِدَيهِ وَلَم يَكُن جَبّارًا عَصِيًّا(14)
اور اپنے والدین کا حق شناس تھا وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمان(14)
وَسَلٰمٌ عَلَيهِ يَومَ وُلِدَ وَيَومَ يَموتُ وَيَومَ يُبعَثُ حَيًّا(15)
سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے(15)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ مَريَمَ إِذِ انتَبَذَت مِن أَهلِها مَكانًا شَرقِيًّا(16)
اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی(16)
فَاتَّخَذَت مِن دونِهِم حِجابًا فَأَرسَلنا إِلَيها روحَنا فَتَمَثَّلَ لَها بَشَرًا سَوِيًّا(17)
اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا(17)
قالَت إِنّى أَعوذُ بِالرَّحمٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا(18)
مریم یکایک بول اٹھی کہ"اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں"(18)
قالَ إِنَّما أَنا۠ رَسولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا(19)
اُس نے کہا "میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں"(19)
قالَت أَنّىٰ يَكونُ لى غُلٰمٌ وَلَم يَمسَسنى بَشَرٌ وَلَم أَكُ بَغِيًّا(20)
مریم نے کہا "میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں"(20)
قالَ كَذٰلِكِ قالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجعَلَهُ ءايَةً لِلنّاسِ وَرَحمَةً مِنّا ۚ وَكانَ أَمرًا مَقضِيًّا(21)
فرشتے نے کہا "ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے"(21)
۞ فَحَمَلَتهُ فَانتَبَذَت بِهِ مَكانًا قَصِيًّا(22)
مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی(22)
فَأَجاءَهَا المَخاضُ إِلىٰ جِذعِ النَّخلَةِ قالَت يٰلَيتَنى مِتُّ قَبلَ هٰذا وَكُنتُ نَسيًا مَنسِيًّا(23)
پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھُجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی " کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا"(23)
فَنادىٰها مِن تَحتِها أَلّا تَحزَنى قَد جَعَلَ رَبُّكِ تَحتَكِ سَرِيًّا(24)
فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا "غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے(24)
وَهُزّى إِلَيكِ بِجِذعِ النَّخلَةِ تُسٰقِط عَلَيكِ رُطَبًا جَنِيًّا(25)
اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی(25)
فَكُلى وَاشرَبى وَقَرّى عَينًا ۖ فَإِمّا تَرَيِنَّ مِنَ البَشَرِ أَحَدًا فَقولى إِنّى نَذَرتُ لِلرَّحمٰنِ صَومًا فَلَن أُكَلِّمَ اليَومَ إِنسِيًّا(26)
پس تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی"(26)
فَأَتَت بِهِ قَومَها تَحمِلُهُ ۖ قالوا يٰمَريَمُ لَقَد جِئتِ شَيـًٔا فَرِيًّا(27)
پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی لوگ کہنے لگے " اے مریم، یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا(27)
يٰأُختَ هٰرونَ ما كانَ أَبوكِ امرَأَ سَوءٍ وَما كانَت أُمُّكِ بَغِيًّا(28)
اے ہارون کی بہن، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی"(28)
فَأَشارَت إِلَيهِ ۖ قالوا كَيفَ نُكَلِّمُ مَن كانَ فِى المَهدِ صَبِيًّا(29)
مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا لوگوں نے کہا " ہم اِس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟"(29)
قالَ إِنّى عَبدُ اللَّهِ ءاتىٰنِىَ الكِتٰبَ وَجَعَلَنى نَبِيًّا(30)
بچہ بول اٹھا "میں اللہ کا بندہ ہوں اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا(30)
وَجَعَلَنى مُبارَكًا أَينَ ما كُنتُ وَأَوصٰنى بِالصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ ما دُمتُ حَيًّا(31)
اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں(31)
وَبَرًّا بِوٰلِدَتى وَلَم يَجعَلنى جَبّارًا شَقِيًّا(32)
اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایا(32)
وَالسَّلٰمُ عَلَىَّ يَومَ وُلِدتُ وَيَومَ أَموتُ وَيَومَ أُبعَثُ حَيًّا(33)
سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کے اٹھایا جاؤں"(33)
ذٰلِكَ عيسَى ابنُ مَريَمَ ۚ قَولَ الحَقِّ الَّذى فيهِ يَمتَرونَ(34)
یہ ہے عیسٰی ابن مریم اور یہ ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں(34)
ما كانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبحٰنَهُ ۚ إِذا قَضىٰ أَمرًا فَإِنَّما يَقولُ لَهُ كُن فَيَكونُ(35)
اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے وہ پاک ذات ہے وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور بس وہ ہو جاتی ہے(35)
وَإِنَّ اللَّهَ رَبّى وَرَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۚ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ(36)
(اور عیسٰیؑ نے کہا تھا کہ) "اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی، پس تم اُسی کی بندگی کرو، یہی سیدھی راہ ہے"(36)
فَاختَلَفَ الأَحزابُ مِن بَينِهِم ۖ فَوَيلٌ لِلَّذينَ كَفَروا مِن مَشهَدِ يَومٍ عَظيمٍ(37)
مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا(37)
أَسمِع بِهِم وَأَبصِر يَومَ يَأتونَنا ۖ لٰكِنِ الظّٰلِمونَ اليَومَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(38)
جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اُس روز تو اُن کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں(38)
وَأَنذِرهُم يَومَ الحَسرَةِ إِذ قُضِىَ الأَمرُ وَهُم فى غَفلَةٍ وَهُم لا يُؤمِنونَ(39)
اے نبیؐ، اِس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لا رہے ہیں، اِنہیں اس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا(39)
إِنّا نَحنُ نَرِثُ الأَرضَ وَمَن عَلَيها وَإِلَينا يُرجَعونَ(40)
آخرکار ہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے(40)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ إِبرٰهيمَ ۚ إِنَّهُ كانَ صِدّيقًا نَبِيًّا(41)
اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا(41)
إِذ قالَ لِأَبيهِ يٰأَبَتِ لِمَ تَعبُدُ ما لا يَسمَعُ وَلا يُبصِرُ وَلا يُغنى عَنكَ شَيـًٔا(42)
(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاؤ) جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا کہ "ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟(42)
يٰأَبَتِ إِنّى قَد جاءَنى مِنَ العِلمِ ما لَم يَأتِكَ فَاتَّبِعنى أَهدِكَ صِرٰطًا سَوِيًّا(43)
ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا عِلم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا(43)
يٰأَبَتِ لا تَعبُدِ الشَّيطٰنَ ۖ إِنَّ الشَّيطٰنَ كانَ لِلرَّحمٰنِ عَصِيًّا(44)
ابّا جان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے(44)
يٰأَبَتِ إِنّى أَخافُ أَن يَمَسَّكَ عَذابٌ مِنَ الرَّحمٰنِ فَتَكونَ لِلشَّيطٰنِ وَلِيًّا(45)
ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمان کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں"(45)
قالَ أَراغِبٌ أَنتَ عَن ءالِهَتى يٰإِبرٰهيمُ ۖ لَئِن لَم تَنتَهِ لَأَرجُمَنَّكَ ۖ وَاهجُرنى مَلِيًّا(46)
باپ نے کہا "ابراہیمؑ، کیا تو میرے معبُودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا"(46)
قالَ سَلٰمٌ عَلَيكَ ۖ سَأَستَغفِرُ لَكَ رَبّى ۖ إِنَّهُ كانَ بى حَفِيًّا(47)
ابراہیمؑ نے کہا "سلام ہے آپ کو میں اپنے رب سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے(47)
وَأَعتَزِلُكُم وَما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ وَأَدعوا رَبّى عَسىٰ أَلّا أَكونَ بِدُعاءِ رَبّى شَقِيًّا(48)
میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا"(48)
فَلَمَّا اعتَزَلَهُم وَما يَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ وَهَبنا لَهُ إِسحٰقَ وَيَعقوبَ ۖ وَكُلًّا جَعَلنا نَبِيًّا(49)
پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیر اللہ سے جُدا ہو گیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا(49)
وَوَهَبنا لَهُم مِن رَحمَتِنا وَجَعَلنا لَهُم لِسانَ صِدقٍ عَلِيًّا(50)
اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی(50)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ موسىٰ ۚ إِنَّهُ كانَ مُخلَصًا وَكانَ رَسولًا نَبِيًّا(51)
اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰؑ کا وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا(51)
وَنٰدَينٰهُ مِن جانِبِ الطّورِ الأَيمَنِ وَقَرَّبنٰهُ نَجِيًّا(52)
ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا(52)
وَوَهَبنا لَهُ مِن رَحمَتِنا أَخاهُ هٰرونَ نَبِيًّا(53)
اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیا(53)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ إِسمٰعيلَ ۚ إِنَّهُ كانَ صادِقَ الوَعدِ وَكانَ رَسولًا نَبِيًّا(54)
اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا(54)
وَكانَ يَأمُرُ أَهلَهُ بِالصَّلوٰةِ وَالزَّكوٰةِ وَكانَ عِندَ رَبِّهِ مَرضِيًّا(55)
وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا(55)
وَاذكُر فِى الكِتٰبِ إِدريسَ ۚ إِنَّهُ كانَ صِدّيقًا نَبِيًّا(56)
اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھا(56)
وَرَفَعنٰهُ مَكانًا عَلِيًّا(57)
اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا(57)
أُولٰئِكَ الَّذينَ أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِم مِنَ النَّبِيّۦنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءادَمَ وَمِمَّن حَمَلنا مَعَ نوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبرٰهيمَ وَإِسرٰءيلَ وَمِمَّن هَدَينا وَاجتَبَينا ۚ إِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُ الرَّحمٰنِ خَرّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩(58)
یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے(58)
۞ فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ أَضاعُوا الصَّلوٰةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ ۖ فَسَوفَ يَلقَونَ غَيًّا(59)
پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں(59)
إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ يَدخُلونَ الجَنَّةَ وَلا يُظلَمونَ شَيـًٔا(60)
البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی(60)
جَنّٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدَ الرَّحمٰنُ عِبادَهُ بِالغَيبِ ۚ إِنَّهُ كانَ وَعدُهُ مَأتِيًّا(61)
ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے(61)
لا يَسمَعونَ فيها لَغوًا إِلّا سَلٰمًا ۖ وَلَهُم رِزقُهُم فيها بُكرَةً وَعَشِيًّا(62)
وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا(62)
تِلكَ الجَنَّةُ الَّتى نورِثُ مِن عِبادِنا مَن كانَ تَقِيًّا(63)
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے(63)
وَما نَتَنَزَّلُ إِلّا بِأَمرِ رَبِّكَ ۖ لَهُ ما بَينَ أَيدينا وَما خَلفَنا وَما بَينَ ذٰلِكَ ۚ وَما كانَ رَبُّكَ نَسِيًّا(64)
اے محمدؐ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے(64)
رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما فَاعبُدهُ وَاصطَبِر لِعِبٰدَتِهِ ۚ هَل تَعلَمُ لَهُ سَمِيًّا(65)
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پس تم اُس کے بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟(65)
وَيَقولُ الإِنسٰنُ أَءِذا ما مِتُّ لَسَوفَ أُخرَجُ حَيًّا(66)
انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا؟(66)
أَوَلا يَذكُرُ الإِنسٰنُ أَنّا خَلَقنٰهُ مِن قَبلُ وَلَم يَكُ شَيـًٔا(67)
کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟(67)
فَوَرَبِّكَ لَنَحشُرَنَّهُم وَالشَّيٰطينَ ثُمَّ لَنُحضِرَنَّهُم حَولَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا(68)
تیرے رب کی قسم، ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے، پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے(68)
ثُمَّ لَنَنزِعَنَّ مِن كُلِّ شيعَةٍ أَيُّهُم أَشَدُّ عَلَى الرَّحمٰنِ عِتِيًّا(69)
پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمان کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہُوا تھا(69)
ثُمَّ لَنَحنُ أَعلَمُ بِالَّذينَ هُم أَولىٰ بِها صِلِيًّا(70)
پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے(70)
وَإِن مِنكُم إِلّا وارِدُها ۚ كانَ عَلىٰ رَبِّكَ حَتمًا مَقضِيًّا(71)
تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو، یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رب کا ذمہ ہے(71)
ثُمَّ نُنَجِّى الَّذينَ اتَّقَوا وَنَذَرُ الظّٰلِمينَ فيها جِثِيًّا(72)
پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گرا ہُوا چھوڑ دیں گے(72)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ قالَ الَّذينَ كَفَروا لِلَّذينَ ءامَنوا أَىُّ الفَريقَينِ خَيرٌ مَقامًا وَأَحسَنُ نَدِيًّا(73)
اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں "بتاؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟"(73)
وَكَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِن قَرنٍ هُم أَحسَنُ أَثٰثًا وَرِءيًا(74)
حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو اِن سے زیادہ سر و سامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں اِن سے بڑھی ہوئی تھیں(74)
قُل مَن كانَ فِى الضَّلٰلَةِ فَليَمدُد لَهُ الرَّحمٰنُ مَدًّا ۚ حَتّىٰ إِذا رَأَوا ما يوعَدونَ إِمَّا العَذابَ وَإِمَّا السّاعَةَ فَسَيَعلَمونَ مَن هُوَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضعَفُ جُندًا(75)
اِن سے کہو، جو شخص گمراہی میں مُبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے خواہ وہ عذاب الٰہی ہو یا قیامت کی گھڑی تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!(75)
وَيَزيدُ اللَّهُ الَّذينَ اهتَدَوا هُدًى ۗ وَالبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوابًا وَخَيرٌ مَرَدًّا(76)
اس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں(76)
أَفَرَءَيتَ الَّذى كَفَرَ بِـٔايٰتِنا وَقالَ لَأوتَيَنَّ مالًا وَوَلَدًا(77)
پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟(77)
أَطَّلَعَ الغَيبَ أَمِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا(78)
کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟(78)
كَلّا ۚ سَنَكتُبُ ما يَقولُ وَنَمُدُّ لَهُ مِنَ العَذابِ مَدًّا(79)
ہرگز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے(79)
وَنَرِثُهُ ما يَقولُ وَيَأتينا فَردًا(80)
جس سر و سامان اور لاؤ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا(80)
وَاتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ ءالِهَةً لِيَكونوا لَهُم عِزًّا(81)
اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں(81)
كَلّا ۚ سَيَكفُرونَ بِعِبادَتِهِم وَيَكونونَ عَلَيهِم ضِدًّا(82)
کوئی پشتیبان نہ ہوگا وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے اور الٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے(82)
أَلَم تَرَ أَنّا أَرسَلنَا الشَّيٰطينَ عَلَى الكٰفِرينَ تَؤُزُّهُم أَزًّا(83)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟(83)
فَلا تَعجَل عَلَيهِم ۖ إِنَّما نَعُدُّ لَهُم عَدًّا(84)
اچھا، تو اب اِن پر نزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو ہم اِن کے دن گن رہے ہیں(84)
يَومَ نَحشُرُ المُتَّقينَ إِلَى الرَّحمٰنِ وَفدًا(85)
وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے(85)
وَنَسوقُ المُجرِمينَ إِلىٰ جَهَنَّمَ وِردًا(86)
اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے(86)
لا يَملِكونَ الشَّفٰعَةَ إِلّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحمٰنِ عَهدًا(87)
اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو(87)
وَقالُوا اتَّخَذَ الرَّحمٰنُ وَلَدًا(88)
وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہے(88)
لَقَد جِئتُم شَيـًٔا إِدًّا(89)
سخت بیہودہ بات ہے جوتم لوگ گھڑ لائے ہو(89)
تَكادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرنَ مِنهُ وَتَنشَقُّ الأَرضُ وَتَخِرُّ الجِبالُ هَدًّا(90)
قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں(90)
أَن دَعَوا لِلرَّحمٰنِ وَلَدًا(91)
اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا!(91)
وَما يَنبَغى لِلرَّحمٰنِ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا(92)
رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے(92)
إِن كُلُّ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ إِلّا ءاتِى الرَّحمٰنِ عَبدًا(93)
زمین اور آسمان کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں(93)
لَقَد أَحصىٰهُم وَعَدَّهُم عَدًّا(94)
سب پر وہ محیط ہے اور اس نے اُن کو شمار کر رکھا ہے(94)
وَكُلُّهُم ءاتيهِ يَومَ القِيٰمَةِ فَردًا(95)
سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے(95)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجعَلُ لَهُمُ الرَّحمٰنُ وُدًّا(96)
یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا(96)
فَإِنَّما يَسَّرنٰهُ بِلِسانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ المُتَّقينَ وَتُنذِرَ بِهِ قَومًا لُدًّا(97)
پس اے محمدؐ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو(97)
وَكَم أَهلَكنا قَبلَهُم مِن قَرنٍ هَل تُحِسُّ مِنهُم مِن أَحَدٍ أَو تَسمَعُ لَهُم رِكزًا(98)
ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟(98)