Hud( هود)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ كِتٰبٌ أُحكِمَت ءايٰتُهُ ثُمَّ فُصِّلَت مِن لَدُن حَكيمٍ خَبيرٍ(1)
ا ل ر فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے(1)
أَلّا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ ۚ إِنَّنى لَكُم مِنهُ نَذيرٌ وَبَشيرٌ(2)
کہ تم بندگی نہ کرو مگر صرف اللہ کی میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی(2)
وَأَنِ استَغفِروا رَبَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ يُمَتِّعكُم مَتٰعًا حَسَنًا إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤتِ كُلَّ ذى فَضلٍ فَضلَهُ ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ كَبيرٍ(3)
اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں(3)
إِلَى اللَّهِ مَرجِعُكُم ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(4)
تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے(4)
أَلا إِنَّهُم يَثنونَ صُدورَهُم لِيَستَخفوا مِنهُ ۚ أَلا حينَ يَستَغشونَ ثِيابَهُم يَعلَمُ ما يُسِرّونَ وَما يُعلِنونَ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(5)
دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں(5)
۞ وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَرضِ إِلّا عَلَى اللَّهِ رِزقُها وَيَعلَمُ مُستَقَرَّها وَمُستَودَعَها ۚ كُلٌّ فى كِتٰبٍ مُبينٍ(6)
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے، سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے(6)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ وَكانَ عَرشُهُ عَلَى الماءِ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِن قُلتَ إِنَّكُم مَبعوثونَ مِن بَعدِ المَوتِ لَيَقولَنَّ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(7)
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اب اگر اے محمدؐ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے(7)
وَلَئِن أَخَّرنا عَنهُمُ العَذابَ إِلىٰ أُمَّةٍ مَعدودَةٍ لَيَقولُنَّ ما يَحبِسُهُ ۗ أَلا يَومَ يَأتيهِم لَيسَ مَصروفًا عَنهُم وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(8)
اور اگر ہم ایک خاص مدت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اُسے روک رکھا ہے؟ سنو! جس روز اُس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں(8)
وَلَئِن أَذَقنَا الإِنسٰنَ مِنّا رَحمَةً ثُمَّ نَزَعنٰها مِنهُ إِنَّهُ لَيَـٔوسٌ كَفورٌ(9)
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے(9)
وَلَئِن أَذَقنٰهُ نَعماءَ بَعدَ ضَرّاءَ مَسَّتهُ لَيَقولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّـٔاتُ عَنّى ۚ إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخورٌ(10)
اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دلدر پار ہو گئے، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے(10)
إِلَّا الَّذينَ صَبَروا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ أُولٰئِكَ لَهُم مَغفِرَةٌ وَأَجرٌ كَبيرٌ(11)
اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی(11)
فَلَعَلَّكَ تارِكٌ بَعضَ ما يوحىٰ إِلَيكَ وَضائِقٌ بِهِ صَدرُكَ أَن يَقولوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ كَنزٌ أَو جاءَ مَعَهُ مَلَكٌ ۚ إِنَّما أَنتَ نَذيرٌ ۚ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ(12)
تو اے پیغمبرؐ! کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کر نے سے) چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں اور اِس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے "اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا" یا یہ کہ "اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا" تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے(12)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل فَأتوا بِعَشرِ سُوَرٍ مِثلِهِ مُفتَرَيٰتٍ وَادعوا مَنِ استَطَعتُم مِن دونِ اللَّهِ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(13)
کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو، "اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں تم بنا لاؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو (تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو(13)
فَإِلَّم يَستَجيبوا لَكُم فَاعلَموا أَنَّما أُنزِلَ بِعِلمِ اللَّهِ وَأَن لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَهَل أَنتُم مُسلِمونَ(14)
