Az-Zumar( الزمر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(1)
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے(1)
إِنّا أَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ فَاعبُدِ اللَّهَ مُخلِصًا لَهُ الدّينَ(2)
(اے محمدؐ) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف برحق نازل کی ہے، لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے(2)
أَلا لِلَّهِ الدّينُ الخالِصُ ۚ وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ما نَعبُدُهُم إِلّا لِيُقَرِّبونا إِلَى اللَّهِ زُلفىٰ إِنَّ اللَّهَ يَحكُمُ بَينَهُم فى ما هُم فيهِ يَختَلِفونَ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدى مَن هُوَ كٰذِبٌ كَفّارٌ(3)
خبردار، دین خالص اللہ کا حق ہے رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرا دیں، اللہ یقیناً اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا اور منکر حق ہو(3)
لَو أَرادَ اللَّهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَاصطَفىٰ مِمّا يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ سُبحٰنَهُ ۖ هُوَ اللَّهُ الوٰحِدُ القَهّارُ(4)
اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کر لیتا، پاک ہے وہ اس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو)، وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب(4)
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۖ يُكَوِّرُ الَّيلَ عَلَى النَّهارِ وَيُكَوِّرُ النَّهارَ عَلَى الَّيلِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجرى لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ أَلا هُوَ العَزيزُ الغَفّٰرُ(5)
اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے وہی دن پر رات اور رات پر دن کو لپیٹتا ہے اُسی نے سورج اور چاند کو اس طرح مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقت مقرر تک چلے جا رہا ہے جان رکھو، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے(5)
خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنها زَوجَها وَأَنزَلَ لَكُم مِنَ الأَنعٰمِ ثَمٰنِيَةَ أَزوٰجٍ ۚ يَخلُقُكُم فى بُطونِ أُمَّهٰتِكُم خَلقًا مِن بَعدِ خَلقٍ فى ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم لَهُ المُلكُ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ فَأَنّىٰ تُصرَفونَ(6)
اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر وہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نر و مادہ پیدا کیے وہ تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلا جاتا ہے یہی اللہ (جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رب ہے، بادشاہی اسی کی ہے، کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے، پھر تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو؟(6)
إِن تَكفُروا فَإِنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ عَنكُم ۖ وَلا يَرضىٰ لِعِبادِهِ الكُفرَ ۖ وَإِن تَشكُروا يَرضَهُ لَكُم ۗ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۗ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم مَرجِعُكُم فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(7)
اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا، اور اگر تم شکر کر و تو اسے وہ تمہارے لیے پسند کرتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا آخرکار تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے(7)
۞ وَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ ضُرٌّ دَعا رَبَّهُ مُنيبًا إِلَيهِ ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعمَةً مِنهُ نَسِىَ ما كانَ يَدعوا إِلَيهِ مِن قَبلُ وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندادًا لِيُضِلَّ عَن سَبيلِهِ ۚ قُل تَمَتَّع بِكُفرِكَ قَليلًا ۖ إِنَّكَ مِن أَصحٰبِ النّارِ(8)
انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اُسے پکارتا ہے پھر جب اس کا رب اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پکار رہا تھا اور دوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھیراتا ہے تاکہ اُس کی راہ سے گمراہ کرے (اے نبیؐ) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لطف اٹھا لے، یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے(8)
