At-Tahrim( التحريم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبتَغى مَرضاتَ أَزوٰجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(1)
اے نبیؐ، تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے(1)
قَد فَرَضَ اللَّهُ لَكُم تَحِلَّةَ أَيمٰنِكُم ۚ وَاللَّهُ مَولىٰكُم ۖ وَهُوَ العَليمُ الحَكيمُ(2)
اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے(2)
وَإِذ أَسَرَّ النَّبِىُّ إِلىٰ بَعضِ أَزوٰجِهِ حَديثًا فَلَمّا نَبَّأَت بِهِ وَأَظهَرَهُ اللَّهُ عَلَيهِ عَرَّفَ بَعضَهُ وَأَعرَضَ عَن بَعضٍ ۖ فَلَمّا نَبَّأَها بِهِ قالَت مَن أَنبَأَكَ هٰذا ۖ قالَ نَبَّأَنِىَ العَليمُ الخَبيرُ(3)
(اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبیؐ نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبیؐ کو اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی، تو نبیؐ نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا پھر جب نبیؐ نے اُسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ کو اِس کی کس نے خبر دی؟ نبیؐ نے کہا، "مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے"(3)
إِن تَتوبا إِلَى اللَّهِ فَقَد صَغَت قُلوبُكُما ۖ وَإِن تَظٰهَرا عَلَيهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَولىٰهُ وَجِبريلُ وَصٰلِحُ المُؤمِنينَ ۖ وَالمَلٰئِكَةُ بَعدَ ذٰلِكَ ظَهيرٌ(4)
اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبی کے مقابلہ میں تم نے باہم جتھہ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں(4)
عَسىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبدِلَهُ أَزوٰجًا خَيرًا مِنكُنَّ مُسلِمٰتٍ مُؤمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰئِحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَأَبكارًا(5)
بعید نہیں کہ اگر نبیؐ تم سب بیویوں کو طلاق دیدے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، سچی مسلمان، با ایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ(5)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا قوا أَنفُسَكُم وَأَهليكُم نارًا وَقودُهَا النّاسُ وَالحِجارَةُ عَلَيها مَلٰئِكَةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا يَعصونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُم وَيَفعَلونَ ما يُؤمَرونَ(6)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے جس پر نہایت تند خو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں(6)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ كَفَروا لا تَعتَذِرُوا اليَومَ ۖ إِنَّما تُجزَونَ ما كُنتُم تَعمَلونَ(7)
(اُس وقت کہا جائے گا کہ) اے کافرو، آج معذرتیں پیش نہ کرو، تہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے(7)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا توبوا إِلَى اللَّهِ تَوبَةً نَصوحًا عَسىٰ رَبُّكُم أَن يُكَفِّرَ عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَيُدخِلَكُم جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ يَومَ لا يُخزِى اللَّهُ النَّبِىَّ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَهُ ۖ نورُهُم يَسعىٰ بَينَ أَيديهِم وَبِأَيمٰنِهِم يَقولونَ رَبَّنا أَتمِم لَنا نورَنا وَاغفِر لَنا ۖ إِنَّكَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(8)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں تم سے دور کر دے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی کو اور اُن لوگوں جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہ کرے گا اُن کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، ہمارا نور ہمارے لیے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے(8)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ جٰهِدِ الكُفّارَ وَالمُنٰفِقينَ وَاغلُظ عَلَيهِم ۚ وَمَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(9)
اے نبیؐ، کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے(9)
ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذينَ كَفَرُوا امرَأَتَ نوحٍ وَامرَأَتَ لوطٍ ۖ كانَتا تَحتَ عَبدَينِ مِن عِبادِنا صٰلِحَينِ فَخانَتاهُما فَلَم يُغنِيا عَنهُما مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا وَقيلَ ادخُلَا النّارَ مَعَ الدّٰخِلينَ(10)
اللہ کافروں کے معاملے میں نوحؑ اور لوطؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیت میں تھیں، مگر انہوں نے اپنے ان شوہروں سے خیانت کی اور وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی نہ کام آ سکے دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جاؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جاؤ(10)
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذينَ ءامَنُوا امرَأَتَ فِرعَونَ إِذ قالَت رَبِّ ابنِ لى عِندَكَ بَيتًا فِى الجَنَّةِ وَنَجِّنى مِن فِرعَونَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنى مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ(11)
اور اہل ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جبکہ اس نے دعا کی "اے میرے رب، میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے"(11)
وَمَريَمَ ابنَتَ عِمرٰنَ الَّتى أَحصَنَت فَرجَها فَنَفَخنا فيهِ مِن روحِنا وَصَدَّقَت بِكَلِمٰتِ رَبِّها وَكُتُبِهِ وَكانَت مِنَ القٰنِتينَ(12)
اور عمران کی بیٹی مریمؑ کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھونک دی، اور اس نے اپنے رب کے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی(12)