اب اگر وہ (تمہارے معبود) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے پھر کیا تم (اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کر تے ہو؟"(14)
مَن كانَ يُريدُ الحَيوٰةَ الدُّنيا وَزينَتَها نُوَفِّ إِلَيهِم أَعمٰلَهُم فيها وَهُم فيها لا يُبخَسونَ(15)
جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی(15)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَيسَ لَهُم فِى الءاخِرَةِ إِلَّا النّارُ ۖ وَحَبِطَ ما صَنَعوا فيها وَبٰطِلٌ ما كانوا يَعمَلونَ(16)
مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے (وہاں معلوم ہو جائے گا کہ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہو گیا اور اب ان کا سارا کیا دھرا محض باطل ہے(16)
أَفَمَن كانَ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبِّهِ وَيَتلوهُ شاهِدٌ مِنهُ وَمِن قَبلِهِ كِتٰبُ موسىٰ إِمامًا وَرَحمَةً ۚ أُولٰئِكَ يُؤمِنونَ بِهِ ۚ وَمَن يَكفُر بِهِ مِنَ الأَحزابِ فَالنّارُ مَوعِدُهُ ۚ فَلا تَكُ فى مِريَةٍ مِنهُ ۚ إِنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّكَ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يُؤمِنونَ(17)
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آ گیا، اور پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے پس اے پیغمبرؐ، تم اِس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے(17)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۚ أُولٰئِكَ يُعرَضونَ عَلىٰ رَبِّهِم وَيَقولُ الأَشهٰدُ هٰؤُلاءِ الَّذينَ كَذَبوا عَلىٰ رَبِّهِم ۚ أَلا لَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الظّٰلِمينَ(18)
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا سنو! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر(18)
الَّذينَ يَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم كٰفِرونَ(19)
اُن ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اس کے راستے کو ٹیٹرھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں(19)
أُولٰئِكَ لَم يَكونوا مُعجِزينَ فِى الأَرضِ وَما كانَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ مِن أَولِياءَ ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ العَذابُ ۚ ما كانوا يَستَطيعونَ السَّمعَ وَما كانوا يُبصِرونَ(20)
وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا(20)
أُولٰئِكَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(21)
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا(21)
لا جَرَمَ أَنَّهُم فِى الءاخِرَةِ هُمُ الأَخسَرونَ(22)
نا گزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں(22)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَأَخبَتوا إِلىٰ رَبِّهِم أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(23)
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے(23)
۞ مَثَلُ الفَريقَينِ كَالأَعمىٰ وَالأَصَمِّ وَالبَصيرِ وَالسَّميعِ ۚ هَل يَستَوِيانِ مَثَلًا ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(24)
اِن دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم (اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟(24)
وَلَقَد أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ إِنّى لَكُم نَذيرٌ مُبينٌ(25)
(اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اُس نے کہا) "میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں(25)
أَن لا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ ۖ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ أَليمٍ(26)
کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا"(26)
فَقالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ ما نَرىٰكَ إِلّا بَشَرًا مِثلَنا وَما نَرىٰكَ اتَّبَعَكَ إِلَّا الَّذينَ هُم أَراذِلُنا بادِىَ الرَّأىِ وَما نَرىٰ لَكُم عَلَينا مِن فَضلٍ بَل نَظُنُّكُم كٰذِبينَ(27)
جواب میں اُس کی قوم کے سردار، جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے "ہماری نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں"(27)
قالَ يٰقَومِ أَرَءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَءاتىٰنى رَحمَةً مِن عِندِهِ فَعُمِّيَت عَلَيكُم أَنُلزِمُكُموها وَأَنتُم لَها كٰرِهونَ(28)
اس نے کہا "اے برادران قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپیک دیں؟(28)
وَيٰقَومِ لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مالًا ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلَى اللَّهِ ۚ وَما أَنا۠ بِطارِدِ الَّذينَ ءامَنوا ۚ إِنَّهُم مُلٰقوا رَبِّهِم وَلٰكِنّى أَرىٰكُم قَومًا تَجهَلونَ(29)
