Al-Qasas( القصص)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ طسم(1)
ط س م(1)
تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ المُبينِ(2)
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں(2)
نَتلوا عَلَيكَ مِن نَبَإِ موسىٰ وَفِرعَونَ بِالحَقِّ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(3)
ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں(3)
إِنَّ فِرعَونَ عَلا فِى الأَرضِ وَجَعَلَ أَهلَها شِيَعًا يَستَضعِفُ طائِفَةً مِنهُم يُذَبِّحُ أَبناءَهُم وَيَستَحيۦ نِساءَهُم ۚ إِنَّهُ كانَ مِنَ المُفسِدينَ(4)
واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا(4)
وَنُريدُ أَن نَمُنَّ عَلَى الَّذينَ استُضعِفوا فِى الأَرضِ وَنَجعَلَهُم أَئِمَّةً وَنَجعَلَهُمُ الوٰرِثينَ(5)
اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنائیں(5)
وَنُمَكِّنَ لَهُم فِى الأَرضِ وَنُرِىَ فِرعَونَ وَهٰمٰنَ وَجُنودَهُما مِنهُم ما كانوا يَحذَرونَ(6)
اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا(6)
وَأَوحَينا إِلىٰ أُمِّ موسىٰ أَن أَرضِعيهِ ۖ فَإِذا خِفتِ عَلَيهِ فَأَلقيهِ فِى اليَمِّ وَلا تَخافى وَلا تَحزَنى ۖ إِنّا رادّوهُ إِلَيكِ وَجاعِلوهُ مِنَ المُرسَلينَ(7)
ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ "اِس کو دودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے"(7)
فَالتَقَطَهُ ءالُ فِرعَونَ لِيَكونَ لَهُم عَدُوًّا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرعَونَ وَهٰمٰنَ وَجُنودَهُما كانوا خٰطِـٔينَ(8)
آ خرکار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے) نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے، واقعی فرعون اور ہامان اور اس کے لشکر (اپنی تدبیر میں) بڑے غلط کار تھے(8)
وَقالَتِ امرَأَتُ فِرعَونَ قُرَّتُ عَينٍ لى وَلَكَ ۖ لا تَقتُلوهُ عَسىٰ أَن يَنفَعَنا أَو نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَهُم لا يَشعُرونَ(9)
فرعون کی بیوی نے (اس سے) کہا "یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں" اور وہ (انجام سے) بے خبر تھے(9)
وَأَصبَحَ فُؤادُ أُمِّ موسىٰ فٰرِغًا ۖ إِن كادَت لَتُبدى بِهِ لَولا أَن رَبَطنا عَلىٰ قَلبِها لِتَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(10)
اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اڑا جا رہا تھا وہ اس راز کو فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر) ایمان لانے والوں میں سے ہو(10)
وَقالَت لِأُختِهِ قُصّيهِ ۖ فَبَصُرَت بِهِ عَن جُنُبٍ وَهُم لا يَشعُرونَ(11)
اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو) اس کا پتہ نہ چلا(11)
۞ وَحَرَّمنا عَلَيهِ المَراضِعَ مِن قَبلُ فَقالَت هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ أَهلِ بَيتٍ يَكفُلونَهُ لَكُم وَهُم لَهُ نٰصِحونَ(12)
اور ہم نے بچّے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں (یہ حالت دیکھ کر) اُس لڑکی نے اُن سے کہا "میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟"(12)
فَرَدَدنٰهُ إِلىٰ أُمِّهِ كَى تَقَرَّ عَينُها وَلا تَحزَنَ وَلِتَعلَمَ أَنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(13)
اس طرح ہم موسیٰؑ کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے(13)
وَلَمّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاستَوىٰ ءاتَينٰهُ حُكمًا وَعِلمًا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(14)
پھر جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل ہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں(14)
وَدَخَلَ المَدينَةَ عَلىٰ حينِ غَفلَةٍ مِن أَهلِها فَوَجَدَ فيها رَجُلَينِ يَقتَتِلانِ هٰذا مِن شيعَتِهِ وَهٰذا مِن عَدُوِّهِ ۖ فَاستَغٰثَهُ الَّذى مِن شيعَتِهِ عَلَى الَّذى مِن عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ موسىٰ فَقَضىٰ عَلَيهِ ۖ قالَ هٰذا مِن عَمَلِ الشَّيطٰنِ ۖ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُضِلٌّ مُبينٌ(15)
