An-Naml( النمل)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ طس ۚ تِلكَ ءايٰتُ القُرءانِ وَكِتابٍ مُبينٍ(1)
ط س یہ آیات ہیں قرآن اور کتاب مبین کی(1)
هُدًى وَبُشرىٰ لِلمُؤمِنينَ(2)
ہدایت اور بشارت اُن ایمان لانے والوں کے لیے(2)
الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَهُم بِالءاخِرَةِ هُم يوقِنونَ(3)
جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں(3)
إِنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ زَيَّنّا لَهُم أَعمٰلَهُم فَهُم يَعمَهونَ(4)
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھر رہے ہیں(4)
أُولٰئِكَ الَّذينَ لَهُم سوءُ العَذابِ وَهُم فِى الءاخِرَةِ هُمُ الأَخسَرونَ(5)
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں(5)
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى القُرءانَ مِن لَدُن حَكيمٍ عَليمٍ(6)
اور (اے محمدؐ) بلاشبہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو(6)
إِذ قالَ موسىٰ لِأَهلِهِ إِنّى ءانَستُ نارًا سَـٔاتيكُم مِنها بِخَبَرٍ أَو ءاتيكُم بِشِهابٍ قَبَسٍ لَعَلَّكُم تَصطَلونَ(7)
(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سناؤ) جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ "مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو"(7)
فَلَمّا جاءَها نودِىَ أَن بورِكَ مَن فِى النّارِ وَمَن حَولَها وَسُبحٰنَ اللَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(8)
وہاں جو پہنچا تو ندا آئی کہ "مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اس کے ماحول میں ہے پاک ہے اللہ، سب جہانوں کا پروردگار(8)
يٰموسىٰ إِنَّهُ أَنَا اللَّهُ العَزيزُ الحَكيمُ(9)
اے موسیٰؑ، یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور دانا(9)
وَأَلقِ عَصاكَ ۚ فَلَمّا رَءاها تَهتَزُّ كَأَنَّها جانٌّ وَلّىٰ مُدبِرًا وَلَم يُعَقِّب ۚ يٰموسىٰ لا تَخَف إِنّى لا يَخافُ لَدَىَّ المُرسَلونَ(10)
اور پھینک تو ذرا اپنی لاٹھی" جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا "اے موسیٰؑ، ڈرو نہیں میرے حضور رسول ڈرا نہیں کرتے(10)
إِلّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسنًا بَعدَ سوءٍ فَإِنّى غَفورٌ رَحيمٌ(11)
اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو پھر اگر برائی کے بعد اُس نے بھَلائی سے اپنے فعل کو بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں(11)
وَأَدخِل يَدَكَ فى جَيبِكَ تَخرُج بَيضاءَ مِن غَيرِ سوءٍ ۖ فى تِسعِ ءايٰتٍ إِلىٰ فِرعَونَ وَقَومِهِ ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا فٰسِقينَ(12)
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ (دو نشانیاں) نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے)، وہ بڑے بد کردار لوگ ہیں"(12)
فَلَمّا جاءَتهُم ءايٰتُنا مُبصِرَةً قالوا هٰذا سِحرٌ مُبينٌ(13)
مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے(13)
وَجَحَدوا بِها وَاستَيقَنَتها أَنفُسُهُم ظُلمًا وَعُلُوًّا ۚ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُفسِدينَ(14)
انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا(14)
وَلَقَد ءاتَينا داوۥدَ وَسُلَيمٰنَ عِلمًا ۖ وَقالَا الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى فَضَّلَنا عَلىٰ كَثيرٍ مِن عِبادِهِ المُؤمِنينَ(15)
(دوسری طرف) ہم نے داؤدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور انہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی(15)
وَوَرِثَ سُلَيمٰنُ داوۥدَ ۖ وَقالَ يٰأَيُّهَا النّاسُ عُلِّمنا مَنطِقَ الطَّيرِ وَأوتينا مِن كُلِّ شَيءٍ ۖ إِنَّ هٰذا لَهُوَ الفَضلُ المُبينُ(16)
اور داؤدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا اور اس نے کہا "“لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بیشک یہ (اللہ کا) نمایاں فضل ہے"(16)