اور اے برادران قوم، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو(29)
وَيٰقَومِ مَن يَنصُرُنى مِنَ اللَّهِ إِن طَرَدتُهُم ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(30)
اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟(30)
وَلا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ إِنّى مَلَكٌ وَلا أَقولُ لِلَّذينَ تَزدَرى أَعيُنُكُم لَن يُؤتِيَهُمُ اللَّهُ خَيرًا ۖ اللَّهُ أَعلَمُ بِما فى أَنفُسِهِم ۖ إِنّى إِذًا لَمِنَ الظّٰلِمينَ(31)
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا"(31)
قالوا يٰنوحُ قَد جٰدَلتَنا فَأَكثَرتَ جِدٰلَنا فَأتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(32)
آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ "اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو"(32)
قالَ إِنَّما يَأتيكُم بِهِ اللَّهُ إِن شاءَ وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ(33)
نوحؑ نے جواب دیا "وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو(33)
وَلا يَنفَعُكُم نُصحى إِن أَرَدتُ أَن أَنصَحَ لَكُم إِن كانَ اللَّهُ يُريدُ أَن يُغوِيَكُم ۚ هُوَ رَبُّكُم وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(34)
اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کر لیا ہو، وہی تمہارا رب ہے اور اُسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے"(34)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل إِنِ افتَرَيتُهُ فَعَلَىَّ إِجرامى وَأَنا۠ بَريءٌ مِمّا تُجرِمونَ(35)
اے محمدؐ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو "اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں"(35)
وَأوحِىَ إِلىٰ نوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤمِنَ مِن قَومِكَ إِلّا مَن قَد ءامَنَ فَلا تَبتَئِس بِما كانوا يَفعَلونَ(36)
نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے بس وہ لا چکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو(36)
وَاصنَعِ الفُلكَ بِأَعيُنِنا وَوَحيِنا وَلا تُخٰطِبنى فِى الَّذينَ ظَلَموا ۚ إِنَّهُم مُغرَقونَ(37)
اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو اور دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں(37)
وَيَصنَعُ الفُلكَ وَكُلَّما مَرَّ عَلَيهِ مَلَأٌ مِن قَومِهِ سَخِروا مِنهُ ۚ قالَ إِن تَسخَروا مِنّا فَإِنّا نَسخَرُ مِنكُم كَما تَسخَرونَ(38)
نوحؑ کشتی بنا رہا تھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا اس نے کہا "اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں(38)
فَسَوفَ تَعلَمونَ مَن يَأتيهِ عَذابٌ يُخزيهِ وَيَحِلُّ عَلَيهِ عَذابٌ مُقيمٌ(39)
عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی"(39)
حَتّىٰ إِذا جاءَ أَمرُنا وَفارَ التَّنّورُ قُلنَا احمِل فيها مِن كُلٍّ زَوجَينِ اثنَينِ وَأَهلَكَ إِلّا مَن سَبَقَ عَلَيهِ القَولُ وَمَن ءامَنَ ۚ وَما ءامَنَ مَعَهُ إِلّا قَليلٌ(40)
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنو ر ابل پڑا تو ہم نے کہا "ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں" اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے(40)
۞ وَقالَ اركَبوا فيها بِسمِ اللَّهِ مَجر۪ىٰها وَمُرسىٰها ۚ إِنَّ رَبّى لَغَفورٌ رَحيمٌ(41)
نوحؑ نے کہا "سوار ہو جاؤ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھیرنا بھی، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے"(41)
وَهِىَ تَجرى بِهِم فى مَوجٍ كَالجِبالِ وَنادىٰ نوحٌ ابنَهُ وَكانَ فى مَعزِلٍ يٰبُنَىَّ اركَب مَعَنا وَلا تَكُن مَعَ الكٰفِرينَ(42)
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"(42)
قالَ سَـٔاوى إِلىٰ جَبَلٍ يَعصِمُنى مِنَ الماءِ ۚ قالَ لا عاصِمَ اليَومَ مِن أَمرِ اللَّهِ إِلّا مَن رَحِمَ ۚ وَحالَ بَينَهُمَا المَوجُ فَكانَ مِنَ المُغرَقينَ(43)
اُس نے پلٹ کر جواب دیا "میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا" نوحؑ نے کہا، آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے" اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہو گیا(43)
وَقيلَ يٰأَرضُ ابلَعى ماءَكِ وَيٰسَماءُ أَقلِعى وَغيضَ الماءُ وَقُضِىَ الأَمرُ وَاستَوَت عَلَى الجودِىِّ ۖ وَقيلَ بُعدًا لِلقَومِ الظّٰلِمينَ(44)
حکم ہوا "اے زمین، اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان، رک جا" چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا، کشتی جودی پر ٹک گئی، اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قو م!(44)
