Az-Zukhruf( الزخرف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
ح م(1)
وَالكِتٰبِ المُبينِ(2)
قسم ہے اِس واضح کتاب کی(2)
إِنّا جَعَلنٰهُ قُرءٰنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُم تَعقِلونَ(3)
کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اِسے سمجھو(3)
وَإِنَّهُ فى أُمِّ الكِتٰبِ لَدَينا لَعَلِىٌّ حَكيمٌ(4)
اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب(4)
أَفَنَضرِبُ عَنكُمُ الذِّكرَ صَفحًا أَن كُنتُم قَومًا مُسرِفينَ(5)
اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اِس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو؟(5)
وَكَم أَرسَلنا مِن نَبِىٍّ فِى الأَوَّلينَ(6)
پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں(6)
وَما يَأتيهِم مِن نَبِىٍّ إِلّا كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(7)
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو(7)
فَأَهلَكنا أَشَدَّ مِنهُم بَطشًا وَمَضىٰ مَثَلُ الأَوَّلينَ(8)
پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں(8)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ لَيَقولُنَّ خَلَقَهُنَّ العَزيزُ العَليمُ(9)
اگر تم اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے(9)
الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ مَهدًا وَجَعَلَ لَكُم فيها سُبُلًا لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(10)
وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو(10)
وَالَّذى نَزَّلَ مِنَ السَّماءِ ماءً بِقَدَرٍ فَأَنشَرنا بِهِ بَلدَةً مَيتًا ۚ كَذٰلِكَ تُخرَجونَ(11)
جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھایا، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کیے جاؤ گے(11)
وَالَّذى خَلَقَ الأَزوٰجَ كُلَّها وَجَعَلَ لَكُم مِنَ الفُلكِ وَالأَنعٰمِ ما تَركَبونَ(12)
وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پشت پر چڑھو(12)
لِتَستَوۥا عَلىٰ ظُهورِهِ ثُمَّ تَذكُروا نِعمَةَ رَبِّكُم إِذَا استَوَيتُم عَلَيهِ وَتَقولوا سُبحٰنَ الَّذى سَخَّرَ لَنا هٰذا وَما كُنّا لَهُ مُقرِنينَ(13)
اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور کہو کہ "پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے(13)
وَإِنّا إِلىٰ رَبِّنا لَمُنقَلِبونَ(14)
اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے"(14)
وَجَعَلوا لَهُ مِن عِبادِهِ جُزءًا ۚ إِنَّ الإِنسٰنَ لَكَفورٌ مُبينٌ(15)
(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے(15)
أَمِ اتَّخَذَ مِمّا يَخلُقُ بَناتٍ وَأَصفىٰكُم بِالبَنينَ(16)
کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟(16)
وَإِذا بُشِّرَ أَحَدُهُم بِما ضَرَبَ لِلرَّحمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجهُهُ مُسوَدًّا وَهُوَ كَظيمٌ(17)
اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے(17)
أَوَمَن يُنَشَّؤُا۟ فِى الحِليَةِ وَهُوَ فِى الخِصامِ غَيرُ مُبينٍ(18)
کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟(18)
وَجَعَلُوا المَلٰئِكَةَ الَّذينَ هُم عِبٰدُ الرَّحمٰنِ إِنٰثًا ۚ أَشَهِدوا خَلقَهُم ۚ سَتُكتَبُ شَهٰدَتُهُم وَيُسـَٔلونَ(19)
انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے خاص بندے ہیں، عورتیں قرار دے لیا کیا اُن کے جسم کی ساخت اِنہوں نے دیکھی ہے؟ اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی(19)
وَقالوا لَو شاءَ الرَّحمٰنُ ما عَبَدنٰهُم ۗ ما لَهُم بِذٰلِكَ مِن عِلمٍ ۖ إِن هُم إِلّا يَخرُصونَ(20)
یہ کہتے ہیں "اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے" یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تکے لڑاتے ہیں(20)
أَم ءاتَينٰهُم كِتٰبًا مِن قَبلِهِ فَهُم بِهِ مُستَمسِكونَ(21)
کیا ہم نے اِس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند (اپنی اِس ملائکہ پرستی کے لیے) یہ اپنے پاس رکھتے ہوں؟(21)
بَل قالوا إِنّا وَجَدنا ءاباءَنا عَلىٰ أُمَّةٍ وَإِنّا عَلىٰ ءاثٰرِهِم مُهتَدونَ(22)
نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں(22)
