An-Nur( النور)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سورَةٌ أَنزَلنٰها وَفَرَضنٰها وَأَنزَلنا فيها ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(1)
یہ ایک سورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں، شاید کہ تم سبق لو(1)
الزّانِيَةُ وَالزّانى فَاجلِدوا كُلَّ وٰحِدٍ مِنهُما مِا۟ئَةَ جَلدَةٍ ۖ وَلا تَأخُذكُم بِهِما رَأفَةٌ فى دينِ اللَّهِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۖ وَليَشهَد عَذابَهُما طائِفَةٌ مِنَ المُؤمِنينَ(2)
زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے(2)
الزّانى لا يَنكِحُ إِلّا زانِيَةً أَو مُشرِكَةً وَالزّانِيَةُ لا يَنكِحُها إِلّا زانٍ أَو مُشرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى المُؤمِنينَ(3)
زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یا مشرک اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہل ایمان پر(3)
وَالَّذينَ يَرمونَ المُحصَنٰتِ ثُمَّ لَم يَأتوا بِأَربَعَةِ شُهَداءَ فَاجلِدوهُم ثَمٰنينَ جَلدَةً وَلا تَقبَلوا لَهُم شَهٰدَةً أَبَدًا ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ الفٰسِقونَ(4)
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں(4)
إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن بَعدِ ذٰلِكَ وَأَصلَحوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(5)
سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور (اُن کے حق میں) غفور و رحیم ہے(5)
وَالَّذينَ يَرمونَ أَزوٰجَهُم وَلَم يَكُن لَهُم شُهَداءُ إِلّا أَنفُسُهُم فَشَهٰدَةُ أَحَدِهِم أَربَعُ شَهٰدٰتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصّٰدِقينَ(6)
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں) سچا ہے(6)
وَالخٰمِسَةُ أَنَّ لَعنَتَ اللَّهِ عَلَيهِ إِن كانَ مِنَ الكٰذِبينَ(7)
اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ (اپنے الزام میں) جھوٹا ہو(7)
وَيَدرَؤُا۟ عَنهَا العَذابَ أَن تَشهَدَ أَربَعَ شَهٰدٰتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الكٰذِبينَ(8)
اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں) جھوٹا ہے(8)
وَالخٰمِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيها إِن كانَ مِنَ الصّٰدِقينَ(9)
اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو(9)
وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ تَوّابٌ حَكيمٌ(10)
تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے، تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا)(10)
إِنَّ الَّذينَ جاءو بِالإِفكِ عُصبَةٌ مِنكُم ۚ لا تَحسَبوهُ شَرًّا لَكُم ۖ بَل هُوَ خَيرٌ لَكُم ۚ لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم مَا اكتَسَبَ مِنَ الإِثمِ ۚ وَالَّذى تَوَلّىٰ كِبرَهُ مِنهُم لَهُ عَذابٌ عَظيمٌ(11)
جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے(11)
لَولا إِذ سَمِعتُموهُ ظَنَّ المُؤمِنونَ وَالمُؤمِنٰتُ بِأَنفُسِهِم خَيرًا وَقالوا هٰذا إِفكٌ مُبينٌ(12)
جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟(12)
لَولا جاءو عَلَيهِ بِأَربَعَةِ شُهَداءَ ۚ فَإِذ لَم يَأتوا بِالشُّهَداءِ فَأُولٰئِكَ عِندَ اللَّهِ هُمُ الكٰذِبونَ(13)
وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں) چار گواہ کیوں نہ لائے؟اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں، اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں(13)
وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ لَمَسَّكُم فى ما أَفَضتُم فيهِ عَذابٌ عَظيمٌ(14)
اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آ لیتا(14)
إِذ تَلَقَّونَهُ بِأَلسِنَتِكُم وَتَقولونَ بِأَفواهِكُم ما لَيسَ لَكُم بِهِ عِلمٌ وَتَحسَبونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظيمٌ(15)
(ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی(15)
وَلَولا إِذ سَمِعتُموهُ قُلتُم ما يَكونُ لَنا أَن نَتَكَلَّمَ بِهٰذا سُبحٰنَكَ هٰذا بُهتٰنٌ عَظيمٌ(16)
کیوں نہ اُسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ "ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے"(16)
يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَن تَعودوا لِمِثلِهِ أَبَدًا إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(17)
اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو(17)
وَيُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ ۚ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(18)
اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے(18)
إِنَّ الَّذينَ يُحِبّونَ أَن تَشيعَ الفٰحِشَةُ فِى الَّذينَ ءامَنوا لَهُم عَذابٌ أَليمٌ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ وَأَنتُم لا تَعلَمونَ(19)
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(19)
وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ وَأَنَّ اللَّهَ رَءوفٌ رَحيمٌ(20)
اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھا دیتی)(20)
۞ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَتَّبِعوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ ۚ وَمَن يَتَّبِع خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ فَإِنَّهُ يَأمُرُ بِالفَحشاءِ وَالمُنكَرِ ۚ وَلَولا فَضلُ اللَّهِ عَلَيكُم وَرَحمَتُهُ ما زَكىٰ مِنكُم مِن أَحَدٍ أَبَدًا وَلٰكِنَّ اللَّهَ يُزَكّى مَن يَشاءُ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(21)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ ہوسکتا مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے، اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے(21)
وَلا يَأتَلِ أُولُوا الفَضلِ مِنكُم وَالسَّعَةِ أَن يُؤتوا أُولِى القُربىٰ وَالمَسٰكينَ وَالمُهٰجِرينَ فى سَبيلِ اللَّهِ ۖ وَليَعفوا وَليَصفَحوا ۗ أَلا تُحِبّونَ أَن يَغفِرَ اللَّهُ لَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(22)
تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے انہیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور اور رحیم ہے(22)
إِنَّ الَّذينَ يَرمونَ المُحصَنٰتِ الغٰفِلٰتِ المُؤمِنٰتِ لُعِنوا فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(23)
جو لوگ پاک دامن، بے خبر، مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے(23)
يَومَ تَشهَدُ عَلَيهِم أَلسِنَتُهُم وَأَيديهِم وَأَرجُلُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ(24)
وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے(24)
يَومَئِذٍ يُوَفّيهِمُ اللَّهُ دينَهُمُ الحَقَّ وَيَعلَمونَ أَنَّ اللَّهَ هُوَ الحَقُّ المُبينُ(25)
اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھرپور دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا(25)
الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ أُولٰئِكَ مُبَرَّءونَ مِمّا يَقولونَ ۖ لَهُم مَغفِرَةٌ وَرِزقٌ كَريمٌ(26)
خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ان کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں، ان کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم(26)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَدخُلوا بُيوتًا غَيرَ بُيوتِكُم حَتّىٰ تَستَأنِسوا وَتُسَلِّموا عَلىٰ أَهلِها ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(27)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے(27)
فَإِن لَم تَجِدوا فيها أَحَدًا فَلا تَدخُلوها حَتّىٰ يُؤذَنَ لَكُم ۖ وَإِن قيلَ لَكُمُ ارجِعوا فَارجِعوا ۖ هُوَ أَزكىٰ لَكُم ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ عَليمٌ(28)
پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دے دی جائے، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس ہو جاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے(28)
لَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَدخُلوا بُيوتًا غَيرَ مَسكونَةٍ فيها مَتٰعٌ لَكُم ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ ما تُبدونَ وَما تَكتُمونَ(29)
البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یا کام) کی کوئی چیز ہو، تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو سب کی اللہ کو خبر ہے(29)
