Al-Qalam( القلم)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ ن ۚ وَالقَلَمِ وَما يَسطُرونَ(1)
ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں(1)
ما أَنتَ بِنِعمَةِ رَبِّكَ بِمَجنونٍ(2)
تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو(2)
وَإِنَّ لَكَ لَأَجرًا غَيرَ مَمنونٍ(3)
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں(3)
وَإِنَّكَ لَعَلىٰ خُلُقٍ عَظيمٍ(4)
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو(4)
فَسَتُبصِرُ وَيُبصِرونَ(5)
عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے(5)
بِأَييِكُمُ المَفتونُ(6)
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے(6)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبيلِهِ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(7)
تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں(7)
فَلا تُطِعِ المُكَذِّبينَ(8)
لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ(8)
وَدّوا لَو تُدهِنُ فَيُدهِنونَ(9)
یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں(9)
وَلا تُطِع كُلَّ حَلّافٍ مَهينٍ(10)
ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے(10)
هَمّازٍ مَشّاءٍ بِنَميمٍ(11)
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے(11)
مَنّاعٍ لِلخَيرِ مُعتَدٍ أَثيمٍ(12)
بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے(12)
عُتُلٍّ بَعدَ ذٰلِكَ زَنيمٍ(13)
اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے(13)
أَن كانَ ذا مالٍ وَبَنينَ(14)
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے(14)
إِذا تُتلىٰ عَلَيهِ ءايٰتُنا قالَ أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(15)
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں(15)
سَنَسِمُهُ عَلَى الخُرطومِ(16)
عنقریب ہم اس کی سونڈ پر داغ لگائیں گے(16)
إِنّا بَلَونٰهُم كَما بَلَونا أَصحٰبَ الجَنَّةِ إِذ أَقسَموا لَيَصرِمُنَّها مُصبِحينَ(17)
ہم نے اِن (اہل مکہ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، جب اُنہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے(17)
وَلا يَستَثنونَ(18)
اور وہ کوئی استثناء نہیں کر رہے تھے(18)
فَطافَ عَلَيها طائِفٌ مِن رَبِّكَ وَهُم نائِمونَ(19)
رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رب کی طرف سے ایک بلا اس باغ پر پھر گئی(19)
فَأَصبَحَت كَالصَّريمِ(20)
اور اُس کا حال ایسا ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو(20)
فَتَنادَوا مُصبِحينَ(21)
صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا(21)
أَنِ اغدوا عَلىٰ حَرثِكُم إِن كُنتُم صٰرِمينَ(22)
کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو(22)
فَانطَلَقوا وَهُم يَتَخٰفَتونَ(23)
چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے(23)
أَن لا يَدخُلَنَّهَا اليَومَ عَلَيكُم مِسكينٌ(24)
کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے(24)
وَغَدَوا عَلىٰ حَردٍ قٰدِرينَ(25)
وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل توڑنے پر) قادر ہیں(25)
فَلَمّا رَأَوها قالوا إِنّا لَضالّونَ(26)
مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے "ہم راستہ بھول گئے ہیں(26)
بَل نَحنُ مَحرومونَ(27)
نہیں، بلکہ ہم محروم رہ گئے"(27)
قالَ أَوسَطُهُم أَلَم أَقُل لَكُم لَولا تُسَبِّحونَ(28)
اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟"(28)
قالوا سُبحٰنَ رَبِّنا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(29)
و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے(29)
فَأَقبَلَ بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ يَتَلٰوَمونَ(30)
پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا(30)
قالوا يٰوَيلَنا إِنّا كُنّا طٰغينَ(31)
آخر کو انہوں نے کہا "افسوس ہمارے حال پر، بے شک ہم سرکش ہو گئے تھے(31)