(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"(15)
قالَ رَبِّ إِنّى ظَلَمتُ نَفسى فَاغفِر لى فَغَفَرَ لَهُ ۚ إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(16)
پھر وہ کہنے لگا "اے میرے رب، مَیں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے" چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، وہ غفور رحیم ہے(16)
قالَ رَبِّ بِما أَنعَمتَ عَلَىَّ فَلَن أَكونَ ظَهيرًا لِلمُجرِمينَ(17)
موسیٰؑ نے عہد کیا کہ "“اے میرے رب، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا"(17)
فَأَصبَحَ فِى المَدينَةِ خائِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا الَّذِى استَنصَرَهُ بِالأَمسِ يَستَصرِخُهُ ۚ قالَ لَهُ موسىٰ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُبينٌ(18)
دُوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰؑ نے کہا "تُو تو بڑا ہی بہکا ہُوا آدمی ہے"(18)
فَلَمّا أَن أَرادَ أَن يَبطِشَ بِالَّذى هُوَ عَدُوٌّ لَهُما قالَ يٰموسىٰ أَتُريدُ أَن تَقتُلَنى كَما قَتَلتَ نَفسًا بِالأَمسِ ۖ إِن تُريدُ إِلّا أَن تَكونَ جَبّارًا فِى الأَرضِ وَما تُريدُ أَن تَكونَ مِنَ المُصلِحينَ(19)
پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا "اے موسیٰؑ، کیا آج تو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح نہیں کرنا چاہتا"(19)
وَجاءَ رَجُلٌ مِن أَقصَا المَدينَةِ يَسعىٰ قالَ يٰموسىٰ إِنَّ المَلَأَ يَأتَمِرونَ بِكَ لِيَقتُلوكَ فَاخرُج إِنّى لَكَ مِنَ النّٰصِحينَ(20)
اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سِرے سے دَوڑتا ہوا آیا اور بولا "موسیٰؑ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیر خواہ ہوں"(20)
فَخَرَجَ مِنها خائِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قالَ رَبِّ نَجِّنى مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ(21)
یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"(21)
وَلَمّا تَوَجَّهَ تِلقاءَ مَديَنَ قالَ عَسىٰ رَبّى أَن يَهدِيَنى سَواءَ السَّبيلِ(22)
(مصر سے نکل کر) جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا تو اُس نے کہا "اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا"(22)
وَلَمّا وَرَدَ ماءَ مَديَنَ وَجَدَ عَلَيهِ أُمَّةً مِنَ النّاسِ يَسقونَ وَوَجَدَ مِن دونِهِمُ امرَأَتَينِ تَذودانِ ۖ قالَ ما خَطبُكُما ۖ قالَتا لا نَسقى حَتّىٰ يُصدِرَ الرِّعاءُ ۖ وَأَبونا شَيخٌ كَبيرٌ(23)
اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں موسیٰؑ نے اِن عورتوں سے پوچھا "تمہیں کیا پریشانی ہے؟" انہوں نے کہا "ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نکال کر نہ لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں"(23)
فَسَقىٰ لَهُما ثُمَّ تَوَلّىٰ إِلَى الظِّلِّ فَقالَ رَبِّ إِنّى لِما أَنزَلتَ إِلَىَّ مِن خَيرٍ فَقيرٌ(24)
یہ سن کو موسیٰؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا "پروردگار، جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں"(24)
فَجاءَتهُ إِحدىٰهُما تَمشى عَلَى استِحياءٍ قالَت إِنَّ أَبى يَدعوكَ لِيَجزِيَكَ أَجرَ ما سَقَيتَ لَنا ۚ فَلَمّا جاءَهُ وَقَصَّ عَلَيهِ القَصَصَ قالَ لا تَخَف ۖ نَجَوتَ مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ(25)
(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی "میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں" موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا "کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو"(25)
قالَت إِحدىٰهُما يٰأَبَتِ استَـٔجِرهُ ۖ إِنَّ خَيرَ مَنِ استَـٔجَرتَ القَوِىُّ الأَمينُ(26)
ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا "ابّا جان، اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبُوط اور امانت دار ہو"(26)
قالَ إِنّى أُريدُ أَن أُنكِحَكَ إِحدَى ابنَتَىَّ هٰتَينِ عَلىٰ أَن تَأجُرَنى ثَمٰنِىَ حِجَجٍ ۖ فَإِن أَتمَمتَ عَشرًا فَمِن عِندِكَ ۖ وَما أُريدُ أَن أَشُقَّ عَلَيكَ ۚ سَتَجِدُنى إِن شاءَ اللَّهُ مِنَ الصّٰلِحينَ(27)
اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے) کہا "میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا تم اِن شاءاللہ مجھے نیک آدمی پاؤ گے"(27)
قالَ ذٰلِكَ بَينى وَبَينَكَ ۖ أَيَّمَا الأَجَلَينِ قَضَيتُ فَلا عُدوٰنَ عَلَىَّ ۖ وَاللَّهُ عَلىٰ ما نَقولُ وَكيلٌ(28)
موسیٰ نے جواب دیا "یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے"(28)
۞ فَلَمّا قَضىٰ موسَى الأَجَلَ وَسارَ بِأَهلِهِ ءانَسَ مِن جانِبِ الطّورِ نارًا قالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارًا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِخَبَرٍ أَو جَذوَةٍ مِنَ النّارِ لَعَلَّكُم تَصطَلونَ(29)
جب موسیٰؑ نے مدت پوری کر دی اور وہ اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا "ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اُٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو"(29)
فَلَمّا أَتىٰها نودِىَ مِن شٰطِئِ الوادِ الأَيمَنِ فِى البُقعَةِ المُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ أَن يٰموسىٰ إِنّى أَنَا اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ(30)
وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے پر مبارک خطے میں ایک درخت سے پکارا گیا کہ "اے موسیٰؑ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہان والوں کا مالک"(30)
وَأَن أَلقِ عَصاكَ ۖ فَلَمّا رَءاها تَهتَزُّ كَأَنَّها جانٌّ وَلّىٰ مُدبِرًا وَلَم يُعَقِّب ۚ يٰموسىٰ أَقبِل وَلا تَخَف ۖ إِنَّكَ مِنَ الءامِنينَ(31)
اور (حکم دیا گیا کہ) پھینک دے اپنی لاٹھی جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا (ارشاد ہوا) "موسیٰؑ، پلٹ آ اور خوف نہ کر، تو بالکل محفوظ ہے(31)
اسلُك يَدَكَ فى جَيبِكَ تَخرُج بَيضاءَ مِن غَيرِ سوءٍ وَاضمُم إِلَيكَ جَناحَكَ مِنَ الرَّهبِ ۖ فَذٰنِكَ بُرهٰنانِ مِن رَبِّكَ إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا فٰسِقينَ(32)
اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے، وہ بڑے ہی نافرمان لوگ ہیں"(32)
قالَ رَبِّ إِنّى قَتَلتُ مِنهُم نَفسًا فَأَخافُ أَن يَقتُلونِ(33)
موسیٰؑ نے عرض کیا "میرے آقا، میں تو ان کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے(33)
وَأَخى هٰرونُ هُوَ أَفصَحُ مِنّى لِسانًا فَأَرسِلهُ مَعِىَ رِدءًا يُصَدِّقُنى ۖ إِنّى أَخافُ أَن يُكَذِّبونِ(34)
اور میرا بھائی ہارونؑ مجھے سے زیادہ زبان آور ہے، اسے میرے ساتھ مدد گار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے"(34)
قالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِأَخيكَ وَنَجعَلُ لَكُما سُلطٰنًا فَلا يَصِلونَ إِلَيكُما ۚ بِـٔايٰتِنا أَنتُما وَمَنِ اتَّبَعَكُمَا الغٰلِبونَ(35)
فرمایا "ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیروؤں کا ہی ہو گا"(35)
فَلَمّا جاءَهُم موسىٰ بِـٔايٰتِنا بَيِّنٰتٍ قالوا ما هٰذا إِلّا سِحرٌ مُفتَرًى وَما سَمِعنا بِهٰذا فى ءابائِنَا الأَوَّلينَ(36)
پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادوگر اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنیں ہی نہیں(36)
وَقالَ موسىٰ رَبّى أَعلَمُ بِمَن جاءَ بِالهُدىٰ مِن عِندِهِ وَمَن تَكونُ لَهُ عٰقِبَةُ الدّارِ ۖ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(37)
موسیٰؑ نے جواب دیا "میرا رب اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے"(37)