وَنادىٰ نوحٌ رَبَّهُ فَقالَ رَبِّ إِنَّ ابنى مِن أَهلى وَإِنَّ وَعدَكَ الحَقُّ وَأَنتَ أَحكَمُ الحٰكِمينَ(45)
نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا "اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے"(45)
قالَ يٰنوحُ إِنَّهُ لَيسَ مِن أَهلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيرُ صٰلِحٍ ۖ فَلا تَسـَٔلنِ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۖ إِنّى أَعِظُكَ أَن تَكونَ مِنَ الجٰهِلينَ(46)
جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے"(46)
قالَ رَبِّ إِنّى أَعوذُ بِكَ أَن أَسـَٔلَكَ ما لَيسَ لى بِهِ عِلمٌ ۖ وَإِلّا تَغفِر لى وَتَرحَمنى أَكُن مِنَ الخٰسِرينَ(47)
نوحؑ نے فوراً عرض کیا "اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں اگر تو نے مجھ معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاؤں گا"(47)
قيلَ يٰنوحُ اهبِط بِسَلٰمٍ مِنّا وَبَرَكٰتٍ عَلَيكَ وَعَلىٰ أُمَمٍ مِمَّن مَعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُم ثُمَّ يَمَسُّهُم مِنّا عَذابٌ أَليمٌ(48)
حکم ہوا "اے نوحؑ اتر جا، ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے درد ناک عذاب پہنچے گا"(48)
تِلكَ مِن أَنباءِ الغَيبِ نوحيها إِلَيكَ ۖ ما كُنتَ تَعلَمُها أَنتَ وَلا قَومُكَ مِن قَبلِ هٰذا ۖ فَاصبِر ۖ إِنَّ العٰقِبَةَ لِلمُتَّقينَ(49)
اے محمدؐ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم، پس صبر کرو، ا نجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے(49)
وَإِلىٰ عادٍ أَخاهُم هودًا ۚ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ إِن أَنتُم إِلّا مُفتَرونَ(50)
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں(50)
يٰقَومِ لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرًا ۖ إِن أَجرِىَ إِلّا عَلَى الَّذى فَطَرَنى ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(51)
اے برادران قوم، اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا اجر تو اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے؟(51)
وَيٰقَومِ استَغفِروا رَبَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ يُرسِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدرارًا وَيَزِدكُم قُوَّةً إِلىٰ قُوَّتِكُم وَلا تَتَوَلَّوا مُجرِمينَ(52)
اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے رب سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو"(52)
قالوا يٰهودُ ما جِئتَنا بِبَيِّنَةٍ وَما نَحنُ بِتارِكى ءالِهَتِنا عَن قَولِكَ وَما نَحنُ لَكَ بِمُؤمِنينَ(53)
انہوں نے جواب دیا "اے ہودؑ، تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے، اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے، اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں(53)
إِن نَقولُ إِلَّا اعتَرىٰكَ بَعضُ ءالِهَتِنا بِسوءٍ ۗ قالَ إِنّى أُشهِدُ اللَّهَ وَاشهَدوا أَنّى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ(54)
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے" ہودؑ نے کہا "میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں(54)
مِن دونِهِ ۖ فَكيدونى جَميعًا ثُمَّ لا تُنظِرونِ(55)
تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھا رکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو(55)
إِنّى تَوَكَّلتُ عَلَى اللَّهِ رَبّى وَرَبِّكُم ۚ ما مِن دابَّةٍ إِلّا هُوَ ءاخِذٌ بِناصِيَتِها ۚ إِنَّ رَبّى عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(56)
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو بے شک میرا رب سیدھی ر اہ پر ہے(56)
فَإِن تَوَلَّوا فَقَد أَبلَغتُكُم ما أُرسِلتُ بِهِ إِلَيكُم ۚ وَيَستَخلِفُ رَبّى قَومًا غَيرَكُم وَلا تَضُرّونَهُ شَيـًٔا ۚ إِنَّ رَبّى عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ حَفيظٌ(57)
اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں اب میرا رب تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھائے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے یقیناً میرا رب ہر چیز پر نگراں ہے"(57)
وَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا هودًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَنَجَّينٰهُم مِن عَذابٍ غَليظٍ(58)
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے بچا لیا(58)
وَتِلكَ عادٌ ۖ جَحَدوا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم وَعَصَوا رُسُلَهُ وَاتَّبَعوا أَمرَ كُلِّ جَبّارٍ عَنيدٍ(59)
