Al-Muminun( المؤمنون)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ قَد أَفلَحَ المُؤمِنونَ(1)
یقیناً فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:(1)
الَّذينَ هُم فى صَلاتِهِم خٰشِعونَ(2)
اپنی نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں(2)
وَالَّذينَ هُم عَنِ اللَّغوِ مُعرِضونَ(3)
لغویات سے دور رہتے ہیں(3)
وَالَّذينَ هُم لِلزَّكوٰةِ فٰعِلونَ(4)
زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں(4)
وَالَّذينَ هُم لِفُروجِهِم حٰفِظونَ(5)
اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں(5)
إِلّا عَلىٰ أَزوٰجِهِم أَو ما مَلَكَت أَيمٰنُهُم فَإِنَّهُم غَيرُ مَلومينَ(6)
سوائے اپنی بیویوں کے اور ان عورتوں کے جو ان کی ملک یمین میں ہوں کہ ان پر (محفوظ نہ رکھنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں(6)
فَمَنِ ابتَغىٰ وَراءَ ذٰلِكَ فَأُولٰئِكَ هُمُ العادونَ(7)
البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں(7)
وَالَّذينَ هُم لِأَمٰنٰتِهِم وَعَهدِهِم رٰعونَ(8)
اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں(8)
وَالَّذينَ هُم عَلىٰ صَلَوٰتِهِم يُحافِظونَ(9)
اور اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں(9)
أُولٰئِكَ هُمُ الوٰرِثونَ(10)
یہی لوگ وہ وارث ہیں(10)
الَّذينَ يَرِثونَ الفِردَوسَ هُم فيها خٰلِدونَ(11)
جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے(11)
وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ مِن سُلٰلَةٍ مِن طينٍ(12)
ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا(12)
ثُمَّ جَعَلنٰهُ نُطفَةً فى قَرارٍ مَكينٍ(13)
پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا(13)
ثُمَّ خَلَقنَا النُّطفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقنَا العَلَقَةَ مُضغَةً فَخَلَقنَا المُضغَةَ عِظٰمًا فَكَسَونَا العِظٰمَ لَحمًا ثُمَّ أَنشَأنٰهُ خَلقًا ءاخَرَ ۚ فَتَبارَكَ اللَّهُ أَحسَنُ الخٰلِقينَ(14)
پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی، پھر لوتھڑے کو بوٹی بنا دیا، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بنا کھڑا کیا(14)
ثُمَّ إِنَّكُم بَعدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتونَ(15)
پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر(15)
ثُمَّ إِنَّكُم يَومَ القِيٰمَةِ تُبعَثونَ(16)
پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے، پھر قیامت کے روز یقیناً تم اٹھائے جاؤ گے(16)
وَلَقَد خَلَقنا فَوقَكُم سَبعَ طَرائِقَ وَما كُنّا عَنِ الخَلقِ غٰفِلينَ(17)
اور تمہارے اوپر ہم نے سات راستے بنائے، تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلد نہ تھے(17)
وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً بِقَدَرٍ فَأَسكَنّٰهُ فِى الأَرضِ ۖ وَإِنّا عَلىٰ ذَهابٍ بِهِ لَقٰدِرونَ(18)
اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھیرا دیا ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں(18)
فَأَنشَأنا لَكُم بِهِ جَنّٰتٍ مِن نَخيلٍ وَأَعنٰبٍ لَكُم فيها فَوٰكِهُ كَثيرَةٌ وَمِنها تَأكُلونَ(19)
پھر اس پانی کے ذریعہ سے ہم نے تمہارے لیے کھجور اور انگور کے باغ پیدا کر دیے، تمہارے لیے ان باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں اور ان سے تم روزی حاصل کرتے ہو(19)
وَشَجَرَةً تَخرُجُ مِن طورِ سَيناءَ تَنبُتُ بِالدُّهنِ وَصِبغٍ لِلءاكِلينَ(20)
اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طور سیناء سے نکلتا ہے، تیل بھی لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی(20)
