Ash-Shura( الشورى)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
ح م(1)
عسق(2)
ع س ق(2)
كَذٰلِكَ يوحى إِلَيكَ وَإِلَى الَّذينَ مِن قَبلِكَ اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ(3)
اِسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسولوں) کی طرف وحی کرتا رہا ہے(3)
لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۖ وَهُوَ العَلِىُّ العَظيمُ(4)
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے، وہ برتر اور عظیم ہے(4)
تَكادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرنَ مِن فَوقِهِنَّ ۚ وَالمَلٰئِكَةُ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَبِّهِم وَيَستَغفِرونَ لِمَن فِى الأَرضِ ۗ أَلا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(5)
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کر رہے ہیں اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کیے جاتے ہیں آگاہ رہو، حقیقت میں اللہ غفور و رحیم ہی ہے(5)
وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ اللَّهُ حَفيظٌ عَلَيهِم وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ(6)
جن لوگوں نے اُس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں، اللہ ہی اُن پر نگراں ہے، تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو(6)
وَكَذٰلِكَ أَوحَينا إِلَيكَ قُرءانًا عَرَبِيًّا لِتُنذِرَ أُمَّ القُرىٰ وَمَن حَولَها وَتُنذِرَ يَومَ الجَمعِ لا رَيبَ فيهِ ۚ فَريقٌ فِى الجَنَّةِ وَفَريقٌ فِى السَّعيرِ(7)
ہاں، اِسی طرح اے نبیؐ، یہ قرآن عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ) اور اُس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کر دو، اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دو جن کے آنے میں کوئی شک نہیں ایک گروہ کو جنت میں جانا ہے اور دوسرے گروہ کو دوزخ میں(7)
وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَعَلَهُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَلٰكِن يُدخِلُ مَن يَشاءُ فى رَحمَتِهِ ۚ وَالظّٰلِمونَ ما لَهُم مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(8)
اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مدد گار(8)
أَمِ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ۖ فَاللَّهُ هُوَ الوَلِىُّ وَهُوَ يُحىِ المَوتىٰ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(9)
کیا یہ (ایسے نادان ہیں کہ) اِنہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنا رکھے ہیں؟ ولی تو اللہ ہی ہے، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے(9)
وَمَا اختَلَفتُم فيهِ مِن شَيءٍ فَحُكمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبّى عَلَيهِ تَوَكَّلتُ وَإِلَيهِ أُنيبُ(10)
تمہارے درمیان جس معاملہ میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے وہی اللہ میرا رب ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں(10)
فاطِرُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ جَعَلَ لَكُم مِن أَنفُسِكُم أَزوٰجًا وَمِنَ الأَنعٰمِ أَزوٰجًا ۖ يَذرَؤُكُم فيهِ ۚ لَيسَ كَمِثلِهِ شَيءٌ ۖ وَهُوَ السَّميعُ البَصيرُ(11)
آسمانوں اور زمین کا بنانے والا، جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے، اور اسی طرح جانوروں میں بھی (اُنہی کے ہم جنس) جوڑے بنائے، اور اِس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے کائنات کی کوئی چیز اس کے مشابہ نہیں، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے(11)
لَهُ مَقاليدُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(12)
آسمانوں اور زمین کے خزانوں کی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں، جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے، اُسے ہر چیز کا علم ہے(12)
۞ شَرَعَ لَكُم مِنَ الدّينِ ما وَصّىٰ بِهِ نوحًا وَالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ وَما وَصَّينا بِهِ إِبرٰهيمَ وَموسىٰ وَعيسىٰ ۖ أَن أَقيمُوا الدّينَ وَلا تَتَفَرَّقوا فيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى المُشرِكينَ ما تَدعوهُم إِلَيهِ ۚ اللَّهُ يَجتَبى إِلَيهِ مَن يَشاءُ وَيَهدى إِلَيهِ مَن يُنيبُ(13)
اُس نے تمہارے لیے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا، اور جسے (اے محمدؐ) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کو دے چکے ہیں، اِس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اِس دین کو اور اُس میں متفرق نہ ہو جاؤ یہی بات اِن مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف اے محمدؐ تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے(13)