وَكَذٰلِكَ ما أَرسَلنا مِن قَبلِكَ فى قَريَةٍ مِن نَذيرٍ إِلّا قالَ مُترَفوها إِنّا وَجَدنا ءاباءَنا عَلىٰ أُمَّةٍ وَإِنّا عَلىٰ ءاثٰرِهِم مُقتَدونَ(23)
اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں(23)
۞ قٰلَ أَوَلَو جِئتُكُم بِأَهدىٰ مِمّا وَجَدتُم عَلَيهِ ءاباءَكُم ۖ قالوا إِنّا بِما أُرسِلتُم بِهِ كٰفِرونَ(24)
ہر نبی نے ان سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیں(24)
فَانتَقَمنا مِنهُم ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(25)
آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا(25)
وَإِذ قالَ إِبرٰهيمُ لِأَبيهِ وَقَومِهِ إِنَّنى بَراءٌ مِمّا تَعبُدونَ(26)
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعق نہیں(26)
إِلَّا الَّذى فَطَرَنى فَإِنَّهُ سَيَهدينِ(27)
میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا"(27)
وَجَعَلَها كَلِمَةً باقِيَةً فى عَقِبِهِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(28)
اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں(28)
بَل مَتَّعتُ هٰؤُلاءِ وَءاباءَهُم حَتّىٰ جاءَهُمُ الحَقُّ وَرَسولٌ مُبينٌ(29)
(اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور اِن کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا(29)
وَلَمّا جاءَهُمُ الحَقُّ قالوا هٰذا سِحرٌ وَإِنّا بِهِ كٰفِرونَ(30)
مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں(30)
وَقالوا لَولا نُزِّلَ هٰذَا القُرءانُ عَلىٰ رَجُلٍ مِنَ القَريَتَينِ عَظيمٍ(31)
کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟(31)
أَهُم يَقسِمونَ رَحمَتَ رَبِّكَ ۚ نَحنُ قَسَمنا بَينَهُم مَعيشَتَهُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۚ وَرَفَعنا بَعضَهُم فَوقَ بَعضٍ دَرَجٰتٍ لِيَتَّخِذَ بَعضُهُم بَعضًا سُخرِيًّا ۗ وَرَحمَتُ رَبِّكَ خَيرٌ مِمّا يَجمَعونَ(32)
کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں(32)
وَلَولا أَن يَكونَ النّاسُ أُمَّةً وٰحِدَةً لَجَعَلنا لِمَن يَكفُرُ بِالرَّحمٰنِ لِبُيوتِهِم سُقُفًا مِن فِضَّةٍ وَمَعارِجَ عَلَيها يَظهَرونَ(33)
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو خدائے رحمان سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں(33)
وَلِبُيوتِهِم أَبوٰبًا وَسُرُرًا عَلَيها يَتَّكِـٔونَ(34)
اور اُن کے دروازے، اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں(34)
وَزُخرُفًا ۚ وَإِن كُلُّ ذٰلِكَ لَمّا مَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۚ وَالءاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلمُتَّقينَ(35)
سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہے(35)
وَمَن يَعشُ عَن ذِكرِ الرَّحمٰنِ نُقَيِّض لَهُ شَيطٰنًا فَهُوَ لَهُ قَرينٌ(36)
جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے(36)
وَإِنَّهُم لَيَصُدّونَهُم عَنِ السَّبيلِ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم مُهتَدونَ(37)
یہ شیاطین ایسے لوگو ں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں(37)
حَتّىٰ إِذا جاءَنا قالَ يٰلَيتَ بَينى وَبَينَكَ بُعدَ المَشرِقَينِ فَبِئسَ القَرينُ(38)
آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا، "کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بد ترین ساتھی نکلا"(38)
وَلَن يَنفَعَكُمُ اليَومَ إِذ ظَلَمتُم أَنَّكُم فِى العَذابِ مُشتَرِكونَ(39)
اُس وقت اِن لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کر چکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں(39)
أَفَأَنتَ تُسمِعُ الصُّمَّ أَو تَهدِى العُمىَ وَمَن كانَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(40)
اب کیا اے نبیؐ، تم بہروں کو سناؤ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے؟(40)
فَإِمّا نَذهَبَنَّ بِكَ فَإِنّا مِنهُم مُنتَقِمونَ(41)
اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں(41)
أَو نُرِيَنَّكَ الَّذى وَعَدنٰهُم فَإِنّا عَلَيهِم مُقتَدِرونَ(42)
یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے اِن سے وعدہ کیا ہے، ہمیں اِن پر پوری قدرت حاصل ہے(42)
فَاستَمسِك بِالَّذى أوحِىَ إِلَيكَ ۖ إِنَّكَ عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(43)