وَحُشِرَ لِسُلَيمٰنَ جُنودُهُ مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ وَالطَّيرِ فَهُم يوزَعونَ(17)
سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پورے ضبط میں رکھے جاتے تھے(17)
حَتّىٰ إِذا أَتَوا عَلىٰ وادِ النَّملِ قالَت نَملَةٌ يٰأَيُّهَا النَّملُ ادخُلوا مَسٰكِنَكُم لا يَحطِمَنَّكُم سُلَيمٰنُ وَجُنودُهُ وَهُم لا يَشعُرونَ(18)
(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کوچ کر رہا تھا) یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا "“اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو"(18)
فَتَبَسَّمَ ضاحِكًا مِن قَولِها وَقالَ رَبِّ أَوزِعنى أَن أَشكُرَ نِعمَتَكَ الَّتى أَنعَمتَ عَلَىَّ وَعَلىٰ وٰلِدَىَّ وَأَن أَعمَلَ صٰلِحًا تَرضىٰهُ وَأَدخِلنى بِرَحمَتِكَ فى عِبادِكَ الصّٰلِحينَ(19)
سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا "اے میرے رب، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عمل صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر"(19)
وَتَفَقَّدَ الطَّيرَ فَقالَ ما لِىَ لا أَرَى الهُدهُدَ أَم كانَ مِنَ الغائِبينَ(20)
(ایک اور موقع پر) سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا اور کہا “کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟(20)
لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذابًا شَديدًا أَو لَأَا۟ذبَحَنَّهُ أَو لَيَأتِيَنّى بِسُلطٰنٍ مُبينٍ(21)
میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہو گی(21)
فَمَكَثَ غَيرَ بَعيدٍ فَقالَ أَحَطتُ بِما لَم تُحِط بِهِ وَجِئتُكَ مِن سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقينٍ(22)
کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آ کر کہا "“میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں(22)
إِنّى وَجَدتُ امرَأَةً تَملِكُهُم وَأوتِيَت مِن كُلِّ شَيءٍ وَلَها عَرشٌ عَظيمٌ(23)
میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمران ہے اُس کو ہر طرح کا ساز و سامان بخشا گیا ہے اور اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے(23)
وَجَدتُها وَقَومَها يَسجُدونَ لِلشَّمسِ مِن دونِ اللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَصَدَّهُم عَنِ السَّبيلِ فَهُم لا يَهتَدونَ(24)
میں نے دیکھا ہے کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سورج کے آگے سجدہ کرتی ہے" شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے(24)
أَلّا يَسجُدوا لِلَّهِ الَّذى يُخرِجُ الخَبءَ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَيَعلَمُ ما تُخفونَ وَما تُعلِنونَ(25)
کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو(25)
اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ رَبُّ العَرشِ العَظيمِ ۩(26)
اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، جو عرش عظیم کا مالک ہے(26)
۞ قالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقتَ أَم كُنتَ مِنَ الكٰذِبينَ(27)
سلیمانؑ نے کہا "ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے(27)
اذهَب بِكِتٰبى هٰذا فَأَلقِه إِلَيهِم ثُمَّ تَوَلَّ عَنهُم فَانظُر ماذا يَرجِعونَ(28)
میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں"(28)
قالَت يٰأَيُّهَا المَلَؤُا۟ إِنّى أُلقِىَ إِلَىَّ كِتٰبٌ كَريمٌ(29)
ملکہ بولی "اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے(29)
إِنَّهُ مِن سُلَيمٰنَ وَإِنَّهُ بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ(30)
وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے(30)
أَلّا تَعلوا عَلَىَّ وَأتونى مُسلِمينَ(31)
مضمون یہ ہے کہ “میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ"(31)
قالَت يٰأَيُّهَا المَلَؤُا۟ أَفتونى فى أَمرى ما كُنتُ قاطِعَةً أَمرًا حَتّىٰ تَشهَدونِ(32)