یہ ہیں عاد، اپنے رب کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اس کے رسولوں کی بات نہ مانی، اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی کرتے رہے(59)
وَأُتبِعوا فى هٰذِهِ الدُّنيا لَعنَةً وَيَومَ القِيٰمَةِ ۗ أَلا إِنَّ عادًا كَفَروا رَبَّهُم ۗ أَلا بُعدًا لِعادٍ قَومِ هودٍ(60)
آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی سنو! عاد نے اپنے رب سے کفر کیا، سنو! دور پھینک دیے گئے عاد، ہودؑ کی قوم کے لوگ(60)
۞ وَإِلىٰ ثَمودَ أَخاهُم صٰلِحًا ۚ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ هُوَ أَنشَأَكُم مِنَ الأَرضِ وَاستَعمَرَكُم فيها فَاستَغفِروهُ ثُمَّ توبوا إِلَيهِ ۚ إِنَّ رَبّى قَريبٌ مُجيبٌ(61)
اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُ س کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناً میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے"(61)
قالوا يٰصٰلِحُ قَد كُنتَ فينا مَرجُوًّا قَبلَ هٰذا ۖ أَتَنهىٰنا أَن نَعبُدَ ما يَعبُدُ ءاباؤُنا وَإِنَّنا لَفى شَكٍّ مِمّا تَدعونا إِلَيهِ مُريبٍ(62)
انہوں نے کہا "اے صالحؑ، اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے"(62)
قالَ يٰقَومِ أَرَءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَءاتىٰنى مِنهُ رَحمَةً فَمَن يَنصُرُنى مِنَ اللَّهِ إِن عَصَيتُهُ ۖ فَما تَزيدونَنى غَيرَ تَخسيرٍ(63)
صالحؑ نے کہا "اے برادران قوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اِس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اُس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آ سکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو(63)
وَيٰقَومِ هٰذِهِ ناقَةُ اللَّهِ لَكُم ءايَةً فَذَروها تَأكُل فى أَرضِ اللَّهِ وَلا تَمَسّوها بِسوءٍ فَيَأخُذَكُم عَذابٌ قَريبٌ(64)
اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے اِسے خدا کی زمین میں چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو اِس سے ذرا تعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آ جائے گا"(64)
فَعَقَروها فَقالَ تَمَتَّعوا فى دارِكُم ثَلٰثَةَ أَيّامٍ ۖ ذٰلِكَ وَعدٌ غَيرُ مَكذوبٍ(65)
مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اس پر صالحؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ "بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی"(65)
فَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا صٰلِحًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَمِن خِزىِ يَومِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ القَوِىُّ العَزيزُ(66)
آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالحؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا بے شک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالا دست ہے(66)
وَأَخَذَ الَّذينَ ظَلَمُوا الصَّيحَةُ فَأَصبَحوا فى دِيٰرِهِم جٰثِمينَ(67)
رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے(67)
كَأَن لَم يَغنَوا فيها ۗ أَلا إِنَّ ثَمودَا۟ كَفَروا رَبَّهُم ۗ أَلا بُعدًا لِثَمودَ(68)
کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے سنو! ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود!(68)
وَلَقَد جاءَت رُسُلُنا إِبرٰهيمَ بِالبُشرىٰ قالوا سَلٰمًا ۖ قالَ سَلٰمٌ ۖ فَما لَبِثَ أَن جاءَ بِعِجلٍ حَنيذٍ(69)
اور دیکھو، ابراہیمؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے کہا تم پر سلام ہو ابراہیمؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیمؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا(69)
فَلَمّا رَءا أَيدِيَهُم لا تَصِلُ إِلَيهِ نَكِرَهُم وَأَوجَسَ مِنهُم خيفَةً ۚ قالوا لا تَخَف إِنّا أُرسِلنا إِلىٰ قَومِ لوطٍ(70)
مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا اُنہوں نے کہا "ڈرو نہیں، ہم تو لوطؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں"(70)
وَامرَأَتُهُ قائِمَةٌ فَضَحِكَت فَبَشَّرنٰها بِإِسحٰقَ وَمِن وَراءِ إِسحٰقَ يَعقوبَ(71)
ابراہیمؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی وہ یہ سن کر ہنس دی پھر ہم نے اس کو اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی(71)
قالَت يٰوَيلَتىٰ ءَأَلِدُ وَأَنا۠ عَجوزٌ وَهٰذا بَعلى شَيخًا ۖ إِنَّ هٰذا لَشَيءٌ عَجيبٌ(72)
وہ بولی "ہائے میری کم بختی! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بوڑھے ہو چکے؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے"(72)