تم بہر حال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو(43)
وَإِنَّهُ لَذِكرٌ لَكَ وَلِقَومِكَ ۖ وَسَوفَ تُسـَٔلونَ(44)
حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گی(44)
وَسـَٔل مَن أَرسَلنا مِن قَبلِكَ مِن رُسُلِنا أَجَعَلنا مِن دونِ الرَّحمٰنِ ءالِهَةً يُعبَدونَ(45)
تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے؟(45)
وَلَقَد أَرسَلنا موسىٰ بِـٔايٰتِنا إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَقالَ إِنّى رَسولُ رَبِّ العٰلَمينَ(46)
ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں(46)
فَلَمّا جاءَهُم بِـٔايٰتِنا إِذا هُم مِنها يَضحَكونَ(47)
پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے(47)
وَما نُريهِم مِن ءايَةٍ إِلّا هِىَ أَكبَرُ مِن أُختِها ۖ وَأَخَذنٰهُم بِالعَذابِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(48)
ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں(48)
وَقالوا يٰأَيُّهَ السّاحِرُ ادعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِندَكَ إِنَّنا لَمُهتَدونَ(49)
ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے(49)
فَلَمّا كَشَفنا عَنهُمُ العَذابَ إِذا هُم يَنكُثونَ(50)
مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے(50)
وَنادىٰ فِرعَونُ فى قَومِهِ قالَ يٰقَومِ أَلَيسَ لى مُلكُ مِصرَ وَهٰذِهِ الأَنهٰرُ تَجرى مِن تَحتى ۖ أَفَلا تُبصِرونَ(51)
ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا، "لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟(51)
أَم أَنا۠ خَيرٌ مِن هٰذَا الَّذى هُوَ مَهينٌ وَلا يَكادُ يُبينُ(52)
میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟(52)
فَلَولا أُلقِىَ عَلَيهِ أَسوِرَةٌ مِن ذَهَبٍ أَو جاءَ مَعَهُ المَلٰئِكَةُ مُقتَرِنينَ(53)
کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟"(53)
فَاستَخَفَّ قَومَهُ فَأَطاعوهُ ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا فٰسِقينَ(54)
اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ(54)
فَلَمّا ءاسَفونَا انتَقَمنا مِنهُم فَأَغرَقنٰهُم أَجمَعينَ(55)
آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیا(55)
فَجَعَلنٰهُم سَلَفًا وَمَثَلًا لِلءاخِرينَ(56)
اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا(56)
۞ وَلَمّا ضُرِبَ ابنُ مَريَمَ مَثَلًا إِذا قَومُكَ مِنهُ يَصِدّونَ(57)
اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچا دیا(57)
وَقالوا ءَأٰلِهَتُنا خَيرٌ أَم هُوَ ۚ ما ضَرَبوهُ لَكَ إِلّا جَدَلًا ۚ بَل هُم قَومٌ خَصِمونَ(58)
اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ(58)
إِن هُوَ إِلّا عَبدٌ أَنعَمنا عَلَيهِ وَجَعَلنٰهُ مَثَلًا لِبَنى إِسرٰءيلَ(59)
ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا(59)
وَلَو نَشاءُ لَجَعَلنا مِنكُم مَلٰئِكَةً فِى الأَرضِ يَخلُفونَ(60)
ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں(60)
وَإِنَّهُ لَعِلمٌ لِلسّاعَةِ فَلا تَمتَرُنَّ بِها وَاتَّبِعونِ ۚ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ(61)
اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے(61)
وَلا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيطٰنُ ۖ إِنَّهُ لَكُم عَدُوٌّ مُبينٌ(62)
ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے(62)
وَلَمّا جاءَ عيسىٰ بِالبَيِّنٰتِ قالَ قَد جِئتُكُم بِالحِكمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعضَ الَّذى تَختَلِفونَ فيهِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطيعونِ(63)
اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ "میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو(63)
إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبّى وَرَبُّكُم فَاعبُدوهُ ۚ هٰذا صِرٰطٌ مُستَقيمٌ(64)
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"(64)
فَاختَلَفَ الأَحزابُ مِن بَينِهِم ۖ فَوَيلٌ لِلَّذينَ ظَلَموا مِن عَذابِ يَومٍ أَليمٍ(65)
مگر (اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے(65)