(خط سُنا کر) ملکہ نے کہا "“اے سردارانِ قوم میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں"(32)
قالوا نَحنُ أُولوا قُوَّةٍ وَأُولوا بَأسٍ شَديدٍ وَالأَمرُ إِلَيكِ فَانظُرى ماذا تَأمُرينَ(33)
اُنہوں نے جواب دیا "ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے"(33)
قالَت إِنَّ المُلوكَ إِذا دَخَلوا قَريَةً أَفسَدوها وَجَعَلوا أَعِزَّةَ أَهلِها أَذِلَّةً ۖ وَكَذٰلِكَ يَفعَلونَ(34)
ملکہ نے کہا کہ "بادشاہ جب کسی مُلک میں گھس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں(34)
وَإِنّى مُرسِلَةٌ إِلَيهِم بِهَدِيَّةٍ فَناظِرَةٌ بِمَ يَرجِعُ المُرسَلونَ(35)
میں اِن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں"(35)
فَلَمّا جاءَ سُلَيمٰنَ قالَ أَتُمِدّونَنِ بِمالٍ فَما ءاتىٰنِۦَ اللَّهُ خَيرٌ مِمّا ءاتىٰكُم بَل أَنتُم بِهَدِيَّتِكُم تَفرَحونَ(36)
جب وہ (ملکہ کا سفیر) سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا "کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے(36)
ارجِع إِلَيهِم فَلَنَأتِيَنَّهُم بِجُنودٍ لا قِبَلَ لَهُم بِها وَلَنُخرِجَنَّهُم مِنها أَذِلَّةً وَهُم صٰغِرونَ(37)
(اے سفیر) واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے"(37)
قالَ يٰأَيُّهَا المَلَؤُا۟ أَيُّكُم يَأتينى بِعَرشِها قَبلَ أَن يَأتونى مُسلِمينَ(38)
سلیمانؑ نے کہا "“اے اہل دربار، تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟"(38)
قالَ عِفريتٌ مِنَ الجِنِّ أَنا۠ ءاتيكَ بِهِ قَبلَ أَن تَقومَ مِن مَقامِكَ ۖ وَإِنّى عَلَيهِ لَقَوِىٌّ أَمينٌ(39)
جنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا "میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں"(39)
قالَ الَّذى عِندَهُ عِلمٌ مِنَ الكِتٰبِ أَنا۠ ءاتيكَ بِهِ قَبلَ أَن يَرتَدَّ إِلَيكَ طَرفُكَ ۚ فَلَمّا رَءاهُ مُستَقِرًّا عِندَهُ قالَ هٰذا مِن فَضلِ رَبّى لِيَبلُوَنى ءَأَشكُرُ أَم أَكفُرُ ۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّما يَشكُرُ لِنَفسِهِ ۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبّى غَنِىٌّ كَريمٌ(40)
جس شخص کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بولا "میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں" جونہی کہ سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اٹھا "یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافر نعمت بن جاتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے"(40)
قالَ نَكِّروا لَها عَرشَها نَنظُر أَتَهتَدى أَم تَكونُ مِنَ الَّذينَ لا يَهتَدونَ(41)
سلیمانؑ نے کہا "انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے"(41)
فَلَمّا جاءَت قيلَ أَهٰكَذا عَرشُكِ ۖ قالَت كَأَنَّهُ هُوَ ۚ وَأوتينَا العِلمَ مِن قَبلِها وَكُنّا مُسلِمينَ(42)
ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی "یہ تو گویا وہی ہے ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جھکا دیا تھا (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)"(42)
وَصَدَّها ما كانَت تَعبُدُ مِن دونِ اللَّهِ ۖ إِنَّها كانَت مِن قَومٍ كٰفِرينَ(43)
اُس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی(43)
قيلَ لَهَا ادخُلِى الصَّرحَ ۖ فَلَمّا رَأَتهُ حَسِبَتهُ لُجَّةً وَكَشَفَت عَن ساقَيها ۚ قالَ إِنَّهُ صَرحٌ مُمَرَّدٌ مِن قَواريرَ ۗ قالَت رَبِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى وَأَسلَمتُ مَعَ سُلَيمٰنَ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(44)
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائنچے اٹھا لیے سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے اس پر وہ پکار اٹھی "اے میرے رب، (آج تک) میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی"(44)