وَإِنَّ لَكُم فِى الأَنعٰمِ لَعِبرَةً ۖ نُسقيكُم مِمّا فى بُطونِها وَلَكُم فيها مَنٰفِعُ كَثيرَةٌ وَمِنها تَأكُلونَ(21)
اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ہم تمہیں پلاتے ہیں، اور تمہارے لیے ان میں بہت سے دوسرے دُوسرے فائدے بھی ہیں(21)
وَعَلَيها وَعَلَى الفُلكِ تُحمَلونَ(22)
اُن کو تم کھاتے ہو اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کیے جاتے ہو(22)
وَلَقَد أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ فَقالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ أَفَلا تَتَّقونَ(23)
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟"(23)
فَقالَ المَلَؤُا۟ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ ما هٰذا إِلّا بَشَرٌ مِثلُكُم يُريدُ أَن يَتَفَضَّلَ عَلَيكُم وَلَو شاءَ اللَّهُ لَأَنزَلَ مَلٰئِكَةً ما سَمِعنا بِهٰذا فى ءابائِنَا الأَوَّلينَ(24)
اس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا اِس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے اللہ کو اگر بھیجنا ہوتا تو فرشتے بھیجتا یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سنی ہی نہیں (کہ بشر رسول بن کر آئے)(24)
إِن هُوَ إِلّا رَجُلٌ بِهِ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصوا بِهِ حَتّىٰ حينٍ(25)
کچھ نہیں، بس اس آدمی کو ذرا جنون لاحق ہو گیا ہے کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہو جائے)"(25)
قالَ رَبِّ انصُرنى بِما كَذَّبونِ(26)
نوحؑ نے کہا "پروردگار، ان لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تو ہی میری مدد فرما"(26)
فَأَوحَينا إِلَيهِ أَنِ اصنَعِ الفُلكَ بِأَعيُنِنا وَوَحيِنا فَإِذا جاءَ أَمرُنا وَفارَ التَّنّورُ ۙ فَاسلُك فيها مِن كُلٍّ زَوجَينِ اثنَينِ وَأَهلَكَ إِلّا مَن سَبَقَ عَلَيهِ القَولُ مِنهُم ۖ وَلا تُخٰطِبنى فِى الَّذينَ ظَلَموا ۖ إِنَّهُم مُغرَقونَ(27)
ہم نے اس پر وحی کی کہ "ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر پھر جب ہمارا حکم آ جائے اور تنور ابل پڑے تو ہر قسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہو جا، اور اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہے، اور ظالموں کے معاملہ میں مجھ سے کچھ نہ کہنا، یہ اب غرق ہونے والے ہیں(27)
فَإِذَا استَوَيتَ أَنتَ وَمَن مَعَكَ عَلَى الفُلكِ فَقُلِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى نَجّىٰنا مِنَ القَومِ الظّٰلِمينَ(28)
پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سوار ہو جائے تو کہہ، شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی(28)
وَقُل رَبِّ أَنزِلنى مُنزَلًا مُبارَكًا وَأَنتَ خَيرُ المُنزِلينَ(29)
اور کہہ، پروردگار، مجھ کو برکت والی جگہ اتار اور تُو بہترین جگہ دینے والا ہے"(29)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ وَإِن كُنّا لَمُبتَلينَ(30)
اِس قصے میں بڑی نشانیاں ہیں اور آزمائش تو ہم کر کے ہی رہتے ہیں(30)
ثُمَّ أَنشَأنا مِن بَعدِهِم قَرنًا ءاخَرينَ(31)
ان کے بعد ہم نے ایک دوسرے دَور کی قوم اٹھائی(31)
فَأَرسَلنا فيهِم رَسولًا مِنهُم أَنِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ أَفَلا تَتَّقونَ(32)
پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسول بھیجا (جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو، تمہارے لیے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے، کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟(32)
وَقالَ المَلَأُ مِن قَومِهِ الَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِلِقاءِ الءاخِرَةِ وَأَترَفنٰهُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ما هٰذا إِلّا بَشَرٌ مِثلُكُم يَأكُلُ مِمّا تَأكُلونَ مِنهُ وَيَشرَبُ مِمّا تَشرَبونَ(33)
اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخرت کی پیشی کو جھٹلایا، جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسودہ کر رکھا تھا، وہ کہنے لگے "یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو وہی یہ پیتا ہے(33)
وَلَئِن أَطَعتُم بَشَرًا مِثلَكُم إِنَّكُم إِذًا لَخٰسِرونَ(34)
اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کر لی تو تم گھاٹے ہی میں رہے(34)
أَيَعِدُكُم أَنَّكُم إِذا مِتُّم وَكُنتُم تُرابًا وَعِظٰمًا أَنَّكُم مُخرَجونَ(35)
یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مر کر مٹی ہو جاؤ گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جاؤ گے اُس وقت تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے؟(35)
۞ هَيهاتَ هَيهاتَ لِما توعَدونَ(36)
بعید، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جا رہا ہے(36)
إِن هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا نَموتُ وَنَحيا وَما نَحنُ بِمَبعوثينَ(37)
زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں ہیں(37)
إِن هُوَ إِلّا رَجُلٌ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا وَما نَحنُ لَهُ بِمُؤمِنينَ(38)
یہ شخص خدا کے نام پر محض جھوٹ گھڑ رہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں"(38)
قالَ رَبِّ انصُرنى بِما كَذَّبونِ(39)
رسول نے کہا "پروردگار، اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے، اس پر اب تو ہی میری نصرت فرما"(39)
قالَ عَمّا قَليلٍ لَيُصبِحُنَّ نٰدِمينَ(40)
جواب میں ارشاد ہوا "قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کیے پر پچھتائیں گے"(40)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ بِالحَقِّ فَجَعَلنٰهُم غُثاءً ۚ فَبُعدًا لِلقَومِ الظّٰلِمينَ(41)
آخرکار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامہ عظیم نے ان کو آ لیا اور ہم نے ان کو کچرا بنا کر پھینک دیا دُور ہو ظالم قوم!(41)
ثُمَّ أَنشَأنا مِن بَعدِهِم قُرونًا ءاخَرينَ(42)
پھر ہم نے ان کے بعد دوسری قومیں اٹھائیں(42)
ما تَسبِقُ مِن أُمَّةٍ أَجَلَها وَما يَستَـٔخِرونَ(43)
کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھیر سکی(43)
ثُمَّ أَرسَلنا رُسُلَنا تَترا ۖ كُلَّ ما جاءَ أُمَّةً رَسولُها كَذَّبوهُ ۚ فَأَتبَعنا بَعضَهُم بَعضًا وَجَعَلنٰهُم أَحاديثَ ۚ فَبُعدًا لِقَومٍ لا يُؤمِنونَ(44)
پھر ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا، اس نے اُسے جھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بنا کر چھوڑا پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے!(44)
ثُمَّ أَرسَلنا موسىٰ وَأَخاهُ هٰرونَ بِـٔايٰتِنا وَسُلطٰنٍ مُبينٍ(45)
پھر ہم نے موسیٰؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سند کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کی طرف بھیجا(45)
إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَاستَكبَروا وَكانوا قَومًا عالينَ(46)
مگر انہوں نے تکبر کیا اور بڑی دوں کی لی(46)
فَقالوا أَنُؤمِنُ لِبَشَرَينِ مِثلِنا وَقَومُهُما لَنا عٰبِدونَ(47)
کہنے لگے "کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی ہے"(47)
فَكَذَّبوهُما فَكانوا مِنَ المُهلَكينَ(48)
پس انہوں نے دونوں کو جھٹلا دیا اور ہلاک ہونے والوں میں جا ملے(48)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ لَعَلَّهُم يَهتَدونَ(49)
اور موسٰیؑ کو ہم نے کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں(49)
وَجَعَلنَا ابنَ مَريَمَ وَأُمَّهُ ءايَةً وَءاوَينٰهُما إِلىٰ رَبوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعينٍ(50)