هَل يَنظُرونَ إِلَّا السّاعَةَ أَن تَأتِيَهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ(66)
کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟(66)
الأَخِلّاءُ يَومَئِذٍ بَعضُهُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ إِلَّا المُتَّقينَ(67)
وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے(67)
يٰعِبادِ لا خَوفٌ عَلَيكُمُ اليَومَ وَلا أَنتُم تَحزَنونَ(68)
اُس روز اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے(68)
الَّذينَ ءامَنوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا مُسلِمينَ(69)
کہا جائے گا کہ "اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا(69)
ادخُلُوا الجَنَّةَ أَنتُم وَأَزوٰجُكُم تُحبَرونَ(70)
داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تمہیں خوش کر دیا جائے گا"(70)
يُطافُ عَلَيهِم بِصِحافٍ مِن ذَهَبٍ وَأَكوابٍ ۖ وَفيها ما تَشتَهيهِ الأَنفُسُ وَتَلَذُّ الأَعيُنُ ۖ وَأَنتُم فيها خٰلِدونَ(71)
اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی ان سے کہا جائے گا، "تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے(71)
وَتِلكَ الجَنَّةُ الَّتى أورِثتُموها بِما كُنتُم تَعمَلونَ(72)
تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے(72)
لَكُم فيها فٰكِهَةٌ كَثيرَةٌ مِنها تَأكُلونَ(73)
تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"(73)
إِنَّ المُجرِمينَ فى عَذابِ جَهَنَّمَ خٰلِدونَ(74)
رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے(74)
لا يُفَتَّرُ عَنهُم وَهُم فيهِ مُبلِسونَ(75)
کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے(75)
وَما ظَلَمنٰهُم وَلٰكِن كانوا هُمُ الظّٰلِمينَ(76)
ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے(76)
وَنادَوا يٰمٰلِكُ لِيَقضِ عَلَينا رَبُّكَ ۖ قالَ إِنَّكُم مٰكِثونَ(77)
وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گے(77)
لَقَد جِئنٰكُم بِالحَقِّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَكُم لِلحَقِّ كٰرِهونَ(78)
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا"(78)
أَم أَبرَموا أَمرًا فَإِنّا مُبرِمونَ(79)
کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں(79)
أَم يَحسَبونَ أَنّا لا نَسمَعُ سِرَّهُم وَنَجوىٰهُم ۚ بَلىٰ وَرُسُلُنا لَدَيهِم يَكتُبونَ(80)
کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے اِن کے پاس ہی لکھ رہے ہیں(80)
قُل إِن كانَ لِلرَّحمٰنِ وَلَدٌ فَأَنا۠ أَوَّلُ العٰبِدينَ(81)
اِن سے کہو، "اگر واقعی رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا"(81)
سُبحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ رَبِّ العَرشِ عَمّا يَصِفونَ(82)
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں(82)
فَذَرهُم يَخوضوا وَيَلعَبوا حَتّىٰ يُلٰقوا يَومَهُمُ الَّذى يوعَدونَ(83)
اچھا، اِنہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے(83)
وَهُوَ الَّذى فِى السَّماءِ إِلٰهٌ وَفِى الأَرضِ إِلٰهٌ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ العَليمُ(84)
وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم و علیم ہے(84)
وَتَبارَكَ الَّذى لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَينَهُما وَعِندَهُ عِلمُ السّاعَةِ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(85)
بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو(85)
وَلا يَملِكُ الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِهِ الشَّفٰعَةَ إِلّا مَن شَهِدَ بِالحَقِّ وَهُم يَعلَمونَ(86)
اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے(86)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَهُم لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنّىٰ يُؤفَكونَ(87)
اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں(87)
وَقيلِهِ يٰرَبِّ إِنَّ هٰؤُلاءِ قَومٌ لا يُؤمِنونَ(88)
قسم ہے رسولؐ کے اِس قول کی کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے(88)
فَاصفَح عَنهُم وَقُل سَلٰمٌ ۚ فَسَوفَ يَعلَمونَ(89)
اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا(89)