وَلَقَد أَرسَلنا إِلىٰ ثَمودَ أَخاهُم صٰلِحًا أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ فَإِذا هُم فَريقانِ يَختَصِمونَ(45)
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو متخاصم فریق بن گئے(45)
قالَ يٰقَومِ لِمَ تَستَعجِلونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبلَ الحَسَنَةِ ۖ لَولا تَستَغفِرونَ اللَّهَ لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(46)
صالحؑ نے کہا "“اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟ کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے؟ شاید کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟"(46)
قالُوا اطَّيَّرنا بِكَ وَبِمَن مَعَكَ ۚ قالَ طٰئِرُكُم عِندَ اللَّهِ ۖ بَل أَنتُم قَومٌ تُفتَنونَ(47)
انہوں نے کہا "ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بد شگونی کا نشان پایا ہے" صالحؑ نے جواب دیا "“تمہارے نیک و بد شگون کا سر رشتہ تو اللہ کے پاس ہے اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے"(47)
وَكانَ فِى المَدينَةِ تِسعَةُ رَهطٍ يُفسِدونَ فِى الأَرضِ وَلا يُصلِحونَ(48)
اُس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے(48)
قالوا تَقاسَموا بِاللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ وَأَهلَهُ ثُمَّ لَنَقولَنَّ لِوَلِيِّهِ ما شَهِدنا مَهلِكَ أَهلِهِ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(49)
انہوں نے آپس میں کہا "خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں"(49)
وَمَكَروا مَكرًا وَمَكَرنا مَكرًا وَهُم لا يَشعُرونَ(50)
یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی(50)
فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ مَكرِهِم أَنّا دَمَّرنٰهُم وَقَومَهُم أَجمَعينَ(51)
اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو(51)
فَتِلكَ بُيوتُهُم خاوِيَةً بِما ظَلَموا ۗ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِقَومٍ يَعلَمونَ(52)
وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے، اس میں ایک نشان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(52)
وَأَنجَينَا الَّذينَ ءامَنوا وَكانوا يَتَّقونَ(53)
اور بچا لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے(53)
وَلوطًا إِذ قالَ لِقَومِهِ أَتَأتونَ الفٰحِشَةَ وَأَنتُم تُبصِرونَ(54)
اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟(54)
أَئِنَّكُم لَتَأتونَ الرِّجالَ شَهوَةً مِن دونِ النِّساءِ ۚ بَل أَنتُم قَومٌ تَجهَلونَ(55)
کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو"(55)
۞ فَما كانَ جَوابَ قَومِهِ إِلّا أَن قالوا أَخرِجوا ءالَ لوطٍ مِن قَريَتِكُم ۖ إِنَّهُم أُناسٌ يَتَطَهَّرونَ(56)
مگر اُس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "نکال دو لوطؑ کے گھر والوں کو اپنی بستی سے، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں"(56)
فَأَنجَينٰهُ وَأَهلَهُ إِلَّا امرَأَتَهُ قَدَّرنٰها مِنَ الغٰبِرينَ(57)
آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا(57)
وَأَمطَرنا عَلَيهِم مَطَرًا ۖ فَساءَ مَطَرُ المُنذَرينَ(58)
اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات، بہت ہی بری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کیے جا چکے تھے(58)
قُلِ الحَمدُ لِلَّهِ وَسَلٰمٌ عَلىٰ عِبادِهِ الَّذينَ اصطَفىٰ ۗ ءاللَّهُ خَيرٌ أَمّا يُشرِكونَ(59)
(اے نبیؐ) کہو، حمد اللہ کے لیے اور سلام اس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا (اِن سے پوچھو) اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟(59)
أَمَّن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَنبَتنا بِهِ حَدائِقَ ذاتَ بَهجَةٍ ما كانَ لَكُم أَن تُنبِتوا شَجَرَها ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَل هُم قَومٌ يَعدِلونَ(60)
بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں(60)
أَمَّن جَعَلَ الأَرضَ قَرارًا وَجَعَلَ خِلٰلَها أَنهٰرًا وَجَعَلَ لَها رَوٰسِىَ وَجَعَلَ بَينَ البَحرَينِ حاجِزًا ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعلَمونَ(61)
اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں شریک) ہے؟ نہیں، بلکہ اِن میں سے اکثر لوگ نادان ہیں(61)
أَمَّن يُجيبُ المُضطَرَّ إِذا دَعاهُ وَيَكشِفُ السّوءَ وَيَجعَلُكُم خُلَفاءَ الأَرضِ ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ(62)
کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو(62)
أَمَّن يَهديكُم فى ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالبَحرِ وَمَن يُرسِلُ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ تَعٰلَى اللَّهُ عَمّا يُشرِكونَ(63)
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں(63)
أَمَّن يَبدَؤُا۟ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ وَمَن يَرزُقُكُم مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ ۗ أَءِلٰهٌ مَعَ اللَّهِ ۚ قُل هاتوا بُرهٰنَكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(64)
اور کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (اِن کاموں میں حصہ دار) ہے؟ کہو کہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو(64)
قُل لا يَعلَمُ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ الغَيبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَما يَشعُرونَ أَيّانَ يُبعَثونَ(65)
اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا، اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے(65)
بَلِ ادّٰرَكَ عِلمُهُم فِى الءاخِرَةِ ۚ بَل هُم فى شَكٍّ مِنها ۖ بَل هُم مِنها عَمونَ(66)
بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں(66)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا أَءِذا كُنّا تُرٰبًا وَءاباؤُنا أَئِنّا لَمُخرَجونَ(67)
یہ منکرین کہتے ہیں "کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟(67)
لَقَد وُعِدنا هٰذا نَحنُ وَءاباؤُنا مِن قَبلُ إِن هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(68)
یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں"(68)
قُل سيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُجرِمينَ(69)
کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے(69)
وَلا تَحزَن عَلَيهِم وَلا تَكُن فى ضَيقٍ مِمّا يَمكُرونَ(70)
اے نبیؐ، اِن کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اِن کی چالوں پر دل تنگ ہو(70)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(71)
وہ کہتے ہیں کہ "یہ دھمکی کب پُوری ہو گی اگر تم سچے ہو؟"(71)
قُل عَسىٰ أَن يَكونَ رَدِفَ لَكُم بَعضُ الَّذى تَستَعجِلونَ(72)
کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آ لگا ہو(72)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذو فَضلٍ عَلَى النّاسِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَشكُرونَ(73)
حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے(73)
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعلَمُ ما تُكِنُّ صُدورُهُم وَما يُعلِنونَ(74)
بلا شبہ تیرا رب خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں(74)
وَما مِن غائِبَةٍ فِى السَّماءِ وَالأَرضِ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ(75)
آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو(75)
إِنَّ هٰذَا القُرءانَ يَقُصُّ عَلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ أَكثَرَ الَّذى هُم فيهِ يَختَلِفونَ(76)
یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں(76)
وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ(77)
اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے(77)
