Ar-Rahman( الرحمن)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الرَّحمٰنُ(1)
رحمٰن نے(1)
عَلَّمَ القُرءانَ(2)
اِس قرآن کی تعلیم دی ہے(2)
خَلَقَ الإِنسٰنَ(3)
اُسی نے انسان کو پیدا کیا(3)
عَلَّمَهُ البَيانَ(4)
اور اسے بولنا سکھایا(4)
الشَّمسُ وَالقَمَرُ بِحُسبانٍ(5)
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں(5)
وَالنَّجمُ وَالشَّجَرُ يَسجُدانِ(6)
اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں(6)
وَالسَّماءَ رَفَعَها وَوَضَعَ الميزانَ(7)
آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی(7)
أَلّا تَطغَوا فِى الميزانِ(8)
اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو(8)
وَأَقيمُوا الوَزنَ بِالقِسطِ وَلا تُخسِرُوا الميزانَ(9)
انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو(9)
وَالأَرضَ وَضَعَها لِلأَنامِ(10)
زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا(10)
فيها فٰكِهَةٌ وَالنَّخلُ ذاتُ الأَكمامِ(11)
اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں(11)
وَالحَبُّ ذُو العَصفِ وَالرَّيحانُ(12)
طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی(12)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(13)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟(13)
خَلَقَ الإِنسٰنَ مِن صَلصٰلٍ كَالفَخّارِ(14)
انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا(14)
وَخَلَقَ الجانَّ مِن مارِجٍ مِن نارٍ(15)
اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا(15)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(16)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟(16)
رَبُّ المَشرِقَينِ وَرَبُّ المَغرِبَينِ(17)
دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے(17)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(18)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟(18)
مَرَجَ البَحرَينِ يَلتَقِيانِ(19)
دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں(19)
بَينَهُما بَرزَخٌ لا يَبغِيانِ(20)
پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے(20)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(21)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟(21)
يَخرُجُ مِنهُمَا اللُّؤلُؤُ وَالمَرجانُ(22)
اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں(22)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(23)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟(23)
وَلَهُ الجَوارِ المُنشَـٔاتُ فِى البَحرِ كَالأَعلٰمِ(24)
اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں(24)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(25)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟(25)
كُلُّ مَن عَلَيها فانٍ(26)
ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے(26)
وَيَبقىٰ وَجهُ رَبِّكَ ذُو الجَلٰلِ وَالإِكرامِ(27)
اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے(27)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(28)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟(28)
يَسـَٔلُهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ كُلَّ يَومٍ هُوَ فى شَأنٍ(29)
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے(29)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(30)
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟(30)
سَنَفرُغُ لَكُم أَيُّهَ الثَّقَلانِ(31)
اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں(31)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(32)
(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو(32)
يٰمَعشَرَ الجِنِّ وَالإِنسِ إِنِ استَطَعتُم أَن تَنفُذوا مِن أَقطارِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ فَانفُذوا ۚ لا تَنفُذونَ إِلّا بِسُلطٰنٍ(33)
اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے(33)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(34)
اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟(34)
يُرسَلُ عَلَيكُما شُواظٌ مِن نارٍ وَنُحاسٌ فَلا تَنتَصِرانِ(35)
(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے(35)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(36)
اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟(36)
فَإِذَا انشَقَّتِ السَّماءُ فَكانَت وَردَةً كَالدِّهانِ(37)
پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟(37)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(38)
اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟(38)
فَيَومَئِذٍ لا يُسـَٔلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلا جانٌّ(39)
اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی(39)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(40)
پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو(40)
يُعرَفُ المُجرِمونَ بِسيمٰهُم فَيُؤخَذُ بِالنَّوٰصى وَالأَقدامِ(41)
مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا(41)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(42)
اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟(42)
هٰذِهِ جَهَنَّمُ الَّتى يُكَذِّبُ بِهَا المُجرِمونَ(43)
(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے(43)
يَطوفونَ بَينَها وَبَينَ حَميمٍ ءانٍ(44)
اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے(44)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(45)
پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟(45)
وَلِمَن خافَ مَقامَ رَبِّهِ جَنَّتانِ(46)
اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں(46)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(47)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(47)
ذَواتا أَفنانٍ(48)
ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور(48)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(49)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(49)
فيهِما عَينانِ تَجرِيانِ(50)
دونوں باغوں میں دو چشمے رواں(50)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(51)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(51)
فيهِما مِن كُلِّ فٰكِهَةٍ زَوجانِ(52)
دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں(52)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(53)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(53)
مُتَّكِـٔينَ عَلىٰ فُرُشٍ بَطائِنُها مِن إِستَبرَقٍ ۚ وَجَنَى الجَنَّتَينِ دانٍ(54)
جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی(54)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(55)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(55)
فيهِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرفِ لَم يَطمِثهُنَّ إِنسٌ قَبلَهُم وَلا جانٌّ(56)
اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا(56)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(57)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(57)
كَأَنَّهُنَّ الياقوتُ وَالمَرجانُ(58)
ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی(58)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(59)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(59)
هَل جَزاءُ الإِحسٰنِ إِلَّا الإِحسٰنُ(60)
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے(60)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(61)
پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟(61)
وَمِن دونِهِما جَنَّتانِ(62)
اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے(62)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(63)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(63)
مُدهامَّتانِ(64)
گھنے سرسبز و شاداب باغ(64)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(65)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(65)
فيهِما عَينانِ نَضّاخَتانِ(66)
دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے(66)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(67)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(67)
فيهِما فٰكِهَةٌ وَنَخلٌ وَرُمّانٌ(68)
اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار(68)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(69)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(69)
فيهِنَّ خَيرٰتٌ حِسانٌ(70)
اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں(70)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(71)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(71)
حورٌ مَقصورٰتٌ فِى الخِيامِ(72)
خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں(72)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(73)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(73)
لَم يَطمِثهُنَّ إِنسٌ قَبلَهُم وَلا جانٌّ(74)
اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا(74)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(75)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(75)
مُتَّكِـٔينَ عَلىٰ رَفرَفٍ خُضرٍ وَعَبقَرِىٍّ حِسانٍ(76)
وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے(76)
فَبِأَىِّ ءالاءِ رَبِّكُما تُكَذِّبانِ(77)
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟(77)
تَبٰرَكَ اسمُ رَبِّكَ ذِى الجَلٰلِ وَالإِكرامِ(78)
بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام(78)