قُل لِلمُؤمِنينَ يَغُضّوا مِن أَبصٰرِهِم وَيَحفَظوا فُروجَهُم ۚ ذٰلِكَ أَزكىٰ لَهُم ۗ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ بِما يَصنَعونَ(30)
اے نبیؐ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے(30)
وَقُل لِلمُؤمِنٰتِ يَغضُضنَ مِن أَبصٰرِهِنَّ وَيَحفَظنَ فُروجَهُنَّ وَلا يُبدينَ زينَتَهُنَّ إِلّا ما ظَهَرَ مِنها ۖ وَليَضرِبنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلىٰ جُيوبِهِنَّ ۖ وَلا يُبدينَ زينَتَهُنَّ إِلّا لِبُعولَتِهِنَّ أَو ءابائِهِنَّ أَو ءاباءِ بُعولَتِهِنَّ أَو أَبنائِهِنَّ أَو أَبناءِ بُعولَتِهِنَّ أَو إِخوٰنِهِنَّ أَو بَنى إِخوٰنِهِنَّ أَو بَنى أَخَوٰتِهِنَّ أَو نِسائِهِنَّ أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُهُنَّ أَوِ التّٰبِعينَ غَيرِ أُولِى الإِربَةِ مِنَ الرِّجالِ أَوِ الطِّفلِ الَّذينَ لَم يَظهَروا عَلىٰ عَورٰتِ النِّساءِ ۖ وَلا يَضرِبنَ بِأَرجُلِهِنَّ لِيُعلَمَ ما يُخفينَ مِن زينَتِهِنَّ ۚ وَتوبوا إِلَى اللَّهِ جَميعًا أَيُّهَ المُؤمِنونَ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(31)
اور اے نبیؐ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، اور اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھائیں بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے: شوہر، باپ، شوہروں کے باپ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے، بھائی، بھائیوں کے بیٹے، بہنوں کے بیٹے، اپنے میل جول کی عورتیں، ا پنے مملوک، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں وہ ا پنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے اے مومنو، تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو، توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے(31)
وَأَنكِحُوا الأَيٰمىٰ مِنكُم وَالصّٰلِحينَ مِن عِبادِكُم وَإِمائِكُم ۚ إِن يَكونوا فُقَراءَ يُغنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ ۗ وَاللَّهُ وٰسِعٌ عَليمٌ(32)
تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں، ان کے نکاح کر دو اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے(32)
وَليَستَعفِفِ الَّذينَ لا يَجِدونَ نِكاحًا حَتّىٰ يُغنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضلِهِ ۗ وَالَّذينَ يَبتَغونَ الكِتٰبَ مِمّا مَلَكَت أَيمٰنُكُم فَكاتِبوهُم إِن عَلِمتُم فيهِم خَيرًا ۖ وَءاتوهُم مِن مالِ اللَّهِ الَّذى ءاتىٰكُم ۚ وَلا تُكرِهوا فَتَيٰتِكُم عَلَى البِغاءِ إِن أَرَدنَ تَحَصُّنًا لِتَبتَغوا عَرَضَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ۚ وَمَن يُكرِههُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعدِ إِكرٰهِهِنَّ غَفورٌ رَحيمٌ(33)
اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہیے کہ عفت مآبی اختیار کریں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں ان سے مکاتبت کر لو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے، اور ان کو اُس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور اپنی لونڈیوں کو ا پنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں، اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور و رحیم ہے(33)
وَلَقَد أَنزَلنا إِلَيكُم ءايٰتٍ مُبَيِّنٰتٍ وَمَثَلًا مِنَ الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلِكُم وَمَوعِظَةً لِلمُتَّقينَ(34)
ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں، اور ان قوموں کی عبر ت ناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کر چکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں، اور وہ نصیحتیں ہم نے کر دی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں(34)
۞ اللَّهُ نورُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ مَثَلُ نورِهِ كَمِشكوٰةٍ فيها مِصباحٌ ۖ المِصباحُ فى زُجاجَةٍ ۖ الزُّجاجَةُ كَأَنَّها كَوكَبٌ دُرِّىٌّ يوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُبٰرَكَةٍ زَيتونَةٍ لا شَرقِيَّةٍ وَلا غَربِيَّةٍ يَكادُ زَيتُها يُضيءُ وَلَو لَم تَمسَسهُ نارٌ ۚ نورٌ عَلىٰ نورٍ ۗ يَهدِى اللَّهُ لِنورِهِ مَن يَشاءُ ۚ وَيَضرِبُ اللَّهُ الأَمثٰلَ لِلنّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(35)
اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح) روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہو گئے ہوں) اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے، وہ ہر چیز سے خوب واقف ہے(35)
فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَيُذكَرَ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ(36)
(اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے(36)
رِجالٌ لا تُلهيهِم تِجٰرَةٌ وَلا بَيعٌ عَن ذِكرِ اللَّهِ وَإِقامِ الصَّلوٰةِ وَإيتاءِ الزَّكوٰةِ ۙ يَخافونَ يَومًا تَتَقَلَّبُ فيهِ القُلوبُ وَالأَبصٰرُ(37)
اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی(37)
لِيَجزِيَهُمُ اللَّهُ أَحسَنَ ما عَمِلوا وَيَزيدَهُم مِن فَضلِهِ ۗ وَاللَّهُ يَرزُقُ مَن يَشاءُ بِغَيرِ حِسابٍ(38)
(اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں) تاکہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے(38)
وَالَّذينَ كَفَروا أَعمٰلُهُم كَسَرابٍ بِقيعَةٍ يَحسَبُهُ الظَّمـٔانُ ماءً حَتّىٰ إِذا جاءَهُ لَم يَجِدهُ شَيـًٔا وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفّىٰهُ حِسابَهُ ۗ وَاللَّهُ سَريعُ الحِسابِ(39)
(اس کے برعکس) جنہوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی(39)
أَو كَظُلُمٰتٍ فى بَحرٍ لُجِّىٍّ يَغشىٰهُ مَوجٌ مِن فَوقِهِ مَوجٌ مِن فَوقِهِ سَحابٌ ۚ ظُلُمٰتٌ بَعضُها فَوقَ بَعضٍ إِذا أَخرَجَ يَدَهُ لَم يَكَد يَرىٰها ۗ وَمَن لَم يَجعَلِ اللَّهُ لَهُ نورًا فَما لَهُ مِن نورٍ(40)
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اوپر بادل، تاریکی پر تاریکی مسلط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں(40)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَالطَّيرُ صٰفّٰتٍ ۖ كُلٌّ قَد عَلِمَ صَلاتَهُ وَتَسبيحَهُ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ بِما يَفعَلونَ(41)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلا ئے اڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے(41)
وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَإِلَى اللَّهِ المَصيرُ(42)
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے(42)
أَلَم تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزجى سَحابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَينَهُ ثُمَّ يَجعَلُهُ رُكامًا فَتَرَى الوَدقَ يَخرُجُ مِن خِلٰلِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّماءِ مِن جِبالٍ فيها مِن بَرَدٍ فَيُصيبُ بِهِ مَن يَشاءُ وَيَصرِفُهُ عَن مَن يَشاءُ ۖ يَكادُ سَنا بَرقِهِ يَذهَبُ بِالأَبصٰرِ(43)
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے(43)
يُقَلِّبُ اللَّهُ الَّيلَ وَالنَّهارَ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَعِبرَةً لِأُولِى الأَبصٰرِ(44)
رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے(44)
وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دابَّةٍ مِن ماءٍ ۖ فَمِنهُم مَن يَمشى عَلىٰ بَطنِهِ وَمِنهُم مَن يَمشى عَلىٰ رِجلَينِ وَمِنهُم مَن يَمشى عَلىٰ أَربَعٍ ۚ يَخلُقُ اللَّهُ ما يَشاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(45)
اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے(45)
لَقَد أَنزَلنا ءايٰتٍ مُبَيِّنٰتٍ ۚ وَاللَّهُ يَهدى مَن يَشاءُ إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(46)
ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کر دی ہیں، آگے صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے(46)
وَيَقولونَ ءامَنّا بِاللَّهِ وَبِالرَّسولِ وَأَطَعنا ثُمَّ يَتَوَلّىٰ فَريقٌ مِنهُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ ۚ وَما أُولٰئِكَ بِالمُؤمِنينَ(47)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے) منہ موڑ جاتا ہے ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں(47)