وَقالَ فِرعَونُ يٰأَيُّهَا المَلَأُ ما عَلِمتُ لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرى فَأَوقِد لى يٰهٰمٰنُ عَلَى الطّينِ فَاجعَل لى صَرحًا لَعَلّى أَطَّلِعُ إِلىٰ إِلٰهِ موسىٰ وَإِنّى لَأَظُنُّهُ مِنَ الكٰذِبينَ(38)
اور فرعون نے کہا "اے اہل دربار میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹا سمجھتا ہوں"(38)
وَاستَكبَرَ هُوَ وَجُنودُهُ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَظَنّوا أَنَّهُم إِلَينا لا يُرجَعونَ(39)
اُس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے(39)
فَأَخَذنٰهُ وَجُنودَهُ فَنَبَذنٰهُم فِى اليَمِّ ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ الظّٰلِمينَ(40)
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا(40)
وَجَعَلنٰهُم أَئِمَّةً يَدعونَ إِلَى النّارِ ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ لا يُنصَرونَ(41)
ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے(41)
وَأَتبَعنٰهُم فى هٰذِهِ الدُّنيا لَعنَةً ۖ وَيَومَ القِيٰمَةِ هُم مِنَ المَقبوحينَ(42)
ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے(42)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ مِن بَعدِ ما أَهلَكنَا القُرونَ الأولىٰ بَصائِرَ لِلنّاسِ وَهُدًى وَرَحمَةً لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(43)
پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں(43)
وَما كُنتَ بِجانِبِ الغَربِىِّ إِذ قَضَينا إِلىٰ موسَى الأَمرَ وَما كُنتَ مِنَ الشّٰهِدينَ(44)
(اے محمدؐ) تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے(44)
وَلٰكِنّا أَنشَأنا قُرونًا فَتَطاوَلَ عَلَيهِمُ العُمُرُ ۚ وَما كُنتَ ثاوِيًا فى أَهلِ مَديَنَ تَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِنا وَلٰكِنّا كُنّا مُرسِلينَ(45)
بلکہ اس کے بعد (تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزر چکا ہے تم اہلِ مَدیَن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے، مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں(45)
وَما كُنتَ بِجانِبِ الطّورِ إِذ نادَينا وَلٰكِن رَحمَةً مِن رَبِّكَ لِتُنذِرَ قَومًا ما أَتىٰهُم مِن نَذيرٍ مِن قَبلِكَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(46)
اور تم طور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ) پکارا تھا، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے (کہ تم کو یہ معلومات دی جار ہی ہیں) تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کر دو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا، شاید کہ وہ ہوش میں آئیں(46)
وَلَولا أَن تُصيبَهُم مُصيبَةٌ بِما قَدَّمَت أَيديهِم فَيَقولوا رَبَّنا لَولا أَرسَلتَ إِلَينا رَسولًا فَنَتَّبِعَ ءايٰتِكَ وَنَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(47)
(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ) کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں "اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے"(47)
فَلَمّا جاءَهُمُ الحَقُّ مِن عِندِنا قالوا لَولا أوتِىَ مِثلَ ما أوتِىَ موسىٰ ۚ أَوَلَم يَكفُروا بِما أوتِىَ موسىٰ مِن قَبلُ ۖ قالوا سِحرانِ تَظٰهَرا وَقالوا إِنّا بِكُلٍّ كٰفِرونَ(48)
مگر جب ہمارے ہاں سے حق ان کے پاس آ گیا تو وہ کہنے لگے "کیوں نہ دیا گیا اِس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟" کیا یہ لوگ اُس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟ انہوں نے کہا "دونوں جادوگر ہیں جو ایک دُوسرے کی مدد کرتے ہیں" اور کہا "ہم کسی کو نہیں مانتے"(48)
قُل فَأتوا بِكِتٰبٍ مِن عِندِ اللَّهِ هُوَ أَهدىٰ مِنهُما أَتَّبِعهُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(49)
(اے نبیؐ،) ان سے کہو، "اچھا تو لاؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا"(49)