وَما تَفَرَّقوا إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۚ وَلَولا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَبِّكَ إِلىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِىَ بَينَهُم ۚ وَإِنَّ الَّذينَ أورِثُوا الكِتٰبَ مِن بَعدِهِم لَفى شَكٍّ مِنهُ مُريبٍ(14)
لوگوں میں جو تفرقہ رو نما ہوا وہ اِس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آ چکا تھا، اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اگر تیرا رب پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت مقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں(14)
فَلِذٰلِكَ فَادعُ ۖ وَاستَقِم كَما أُمِرتَ ۖ وَلا تَتَّبِع أَهواءَهُم ۖ وَقُل ءامَنتُ بِما أَنزَلَ اللَّهُ مِن كِتٰبٍ ۖ وَأُمِرتُ لِأَعدِلَ بَينَكُمُ ۖ اللَّهُ رَبُّنا وَرَبُّكُم ۖ لَنا أَعمٰلُنا وَلَكُم أَعمٰلُكُم ۖ لا حُجَّةَ بَينَنا وَبَينَكُمُ ۖ اللَّهُ يَجمَعُ بَينَنا ۖ وَإِلَيهِ المَصيرُ(15)
چونکہ یہ حالت پیدا ہو چکی ہے اس لیے اے محمدؐ، اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاؤ، اور اِن لوگو ں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو، اور اِن سے کہہ دو کہ: "اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں اللہ ہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے"(15)
وَالَّذينَ يُحاجّونَ فِى اللَّهِ مِن بَعدِ مَا استُجيبَ لَهُ حُجَّتُهُم داحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِم وَعَلَيهِم غَضَبٌ وَلَهُم عَذابٌ شَديدٌ(16)
اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ (لبیک کہنے والوں سے) اللہ کے دین کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں، اُن کی حجت بازی اُن کے رب کے نزدیک باطل ہے، اور اُن پر اس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے(16)
اللَّهُ الَّذى أَنزَلَ الكِتٰبَ بِالحَقِّ وَالميزانَ ۗ وَما يُدريكَ لَعَلَّ السّاعَةَ قَريبٌ(17)
وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آ لگی ہو(17)
يَستَعجِلُ بِهَا الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِها ۖ وَالَّذينَ ءامَنوا مُشفِقونَ مِنها وَيَعلَمونَ أَنَّهَا الحَقُّ ۗ أَلا إِنَّ الَّذينَ يُمارونَ فِى السّاعَةِ لَفى ضَلٰلٍ بَعيدٍ(18)
جو لوگ اس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقیناً وہ آنے والی ہے خوب سن لو، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں(18)
اللَّهُ لَطيفٌ بِعِبادِهِ يَرزُقُ مَن يَشاءُ ۖ وَهُوَ القَوِىُّ العَزيزُ(19)
اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے، وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے(19)
مَن كانَ يُريدُ حَرثَ الءاخِرَةِ نَزِد لَهُ فى حَرثِهِ ۖ وَمَن كانَ يُريدُ حَرثَ الدُّنيا نُؤتِهِ مِنها وَما لَهُ فِى الءاخِرَةِ مِن نَصيبٍ(20)
جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے(20)
أَم لَهُم شُرَكٰؤُا۟ شَرَعوا لَهُم مِنَ الدّينِ ما لَم يَأذَن بِهِ اللَّهُ ۚ وَلَولا كَلِمَةُ الفَصلِ لَقُضِىَ بَينَهُم ۗ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(21)
کیا یہ لوگ کچھ ایسے شریک خدا رکھتے ہیں جنہوں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کر دیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا؟ اگر فیصلے کی بات پہلے طے نہ ہو گئی ہوتی تو ان کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا یقیناً اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے(21)
تَرَى الظّٰلِمينَ مُشفِقينَ مِمّا كَسَبوا وَهُوَ واقِعٌ بِهِم ۗ وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فى رَوضاتِ الجَنّاتِ ۖ لَهُم ما يَشاءونَ عِندَ رَبِّهِم ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَضلُ الكَبيرُ(22)
تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اُس وقت اپنے کیے کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ اِن پر آ کر رہے گا بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رب کے ہاں پائیں گے، یہی بڑا فضل ہے(22)
ذٰلِكَ الَّذى يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبادَهُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۗ قُل لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرًا إِلَّا المَوَدَّةَ فِى القُربىٰ ۗ وَمَن يَقتَرِف حَسَنَةً نَزِد لَهُ فيها حُسنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ شَكورٌ(23)
