Al-Mulk( الملك)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَبٰرَكَ الَّذى بِيَدِهِ المُلكُ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(1)
نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں کائنات کی سلطنت ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے(1)
الَّذى خَلَقَ المَوتَ وَالحَيوٰةَ لِيَبلُوَكُم أَيُّكُم أَحسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ العَزيزُ الغَفورُ(2)
جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی(2)
الَّذى خَلَقَ سَبعَ سَمٰوٰتٍ طِباقًا ۖ ما تَرىٰ فى خَلقِ الرَّحمٰنِ مِن تَفٰوُتٍ ۖ فَارجِعِ البَصَرَ هَل تَرىٰ مِن فُطورٍ(3)
جس نے تہ بر تہ سات آسمان بنائے تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پاؤ گے پھر پلٹ کر دیکھو، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟(3)
ثُمَّ ارجِعِ البَصَرَ كَرَّتَينِ يَنقَلِب إِلَيكَ البَصَرُ خاسِئًا وَهُوَ حَسيرٌ(4)
بار بار نگاہ دوڑاؤ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی(4)
وَلَقَد زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنيا بِمَصٰبيحَ وَجَعَلنٰها رُجومًا لِلشَّيٰطينِ ۖ وَأَعتَدنا لَهُم عَذابَ السَّعيرِ(5)
ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے(5)
وَلِلَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم عَذابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(6)
جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے(6)
إِذا أُلقوا فيها سَمِعوا لَها شَهيقًا وَهِىَ تَفورُ(7)
جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اسکے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی(7)
تَكادُ تَمَيَّزُ مِنَ الغَيظِ ۖ كُلَّما أُلقِىَ فيها فَوجٌ سَأَلَهُم خَزَنَتُها أَلَم يَأتِكُم نَذيرٌ(8)
شدت غضب سے پھٹی جاتی ہو گی ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے "کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟"(8)
قالوا بَلىٰ قَد جاءَنا نَذيرٌ فَكَذَّبنا وَقُلنا ما نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيءٍ إِن أَنتُم إِلّا فى ضَلٰلٍ كَبيرٍ(9)
وہ جواب دیں گے "ہاں، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا، مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو"(9)
وَقالوا لَو كُنّا نَسمَعُ أَو نَعقِلُ ما كُنّا فى أَصحٰبِ السَّعيرِ(10)
اور وہ کہیں گے "کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزا واروں میں نہ شامل ہوتے"(10)
فَاعتَرَفوا بِذَنبِهِم فَسُحقًا لِأَصحٰبِ السَّعيرِ(11)
اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کر لیں گے، لعنت ہے ان دوزخیوں پر(11)
إِنَّ الَّذينَ يَخشَونَ رَبَّهُم بِالغَيبِ لَهُم مَغفِرَةٌ وَأَجرٌ كَبيرٌ(12)
جو لوگ بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں، یقیناً اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر(12)
وَأَسِرّوا قَولَكُم أَوِ اجهَروا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(13)
تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لیے یکساں ہے)، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے(13)
أَلا يَعلَمُ مَن خَلَقَ وَهُوَ اللَّطيفُ الخَبيرُ(14)
کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر ہے(14)
هُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الأَرضَ ذَلولًا فَامشوا فى مَناكِبِها وَكُلوا مِن رِزقِهِ ۖ وَإِلَيهِ النُّشورُ(15)
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے(15)
ءَأَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يَخسِفَ بِكُمُ الأَرضَ فَإِذا هِىَ تَمورُ(16)
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟(16)
أَم أَمِنتُم مَن فِى السَّماءِ أَن يُرسِلَ عَلَيكُم حاصِبًا ۖ فَسَتَعلَمونَ كَيفَ نَذيرِ(17)
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟ پھر تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے(17)
وَلَقَد كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم فَكَيفَ كانَ نَكيرِ(18)
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی(18)
أَوَلَم يَرَوا إِلَى الطَّيرِ فَوقَهُم صٰفّٰتٍ وَيَقبِضنَ ۚ ما يُمسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحمٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ بَصيرٌ(19)
کیا یہ لو گ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے؟ رحمان کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو وہی ہر چیز کا نگہبان ہے(19)
أَمَّن هٰذَا الَّذى هُوَ جُندٌ لَكُم يَنصُرُكُم مِن دونِ الرَّحمٰنِ ۚ إِنِ الكٰفِرونَ إِلّا فى غُرورٍ(20)
بتاؤ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمان کے مقابلے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں(20)
أَمَّن هٰذَا الَّذى يَرزُقُكُم إِن أَمسَكَ رِزقَهُ ۚ بَل لَجّوا فى عُتُوٍّ وَنُفورٍ(21)
یا پھر بتاؤ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمان اپنا رزق روک لے؟ دراصل یہ لوگ سر کشی اور حق سے گریز پر اڑے ہوئے ہیں(21)
أَفَمَن يَمشى مُكِبًّا عَلىٰ وَجهِهِ أَهدىٰ أَمَّن يَمشى سَوِيًّا عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(22)
بھلا سوچو، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سر اٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو؟(22)
قُل هُوَ الَّذى أَنشَأَكُم وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمعَ وَالأَبصٰرَ وَالأَفـِٔدَةَ ۖ قَليلًا ما تَشكُرونَ(23)
اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیے، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو(23)
قُل هُوَ الَّذى ذَرَأَكُم فِى الأَرضِ وَإِلَيهِ تُحشَرونَ(24)
اِن سے کہو، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے(24)
وَيَقولونَ مَتىٰ هٰذَا الوَعدُ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(25)
یہ کہتے ہیں "اگر تم سچے ہو تو بتاؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟"(25)
قُل إِنَّمَا العِلمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّما أَنا۠ نَذيرٌ مُبينٌ(26)
کہو، "اِس کا علم تو اللہ کے پاس ہے، میں تو بس صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں"(26)
فَلَمّا رَأَوهُ زُلفَةً سيـَٔت وُجوهُ الَّذينَ كَفَروا وَقيلَ هٰذَا الَّذى كُنتُم بِهِ تَدَّعونَ(27)
پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے(27)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَهلَكَنِىَ اللَّهُ وَمَن مَعِىَ أَو رَحِمَنا فَمَن يُجيرُ الكٰفِرينَ مِن عَذابٍ أَليمٍ(28)
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟(28)
قُل هُوَ الرَّحمٰنُ ءامَنّا بِهِ وَعَلَيهِ تَوَكَّلنا ۖ فَسَتَعلَمونَ مَن هُوَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(29)
اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے(29)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَصبَحَ ماؤُكُم غَورًا فَمَن يَأتيكُم بِماءٍ مَعينٍ(30)
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟(30)