اور ابن مریم اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشان بنایا اور ان کو ایک سطحِ مرتفع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے(50)
يٰأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلوا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعمَلوا صٰلِحًا ۖ إِنّى بِما تَعمَلونَ عَليمٌ(51)
اے پیغمبرو، کھاؤ پاک چیزیں اور عمل کرو صالح، تم جو کچھ بھی کرتے ہو، میں اس کو خوب جانتا ہوں(51)
وَإِنَّ هٰذِهِ أُمَّتُكُم أُمَّةً وٰحِدَةً وَأَنا۠ رَبُّكُم فَاتَّقونِ(52)
اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھی سے تم ڈرو(52)
فَتَقَطَّعوا أَمرَهُم بَينَهُم زُبُرًا ۖ كُلُّ حِزبٍ بِما لَدَيهِم فَرِحونَ(53)
مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے(53)
فَذَرهُم فى غَمرَتِهِم حَتّىٰ حينٍ(54)
اچھا، تو چھوڑو انہیں، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک(54)
أَيَحسَبونَ أَنَّما نُمِدُّهُم بِهِ مِن مالٍ وَبَنينَ(55)
کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال و اولاد سے مدد دیے جا رہے ہیں(55)
نُسارِعُ لَهُم فِى الخَيرٰتِ ۚ بَل لا يَشعُرونَ(56)
تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں؟ نہیں، اصل معاملے کا انہیں شعور نہیں ہے(56)
إِنَّ الَّذينَ هُم مِن خَشيَةِ رَبِّهِم مُشفِقونَ(57)
جو اپنے رب کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں(57)
وَالَّذينَ هُم بِـٔايٰتِ رَبِّهِم يُؤمِنونَ(58)
جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں(58)
وَالَّذينَ هُم بِرَبِّهِم لا يُشرِكونَ(59)
جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے(59)
وَالَّذينَ يُؤتونَ ما ءاتَوا وَقُلوبُهُم وَجِلَةٌ أَنَّهُم إِلىٰ رَبِّهِم رٰجِعونَ(60)
اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے(60)
أُولٰئِكَ يُسٰرِعونَ فِى الخَيرٰتِ وَهُم لَها سٰبِقونَ(61)
بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں(61)
وَلا نُكَلِّفُ نَفسًا إِلّا وُسعَها ۖ وَلَدَينا كِتٰبٌ يَنطِقُ بِالحَقِّ ۚ وَهُم لا يُظلَمونَ(62)
ہم کسی شخص کو اس کی مقدرت سے زیادہ کی تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو (ہر ایک کا حال) ٹھیک ٹھیک بتا دینے والی ہے، اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا(62)
بَل قُلوبُهُم فى غَمرَةٍ مِن هٰذا وَلَهُم أَعمٰلٌ مِن دونِ ذٰلِكَ هُم لَها عٰمِلونَ(63)
مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبر ہیں اور ان کے اعمال بھی اس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں وہ اپنے یہ کرتوت کیے چلے جائیں گے(63)
حَتّىٰ إِذا أَخَذنا مُترَفيهِم بِالعَذابِ إِذا هُم يَجـَٔرونَ(64)
یہاں تک کہ جب ہم ان کے عیاشوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو پھر وہ ڈکرانا شروع کر دیں گے(64)
لا تَجـَٔرُوا اليَومَ ۖ إِنَّكُم مِنّا لا تُنصَرونَ(65)
اب بند کرو اپنی فریاد و فغاں، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی(65)
قَد كانَت ءايٰتى تُتلىٰ عَلَيكُم فَكُنتُم عَلىٰ أَعقٰبِكُم تَنكِصونَ(66)
میری آیات سنائی جاتی تھیں تو تم (رسول کی آواز سُنتے ہی) الٹے پاؤں بھاگ نکلتے تھے(66)
مُستَكبِرينَ بِهِ سٰمِرًا تَهجُرونَ(67)
اپنے گھمنڈ میں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے اپنی چوپالوں میں اُس پر باتیں چھانٹتے اور بکواس کیا کرتے تھے(67)
أَفَلَم يَدَّبَّرُوا القَولَ أَم جاءَهُم ما لَم يَأتِ ءاباءَهُمُ الأَوَّلينَ(68)
تو کیا اِن لوگوں نے کبھی اِس کلام پر غور نہیں کیا؟ یا وہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی؟(68)