أَمَّن هُوَ قٰنِتٌ ءاناءَ الَّيلِ ساجِدًا وَقائِمًا يَحذَرُ الءاخِرَةَ وَيَرجوا رَحمَةَ رَبِّهِ ۗ قُل هَل يَستَوِى الَّذينَ يَعلَمونَ وَالَّذينَ لا يَعلَمونَ ۗ إِنَّما يَتَذَكَّرُ أُولُوا الأَلبٰبِ(9)
(کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے، رات کی گھڑیوں میں کھڑا رہتا اور سجدے کرتا ہے، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رب کی رحمت سے امید لگاتا ہے؟ اِن سے پوچھو، کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں(9)
قُل يٰعِبادِ الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقوا رَبَّكُم ۚ لِلَّذينَ أَحسَنوا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرضُ اللَّهِ وٰسِعَةٌ ۗ إِنَّما يُوَفَّى الصّٰبِرونَ أَجرَهُم بِغَيرِ حِسابٍ(10)
(اے نبیؐ) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، اپنے رب سے ڈرو جن لوگوں نے اِس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے اور خدا کی زمین وسیع ہے، صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا(10)
قُل إِنّى أُمِرتُ أَن أَعبُدَ اللَّهَ مُخلِصًا لَهُ الدّينَ(11)
(اے نبیؐ) اِن سے کہو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس کی بندگی کروں(11)
وَأُمِرتُ لِأَن أَكونَ أَوَّلَ المُسلِمينَ(12)
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں(12)
قُل إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(13)
کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے(13)
قُلِ اللَّهَ أَعبُدُ مُخلِصًا لَهُ دينى(14)
کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُسی کی بندگی کروں گا(14)
فَاعبُدوا ما شِئتُم مِن دونِهِ ۗ قُل إِنَّ الخٰسِرينَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم وَأَهليهِم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ أَلا ذٰلِكَ هُوَ الخُسرانُ المُبينُ(15)
تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو کہو، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو گھاٹے میں ڈال دیا خوب سن رکھو، یہی کھلا دیوالہ ہے(15)
لَهُم مِن فَوقِهِم ظُلَلٌ مِنَ النّارِ وَمِن تَحتِهِم ظُلَلٌ ۚ ذٰلِكَ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِ عِبادَهُ ۚ يٰعِبادِ فَاتَّقونِ(16)
اُن پر آگ کی چھتریاں اوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، پس اے میرے بندو، میرے غضب سے بچو(16)
وَالَّذينَ اجتَنَبُوا الطّٰغوتَ أَن يَعبُدوها وَأَنابوا إِلَى اللَّهِ لَهُمُ البُشرىٰ ۚ فَبَشِّر عِبادِ(17)
بخلاف اس کے جن لوگوں نے طاغوت کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا اُن کے لیے خوشخبری ہے پس (اے نبیؐ) بشارت دے دو میرے اُن بندوں کو(17)
الَّذينَ يَستَمِعونَ القَولَ فَيَتَّبِعونَ أَحسَنَهُ ۚ أُولٰئِكَ الَّذينَ هَدىٰهُمُ اللَّهُ ۖ وَأُولٰئِكَ هُم أُولُوا الأَلبٰبِ(18)
جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں(18)
أَفَمَن حَقَّ عَلَيهِ كَلِمَةُ العَذابِ أَفَأَنتَ تُنقِذُ مَن فِى النّارِ(19)
(اے نبیؐ) اُس شخص کو کون بچا سکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہو؟ کیا تم اُسے بچا سکتے ہو جو آگ میں گر چکا ہو؟(19)
لٰكِنِ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم لَهُم غُرَفٌ مِن فَوقِها غُرَفٌ مَبنِيَّةٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ ۖ وَعدَ اللَّهِ ۖ لا يُخلِفُ اللَّهُ الميعادَ(20)
البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈر کر رہے اُن کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ اللہ کا وعدہ ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا(20)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَسَلَكَهُ يَنٰبيعَ فِى الأَرضِ ثُمَّ يُخرِجُ بِهِ زَرعًا مُختَلِفًا أَلوٰنُهُ ثُمَّ يَهيجُ فَتَرىٰهُ مُصفَرًّا ثُمَّ يَجعَلُهُ حُطٰمًا ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَذِكرىٰ لِأُولِى الأَلبٰبِ(21)
کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں، پھر وہ کھیتیاں پک کر سوکھ جاتی ہیں، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئیں، پھر آخرکار اللہ اُن کو بھس بنا دیتا ہے در حقیقت اِس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے(21)
أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدرَهُ لِلإِسلٰمِ فَهُوَ عَلىٰ نورٍ مِن رَبِّهِ ۚ فَوَيلٌ لِلقٰسِيَةِ قُلوبُهُم مِن ذِكرِ اللَّهِ ۚ أُولٰئِكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(22)
اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا؟) تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہو گئے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں(22)
اللَّهُ نَزَّلَ أَحسَنَ الحَديثِ كِتٰبًا مُتَشٰبِهًا مَثانِىَ تَقشَعِرُّ مِنهُ جُلودُ الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم ثُمَّ تَلينُ جُلودُهُم وَقُلوبُهُم إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ ۚ ذٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهدى بِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(23)
اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں اور جس میں بار بار مضامین دہرائے گئے ہیں اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہ راست پر لے آتا ہے جسے چاہتا ہے اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے(23)
أَفَمَن يَتَّقى بِوَجهِهِ سوءَ العَذابِ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ وَقيلَ لِلظّٰلِمينَ ذوقوا ما كُنتُم تَكسِبونَ(24)
اب اُس شخص کی بد حالی کا تم کیا اندازہ کر سکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منہ پر لے گا؟ ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے(24)
كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَأَتىٰهُمُ العَذابُ مِن حَيثُ لا يَشعُرونَ(25)
اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلا چکے ہیں آخر اُن پر عذاب ایسے رخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جا سکتا تھا(25)
فَأَذاقَهُمُ اللَّهُ الخِزىَ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(26)
پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے، کاش یہ لوگ جانتے(26)
وَلَقَد ضَرَبنا لِلنّاسِ فى هٰذَا القُرءانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(27)
ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں(27)
قُرءانًا عَرَبِيًّا غَيرَ ذى عِوَجٍ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ(28)
ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے، جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، تاکہ یہ برے انجام سے بچیں(28)
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلًا فيهِ شُرَكاءُ مُتَشٰكِسونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِرَجُلٍ هَل يَستَوِيانِ مَثَلًا ۚ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(29)
اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک شخص تو وہ ہے جس کی ملکیت میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اور دوسرا شخص پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتاہے؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑے ہوئے ہیں(29)
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَيِّتونَ(30)
(اے نبیؐ) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے(30)
ثُمَّ إِنَّكُم يَومَ القِيٰمَةِ عِندَ رَبِّكُم تَختَصِمونَ(31)
آخرکار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے(31)
۞ فَمَن أَظلَمُ مِمَّن كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدقِ إِذ جاءَهُ ۚ أَلَيسَ فى جَهَنَّمَ مَثوًى لِلكٰفِرينَ(32)
پھر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اُسے جھٹلا دیا کیا ایسے کافروں کے لیے جہنم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے؟(32)
وَالَّذى جاءَ بِالصِّدقِ وَصَدَّقَ بِهِ ۙ أُولٰئِكَ هُمُ المُتَّقونَ(33)
اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں(33)
لَهُم ما يَشاءونَ عِندَ رَبِّهِم ۚ ذٰلِكَ جَزاءُ المُحسِنينَ(34)
انہیں اپنے رب کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا(34)
لِيُكَفِّرَ اللَّهُ عَنهُم أَسوَأَ الَّذى عَمِلوا وَيَجزِيَهُم أَجرَهُم بِأَحسَنِ الَّذى كانوا يَعمَلونَ(35)
تاکہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کیے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کر دے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے(35)
أَلَيسَ اللَّهُ بِكافٍ عَبدَهُ ۖ وَيُخَوِّفونَكَ بِالَّذينَ مِن دونِهِ ۚ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن هادٍ(36)
(اے نبیؐ) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟ یہ لوگ اُس کے سوا دوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں حالانکہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں(36)