قالوا أَتَعجَبينَ مِن أَمرِ اللَّهِ ۖ رَحمَتُ اللَّهِ وَبَرَكٰتُهُ عَلَيكُم أَهلَ البَيتِ ۚ إِنَّهُ حَميدٌ مَجيدٌ(73)
فرشتوں نے کہا "اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟ ابراہیمؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے"(73)
فَلَمّا ذَهَبَ عَن إِبرٰهيمَ الرَّوعُ وَجاءَتهُ البُشرىٰ يُجٰدِلُنا فى قَومِ لوطٍ(74)
پھر جب ابراہیمؑ کی گھبراہٹ دور ہو گئی اور (اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہو گیا تو اس نے قوم لوط کے معاملے میں ہم سے جھگڑا شروع کیا(74)
إِنَّ إِبرٰهيمَ لَحَليمٌ أَوّٰهٌ مُنيبٌ(75)
حقیقت میں ابراہیمؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا(75)
يٰإِبرٰهيمُ أَعرِض عَن هٰذا ۖ إِنَّهُ قَد جاءَ أَمرُ رَبِّكَ ۖ وَإِنَّهُم ءاتيهِم عَذابٌ غَيرُ مَردودٍ(76)
(آخر کار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا) "اے ابراہیمؑ، اس سے باز آ جاؤ، تمہارے رب کا حکم ہو چکا ہے اور اب ان لوگوں پر وہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھر سکتا"(76)
وَلَمّا جاءَت رُسُلُنا لوطًا سيءَ بِهِم وَضاقَ بِهِم ذَرعًا وَقالَ هٰذا يَومٌ عَصيبٌ(77)
اور جب ہمارے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن ہے(77)
وَجاءَهُ قَومُهُ يُهرَعونَ إِلَيهِ وَمِن قَبلُ كانوا يَعمَلونَ السَّيِّـٔاتِ ۚ قالَ يٰقَومِ هٰؤُلاءِ بَناتى هُنَّ أَطهَرُ لَكُم ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخزونِ فى ضَيفى ۖ أَلَيسَ مِنكُم رَجُلٌ رَشيدٌ(78)
(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے پہلے سے وہ ایسی ہی بد کاریوں کے خوگر تھے لوطؑ نے ان سے کہا "بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے ذلیل نہ کرو کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟"(78)
قالوا لَقَد عَلِمتَ ما لَنا فى بَناتِكَ مِن حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعلَمُ ما نُريدُ(79)
انہوں نے جواب دیا "تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے اور تو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں"(79)
قالَ لَو أَنَّ لى بِكُم قُوَّةً أَو ءاوى إِلىٰ رُكنٍ شَديدٍ(80)
لوطؑ نے کہا "کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کر دیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا"(80)
قالوا يٰلوطُ إِنّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلوا إِلَيكَ ۖ فَأَسرِ بِأَهلِكَ بِقِطعٍ مِنَ الَّيلِ وَلا يَلتَفِت مِنكُم أَحَدٌ إِلَّا امرَأَتَكَ ۖ إِنَّهُ مُصيبُها ما أَصابَهُم ۚ إِنَّ مَوعِدَهُمُ الصُّبحُ ۚ أَلَيسَ الصُّبحُ بِقَريبٍ(81)
تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ "اے لوطؑ، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جا اور دیکھو، تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے مگر تیر ی بیوی (ساتھ نہیں جائے گی) کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے!"(81)
فَلَمّا جاءَ أَمرُنا جَعَلنا عٰلِيَها سافِلَها وَأَمطَرنا عَلَيها حِجارَةً مِن سِجّيلٍ مَنضودٍ(82)
پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آ پہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے(82)
مُسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ ۖ وَما هِىَ مِنَ الظّٰلِمينَ بِبَعيدٍ(83)
جن میں سے ہر پتھر تیرے رب کے ہاں نشان زدہ تھا اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے(83)
۞ وَإِلىٰ مَديَنَ أَخاهُم شُعَيبًا ۚ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ وَلا تَنقُصُوا المِكيالَ وَالميزانَ ۚ إِنّى أَرىٰكُم بِخَيرٍ وَإِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ مُحيطٍ(84)
اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا(84)
وَيٰقَومِ أَوفُوا المِكيالَ وَالميزانَ بِالقِسطِ ۖ وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ(85)
اور اے برادران قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو(85)
بَقِيَّتُ اللَّهِ خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ۚ وَما أَنا۠ عَلَيكُم بِحَفيظٍ(86)
اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہر حال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں"(86)
قالوا يٰشُعَيبُ أَصَلوٰتُكَ تَأمُرُكَ أَن نَترُكَ ما يَعبُدُ ءاباؤُنا أَو أَن نَفعَلَ فى أَموٰلِنا ما نَشٰؤُا۟ ۖ إِنَّكَ لَأَنتَ الحَليمُ الرَّشيدُ(87)
انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پر ستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے!"(87)
