Al-Qiyamat( القيامة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ لا أُقسِمُ بِيَومِ القِيٰمَةِ(1)
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی(1)
وَلا أُقسِمُ بِالنَّفسِ اللَّوّامَةِ(2)
اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی(2)
أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَلَّن نَجمَعَ عِظامَهُ(3)
کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟(3)
بَلىٰ قٰدِرينَ عَلىٰ أَن نُسَوِّىَ بَنانَهُ(4)
ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں(4)
بَل يُريدُ الإِنسٰنُ لِيَفجُرَ أَمامَهُ(5)
مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے(5)
يَسـَٔلُ أَيّانَ يَومُ القِيٰمَةِ(6)
پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟"(6)
فَإِذا بَرِقَ البَصَرُ(7)
پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے(7)
وَخَسَفَ القَمَرُ(8)
اور چاند بے نور ہو جائیگا(8)
وَجُمِعَ الشَّمسُ وَالقَمَرُ(9)
اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے(9)
يَقولُ الإِنسٰنُ يَومَئِذٍ أَينَ المَفَرُّ(10)
اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"(10)
كَلّا لا وَزَرَ(11)
ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی(11)
إِلىٰ رَبِّكَ يَومَئِذٍ المُستَقَرُّ(12)
اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا(12)
يُنَبَّؤُا۟ الإِنسٰنُ يَومَئِذٍ بِما قَدَّمَ وَأَخَّرَ(13)
اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا(13)
بَلِ الإِنسٰنُ عَلىٰ نَفسِهِ بَصيرَةٌ(14)
بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے(14)
وَلَو أَلقىٰ مَعاذيرَهُ(15)
چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے(15)
لا تُحَرِّك بِهِ لِسانَكَ لِتَعجَلَ بِهِ(16)
اے نبیؐ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو(16)
إِنَّ عَلَينا جَمعَهُ وَقُرءانَهُ(17)
اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے(17)
فَإِذا قَرَأنٰهُ فَاتَّبِع قُرءانَهُ(18)
لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اُس وقت تم اِس کی قرات کو غور سے سنتے رہو(18)
ثُمَّ إِنَّ عَلَينا بَيانَهُ(19)
پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے(19)
كَلّا بَل تُحِبّونَ العاجِلَةَ(20)
ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو(20)
وَتَذَرونَ الءاخِرَةَ(21)
اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو(21)
وُجوهٌ يَومَئِذٍ ناضِرَةٌ(22)
اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے(22)
إِلىٰ رَبِّها ناظِرَةٌ(23)
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے(23)
وَوُجوهٌ يَومَئِذٍ باسِرَةٌ(24)
اور کچھ چہرے اداس ہوں گے(24)
تَظُنُّ أَن يُفعَلَ بِها فاقِرَةٌ(25)
اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے(25)
كَلّا إِذا بَلَغَتِ التَّراقِىَ(26)
ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی(26)
وَقيلَ مَن ۜ راقٍ(27)
اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا(27)
وَظَنَّ أَنَّهُ الفِراقُ(28)
اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے(28)
وَالتَفَّتِ السّاقُ بِالسّاقِ(29)
اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی(29)
إِلىٰ رَبِّكَ يَومَئِذٍ المَساقُ(30)
وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا(30)
فَلا صَدَّقَ وَلا صَلّىٰ(31)
مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی(31)
وَلٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلّىٰ(32)
بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا(32)
ثُمَّ ذَهَبَ إِلىٰ أَهلِهِ يَتَمَطّىٰ(33)
پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا(33)
أَولىٰ لَكَ فَأَولىٰ(34)
یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے(34)
ثُمَّ أَولىٰ لَكَ فَأَولىٰ(35)
ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے(35)
أَيَحسَبُ الإِنسٰنُ أَن يُترَكَ سُدًى(36)
کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟(36)
أَلَم يَكُ نُطفَةً مِن مَنِىٍّ يُمنىٰ(37)
کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟(37)
ثُمَّ كانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوّىٰ(38)
پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے(38)
فَجَعَلَ مِنهُ الزَّوجَينِ الذَّكَرَ وَالأُنثىٰ(39)
پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں(39)
أَلَيسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلىٰ أَن يُحۦِىَ المَوتىٰ(40)
کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کر دے؟(40)