وَمَن يَهدِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُضِلٍّ ۗ أَلَيسَ اللَّهُ بِعَزيزٍ ذِى انتِقامٍ(37)
اور جسے وہ ہدایت دے اُسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں، کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟(37)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۚ قُل أَفَرَءَيتُم ما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ إِن أَرادَنِىَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَل هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهِ أَو أَرادَنى بِرَحمَةٍ هَل هُنَّ مُمسِكٰتُ رَحمَتِهِ ۚ قُل حَسبِىَ اللَّهُ ۖ عَلَيهِ يَتَوَكَّلُ المُتَوَكِّلونَ(38)
اِن لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے اِن سے کہو، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچا لیں گی؟ یا اللہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟ بس ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے، بھروسہ کرنے والے اُسی پر بھروسہ کرتے ہیں(38)
قُل يٰقَومِ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّى عٰمِلٌ ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ(39)
ان سے صاف کہو کہ "اے میری قوم کے لوگو، تم اپنی جگہ اپنا کام کیے جاؤ، میں اپنا کام کرتا رہوں گا، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا(39)
مَن يَأتيهِ عَذابٌ يُخزيهِ وَيَحِلُّ عَلَيهِ عَذابٌ مُقيمٌ(40)
کہ کس پر رسوا کن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزا ملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں"(40)
إِنّا أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ لِلنّاسِ بِالحَقِّ ۖ فَمَنِ اهتَدىٰ فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيها ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ(41)
(اے نبیؐ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اُس کے بھٹکنے کا وبال اُسی پر ہوگا، تم اُن کے ذمہ دار نہیں ہو(41)
اللَّهُ يَتَوَفَّى الأَنفُسَ حينَ مَوتِها وَالَّتى لَم تَمُت فى مَنامِها ۖ فَيُمسِكُ الَّتى قَضىٰ عَلَيهَا المَوتَ وَيُرسِلُ الأُخرىٰ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(42)
وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت روحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی روح نیند میں قبض کر لیتا ہے، پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذ کرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی روحیں ایک وقت مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں(42)
أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ شُفَعاءَ ۚ قُل أَوَلَو كانوا لا يَملِكونَ شَيـًٔا وَلا يَعقِلونَ(43)
کیا اُس خدا کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دوسروں کو شفیع بنا رکھا ہے؟ ان سے کہو، کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ نہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں؟(43)
قُل لِلَّهِ الشَّفٰعَةُ جَميعًا ۖ لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ ثُمَّ إِلَيهِ تُرجَعونَ(44)
کہو، شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو(44)
وَإِذا ذُكِرَ اللَّهُ وَحدَهُ اشمَأَزَّت قُلوبُ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ ۖ وَإِذا ذُكِرَ الَّذينَ مِن دونِهِ إِذا هُم يَستَبشِرونَ(45)
جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں(45)
قُلِ اللَّهُمَّ فاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ عٰلِمَ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ أَنتَ تَحكُمُ بَينَ عِبادِكَ فى ما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(46)
کہو، خدایا! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، حاضر و غائب کے جاننے والے، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں(46)
وَلَو أَنَّ لِلَّذينَ ظَلَموا ما فِى الأَرضِ جَميعًا وَمِثلَهُ مَعَهُ لَافتَدَوا بِهِ مِن سوءِ العَذابِ يَومَ القِيٰمَةِ ۚ وَبَدا لَهُم مِنَ اللَّهِ ما لَم يَكونوا يَحتَسِبونَ(47)
اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو، اور اتنی ہی اور بھی، تو یہ روز قیامت کے برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا انہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے(47)