عَسىٰ رَبُّنا أَن يُبدِلَنا خَيرًا مِنها إِنّا إِلىٰ رَبِّنا رٰغِبونَ(32)
بعید نہیں کہ ہمارا رب ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے، ہم اپنے رب کی طرف رجوع کرتے ہیں"(32)
كَذٰلِكَ العَذابُ ۖ وَلَعَذابُ الءاخِرَةِ أَكبَرُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(33)
ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی بڑا ہے، کاش یہ لوگ اِس کو جانتے(33)
إِنَّ لِلمُتَّقينَ عِندَ رَبِّهِم جَنّٰتِ النَّعيمِ(34)
یقیناً خدا ترس لوگوں کے لیے اُن کے رب کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں(34)
أَفَنَجعَلُ المُسلِمينَ كَالمُجرِمينَ(35)
کیا ہم فرماں برداروں کا حال مجرموں کا سا کر دیں؟(35)
ما لَكُم كَيفَ تَحكُمونَ(36)
تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو؟(36)
أَم لَكُم كِتٰبٌ فيهِ تَدرُسونَ(37)
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو(37)
إِنَّ لَكُم فيهِ لَما تَخَيَّرونَ(38)
کہ تمہارے لیے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو؟(38)
أَم لَكُم أَيمٰنٌ عَلَينا بٰلِغَةٌ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ ۙ إِنَّ لَكُم لَما تَحكُمونَ(39)
یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟(39)
سَلهُم أَيُّهُم بِذٰلِكَ زَعيمٌ(40)
اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟(40)
أَم لَهُم شُرَكاءُ فَليَأتوا بِشُرَكائِهِم إِن كانوا صٰدِقينَ(41)
یا پھر اِن کے ٹھیرائے ہوئے کچھ شریک ہیں (جنہوں نے اِس کا ذمہ لیا ہو)؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے شریکوں کو اگر یہ سچے ہیں(41)
يَومَ يُكشَفُ عَن ساقٍ وَيُدعَونَ إِلَى السُّجودِ فَلا يَستَطيعونَ(42)
جس روز سخت وقت آ پڑے گا اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے(42)
خٰشِعَةً أَبصٰرُهُم تَرهَقُهُم ذِلَّةٌ ۖ وَقَد كانوا يُدعَونَ إِلَى السُّجودِ وَهُم سٰلِمونَ(43)
اِن کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذلت اِن پر چھا رہی ہوگی یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا (اور یہ انکار کرتے تھے)(43)
فَذَرنى وَمَن يُكَذِّبُ بِهٰذَا الحَديثِ ۖ سَنَستَدرِجُهُم مِن حَيثُ لا يَعلَمونَ(44)
پس اے نبیؐ، تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ہم ایسے طریقہ سے اِن کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ اِن کو خبر بھی نہ ہوگی(44)
وَأُملى لَهُم ۚ إِنَّ كَيدى مَتينٌ(45)
میں اِن کی رسی دراز کر رہا ہوں، میری چال بڑی زبردست ہے(45)
أَم تَسـَٔلُهُم أَجرًا فَهُم مِن مَغرَمٍ مُثقَلونَ(46)
کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کر رہے ہو کہ یہ اس چٹی کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں؟(46)
أَم عِندَهُمُ الغَيبُ فَهُم يَكتُبونَ(47)
کیا اِن کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں؟(47)
فَاصبِر لِحُكمِ رَبِّكَ وَلا تَكُن كَصاحِبِ الحوتِ إِذ نادىٰ وَهُوَ مَكظومٌ(48)
پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اُس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا(48)
لَولا أَن تَدٰرَكَهُ نِعمَةٌ مِن رَبِّهِ لَنُبِذَ بِالعَراءِ وَهُوَ مَذمومٌ(49)
اگر اس کے رب کی مہربانی اُس کے شامل حال نہ ہو جاتی تو وہ مذموم ہو کر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا(49)
فَاجتَبٰهُ رَبُّهُ فَجَعَلَهُ مِنَ الصّٰلِحينَ(50)
آخرکار اُس کے رب نے اسے برگزیدہ فرما لیا اور اِسے صالح بندوں میں شامل کر دیا(50)
وَإِن يَكادُ الَّذينَ كَفَروا لَيُزلِقونَكَ بِأَبصٰرِهِم لَمّا سَمِعُوا الذِّكرَ وَيَقولونَ إِنَّهُ لَمَجنونٌ(51)
جب یہ کافر لوگ کلام نصیحت (قرآن) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑ دیں گے، اور کہتے ہیں یہ ضرور دیوانہ ہے(51)
وَما هُوَ إِلّا ذِكرٌ لِلعٰلَمينَ(52)
حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے(52)