یہ ہے وہ چیز جس کی خوش خبری اللہ اپنے اُن بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کیے اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کر دیں گے بے شک اللہ بڑا در گزر کرنے والا اور قدر دان ہے(23)
أَم يَقولونَ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۖ فَإِن يَشَإِ اللَّهُ يَختِم عَلىٰ قَلبِكَ ۗ وَيَمحُ اللَّهُ البٰطِلَ وَيُحِقُّ الحَقَّ بِكَلِمٰتِهِ ۚ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(24)
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑ لیا ہے؟ اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مہر کر دے وہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کر دکھاتا ہے وہ سینوں کے چھپے ہوئے راز جانتا ہے(24)
وَهُوَ الَّذى يَقبَلُ التَّوبَةَ عَن عِبادِهِ وَيَعفوا عَنِ السَّيِّـٔاتِ وَيَعلَمُ ما تَفعَلونَ(25)
وہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُ سے علم ہے(25)
وَيَستَجيبُ الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَيَزيدُهُم مِن فَضلِهِ ۚ وَالكٰفِرونَ لَهُم عَذابٌ شَديدٌ(26)
وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے رہے انکار کرنے والے، تو ان کے لیے دردناک سزا ہے(26)
۞ وَلَو بَسَطَ اللَّهُ الرِّزقَ لِعِبادِهِ لَبَغَوا فِى الأَرضِ وَلٰكِن يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبادِهِ خَبيرٌ بَصيرٌ(27)
اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کر دیتے، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے با خبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے(27)
وَهُوَ الَّذى يُنَزِّلُ الغَيثَ مِن بَعدِ ما قَنَطوا وَيَنشُرُ رَحمَتَهُ ۚ وَهُوَ الوَلِىُّ الحَميدُ(28)
وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے، اور وہی قابل تعریف ولی ہے(28)
وَمِن ءايٰتِهِ خَلقُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما بَثَّ فيهِما مِن دابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلىٰ جَمعِهِم إِذا يَشاءُ قَديرٌ(29)
اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کر سکتا ہے(29)
وَما أَصٰبَكُم مِن مُصيبَةٍ فَبِما كَسَبَت أَيديكُم وَيَعفوا عَن كَثيرٍ(30)
تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی در گزر کر جاتا ہے(30)
وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ فِى الأَرضِ ۖ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(31)
تم زمین میں اپنے خدا کو عاجز کر دینے والے نہیں ہو، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و ناصر نہیں رکھتے(31)
وَمِن ءايٰتِهِ الجَوارِ فِى البَحرِ كَالأَعلٰمِ(32)
اُس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں(32)
إِن يَشَأ يُسكِنِ الرّيحَ فَيَظلَلنَ رَواكِدَ عَلىٰ ظَهرِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِكُلِّ صَبّارٍ شَكورٍ(33)
اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اِس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبر و شکر کرنے والا ہو(33)
أَو يوبِقهُنَّ بِما كَسَبوا وَيَعفُ عَن كَثيرٍ(34)
یا (اُن پر سوار ہونے والوں کے) بہت سے گناہوں سے در گزر کرتے ہوئے ان کے چند ہی کرتوتوں کی پاداش میں انہیں ڈبو دے(34)
وَيَعلَمَ الَّذينَ يُجٰدِلونَ فى ءايٰتِنا ما لَهُم مِن مَحيصٍ(35)
اور اُس وقت ہماری آیات میں جھگڑے کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے(35)
فَما أوتيتُم مِن شَيءٍ فَمَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ وَأَبقىٰ لِلَّذينَ ءامَنوا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(36)
جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سر و سامان ہے، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائدار بھی وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں(36)
وَالَّذينَ يَجتَنِبونَ كَبٰئِرَ الإِثمِ وَالفَوٰحِشَ وَإِذا ما غَضِبوا هُم يَغفِرونَ(37)
جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں اور اگر غصہ آ جائے تو درگزر کر جا تے ہیں(37)
وَالَّذينَ استَجابوا لِرَبِّهِم وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ وَأَمرُهُم شورىٰ بَينَهُم وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(38)
جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں(38)
وَالَّذينَ إِذا أَصابَهُمُ البَغىُ هُم يَنتَصِرونَ(39)
اور جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں(39)