وَبَدا لَهُم سَيِّـٔاتُ ما كَسَبوا وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(48)
وہاں اپنی کمائی کے سارے برے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیز ان پر مسلط ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں(48)
فَإِذا مَسَّ الإِنسٰنَ ضُرٌّ دَعانا ثُمَّ إِذا خَوَّلنٰهُ نِعمَةً مِنّا قالَ إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ ۚ بَل هِىَ فِتنَةٌ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(49)
یہی انسان جب ذرا سی مصیبت اِسے چھو جاتی ہے تو ہمیں پکارتا ہے، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کر اپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے! نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں(49)
قَد قالَهَا الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(50)
یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ ان کے کسی کام نہ آیا(50)
فَأَصابَهُم سَيِّـٔاتُ ما كَسَبوا ۚ وَالَّذينَ ظَلَموا مِن هٰؤُلاءِ سَيُصيبُهُم سَيِّـٔاتُ ما كَسَبوا وَما هُم بِمُعجِزينَ(51)
پھر اپنی کمائی کے برے نتائج انہوں نے بھگتے، اور اِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے برے نتائج بھگتیں گے، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں(51)
أَوَلَم يَعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(52)
اور کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے؟ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(52)
۞ قُل يٰعِبادِىَ الَّذينَ أَسرَفوا عَلىٰ أَنفُسِهِم لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغفِرُ الذُّنوبَ جَميعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(53)
(اے نبیؐ) کہہ دو کہ اے میرے بندو، جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ، یقیناً اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہ تو غفور و رحیم ہے(53)
وَأَنيبوا إِلىٰ رَبِّكُم وَأَسلِموا لَهُ مِن قَبلِ أَن يَأتِيَكُمُ العَذابُ ثُمَّ لا تُنصَرونَ(54)
پلٹ آؤ اپنے رب کی طرف اور مطیع بن جاؤ اُس کے قبل اِس کے کہ تم پر عذاب آ جائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے(54)
وَاتَّبِعوا أَحسَنَ ما أُنزِلَ إِلَيكُم مِن رَبِّكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِيَكُمُ العَذابُ بَغتَةً وَأَنتُم لا تَشعُرونَ(55)
اور پیروی اختیار کر لو اپنے رب کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی، قبل اِس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو خبر بھی نہ ہو(55)
أَن تَقولَ نَفسٌ يٰحَسرَتىٰ عَلىٰ ما فَرَّطتُ فى جَنبِ اللَّهِ وَإِن كُنتُ لَمِنَ السّٰخِرينَ(56)
کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے "افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا، بلکہ میں تو الٹا مذاق اڑانے والوں میں شامل تھا"(56)
أَو تَقولَ لَو أَنَّ اللَّهَ هَدىٰنى لَكُنتُ مِنَ المُتَّقينَ(57)
یا کہے "کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا"(57)
أَو تَقولَ حينَ تَرَى العَذابَ لَو أَنَّ لى كَرَّةً فَأَكونَ مِنَ المُحسِنينَ(58)
یا عذاب دیکھ کر کہے "کاش مجھے ایک موقع اور مل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہو جاؤں"(58)
بَلىٰ قَد جاءَتكَ ءايٰتى فَكَذَّبتَ بِها وَاستَكبَرتَ وَكُنتَ مِنَ الكٰفِرينَ(59)
(اور اُس وقت اسے یہ جواب ملے کہ) "کیوں نہیں، میری آیات تیرے پاس آ چکی تھیں، پھر تو نے انہیں جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا"(59)
وَيَومَ القِيٰمَةِ تَرَى الَّذينَ كَذَبوا عَلَى اللَّهِ وُجوهُهُم مُسوَدَّةٌ ۚ أَلَيسَ فى جَهَنَّمَ مَثوًى لِلمُتَكَبِّرينَ(60)
آج جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے؟(60)
وَيُنَجِّى اللَّهُ الَّذينَ اتَّقَوا بِمَفازَتِهِم لا يَمَسُّهُمُ السّوءُ وَلا هُم يَحزَنونَ(61)
اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے ان کے اسباب کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے(61)
اللَّهُ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ(62)
اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے(62)
لَهُ مَقاليدُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَالَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(63)
زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں(63)