قالَ يٰقَومِ أَرَءَيتُم إِن كُنتُ عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَرَزَقَنى مِنهُ رِزقًا حَسَنًا ۚ وَما أُريدُ أَن أُخالِفَكُم إِلىٰ ما أَنهىٰكُم عَنهُ ۚ إِن أُريدُ إِلَّا الإِصلٰحَ مَا استَطَعتُ ۚ وَما تَوفيقى إِلّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ(88)
شعیبؑ نے کہا "بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا (تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟) اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں(88)
وَيٰقَومِ لا يَجرِمَنَّكُم شِقاقى أَن يُصيبَكُم مِثلُ ما أَصابَ قَومَ نوحٍ أَو قَومَ هودٍ أَو قَومَ صٰلِحٍ ۚ وَما قَومُ لوطٍ مِنكُم بِبَعيدٍ(89)
اور اے برادران قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخر کار تم پر بھی وہی عذاب آ کر رہے جو نوحؑ یا ہودؑ یا صالحؑ کی قوم پر آیا تھا اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے(89)
وَاستَغفِروا رَبَّكُم ثُمَّ توبوا إِلَيهِ ۚ إِنَّ رَبّى رَحيمٌ وَدودٌ(90)
دیکھو! اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، بے شک میرا رب رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے"(90)
قالوا يٰشُعَيبُ ما نَفقَهُ كَثيرًا مِمّا تَقولُ وَإِنّا لَنَرىٰكَ فينا ضَعيفًا ۖ وَلَولا رَهطُكَ لَرَجَمنٰكَ ۖ وَما أَنتَ عَلَينا بِعَزيزٍ(91)
انہوں نے جواب دیا "اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو"(91)
قالَ يٰقَومِ أَرَهطى أَعَزُّ عَلَيكُم مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذتُموهُ وَراءَكُم ظِهرِيًّا ۖ إِنَّ رَبّى بِما تَعمَلونَ مُحيطٌ(92)
شعیبؑ نے کہا "بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے(92)
وَيٰقَومِ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّى عٰمِلٌ ۖ سَوفَ تَعلَمونَ مَن يَأتيهِ عَذابٌ يُخزيهِ وَمَن هُوَ كٰذِبٌ ۖ وَارتَقِبوا إِنّى مَعَكُم رَقيبٌ(93)
اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں"(93)
وَلَمّا جاءَ أَمرُنا نَجَّينا شُعَيبًا وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَأَخَذَتِ الَّذينَ ظَلَمُوا الصَّيحَةُ فَأَصبَحوا فى دِيٰرِهِم جٰثِمينَ(94)
آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آ گیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے(94)
كَأَن لَم يَغنَوا فيها ۗ أَلا بُعدًا لِمَديَنَ كَما بَعِدَت ثَمودُ(95)
گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو! مدین والے بھی دور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے(95)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا وَسُلطٰنٍ مُبينٍ(96)
اور موسیٰؑ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھلی کھلی سند ماموریت کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا(96)
إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَاتَّبَعوا أَمرَ فِرعَونَ ۖ وَما أَمرُ فِرعَونَ بِرَشيدٍ(97)
مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا(97)
يَقدُمُ قَومَهُ يَومَ القِيٰمَةِ فَأَورَدَهُمُ النّارَ ۖ وَبِئسَ الوِردُ المَورودُ(98)
قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا کیسی بدتر جائے وُرُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے!(98)
وَأُتبِعوا فى هٰذِهِ لَعنَةً وَيَومَ القِيٰمَةِ ۚ بِئسَ الرِّفدُ المَرفودُ(99)
اور ان لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی کیسا برا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!(99)
ذٰلِكَ مِن أَنباءِ القُرىٰ نَقُصُّهُ عَلَيكَ ۖ مِنها قائِمٌ وَحَصيدٌ(100)
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے(100)
وَما ظَلَمنٰهُم وَلٰكِن ظَلَموا أَنفُسَهُم ۖ فَما أَغنَت عَنهُم ءالِهَتُهُمُ الَّتى يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ مِن شَيءٍ لَمّا جاءَ أَمرُ رَبِّكَ ۖ وَما زادوهُم غَيرَ تَتبيبٍ(101)
ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا(101)
وَكَذٰلِكَ أَخذُ رَبِّكَ إِذا أَخَذَ القُرىٰ وَهِىَ ظٰلِمَةٌ ۚ إِنَّ أَخذَهُ أَليمٌ شَديدٌ(102)
اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے(102)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِمَن خافَ عَذابَ الءاخِرَةِ ۚ ذٰلِكَ يَومٌ مَجموعٌ لَهُ النّاسُ وَذٰلِكَ يَومٌ مَشهودٌ(103)
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا(103)
وَما نُؤَخِّرُهُ إِلّا لِأَجَلٍ مَعدودٍ(104)
ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے(104)
يَومَ يَأتِ لا تَكَلَّمُ نَفسٌ إِلّا بِإِذنِهِ ۚ فَمِنهُم شَقِىٌّ وَسَعيدٌ(105)
جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت(105)
فَأَمَّا الَّذينَ شَقوا فَفِى النّارِ لَهُم فيها زَفيرٌ وَشَهيقٌ(106)
جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے(106)
خٰلِدينَ فيها ما دامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ إِلّا ما شاءَ رَبُّكَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ فَعّالٌ لِما يُريدُ(107)
اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے بے شک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے(107)
۞ وَأَمَّا الَّذينَ سُعِدوا فَفِى الجَنَّةِ خٰلِدينَ فيها ما دامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ إِلّا ما شاءَ رَبُّكَ ۖ عَطاءً غَيرَ مَجذوذٍ(108)
رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا(108)
فَلا تَكُ فى مِريَةٍ مِمّا يَعبُدُ هٰؤُلاءِ ۚ ما يَعبُدونَ إِلّا كَما يَعبُدُ ءاباؤُهُم مِن قَبلُ ۚ وَإِنّا لَمُوَفّوهُم نَصيبَهُم غَيرَ مَنقوصٍ(109)
پس اے نبیؐ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے، اور ہم اِن کا حصہ اِنہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو(109)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ فَاختُلِفَ فيهِ ۚ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ لَقُضِىَ بَينَهُم ۚ وَإِنَّهُم لَفى شَكٍّ مِنهُ مُريبٍ(110)
ہم اس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں(110)
وَإِنَّ كُلًّا لَمّا لَيُوَفِّيَنَّهُم رَبُّكَ أَعمٰلَهُم ۚ إِنَّهُ بِما يَعمَلونَ خَبيرٌ(111)
اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے(111)
فَاستَقِم كَما أُمِرتَ وَمَن تابَ مَعَكَ وَلا تَطغَوا ۚ إِنَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(112)
پس اے محمدؐ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے(112)
وَلا تَركَنوا إِلَى الَّذينَ ظَلَموا فَتَمَسَّكُمُ النّارُ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن أَولِياءَ ثُمَّ لا تُنصَرونَ(113)
اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی(113)
وَأَقِمِ الصَّلوٰةَ طَرَفَىِ النَّهارِ وَزُلَفًا مِنَ الَّيلِ ۚ إِنَّ الحَسَنٰتِ يُذهِبنَ السَّيِّـٔاتِ ۚ ذٰلِكَ ذِكرىٰ لِلذّٰكِرينَ(114)
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں(114)
وَاصبِر فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضيعُ أَجرَ المُحسِنينَ(115)
اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا(115)
فَلَولا كانَ مِنَ القُرونِ مِن قَبلِكُم أُولوا بَقِيَّةٍ يَنهَونَ عَنِ الفَسادِ فِى الأَرضِ إِلّا قَليلًا مِمَّن أَنجَينا مِنهُم ۗ وَاتَّبَعَ الَّذينَ ظَلَموا ما أُترِفوا فيهِ وَكانوا مُجرِمينَ(116)
پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے(116)
وَما كانَ رَبُّكَ لِيُهلِكَ القُرىٰ بِظُلمٍ وَأَهلُها مُصلِحونَ(117)
تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں(117)
وَلَو شاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النّاسَ أُمَّةً وٰحِدَةً ۖ وَلا يَزالونَ مُختَلِفينَ(118)
بے شک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے(118)
إِلّا مَن رَحِمَ رَبُّكَ ۚ وَلِذٰلِكَ خَلَقَهُم ۗ وَتَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ(119)
اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے اِسی (آزادی انتخاب و اختیار) کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہو گئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جن اور انسان، سب سے بھر دوں گا(119)
وَكُلًّا نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنباءِ الرُّسُلِ ما نُثَبِّتُ بِهِ فُؤادَكَ ۚ وَجاءَكَ فى هٰذِهِ الحَقُّ وَمَوعِظَةٌ وَذِكرىٰ لِلمُؤمِنينَ(120)
اور اے محمدؐ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی(120)
وَقُل لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّا عٰمِلونَ(121)
رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں(121)
وَانتَظِروا إِنّا مُنتَظِرونَ(122)
انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں(122)
وَلِلَّهِ غَيبُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَإِلَيهِ يُرجَعُ الأَمرُ كُلُّهُ فَاعبُدهُ وَتَوَكَّل عَلَيهِ ۚ وَما رَبُّكَ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ(123)
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے پس اے نبیؐ، تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسا رکھ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا رب اس سے بے خبر نہیں ہے(123)