As-Sajda( السجدة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
ا ل م(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ لا رَيبَ فيهِ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(2)
اِس کتاب کی تنزیل بلا شبہ رب العالمین کی طرف سے ہے(2)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۚ بَل هُوَ الحَقُّ مِن رَبِّكَ لِتُنذِرَ قَومًا ما أَتىٰهُم مِن نَذيرٍ مِن قَبلِكَ لَعَلَّهُم يَهتَدونَ(3)
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیرے رب کی طرف سے تاکہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں(3)
اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۖ ما لَكُم مِن دونِهِ مِن وَلِىٍّ وَلا شَفيعٍ ۚ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ(4)
وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا، اُس کے سوا نہ تمہارا کوئی حامی و مدد گار ہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارش کرنے والا، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟(4)
يُدَبِّرُ الأَمرَ مِنَ السَّماءِ إِلَى الأَرضِ ثُمَّ يَعرُجُ إِلَيهِ فى يَومٍ كانَ مِقدارُهُ أَلفَ سَنَةٍ مِمّا تَعُدّونَ(5)
وہ آسمان سے زمین تک دُنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداد اُوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے(5)
ذٰلِكَ عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ العَزيزُ الرَّحيمُ(6)
وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، زبردست، اور رحیم(6)
الَّذى أَحسَنَ كُلَّ شَيءٍ خَلَقَهُ ۖ وَبَدَأَ خَلقَ الإِنسٰنِ مِن طينٍ(7)
جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی اُ س نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی(7)
ثُمَّ جَعَلَ نَسلَهُ مِن سُلٰلَةٍ مِن ماءٍ مَهينٍ(8)
پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے(8)
ثُمَّ سَوّىٰهُ وَنَفَخَ فيهِ مِن روحِهِ ۖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۚ قَليلًا ما تَشكُرونَ(9)
پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی، اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دِل دیے تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو(9)
وَقالوا أَءِذا ضَلَلنا فِى الأَرضِ أَءِنّا لَفى خَلقٍ جَديدٍ ۚ بَل هُم بِلِقاءِ رَبِّهِم كٰفِرونَ(10)
اور یہ لوگ کہتے ہیں: "جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟" اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں(10)
۞ قُل يَتَوَفّىٰكُم مَلَكُ المَوتِ الَّذى وُكِّلَ بِكُم ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم تُرجَعونَ(11)
اِن سے کہو "موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا لائے جاؤ گے"(11)
وَلَو تَرىٰ إِذِ المُجرِمونَ ناكِسوا رُءوسِهِم عِندَ رَبِّهِم رَبَّنا أَبصَرنا وَسَمِعنا فَارجِعنا نَعمَل صٰلِحًا إِنّا موقِنونَ(12)
کاش تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سر جھکائے اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے (اُس وقت یہ کہہ رہے ہوں گے) "اے ہمارے رب، ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا اب ہمیں واپس بھیج دے تاکہ ہم نیک عمل کریں، ہمیں اب یقین آگیا ہے"(12)
وَلَو شِئنا لَءاتَينا كُلَّ نَفسٍ هُدىٰها وَلٰكِن حَقَّ القَولُ مِنّى لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنّاسِ أَجمَعينَ(13)
(جواب میں ارشاد ہو گا) "اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے مگر میری وہ بات پُوری ہو گئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا(13)
فَذوقوا بِما نَسيتُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا إِنّا نَسينٰكُم ۖ وَذوقوا عَذابَ الخُلدِ بِما كُنتُم تَعمَلونَ(14)
پس اب چکھو مزا اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کر دیا، ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کر دیا ہے چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزا اپنے کرتوتوں کی پاداش میں"(14)
إِنَّما يُؤمِنُ بِـٔايٰتِنَا الَّذينَ إِذا ذُكِّروا بِها خَرّوا سُجَّدًا وَسَبَّحوا بِحَمدِ رَبِّهِم وَهُم لا يَستَكبِرونَ ۩(15)
ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سنا کر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے(15)