فَإِن لَم يَستَجيبوا لَكَ فَاعلَم أَنَّما يَتَّبِعونَ أَهواءَهُم ۚ وَمَن أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوىٰهُ بِغَيرِ هُدًى مِنَ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(50)
اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا(50)
۞ وَلَقَد وَصَّلنا لَهُمُ القَولَ لَعَلَّهُم يَتَذَكَّرونَ(51)
اور (نصیحت کی) بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں(51)
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ مِن قَبلِهِ هُم بِهِ يُؤمِنونَ(52)
جن لوگوں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن) پر ایمان لاتے ہیں(52)
وَإِذا يُتلىٰ عَلَيهِم قالوا ءامَنّا بِهِ إِنَّهُ الحَقُّ مِن رَبِّنا إِنّا كُنّا مِن قَبلِهِ مُسلِمينَ(53)
اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ "ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں"(53)
أُولٰئِكَ يُؤتَونَ أَجرَهُم مَرَّتَينِ بِما صَبَروا وَيَدرَءونَ بِالحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(54)
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی وہ بُرائی کو بھَلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں(54)
وَإِذا سَمِعُوا اللَّغوَ أَعرَضوا عَنهُ وَقالوا لَنا أَعمٰلُنا وَلَكُم أَعمٰلُكُم سَلٰمٌ عَلَيكُم لا نَبتَغِى الجٰهِلينَ(55)
اور جب انہوں نے بیہودہ بات سنی تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہو گئے کہ "ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہتے"(55)
إِنَّكَ لا تَهدى مَن أَحبَبتَ وَلٰكِنَّ اللَّهَ يَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(56)
اے نبیؐ، تم جسے چاہو اسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں(56)
وَقالوا إِن نَتَّبِعِ الهُدىٰ مَعَكَ نُتَخَطَّف مِن أَرضِنا ۚ أَوَلَم نُمَكِّن لَهُم حَرَمًا ءامِنًا يُجبىٰ إِلَيهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيءٍ رِزقًا مِن لَدُنّا وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(57)
وہ کہتے ہیں "اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے" کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں(57)
وَكَم أَهلَكنا مِن قَريَةٍ بَطِرَت مَعيشَتَها ۖ فَتِلكَ مَسٰكِنُهُم لَم تُسكَن مِن بَعدِهِم إِلّا قَليلًا ۖ وَكُنّا نَحنُ الوٰرِثينَ(58)
اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اترا گئے تھے سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آ خرکار ہم ہی وارث ہو کر رہے(58)
وَما كانَ رَبُّكَ مُهلِكَ القُرىٰ حَتّىٰ يَبعَثَ فى أُمِّها رَسولًا يَتلوا عَلَيهِم ءايٰتِنا ۚ وَما كُنّا مُهلِكِى القُرىٰ إِلّا وَأَهلُها ظٰلِمونَ(59)
اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے(59)
وَما أوتيتُم مِن شَيءٍ فَمَتٰعُ الحَيوٰةِ الدُّنيا وَزينَتُها ۚ وَما عِندَ اللَّهِ خَيرٌ وَأَبقىٰ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(60)
تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟(60)
أَفَمَن وَعَدنٰهُ وَعدًا حَسَنًا فَهُوَ لٰقيهِ كَمَن مَتَّعنٰهُ مَتٰعَ الحَيوٰةِ الدُّنيا ثُمَّ هُوَ يَومَ القِيٰمَةِ مِنَ المُحضَرينَ(61)
بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرف حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟(61)
وَيَومَ يُناديهِم فَيَقولُ أَينَ شُرَكاءِىَ الَّذينَ كُنتُم تَزعُمونَ(62)
اور (بھول نہ جائیں یہ لوگ) اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"(62)
قالَ الَّذينَ حَقَّ عَلَيهِمُ القَولُ رَبَّنا هٰؤُلاءِ الَّذينَ أَغوَينا أَغوَينٰهُم كَما غَوَينا ۖ تَبَرَّأنا إِلَيكَ ۖ ما كانوا إِيّانا يَعبُدونَ(63)
یہ قول جن پر چسپاں ہو گا وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے"(63)
وَقيلَ ادعوا شُرَكاءَكُم فَدَعَوهُم فَلَم يَستَجيبوا لَهُم وَرَأَوُا العَذابَ ۚ لَو أَنَّهُم كانوا يَهتَدونَ(64)
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے(64)
