An-Nazi'at( النازعات)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ وَالنّٰزِعٰتِ غَرقًا(1)
قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں(1)
وَالنّٰشِطٰتِ نَشطًا(2)
اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں(2)
وَالسّٰبِحٰتِ سَبحًا(3)
اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں(3)
فَالسّٰبِقٰتِ سَبقًا(4)
پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں(4)
فَالمُدَبِّرٰتِ أَمرًا(5)
پھر (احکام الٰہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں(5)
يَومَ تَرجُفُ الرّاجِفَةُ(6)
جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا(6)
تَتبَعُهَا الرّادِفَةُ(7)
اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا(7)
قُلوبٌ يَومَئِذٍ واجِفَةٌ(8)
کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے(8)
أَبصٰرُها خٰشِعَةٌ(9)
نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی(9)
يَقولونَ أَءِنّا لَمَردودونَ فِى الحافِرَةِ(10)
یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟(10)
أَءِذا كُنّا عِظٰمًا نَخِرَةً(11)
کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"(11)
قالوا تِلكَ إِذًا كَرَّةٌ خاسِرَةٌ(12)
کہنے لگے "یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!"(12)
فَإِنَّما هِىَ زَجرَةٌ وٰحِدَةٌ(13)
حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی(13)
فَإِذا هُم بِالسّاهِرَةِ(14)
اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے(14)
هَل أَتىٰكَ حَديثُ موسىٰ(15)
کیا تمہیں موسیٰؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟(15)
إِذ نادىٰهُ رَبُّهُ بِالوادِ المُقَدَّسِ طُوًى(16)
جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا(16)
اذهَب إِلىٰ فِرعَونَ إِنَّهُ طَغىٰ(17)
کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے(17)
فَقُل هَل لَكَ إِلىٰ أَن تَزَكّىٰ(18)
اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے(18)
وَأَهدِيَكَ إِلىٰ رَبِّكَ فَتَخشىٰ(19)
اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"(19)
فَأَرىٰهُ الءايَةَ الكُبرىٰ(20)
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی(20)
فَكَذَّبَ وَعَصىٰ(21)
مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا(21)
ثُمَّ أَدبَرَ يَسعىٰ(22)
پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا(22)
فَحَشَرَ فَنادىٰ(23)
اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا(23)
فَقالَ أَنا۠ رَبُّكُمُ الأَعلىٰ(24)
"میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں"(24)
فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكالَ الءاخِرَةِ وَالأولىٰ(25)
آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا(25)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَعِبرَةً لِمَن يَخشىٰ(26)
درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے(26)
ءَأَنتُم أَشَدُّ خَلقًا أَمِ السَّماءُ ۚ بَنىٰها(27)
کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا(27)
رَفَعَ سَمكَها فَسَوّىٰها(28)
اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا(28)
وَأَغطَشَ لَيلَها وَأَخرَجَ ضُحىٰها(29)
اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا(29)
وَالأَرضَ بَعدَ ذٰلِكَ دَحىٰها(30)
اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا(30)
أَخرَجَ مِنها ماءَها وَمَرعىٰها(31)
اُس کے اندر سے اُس کا پانی اور چارہ نکالا(31)
وَالجِبالَ أَرسىٰها(32)
اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے(32)
مَتٰعًا لَكُم وَلِأَنعٰمِكُم(33)
سامان زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے(33)
فَإِذا جاءَتِ الطّامَّةُ الكُبرىٰ(34)
پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا(34)
يَومَ يَتَذَكَّرُ الإِنسٰنُ ما سَعىٰ(35)
جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا(35)
وَبُرِّزَتِ الجَحيمُ لِمَن يَرىٰ(36)
اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی(36)
فَأَمّا مَن طَغىٰ(37)
تو جس نے سرکشی کی تھی(37)
وَءاثَرَ الحَيوٰةَ الدُّنيا(38)
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی(38)
فَإِنَّ الجَحيمَ هِىَ المَأوىٰ(39)
دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی(39)
وَأَمّا مَن خافَ مَقامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفسَ عَنِ الهَوىٰ(40)
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا(40)
فَإِنَّ الجَنَّةَ هِىَ المَأوىٰ(41)
جنت اس کا ٹھکانا ہوگی(41)
يَسـَٔلونَكَ عَنِ السّاعَةِ أَيّانَ مُرسىٰها(42)
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ "آخر وہ گھڑی کب آ کر ٹھیرے گی؟"(42)
فيمَ أَنتَ مِن ذِكرىٰها(43)
تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ(43)
إِلىٰ رَبِّكَ مُنتَهىٰها(44)
اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے(44)
إِنَّما أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخشىٰها(45)
تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے(45)
كَأَنَّهُم يَومَ يَرَونَها لَم يَلبَثوا إِلّا عَشِيَّةً أَو ضُحىٰها(46)
جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (یہ دنیا میں یا حالت موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں(46)