تَتَجافىٰ جُنوبُهُم عَنِ المَضاجِعِ يَدعونَ رَبَّهُم خَوفًا وَطَمَعًا وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(16)
اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں(16)
فَلا تَعلَمُ نَفسٌ ما أُخفِىَ لَهُم مِن قُرَّةِ أَعيُنٍ جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ(17)
پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لیے چھپا رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے(17)
أَفَمَن كانَ مُؤمِنًا كَمَن كانَ فاسِقًا ۚ لا يَستَوۥنَ(18)
بھلا کہیں یہ ہو سکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اُس شخص کی طرح ہو جائے جو فاسق ہو؟ یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے(18)
أَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُم جَنّٰتُ المَأوىٰ نُزُلًا بِما كانوا يَعمَلونَ(19)
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اُن کے لیے تو جنتوں کی قیام گاہیں ہیں، ضیافت کے طور پر اُن کے اعمال کے بدلے میں(19)
وَأَمَّا الَّذينَ فَسَقوا فَمَأوىٰهُمُ النّارُ ۖ كُلَّما أَرادوا أَن يَخرُجوا مِنها أُعيدوا فيها وَقيلَ لَهُم ذوقوا عَذابَ النّارِ الَّذى كُنتُم بِهِ تُكَذِّبونَ(20)
اور جنہوں نے فسق اختیار کیا ہے اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے(20)
وَلَنُذيقَنَّهُم مِنَ العَذابِ الأَدنىٰ دونَ العَذابِ الأَكبَرِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(21)
اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیا میں (کسی نہ کسی چھوٹے) عذاب کا مزا اِنہیں چکھاتے رہیں گے، شاید کہ یہ (اپنی باغیانہ روش سے) باز آ جائیں(21)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـٔايٰتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعرَضَ عَنها ۚ إِنّا مِنَ المُجرِمينَ مُنتَقِمونَ(22)
اور اُس سے بڑا ظالم کون ہو گا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منہ پھیر لے ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے(22)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ فَلا تَكُن فى مِريَةٍ مِن لِقائِهِ ۖ وَجَعَلنٰهُ هُدًى لِبَنى إِسرٰءيلَ(23)
اِس سے پہلے ہم موسیٰؑ کو کتاب دے چکے ہیں، لہٰذا اُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہیے اُس کتاب کو ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا(23)
وَجَعَلنا مِنهُم أَئِمَّةً يَهدونَ بِأَمرِنا لَمّا صَبَروا ۖ وَكانوا بِـٔايٰتِنا يوقِنونَ(24)
اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے(24)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفصِلُ بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(25)
یقیناً تیرا رب ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں (بنی اسرائیل) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں(25)
أَوَلَم يَهدِ لَهُم كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِنَ القُرونِ يَمشونَ فى مَسٰكِنِهِم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ ۖ أَفَلا يَسمَعونَ(26)
اور کیا اِن لوگوں کو (اِن تاریخی واقعات میں) کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ اس میں بڑی نشانیاں ہیں، کیا یہ سنتے نہیں ہیں؟(26)
أَوَلَم يَرَوا أَنّا نَسوقُ الماءَ إِلَى الأَرضِ الجُرُزِ فَنُخرِجُ بِهِ زَرعًا تَأكُلُ مِنهُ أَنعٰمُهُم وَأَنفُسُهُم ۖ أَفَلا يُبصِرونَ(27)
اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب و گیاہ زمین کی طرف پانی بہا لاتے ہیں، اور پھر اسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے ان کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں؟ تو کیا انہیں کچھ نہیں سوجھتا؟(27)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الفَتحُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(28)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ "یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟"(28)
قُل يَومَ الفَتحِ لا يَنفَعُ الَّذينَ كَفَروا إيمٰنُهُم وَلا هُم يُنظَرونَ(29)
ان سے کہو "فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر اُن کو کوئی مہلت نہ ملے گی"(29)
فَأَعرِض عَنهُم وَانتَظِر إِنَّهُم مُنتَظِرونَ(30)
اچھا، اِنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو، یہ بھی منتظر ہیں(30)