وَيَومَ يُناديهِم فَيَقولُ ماذا أَجَبتُمُ المُرسَلينَ(65)
اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ "جو رسول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟"(65)
فَعَمِيَت عَلَيهِمُ الأَنباءُ يَومَئِذٍ فَهُم لا يَتَساءَلونَ(66)
اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے(66)
فَأَمّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَعَسىٰ أَن يَكونَ مِنَ المُفلِحينَ(67)
البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا(67)
وَرَبُّكَ يَخلُقُ ما يَشاءُ وَيَختارُ ۗ ما كانَ لَهُمُ الخِيَرَةُ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ وَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(68)
تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور (وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے، اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں(68)
وَرَبُّكَ يَعلَمُ ما تُكِنُّ صُدورُهُم وَما يُعلِنونَ(69)
تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں(69)
وَهُوَ اللَّهُ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ لَهُ الحَمدُ فِى الأولىٰ وَالءاخِرَةِ ۖ وَلَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(70)
وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو(70)
قُل أَرَءَيتُم إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيكُمُ الَّيلَ سَرمَدًا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِضِياءٍ ۖ أَفَلا تَسمَعونَ(71)
اے نبیؐ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟(71)
قُل أَرَءَيتُم إِن جَعَلَ اللَّهُ عَلَيكُمُ النَّهارَ سَرمَدًا إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِلَيلٍ تَسكُنونَ فيهِ ۖ أَفَلا تُبصِرونَ(72)
اِن سے پوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبُود ہے جو تمہیں رات لا دے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟(72)
وَمِن رَحمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ وَالنَّهارَ لِتَسكُنوا فيهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(73)
یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے رب کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو(73)
وَيَومَ يُناديهِم فَيَقولُ أَينَ شُرَكاءِىَ الَّذينَ كُنتُم تَزعُمونَ(74)
(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"(74)
وَنَزَعنا مِن كُلِّ أُمَّةٍ شَهيدًا فَقُلنا هاتوا بُرهٰنَكُم فَعَلِموا أَنَّ الحَقَّ لِلَّهِ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(75)
اور ہم ہر امّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر کہیں گے کہ "لاؤ اب اپنی دلیل" اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف سے ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے(75)
۞ إِنَّ قٰرونَ كانَ مِن قَومِ موسىٰ فَبَغىٰ عَلَيهِم ۖ وَءاتَينٰهُ مِنَ الكُنوزِ ما إِنَّ مَفاتِحَهُ لَتَنوأُ بِالعُصبَةِ أُولِى القُوَّةِ إِذ قالَ لَهُ قَومُهُ لا تَفرَح ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الفَرِحينَ(76)
یہ ایک واقعہ ہے کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہو گیا اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اُس سے کہا "پھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا(76)
وَابتَغِ فيما ءاتىٰكَ اللَّهُ الدّارَ الءاخِرَةَ ۖ وَلا تَنسَ نَصيبَكَ مِنَ الدُّنيا ۖ وَأَحسِن كَما أَحسَنَ اللَّهُ إِلَيكَ ۖ وَلا تَبغِ الفَسادَ فِى الأَرضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُفسِدينَ(77)
جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا"(77)
قالَ إِنَّما أوتيتُهُ عَلىٰ عِلمٍ عِندى ۚ أَوَلَم يَعلَم أَنَّ اللَّهَ قَد أَهلَكَ مِن قَبلِهِ مِنَ القُرونِ مَن هُوَ أَشَدُّ مِنهُ قُوَّةً وَأَكثَرُ جَمعًا ۚ وَلا يُسـَٔلُ عَن ذُنوبِهِمُ المُجرِمونَ(78)