أَم لَم يَعرِفوا رَسولَهُم فَهُم لَهُ مُنكِرونَ(69)
یا یہ اپنے رسول سے کبھی کے واقف نہ تھے کہ (اَن جانا آدمی ہونے کے باعث) اُس سے بدکتے ہیں؟(69)
أَم يَقولونَ بِهِ جِنَّةٌ ۚ بَل جاءَهُم بِالحَقِّ وَأَكثَرُهُم لِلحَقِّ كٰرِهونَ(70)
یا یہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے؟ نہیں، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے(70)
وَلَوِ اتَّبَعَ الحَقُّ أَهواءَهُم لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالأَرضُ وَمَن فيهِنَّ ۚ بَل أَتَينٰهُم بِذِكرِهِم فَهُم عَن ذِكرِهِم مُعرِضونَ(71)
اور حق اگر کہیں اِن کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہو جاتا نہیں، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منہ موڑ رہے ہیں(71)
أَم تَسـَٔلُهُم خَرجًا فَخَراجُ رَبِّكَ خَيرٌ ۖ وَهُوَ خَيرُ الرّٰزِقينَ(72)
کیا تُو ان سے کچھ مانگ رہا ہے؟ تیرے لیے تیرے رب کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے(72)
وَإِنَّكَ لَتَدعوهُم إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(73)
تُو تو ان کوسیدھے راستے کی طرف بلا رہا ہے(73)
وَإِنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ عَنِ الصِّرٰطِ لَنٰكِبونَ(74)
مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہِ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں(74)
۞ وَلَو رَحِمنٰهُم وَكَشَفنا ما بِهِم مِن ضُرٍّ لَلَجّوا فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ(75)
اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں دُور کر دیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے(75)
وَلَقَد أَخَذنٰهُم بِالعَذابِ فَمَا استَكانوا لِرَبِّهِم وَما يَتَضَرَّعونَ(76)
اِن کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلا کیا، پھر بھی یہ اپنے رب کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں(76)
حَتّىٰ إِذا فَتَحنا عَلَيهِم بابًا ذا عَذابٍ شَديدٍ إِذا هُم فيهِ مُبلِسونَ(77)
البتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم اِن پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو یکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں(77)
وَهُوَ الَّذى أَنشَأَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۚ قَليلًا ما تَشكُرونَ(78)
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو(78)
وَهُوَ الَّذى ذَرَأَكُم فِى الأَرضِ وَإِلَيهِ تُحشَرونَ(79)
وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے(79)
وَهُوَ الَّذى يُحيۦ وَيُميتُ وَلَهُ اختِلٰفُ الَّيلِ وَالنَّهارِ ۚ أَفَلا تَعقِلونَ(80)
وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے گردش لیل و نہار اسی کے قبضہ قدرت میں ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی؟(80)
بَل قالوا مِثلَ ما قالَ الأَوَّلونَ(81)
مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے پیش رَو کہہ چکے ہیں(81)
قالوا أَءِذا مِتنا وَكُنّا تُرابًا وَعِظٰمًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ(82)
یہ کہتے ہیں "کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ جائیں گے تو ہم کو پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟(82)
لَقَد وُعِدنا نَحنُ وَءاباؤُنا هٰذا مِن قَبلُ إِن هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(83)
ہم نے بھی یہ وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں یہ محض افسانہائے پارینہ ہیں"(83)
قُل لِمَنِ الأَرضُ وَمَن فيها إِن كُنتُم تَعلَمونَ(84)
ان سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو، کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے؟(84)