قُل أَفَغَيرَ اللَّهِ تَأمُرونّى أَعبُدُ أَيُّهَا الجٰهِلونَ(64)
(اے نبیؐ) اِن سے کہو "پھر کیا اے جاہلو، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کے لیے مجھ سے کہتے ہو؟"(64)
وَلَقَد أوحِىَ إِلَيكَ وَإِلَى الَّذينَ مِن قَبلِكَ لَئِن أَشرَكتَ لَيَحبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ(65)
(یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہیے کیونکہ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جا چکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم خسارے میں رہو گے(65)
بَلِ اللَّهَ فَاعبُد وَكُن مِنَ الشّٰكِرينَ(66)
لہٰذا (اے نبیؐ) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہو جاؤ(66)
وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدرِهِ وَالأَرضُ جَميعًا قَبضَتُهُ يَومَ القِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطوِيّٰتٌ بِيَمينِهِ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(67)
اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے (اس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پوری زمین اُس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دست راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے پاک اور بالاتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں(67)
وَنُفِخَ فِى الصّورِ فَصَعِقَ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ إِلّا مَن شاءَ اللَّهُ ۖ ثُمَّ نُفِخَ فيهِ أُخرىٰ فَإِذا هُم قِيامٌ يَنظُرونَ(68)
اور اُس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے(68)
وَأَشرَقَتِ الأَرضُ بِنورِ رَبِّها وَوُضِعَ الكِتٰبُ وَجِا۟يءَ بِالنَّبِيّۦنَ وَالشُّهَداءِ وَقُضِىَ بَينَهُم بِالحَقِّ وَهُم لا يُظلَمونَ(69)
زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا(69)
وَوُفِّيَت كُلُّ نَفسٍ ما عَمِلَت وَهُوَ أَعلَمُ بِما يَفعَلونَ(70)
اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے(70)
وَسيقَ الَّذينَ كَفَروا إِلىٰ جَهَنَّمَ زُمَرًا ۖ حَتّىٰ إِذا جاءوها فُتِحَت أَبوٰبُها وَقالَ لَهُم خَزَنَتُها أَلَم يَأتِكُم رُسُلٌ مِنكُم يَتلونَ عَلَيكُم ءايٰتِ رَبِّكُم وَيُنذِرونَكُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا ۚ قالوا بَلىٰ وَلٰكِن حَقَّت كَلِمَةُ العَذابِ عَلَى الكٰفِرينَ(71)
(اِس فیصلہ کے بعد) وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ در گروہ ہانکے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اُس کے کارندے ان سے کہیں گے "کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے، جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا؟" وہ جواب دیں گے "ہاں، آئے تھے، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا"(71)
قيلَ ادخُلوا أَبوٰبَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها ۖ فَبِئسَ مَثوَى المُتَكَبِّرينَ(72)
کہا جائے گا، داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے، بڑا ہی برا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لیے(72)
وَسيقَ الَّذينَ اتَّقَوا رَبَّهُم إِلَى الجَنَّةِ زُمَرًا ۖ حَتّىٰ إِذا جاءوها وَفُتِحَت أَبوٰبُها وَقالَ لَهُم خَزَنَتُها سَلٰمٌ عَلَيكُم طِبتُم فَادخُلوها خٰلِدينَ(73)
اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے، تو اُس کے منتظمین ان سے کہیں گے کہ "سلام ہو تم پر، بہت اچھے رہے، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے"(73)
وَقالُوا الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى صَدَقَنا وَعدَهُ وَأَورَثَنَا الأَرضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الجَنَّةِ حَيثُ نَشاءُ ۖ فَنِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ(74)
اور وہ کہیں گے "شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا، اب ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں" پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے(74)
وَتَرَى المَلٰئِكَةَ حافّينَ مِن حَولِ العَرشِ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم ۖ وَقُضِىَ بَينَهُم بِالحَقِّ وَقيلَ الحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(75)
اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد اور تسبیح کر رہے ہوں گے، اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا، اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے(75)