تو اُس نے کہا "یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے" کیا اس کو علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟ مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پوچھے جاتے(78)
فَخَرَجَ عَلىٰ قَومِهِ فى زينَتِهِ ۖ قالَ الَّذينَ يُريدونَ الحَيوٰةَ الدُّنيا يٰلَيتَ لَنا مِثلَ ما أوتِىَ قٰرونُ إِنَّهُ لَذو حَظٍّ عَظيمٍ(79)
ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے "کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے"(79)
وَقالَ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ وَيلَكُم ثَوابُ اللَّهِ خَيرٌ لِمَن ءامَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا وَلا يُلَقّىٰها إِلَّا الصّٰبِرونَ(80)
مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے "افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو"(80)
فَخَسَفنا بِهِ وَبِدارِهِ الأَرضَ فَما كانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرونَهُ مِن دونِ اللَّهِ وَما كانَ مِنَ المُنتَصِرينَ(81)
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا(81)
وَأَصبَحَ الَّذينَ تَمَنَّوا مَكانَهُ بِالأَمسِ يَقولونَ وَيكَأَنَّ اللَّهَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ وَيَقدِرُ ۖ لَولا أَن مَنَّ اللَّهُ عَلَينا لَخَسَفَ بِنا ۖ وَيكَأَنَّهُ لا يُفلِحُ الكٰفِرونَ(82)
اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے "افسوس، ہم بھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تلا دیتا ہے اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دَھنسا دیتا افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے"(82)
تِلكَ الدّارُ الءاخِرَةُ نَجعَلُها لِلَّذينَ لا يُريدونَ عُلُوًّا فِى الأَرضِ وَلا فَسادًا ۚ وَالعٰقِبَةُ لِلمُتَّقينَ(83)
وہ آخرت کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں اور انجام کی بھَلائی متقین ہی کے لیے ہے(83)
مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ خَيرٌ مِنها ۖ وَمَن جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجزَى الَّذينَ عَمِلُوا السَّيِّـٔاتِ إِلّا ما كانوا يَعمَلونَ(84)
جو کوئی بھَلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھَلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو بُرائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے(84)
إِنَّ الَّذى فَرَضَ عَلَيكَ القُرءانَ لَرادُّكَ إِلىٰ مَعادٍ ۚ قُل رَبّى أَعلَمُ مَن جاءَ بِالهُدىٰ وَمَن هُوَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(85)
اے نبیؐ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے اِن لوگوں سے کہہ دو کہ "میرا رب خُوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھُلی گمراہی میں کون مُبتلا ہے"(85)
وَما كُنتَ تَرجوا أَن يُلقىٰ إِلَيكَ الكِتٰبُ إِلّا رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۖ فَلا تَكونَنَّ ظَهيرًا لِلكٰفِرينَ(86)
تم اس بات کے ہرگز امیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے رب کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)، پس تم کافروں کے مدد گار نہ بنو(86)
وَلا يَصُدُّنَّكَ عَن ءايٰتِ اللَّهِ بَعدَ إِذ أُنزِلَت إِلَيكَ ۖ وَادعُ إِلىٰ رَبِّكَ ۖ وَلا تَكونَنَّ مِنَ المُشرِكينَ(87)
اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفّار تمہیں اُن سے باز رکھیں اپنے رب کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو(87)
وَلا تَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۘ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيءٍ هالِكٌ إِلّا وَجهَهُ ۚ لَهُ الحُكمُ وَإِلَيهِ تُرجَعونَ(88)
اور اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے فرماں روائی اُسی کی ہے اور اُسی کی طرف تم سب پلٹائے جاؤ گے(88)