سَيَقولونَ لِلَّهِ ۚ قُل أَفَلا تَذَكَّرونَ(85)
یہ ضرور کہیں گے اللہ کی کہو، پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے؟(85)
قُل مَن رَبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبعِ وَرَبُّ العَرشِ العَظيمِ(86)
ان سے پوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے؟(86)
سَيَقولونَ لِلَّهِ ۚ قُل أَفَلا تَتَّقونَ(87)
یہ ضرور کہیں گے اللہ کہو، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟(87)
قُل مَن بِيَدِهِ مَلَكوتُ كُلِّ شَيءٍ وَهُوَ يُجيرُ وَلا يُجارُ عَلَيهِ إِن كُنتُم تَعلَمونَ(88)
اِن سے کہو، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا؟(88)
سَيَقولونَ لِلَّهِ ۚ قُل فَأَنّىٰ تُسحَرونَ(89)
یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے کہو، پھر کہاں سے تم کو دھوکا لگتا ہے؟(89)
بَل أَتَينٰهُم بِالحَقِّ وَإِنَّهُم لَكٰذِبونَ(90)
جو امر حق ہے وہ ہم اِن کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں(90)
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِن وَلَدٍ وَما كانَ مَعَهُ مِن إِلٰهٍ ۚ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلٰهٍ بِما خَلَقَ وَلَعَلا بَعضُهُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ سُبحٰنَ اللَّهِ عَمّا يَصِفونَ(91)
اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے اور کوئی دوسرا خدا اُس کے ساتھ نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی خلق کو لے کر الگ ہو جاتا، اور پھر وہ ایک دوسرے پر چڑھ دوڑتے پاک ہے اللہ ان باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں(91)
عٰلِمِ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ فَتَعٰلىٰ عَمّا يُشرِكونَ(92)
کھلے اور چھپے کا جاننے والا، وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کر رہے ہیں(92)
قُل رَبِّ إِمّا تُرِيَنّى ما يوعَدونَ(93)
اے محمدؐ، دعا کرو کہ "پروردگار، جس عذاب کی اِن کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے(93)
رَبِّ فَلا تَجعَلنى فِى القَومِ الظّٰلِمينَ(94)
تو اے میرے رب، مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو"(94)
وَإِنّا عَلىٰ أَن نُرِيَكَ ما نَعِدُهُم لَقٰدِرونَ(95)
اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں(95)
ادفَع بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ نَحنُ أَعلَمُ بِما يَصِفونَ(96)
اے نبیؐ، برائی کو اس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں(96)
وَقُل رَبِّ أَعوذُ بِكَ مِن هَمَزٰتِ الشَّيٰطينِ(97)
اور دعا کرو کہ "پروردگار، میں شیاطین کی اکساہٹوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں(97)
وَأَعوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحضُرونِ(98)
بلکہ اے میرے رب، میں تو اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں"(98)
حَتّىٰ إِذا جاءَ أَحَدَهُمُ المَوتُ قالَ رَبِّ ارجِعونِ(99)
(یہ لوگ اپنی کرنی سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آ جائے گی تو کہنا شروع کرے گا کہ "اے میرے رب، مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج دیجیے جسے میں چھوڑ آیا ہوں(99)
لَعَلّى أَعمَلُ صٰلِحًا فيما تَرَكتُ ۚ كَلّا ۚ إِنَّها كَلِمَةٌ هُوَ قائِلُها ۖ وَمِن وَرائِهِم بَرزَخٌ إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(100)
امید ہے کہ اب میں نیک عمل کروں گا" ہرگز نہیں، یہ بس ایک بات ہے جو وہ بک رہا ہے اب اِن سب (مرنے والوں) کے پیچھے ایک برزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک(100)
فَإِذا نُفِخَ فِى الصّورِ فَلا أَنسابَ بَينَهُم يَومَئِذٍ وَلا يَتَساءَلونَ(101)
