Ibrahim( إبراهيم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ إِلَيكَ لِتُخرِجَ النّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ بِإِذنِ رَبِّهِم إِلىٰ صِرٰطِ العَزيزِ الحَميدِ(1)
ا ل ر اے محمدؐ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاؤ، ان کے رب کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے(1)
اللَّهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ وَوَيلٌ لِلكٰفِرينَ مِن عَذابٍ شَديدٍ(2)
اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے اور سخت تباہ کن سزا ہے قبول حق سے انکار کرنے والوں کے لیے(2)
الَّذينَ يَستَحِبّونَ الحَيوٰةَ الدُّنيا عَلَى الءاخِرَةِ وَيَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا ۚ أُولٰئِكَ فى ضَلٰلٍ بَعيدٍ(3)
جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق) ٹیٹرھا ہو جائے یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں(3)
وَما أَرسَلنا مِن رَسولٍ إِلّا بِلِسانِ قَومِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُم ۖ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(4)
ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے، وہ بالا دست اور حکیم ہے(4)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا أَن أَخرِج قَومَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ وَذَكِّرهُم بِأَيّىٰمِ اللَّهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ(5)
ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو(5)
وَإِذ قالَ موسىٰ لِقَومِهِ اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ أَنجىٰكُم مِن ءالِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ وَيُذَبِّحونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفى ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ(6)
یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے اس نے تم کو فرعون والوں سے چھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی(6)
وَإِذ تَأَذَّنَ رَبُّكُم لَئِن شَكَرتُم لَأَزيدَنَّكُم ۖ وَلَئِن كَفَرتُم إِنَّ عَذابى لَشَديدٌ(7)
اور یاد رکھو، تمہارے رب نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کفران نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے"(7)
وَقالَ موسىٰ إِن تَكفُروا أَنتُم وَمَن فِى الأَرضِ جَميعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَميدٌ(8)
اور موسیٰؑ نے کہا کہ "اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے"(8)
أَلَم يَأتِكُم نَبَؤُا۟ الَّذينَ مِن قَبلِكُم قَومِ نوحٍ وَعادٍ وَثَمودَ ۛ وَالَّذينَ مِن بَعدِهِم ۛ لا يَعلَمُهُم إِلَّا اللَّهُ ۚ جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَرَدّوا أَيدِيَهُم فى أَفوٰهِهِم وَقالوا إِنّا كَفَرنا بِما أُرسِلتُم بِهِ وَإِنّا لَفى شَكٍّ مِمّا تَدعونَنا إِلَيهِ مُريبٍ(9)
کیا تمہیں اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قوم نوحؑ، عاد، ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو اُنہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے اور کہا کہ "جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں"(9)
۞ قالَت رُسُلُهُم أَفِى اللَّهِ شَكٌّ فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يَدعوكُم لِيَغفِرَ لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُؤَخِّرَكُم إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ قالوا إِن أَنتُم إِلّا بَشَرٌ مِثلُنا تُريدونَ أَن تَصُدّونا عَمّا كانَ يَعبُدُ ءاباؤُنا فَأتونا بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(10)
اُن کے رسولوں نے کہا "کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا ر =ہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے" اُنہوں نے جواب دیا "تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند"(10)
قالَت لَهُم رُسُلُهُم إِن نَحنُ إِلّا بَشَرٌ مِثلُكُم وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلىٰ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۖ وَما كانَ لَنا أَن نَأتِيَكُم بِسُلطٰنٍ إِلّا بِإِذنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُؤمِنونَ(11)
ان کے رسولوں نے ان سے کہا "واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں سند تو اللہ ہی کے اذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے(11)
وَما لَنا أَلّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَقَد هَدىٰنا سُبُلَنا ۚ وَلَنَصبِرَنَّ عَلىٰ ما ءاذَيتُمونا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَليَتَوَكَّلِ المُتَوَكِّلونَ(12)
اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے"(12)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لِرُسُلِهِم لَنُخرِجَنَّكُم مِن أَرضِنا أَو لَتَعودُنَّ فى مِلَّتِنا ۖ فَأَوحىٰ إِلَيهِم رَبُّهُم لَنُهلِكَنَّ الظّٰلِمينَ(13)
آخر کار منکرین نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ "یا تو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے" تب اُن کے رب نے اُن پر وحی بھیجی کہ "ہم اِن ظالموں کو ہلا ک کر دیں گے(13)