وَجَزٰؤُا۟ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثلُها ۖ فَمَن عَفا وَأَصلَحَ فَأَجرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظّٰلِمينَ(40)
برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے، پھر جو کوئی معاف کر دے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا(40)
وَلَمَنِ انتَصَرَ بَعدَ ظُلمِهِ فَأُولٰئِكَ ما عَلَيهِم مِن سَبيلٍ(41)
اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جا سکتی(41)
إِنَّمَا السَّبيلُ عَلَى الَّذينَ يَظلِمونَ النّاسَ وَيَبغونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ ۚ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(42)
ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے(42)
وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذٰلِكَ لَمِن عَزمِ الأُمورِ(43)
البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے، تو یہ بڑی اولوالعزمی کے کاموں میں سے ہے(43)
وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن وَلِىٍّ مِن بَعدِهِ ۗ وَتَرَى الظّٰلِمينَ لَمّا رَأَوُا العَذابَ يَقولونَ هَل إِلىٰ مَرَدٍّ مِن سَبيلٍ(44)
جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟(44)
وَتَرىٰهُم يُعرَضونَ عَلَيها خٰشِعينَ مِنَ الذُّلِّ يَنظُرونَ مِن طَرفٍ خَفِىٍّ ۗ وَقالَ الَّذينَ ءامَنوا إِنَّ الخٰسِرينَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم وَأَهليهِم يَومَ القِيٰمَةِ ۗ أَلا إِنَّ الظّٰلِمينَ فى عَذابٍ مُقيمٍ(45)
اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے(45)
وَما كانَ لَهُم مِن أَولِياءَ يَنصُرونَهُم مِن دونِ اللَّهِ ۗ وَمَن يُضلِلِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن سَبيلٍ(46)
اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچاؤ کی کوئی سبیل نہیں(46)
استَجيبوا لِرَبِّكُم مِن قَبلِ أَن يَأتِىَ يَومٌ لا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۚ ما لَكُم مِن مَلجَإٍ يَومَئِذٍ وَما لَكُم مِن نَكيرٍ(47)
مان لو اپنے رب کی بات قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے اُس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہو گا(47)
فَإِن أَعرَضوا فَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا ۖ إِن عَلَيكَ إِلَّا البَلٰغُ ۗ وَإِنّا إِذا أَذَقنَا الإِنسٰنَ مِنّا رَحمَةً فَرِحَ بِها ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم فَإِنَّ الإِنسٰنَ كَفورٌ(48)
اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبیؐ، ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے تم پر تو صرف بات پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس پر پھول جاتا ہے، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اُس پر الٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرا بن جاتا ہے(48)
لِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ يَخلُقُ ما يَشاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشاءُ إِنٰثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشاءُ الذُّكورَ(49)
اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے(49)
أَو يُزَوِّجُهُم ذُكرانًا وَإِنٰثًا ۖ وَيَجعَلُ مَن يَشاءُ عَقيمًا ۚ إِنَّهُ عَليمٌ قَديرٌ(50)
جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے(50)
۞ وَما كانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلّا وَحيًا أَو مِن وَرائِ حِجابٍ أَو يُرسِلَ رَسولًا فَيوحِىَ بِإِذنِهِ ما يَشاءُ ۚ إِنَّهُ عَلِىٌّ حَكيمٌ(51)
کسی بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے روبرو بات کرے اُس کی بات یا تو وحی (اشارے) کے طور پر ہوتی ہے، یا پردے کے پیچھے سے، یا پھر وہ کوئی پیغام بر (فرشتہ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتا ہے، وحی کرتا ہے، وہ برتر اور حکیم ہے(51)
وَكَذٰلِكَ أَوحَينا إِلَيكَ روحًا مِن أَمرِنا ۚ ما كُنتَ تَدرى مَا الكِتٰبُ وَلَا الإيمٰنُ وَلٰكِن جَعَلنٰهُ نورًا نَهدى بِهِ مَن نَشاءُ مِن عِبادِنا ۚ وَإِنَّكَ لَتَهدى إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(52)
اور اِسی طرح (اے محمدؐ) ہم نے اپنے حکم سے ایک روح تمہاری طرف وحی کی ہے تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے، مگر اُس روح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو(52)
صِرٰطِ اللَّهِ الَّذى لَهُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ ۗ أَلا إِلَى اللَّهِ تَصيرُ الأُمورُ(53)
اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں(53)