إِنَّ رَبَّكَ يَقضى بَينَهُم بِحُكمِهِ ۚ وَهُوَ العَزيزُ العَليمُ(78)
یقیناً (اِسی طرح) تیرا رب اِن لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے(78)
فَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۖ إِنَّكَ عَلَى الحَقِّ المُبينِ(79)
پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو(79)
إِنَّكَ لا تُسمِعُ المَوتىٰ وَلا تُسمِعُ الصُّمَّ الدُّعاءَ إِذا وَلَّوا مُدبِرينَ(80)
تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں(80)
وَما أَنتَ بِهٰدِى العُمىِ عَن ضَلٰلَتِهِم ۖ إِن تُسمِعُ إِلّا مَن يُؤمِنُ بِـٔايٰتِنا فَهُم مُسلِمونَ(81)
اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو تم تو اپنی بات اُنہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرمان بردار بن جاتے ہیں(81)
۞ وَإِذا وَقَعَ القَولُ عَلَيهِم أَخرَجنا لَهُم دابَّةً مِنَ الأَرضِ تُكَلِّمُهُم أَنَّ النّاسَ كانوا بِـٔايٰتِنا لا يوقِنونَ(82)
اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے(82)
وَيَومَ نَحشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوجًا مِمَّن يُكَذِّبُ بِـٔايٰتِنا فَهُم يوزَعونَ(83)
اور ذرا تصور کرو اُس دن کا جب ہم ہر امّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا(83)
حَتّىٰ إِذا جاءو قالَ أَكَذَّبتُم بِـٔايٰتى وَلَم تُحيطوا بِها عِلمًا أَمّاذا كُنتُم تَعمَلونَ(84)
یہاں تک کہ جب سب آ جائیں گے تو (ان کا رب ان سے) پوچھے گا کہ "تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟"(84)
وَوَقَعَ القَولُ عَلَيهِم بِما ظَلَموا فَهُم لا يَنطِقونَ(85)
اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے(85)
أَلَم يَرَوا أَنّا جَعَلنَا الَّيلَ لِيَسكُنوا فيهِ وَالنَّهارَ مُبصِرًا ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(86)
کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے(86)
وَيَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ فَفَزِعَ مَن فِى السَّمٰوٰتِ وَمَن فِى الأَرضِ إِلّا مَن شاءَ اللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوهُ دٰخِرينَ(87)
اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا، اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے(87)
وَتَرَى الجِبالَ تَحسَبُها جامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحابِ ۚ صُنعَ اللَّهِ الَّذى أَتقَنَ كُلَّ شَيءٍ ۚ إِنَّهُ خَبيرٌ بِما تَفعَلونَ(88)
آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو(88)
مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ خَيرٌ مِنها وَهُم مِن فَزَعٍ يَومَئِذٍ ءامِنونَ(89)
جو شخص بھلائی لے کر آئیگا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے(89)
وَمَن جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّت وُجوهُهُم فِى النّارِ هَل تُجزَونَ إِلّا ما كُنتُم تَعمَلونَ(90)
اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟(90)
إِنَّما أُمِرتُ أَن أَعبُدَ رَبَّ هٰذِهِ البَلدَةِ الَّذى حَرَّمَها وَلَهُ كُلُّ شَيءٍ ۖ وَأُمِرتُ أَن أَكونَ مِنَ المُسلِمينَ(91)
(اے محمدؐ، اِن سے کہو) "مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں(91)
وَأَن أَتلُوَا۟ القُرءانَ ۖ فَمَنِ اهتَدىٰ فَإِنَّما يَهتَدى لِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَقُل إِنَّما أَنا۠ مِنَ المُنذِرينَ(92)
اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں" اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں(92)
وَقُلِ الحَمدُ لِلَّهِ سَيُريكُم ءايٰتِهِ فَتَعرِفونَها ۚ وَما رَبُّكَ بِغٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ(93)
اِن سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لو گے، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو(93)