پھر جونہی کہ صور پھونک دیا گیا، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے(101)
فَمَن ثَقُلَت مَوٰزينُهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(102)
اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے(102)
وَمَن خَفَّت مَوٰزينُهُ فَأُولٰئِكَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم فى جَهَنَّمَ خٰلِدونَ(103)
اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے(103)
تَلفَحُ وُجوهَهُمُ النّارُ وَهُم فيها كٰلِحونَ(104)
آگ ان کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور اُن کے جبڑے باہر نکل آئیں گے(104)
أَلَم تَكُن ءايٰتى تُتلىٰ عَلَيكُم فَكُنتُم بِها تُكَذِّبونَ(105)
"کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے؟"(105)
قالوا رَبَّنا غَلَبَت عَلَينا شِقوَتُنا وَكُنّا قَومًا ضالّينَ(106)
وہ کہیں گے "اے ہمارے رب، ہماری بد بختی ہم پر چھا گئی تھی واقعی ہم گمراہ لوگ تھے(106)
رَبَّنا أَخرِجنا مِنها فَإِن عُدنا فَإِنّا ظٰلِمونَ(107)
اے پروردگار، اب ہمیں یہاں سے نکال دے پھر ہم ایسا قصور کریں تو ظالم ہوں گے"(107)
قالَ اخسَـٔوا فيها وَلا تُكَلِّمونِ(108)
اللہ تعالیٰ جواب دے گا "دور ہو میرے سامنے سے، پڑے رہو اسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو(108)
إِنَّهُ كانَ فَريقٌ مِن عِبادى يَقولونَ رَبَّنا ءامَنّا فَاغفِر لَنا وَارحَمنا وَأَنتَ خَيرُ الرّٰحِمينَ(109)
تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار، ہم ایمان لائے، ہمیں معاف کر دے، ہم پر رحم کر، تُو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے(109)
فَاتَّخَذتُموهُم سِخرِيًّا حَتّىٰ أَنسَوكُم ذِكرى وَكُنتُم مِنهُم تَضحَكونَ(110)
تو تم نے ان کا مذاق بنا لیا یہاں تک کہ اُن کی ضد نے تمہیں یہ بھی بھُلا دیا کہ میں بھی کوئی ہوں، اور تم ان پر ہنستے رہے(110)
إِنّى جَزَيتُهُمُ اليَومَ بِما صَبَروا أَنَّهُم هُمُ الفائِزونَ(111)
آج اُن کے اُس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں"(111)
قٰلَ كَم لَبِثتُم فِى الأَرضِ عَدَدَ سِنينَ(112)
پھر اللہ تعالی ان سے پوچھے گا "بتاؤ، زمین میں تم کتنے سال رہے؟"(112)
قالوا لَبِثنا يَومًا أَو بَعضَ يَومٍ فَسـَٔلِ العادّينَ(113)
وہ کہیں گے "ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھیرے ہیں شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے"(113)
قٰلَ إِن لَبِثتُم إِلّا قَليلًا ۖ لَو أَنَّكُم كُنتُم تَعلَمونَ(114)
ارشاد ہو گا "تھوڑی ہی دیر ٹھیرے ہو نا، کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا(114)
أَفَحَسِبتُم أَنَّما خَلَقنٰكُم عَبَثًا وَأَنَّكُم إِلَينا لا تُرجَعونَ(115)
کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟"(115)
فَتَعٰلَى اللَّهُ المَلِكُ الحَقُّ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ رَبُّ العَرشِ الكَريمِ(116)
پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہ حقیقی، کوئی خدا اُس کے سوا نہیں، مالک ہے عرش بزرگ کا(116)
وَمَن يَدعُ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ لا بُرهٰنَ لَهُ بِهِ فَإِنَّما حِسابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الكٰفِرونَ(117)
اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے، جس کے لیے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں، تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہے ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پا سکتے(117)
وَقُل رَبِّ اغفِر وَارحَم وَأَنتَ خَيرُ الرّٰحِمينَ(118)
اے محمدؐ، کہو، "میرے رب درگزر فرما، اور رحم کر، اور تو سب رحیموں سے اچھا رحیم ہے"(118)