وَلَنُسكِنَنَّكُمُ الأَرضَ مِن بَعدِهِم ۚ ذٰلِكَ لِمَن خافَ مَقامى وَخافَ وَعيدِ(14)
اور اُن کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو"(14)
وَاستَفتَحوا وَخابَ كُلُّ جَبّارٍ عَنيدٍ(15)
اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی(15)
مِن وَرائِهِ جَهَنَّمُ وَيُسقىٰ مِن ماءٍ صَديدٍ(16)
پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا(16)
يَتَجَرَّعُهُ وَلا يَكادُ يُسيغُهُ وَيَأتيهِ المَوتُ مِن كُلِّ مَكانٍ وَما هُوَ بِمَيِّتٍ ۖ وَمِن وَرائِهِ عَذابٌ غَليظٌ(17)
جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا(17)
مَثَلُ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم ۖ أَعمٰلُهُم كَرَمادٍ اشتَدَّت بِهِ الرّيحُ فى يَومٍ عاصِفٍ ۖ لا يَقدِرونَ مِمّا كَسَبوا عَلىٰ شَيءٍ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ البَعيدُ(18)
جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے(18)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۚ إِن يَشَأ يُذهِبكُم وَيَأتِ بِخَلقٍ جَديدٍ(19)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے(19)
وَما ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزيزٍ(20)
ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے(20)
وَبَرَزوا لِلَّهِ جَميعًا فَقالَ الضُّعَفٰؤُا۟ لِلَّذينَ استَكبَروا إِنّا كُنّا لَكُم تَبَعًا فَهَل أَنتُم مُغنونَ عَنّا مِن عَذابِ اللَّهِ مِن شَيءٍ ۚ قالوا لَو هَدىٰنَا اللَّهُ لَهَدَينٰكُم ۖ سَواءٌ عَلَينا أَجَزِعنا أَم صَبَرنا ما لَنا مِن مَحيصٍ(21)
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت اِن میں سے جو دنیا میں کمزور تھے و ہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے "دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟"وہ جواب دیں گے "اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے اب تو یکساں ہے، خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں"(21)
وَقالَ الشَّيطٰنُ لَمّا قُضِىَ الأَمرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُم وَعدَ الحَقِّ وَوَعَدتُكُم فَأَخلَفتُكُم ۖ وَما كانَ لِىَ عَلَيكُم مِن سُلطٰنٍ إِلّا أَن دَعَوتُكُم فَاستَجَبتُم لى ۖ فَلا تَلومونى وَلوموا أَنفُسَكُم ۖ ما أَنا۠ بِمُصرِخِكُم وَما أَنتُم بِمُصرِخِىَّ ۖ إِنّى كَفَرتُ بِما أَشرَكتُمونِ مِن قَبلُ ۗ إِنَّ الظّٰلِمينَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(22)
اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا "حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے و ہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اِس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میر ی اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزا یقینی ہے"(22)
وَأُدخِلَ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها بِإِذنِ رَبِّهِم ۖ تَحِيَّتُهُم فيها سَلٰمٌ(23)
بخلاف اس کے جو لوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں وہ اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارک باد سے ہوگا(23)
أَلَم تَرَ كَيفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصلُها ثابِتٌ وَفَرعُها فِى السَّماءِ(24)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت، جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں(24)
تُؤتى أُكُلَها كُلَّ حينٍ بِإِذنِ رَبِّها ۗ وَيَضرِبُ اللَّهُ الأَمثالَ لِلنّاسِ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(25)
ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں(25)
وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبيثَةٍ اجتُثَّت مِن فَوقِ الأَرضِ ما لَها مِن قَرارٍ(26)
اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے(26)
يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا بِالقَولِ الثّابِتِ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا وَفِى الءاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظّٰلِمينَ ۚ وَيَفعَلُ اللَّهُ ما يَشاءُ(27)
ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے(27)
۞ أَلَم تَرَ إِلَى الَّذينَ بَدَّلوا نِعمَتَ اللَّهِ كُفرًا وَأَحَلّوا قَومَهُم دارَ البَوارِ(28)
تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا(28)
جَهَنَّمَ يَصلَونَها ۖ وَبِئسَ القَرارُ(29)
یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بد ترین جائے قرار ہے(29)
وَجَعَلوا لِلَّهِ أَندادًا لِيُضِلّوا عَن سَبيلِهِ ۗ قُل تَمَتَّعوا فَإِنَّ مَصيرَكُم إِلَى النّارِ(30)
اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے(30)
قُل لِعِبادِىَ الَّذينَ ءامَنوا يُقيمُوا الصَّلوٰةَ وَيُنفِقوا مِمّا رَزَقنٰهُم سِرًّا وَعَلانِيَةً مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا بَيعٌ فيهِ وَلا خِلٰلٌ(31)
اے نبیؐ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں) خرچ کریں قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی(31)
اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَأَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزقًا لَكُم ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الفُلكَ لِتَجرِىَ فِى البَحرِ بِأَمرِهِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الأَنهٰرَ(32)
اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا(32)
وَسَخَّرَ لَكُمُ الشَّمسَ وَالقَمَرَ دائِبَينِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ(33)
جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا(33)
وَءاتىٰكُم مِن كُلِّ ما سَأَلتُموهُ ۚ وَإِن تَعُدّوا نِعمَتَ اللَّهِ لا تُحصوها ۗ إِنَّ الإِنسٰنَ لَظَلومٌ كَفّارٌ(34)
جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے(34)
وَإِذ قالَ إِبرٰهيمُ رَبِّ اجعَل هٰذَا البَلَدَ ءامِنًا وَاجنُبنى وَبَنِىَّ أَن نَعبُدَ الأَصنامَ(35)
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے دعا کی تھی کہ "پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا(35)
رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضلَلنَ كَثيرًا مِنَ النّاسِ ۖ فَمَن تَبِعَنى فَإِنَّهُ مِنّى ۖ وَمَن عَصانى فَإِنَّكَ غَفورٌ رَحيمٌ(36)
پروردگار، اِن بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے(36)
رَبَّنا إِنّى أَسكَنتُ مِن ذُرِّيَّتى بِوادٍ غَيرِ ذى زَرعٍ عِندَ بَيتِكَ المُحَرَّمِ رَبَّنا لِيُقيمُوا الصَّلوٰةَ فَاجعَل أَفـِٔدَةً مِنَ النّاسِ تَهوى إِلَيهِم وَارزُقهُم مِنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُم يَشكُرونَ(37)
پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں(37)
رَبَّنا إِنَّكَ تَعلَمُ ما نُخفى وَما نُعلِنُ ۗ وَما يَخفىٰ عَلَى اللَّهِ مِن شَيءٍ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ(38)
پروردگار، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں" اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں(38)
الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى وَهَبَ لى عَلَى الكِبَرِ إِسمٰعيلَ وَإِسحٰقَ ۚ إِنَّ رَبّى لَسَميعُ الدُّعاءِ(39)
"شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیلؑ اور اسحاقؑ جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے(39)
رَبِّ اجعَلنى مُقيمَ الصَّلوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتى ۚ رَبَّنا وَتَقَبَّل دُعاءِ(40)
ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر(40)
رَبَّنَا اغفِر لى وَلِوٰلِدَىَّ وَلِلمُؤمِنينَ يَومَ يَقومُ الحِسابُ(41)
پروردگار، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا"(41)
وَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ غٰفِلًا عَمّا يَعمَلُ الظّٰلِمونَ ۚ إِنَّما يُؤَخِّرُهُم لِيَومٍ تَشخَصُ فيهِ الأَبصٰرُ(42)
اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو اللہ تو اِنہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں(42)
مُهطِعينَ مُقنِعى رُءوسِهِم لا يَرتَدُّ إِلَيهِم طَرفُهُم ۖ وَأَفـِٔدَتُهُم هَواءٌ(43)
سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں(43)
وَأَنذِرِ النّاسَ يَومَ يَأتيهِمُ العَذابُ فَيَقولُ الَّذينَ ظَلَموا رَبَّنا أَخِّرنا إِلىٰ أَجَلٍ قَريبٍ نُجِب دَعوَتَكَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَ ۗ أَوَلَم تَكونوا أَقسَمتُم مِن قَبلُ ما لَكُم مِن زَوالٍ(44)
اے محمدؐ، اُس دن سے تم اِنہیں ڈراؤ جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے" (مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟(44)
وَسَكَنتُم فى مَسٰكِنِ الَّذينَ ظَلَموا أَنفُسَهُم وَتَبَيَّنَ لَكُم كَيفَ فَعَلنا بِهِم وَضَرَبنا لَكُمُ الأَمثالَ(45)
حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے(45)
وَقَد مَكَروا مَكرَهُم وَعِندَ اللَّهِ مَكرُهُم وَإِن كانَ مَكرُهُم لِتَزولَ مِنهُ الجِبالُ(46)
انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں(46)
فَلا تَحسَبَنَّ اللَّهَ مُخلِفَ وَعدِهِ رُسُلَهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ ذُو انتِقامٍ(47)
پس اے نبیؐ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے(47)
يَومَ تُبَدَّلُ الأَرضُ غَيرَ الأَرضِ وَالسَّمٰوٰتُ ۖ وَبَرَزوا لِلَّهِ الوٰحِدِ القَهّارِ(48)
ڈراؤ اِنہیں اُس دن سے جبکہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے(48)
وَتَرَى المُجرِمينَ يَومَئِذٍ مُقَرَّنينَ فِى الأَصفادِ(49)
اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے(49)
سَرابيلُهُم مِن قَطِرانٍ وَتَغشىٰ وُجوهَهُمُ النّارُ(50)
تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے(50)
لِيَجزِىَ اللَّهُ كُلَّ نَفسٍ ما كَسَبَت ۚ إِنَّ اللَّهَ سَريعُ الحِسابِ(51)
یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی(51)
هٰذا بَلٰغٌ لِلنّاسِ وَلِيُنذَروا بِهِ وَلِيَعلَموا أَنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُوا الأَلبٰبِ(52)
یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں(52)