وَإِذا دُعوا إِلَى اللَّهِ وَرَسولِهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم إِذا فَريقٌ مِنهُم مُعرِضونَ(48)
جب ان کو بلایا جاتا ہے اللہ اور رسول کی طرف، تاکہ رسول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک فریق کترا جاتا ہے(48)
وَإِن يَكُن لَهُمُ الحَقُّ يَأتوا إِلَيهِ مُذعِنينَ(49)
البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آ جاتے ہیں(49)
أَفى قُلوبِهِم مَرَضٌ أَمِ ارتابوا أَم يَخافونَ أَن يَحيفَ اللَّهُ عَلَيهِم وَرَسولُهُ ۚ بَل أُولٰئِكَ هُمُ الظّٰلِمونَ(50)
کیا ان کے دلوں کو (منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں(50)
إِنَّما كانَ قَولَ المُؤمِنينَ إِذا دُعوا إِلَى اللَّهِ وَرَسولِهِ لِيَحكُمَ بَينَهُم أَن يَقولوا سَمِعنا وَأَطَعنا ۚ وَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(51)
ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسول کی طرف بلا ئے جائیں تاکہ رسول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں(51)
وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَخشَ اللَّهَ وَيَتَّقهِ فَأُولٰئِكَ هُمُ الفائِزونَ(52)
اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں(52)
۞ وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم لَئِن أَمَرتَهُم لَيَخرُجُنَّ ۖ قُل لا تُقسِموا ۖ طاعَةٌ مَعروفَةٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ بِما تَعمَلونَ(53)
یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں" اِن سے کہو "قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے، تمہارے کرتوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے"(53)
قُل أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيهِ ما حُمِّلَ وَعَلَيكُم ما حُمِّلتُم ۖ وَإِن تُطيعوهُ تَهتَدوا ۚ وَما عَلَى الرَّسولِ إِلَّا البَلٰغُ المُبينُ(54)
کہو، "اللہ کے مطیع بنو اور رسولؐ کے تابع فرمان بن کر رہو لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسولؐ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمہ دار تم ہو اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاؤ گے ورنہ رسول کی ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے"(54)
وَعَدَ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَستَخلِفَنَّهُم فِى الأَرضِ كَمَا استَخلَفَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُم دينَهُمُ الَّذِى ارتَضىٰ لَهُم وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِن بَعدِ خَوفِهِم أَمنًا ۚ يَعبُدونَنى لا يُشرِكونَ بى شَيـًٔا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعدَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ الفٰسِقونَ(55)
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں(55)
وَأَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَءاتُوا الزَّكوٰةَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(56)
نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو، اور رسولؐ کی اطاعت کرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا(56)
لا تَحسَبَنَّ الَّذينَ كَفَروا مُعجِزينَ فِى الأَرضِ ۚ وَمَأوىٰهُمُ النّارُ ۖ وَلَبِئسَ المَصيرُ(57)
جو لوگ کفر کر رہے ہیں ا ن کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کر دیں گے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے(57)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لِيَستَـٔذِنكُمُ الَّذينَ مَلَكَت أَيمٰنُكُم وَالَّذينَ لَم يَبلُغُوا الحُلُمَ مِنكُم ثَلٰثَ مَرّٰتٍ ۚ مِن قَبلِ صَلوٰةِ الفَجرِ وَحينَ تَضَعونَ ثِيابَكُم مِنَ الظَّهيرَةِ وَمِن بَعدِ صَلوٰةِ العِشاءِ ۚ ثَلٰثُ عَورٰتٍ لَكُم ۚ لَيسَ عَلَيكُم وَلا عَلَيهِم جُناحٌ بَعدَهُنَّ ۚ طَوّٰفونَ عَلَيكُم بَعضُكُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(58)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، لازم ہے کہ تمہارے مملوک اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں: صبح کی نماز سے پہلے، اور دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اتار کر رکھ دیتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد یہ تین وقت تمہارے لیے پردے کے وقت ہیں اِن کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے(58)
