At-Tur( الطور)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالطّورِ(1)
قسم ہے طور کی(1)
وَكِتٰبٍ مَسطورٍ(2)
اور ایک ایسی کھلی کتاب کی(2)
فى رَقٍّ مَنشورٍ(3)
جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے(3)
وَالبَيتِ المَعمورِ(4)
اور آباد گھر کی(4)
وَالسَّقفِ المَرفوعِ(5)
اور اونچی چھت کی(5)
وَالبَحرِ المَسجورِ(6)
اور موجزن سمندر کی(6)
إِنَّ عَذابَ رَبِّكَ لَوٰقِعٌ(7)
کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے(7)
ما لَهُ مِن دافِعٍ(8)
جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں(8)
يَومَ تَمورُ السَّماءُ مَورًا(9)
وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا(9)
وَتَسيرُ الجِبالُ سَيرًا(10)
اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے(10)
فَوَيلٌ يَومَئِذٍ لِلمُكَذِّبينَ(11)
تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے(11)
الَّذينَ هُم فى خَوضٍ يَلعَبونَ(12)
جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں(12)
يَومَ يُدَعّونَ إِلىٰ نارِ جَهَنَّمَ دَعًّا(13)
جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف لے چلا جائے گا(13)
هٰذِهِ النّارُ الَّتى كُنتُم بِها تُكَذِّبونَ(14)
اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ "یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے(14)
أَفَسِحرٌ هٰذا أَم أَنتُم لا تُبصِرونَ(15)
اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟(15)
اصلَوها فَاصبِروا أَو لا تَصبِروا سَواءٌ عَلَيكُم ۖ إِنَّما تُجزَونَ ما كُنتُم تَعمَلونَ(16)
جاؤ اب جھلسو اِس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے(16)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَنَعيمٍ(17)
متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے(17)
فٰكِهينَ بِما ءاتىٰهُم رَبُّهُم وَوَقىٰهُم رَبُّهُم عَذابَ الجَحيمِ(18)
لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا(18)
كُلوا وَاشرَبوا هَنيـًٔا بِما كُنتُم تَعمَلونَ(19)
(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو(19)
مُتَّكِـٔينَ عَلىٰ سُرُرٍ مَصفوفَةٍ ۖ وَزَوَّجنٰهُم بِحورٍ عينٍ(20)
وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے(20)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَاتَّبَعَتهُم ذُرِّيَّتُهُم بِإيمٰنٍ أَلحَقنا بِهِم ذُرِّيَّتَهُم وَما أَلَتنٰهُم مِن عَمَلِهِم مِن شَيءٍ ۚ كُلُّ امرِئٍ بِما كَسَبَ رَهينٌ(21)
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے(21)
وَأَمدَدنٰهُم بِفٰكِهَةٍ وَلَحمٍ مِمّا يَشتَهونَ(22)
ہم اُن کو ہر طرح کے پھل اور گوشت، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے(22)
يَتَنٰزَعونَ فيها كَأسًا لا لَغوٌ فيها وَلا تَأثيمٌ(23)
وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری(23)
۞ وَيَطوفُ عَلَيهِم غِلمانٌ لَهُم كَأَنَّهُم لُؤلُؤٌ مَكنونٌ(24)
اور اُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی(24)
وَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَساءَلونَ(25)
یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے(25)
قالوا إِنّا كُنّا قَبلُ فى أَهلِنا مُشفِقينَ(26)
یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے(26)
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَينا وَوَقىٰنا عَذابَ السَّمومِ(27)
آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا(27)
إِنّا كُنّا مِن قَبلُ نَدعوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ البَرُّ الرَّحيمُ(28)
ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے(28)
فَذَكِّر فَما أَنتَ بِنِعمَتِ رَبِّكَ بِكاهِنٍ وَلا مَجنونٍ(29)
پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون(29)
أَم يَقولونَ شاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيبَ المَنونِ(30)
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں؟(30)
قُل تَرَبَّصوا فَإِنّى مَعَكُم مِنَ المُتَرَبِّصينَ(31)
اِن سے کہو اچھا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں(31)
أَم تَأمُرُهُم أَحلٰمُهُم بِهٰذا ۚ أَم هُم قَومٌ طاغونَ(32)
کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟(32)
أَم يَقولونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَل لا يُؤمِنونَ(33)
کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے(33)
فَليَأتوا بِحَديثٍ مِثلِهِ إِن كانوا صٰدِقينَ(34)
اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی شان کا ایک کلام بنا لائیں(34)
أَم خُلِقوا مِن غَيرِ شَيءٍ أَم هُمُ الخٰلِقونَ(35)
کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟(35)
أَم خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ ۚ بَل لا يوقِنونَ(36)
یا زمین اور آسمانوں کو اِنہوں نے پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے(36)
أَم عِندَهُم خَزائِنُ رَبِّكَ أَم هُمُ المُصَۣيطِرونَ(37)
کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟(37)
أَم لَهُم سُلَّمٌ يَستَمِعونَ فيهِ ۖ فَليَأتِ مُستَمِعُهُم بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(38)
کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل(38)
أَم لَهُ البَنٰتُ وَلَكُمُ البَنونَ(39)
کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟(39)
أَم تَسـَٔلُهُم أَجرًا فَهُم مِن مَغرَمٍ مُثقَلونَ(40)
کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟(40)
أَم عِندَهُمُ الغَيبُ فَهُم يَكتُبونَ(41)
کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟(41)
أَم يُريدونَ كَيدًا ۖ فَالَّذينَ كَفَروا هُمُ المَكيدونَ(42)
کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی(42)
أَم لَهُم إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يُشرِكونَ(43)
کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں؟ اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں(43)
وَإِن يَرَوا كِسفًا مِنَ السَّماءِ ساقِطًا يَقولوا سَحابٌ مَركومٌ(44)
یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں(44)
فَذَرهُم حَتّىٰ يُلٰقوا يَومَهُمُ الَّذى فيهِ يُصعَقونَ(45)
پس اے نبیؐ، اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے(45)
يَومَ لا يُغنى عَنهُم كَيدُهُم شَيـًٔا وَلا هُم يُنصَرونَ(46)
جس دن نہ اِن کی اپنی کوئی چال اِن کے کسی کام آئے گی نہ کوئی اِن کی مدد کو آئے گا(46)
وَإِنَّ لِلَّذينَ ظَلَموا عَذابًا دونَ ذٰلِكَ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(47)
اور اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے، مگر اِن میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں(47)
وَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعيُنِنا ۖ وَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ حينَ تَقومُ(48)
اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو(48)
وَمِنَ الَّيلِ فَسَبِّحهُ وَإِدبٰرَ النُّجومِ(49)
رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی(49)