وَإِذا بَلَغَ الأَطفٰلُ مِنكُمُ الحُلُمَ فَليَستَـٔذِنوا كَمَا استَـٔذَنَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايٰتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(59)
اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں تو چاہے کہ اُسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں اِس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے(59)
وَالقَوٰعِدُ مِنَ النِّساءِ الّٰتى لا يَرجونَ نِكاحًا فَلَيسَ عَلَيهِنَّ جُناحٌ أَن يَضَعنَ ثِيابَهُنَّ غَيرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزينَةٍ ۖ وَأَن يَستَعفِفنَ خَيرٌ لَهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(60)
اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں، نکاح کی امیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اتار کر رکھ دیں تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے(60)
لَيسَ عَلَى الأَعمىٰ حَرَجٌ وَلا عَلَى الأَعرَجِ حَرَجٌ وَلا عَلَى المَريضِ حَرَجٌ وَلا عَلىٰ أَنفُسِكُم أَن تَأكُلوا مِن بُيوتِكُم أَو بُيوتِ ءابائِكُم أَو بُيوتِ أُمَّهٰتِكُم أَو بُيوتِ إِخوٰنِكُم أَو بُيوتِ أَخَوٰتِكُم أَو بُيوتِ أَعمٰمِكُم أَو بُيوتِ عَمّٰتِكُم أَو بُيوتِ أَخوٰلِكُم أَو بُيوتِ خٰلٰتِكُم أَو ما مَلَكتُم مَفاتِحَهُ أَو صَديقِكُم ۚ لَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ أَن تَأكُلوا جَميعًا أَو أَشتاتًا ۚ فَإِذا دَخَلتُم بُيوتًا فَسَلِّموا عَلىٰ أَنفُسِكُم تَحِيَّةً مِن عِندِ اللَّهِ مُبٰرَكَةً طَيِّبَةً ۚ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ(61)
کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا، یا مریض (کسی کے گھر سے کھا لے) اور نہ تمہارے اوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے، یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے، یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے، یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاؤ یا الگ الگ البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دعا ئے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فر مائی ہوئی، بڑی بابرکت اور پاکیزہ اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو گے(61)
إِنَّمَا المُؤمِنونَ الَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَإِذا كانوا مَعَهُ عَلىٰ أَمرٍ جامِعٍ لَم يَذهَبوا حَتّىٰ يَستَـٔذِنوهُ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَستَـٔذِنونَكَ أُولٰئِكَ الَّذينَ يُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَرَسولِهِ ۚ فَإِذَا استَـٔذَنوكَ لِبَعضِ شَأنِهِم فَأذَن لِمَن شِئتَ مِنهُم وَاستَغفِر لَهُمُ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(62)
مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو، اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے(62)
لا تَجعَلوا دُعاءَ الرَّسولِ بَينَكُم كَدُعاءِ بَعضِكُم بَعضًا ۚ قَد يَعلَمُ اللَّهُ الَّذينَ يَتَسَلَّلونَ مِنكُم لِواذًا ۚ فَليَحذَرِ الَّذينَ يُخالِفونَ عَن أَمرِهِ أَن تُصيبَهُم فِتنَةٌ أَو يُصيبَهُم عَذابٌ أَليمٌ(63)
مسلمانو، اپنے درمیان رسولؐ کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلانا نہ سمجھ بیٹھو اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں رسولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے(63)
أَلا إِنَّ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ قَد يَعلَمُ ما أَنتُم عَلَيهِ وَيَومَ يُرجَعونَ إِلَيهِ فَيُنَبِّئُهُم بِما عَمِلوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(64)
خبردار رہو، آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے تم جس روش پر بھی ہو اللہ اُس کو جانتا ہے جس روز لوگ اُس کی طرف پلٹیں گے وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے(64)