Al-Muddathth( المدّثر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا المُدَّثِّرُ(1)
اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے(1)
قُم فَأَنذِر(2)
اٹھو اور خبردار کرو(2)
وَرَبَّكَ فَكَبِّر(3)
اور اپنے رب کی بڑائی کا اعلان کرو(3)
وَثِيابَكَ فَطَهِّر(4)
اور اپنے کپڑے پاک رکھو(4)
وَالرُّجزَ فَاهجُر(5)
اور گندگی سے دور رہو(5)
وَلا تَمنُن تَستَكثِرُ(6)
اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے(6)
وَلِرَبِّكَ فَاصبِر(7)
اور اپنے رب کی خاطر صبر کرو(7)
فَإِذا نُقِرَ فِى النّاقورِ(8)
اچھا، جب صور میں پھونک ماری جائے گی(8)
فَذٰلِكَ يَومَئِذٍ يَومٌ عَسيرٌ(9)
وہ دن بڑا ہی سخت دن ہوگا(9)
عَلَى الكٰفِرينَ غَيرُ يَسيرٍ(10)
کافروں کے لیے ہلکا نہ ہوگا(10)
ذَرنى وَمَن خَلَقتُ وَحيدًا(11)
چھوڑ دو مجھے اور اُس شخص کو جسے میں نے اکیلا پیدا کیا ہے(11)
وَجَعَلتُ لَهُ مالًا مَمدودًا(12)
بہت سا مال اُس کو دیا(12)
وَبَنينَ شُهودًا(13)
اس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے(13)
وَمَهَّدتُ لَهُ تَمهيدًا(14)
اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی(14)
ثُمَّ يَطمَعُ أَن أَزيدَ(15)
پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں(15)
كَلّا ۖ إِنَّهُ كانَ لِءايٰتِنا عَنيدًا(16)
ہرگز نہیں، وہ ہماری آیات سے عناد رکھتا ہے(16)
سَأُرهِقُهُ صَعودًا(17)
میں تو اسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھواؤں گا(17)
إِنَّهُ فَكَّرَ وَقَدَّرَ(18)
اس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی(18)
فَقُتِلَ كَيفَ قَدَّرَ(19)
تو خدا کی مار اس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی(19)
ثُمَّ قُتِلَ كَيفَ قَدَّرَ(20)
ہاں، خدا کی مار اُس پر، کیسی بات بنانے کی کوشش کی(20)
ثُمَّ نَظَرَ(21)
پھر (لوگوں کی طرف) دیکھا(21)
ثُمَّ عَبَسَ وَبَسَرَ(22)
پھر پیشانی سیکڑی اور منہ بنایا(22)
ثُمَّ أَدبَرَ وَاستَكبَرَ(23)
پھر پلٹا اور تکبر میں پڑ گیا(23)
فَقالَ إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ يُؤثَرُ(24)
آخرکار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آ رہا ہے(24)
إِن هٰذا إِلّا قَولُ البَشَرِ(25)
یہ تو یہ ایک انسانی کلام ہے(25)
سَأُصليهِ سَقَرَ(26)
عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دوں گا(26)
وَما أَدرىٰكَ ما سَقَرُ(27)
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ؟(27)
لا تُبقى وَلا تَذَرُ(28)
نہ باقی رکھے نہ چھوڑے(28)
لَوّاحَةٌ لِلبَشَرِ(29)
کھال جھلس دینے والی(29)
عَلَيها تِسعَةَ عَشَرَ(30)
انیس کارکن اُس پر مقرر ہیں(30)
وَما جَعَلنا أَصحٰبَ النّارِ إِلّا مَلٰئِكَةً ۙ وَما جَعَلنا عِدَّتَهُم إِلّا فِتنَةً لِلَّذينَ كَفَروا لِيَستَيقِنَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَيَزدادَ الَّذينَ ءامَنوا إيمٰنًا ۙ وَلا يَرتابَ الَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ وَالمُؤمِنونَ ۙ وَلِيَقولَ الَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ وَالكٰفِرونَ ماذا أَرادَ اللَّهُ بِهٰذا مَثَلًا ۚ كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشاءُ وَيَهدى مَن يَشاءُ ۚ وَما يَعلَمُ جُنودَ رَبِّكَ إِلّا هُوَ ۚ وَما هِىَ إِلّا ذِكرىٰ لِلبَشَرِ(31)
ہم نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں، اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنا دیا ہے، تاکہ اہل کتاب کو یقین آ جائے اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے، اور اہل کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں، اور دل کے بیمار اور کفار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہو سکتا ہے اِس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو(31)
كَلّا وَالقَمَرِ(32)
ہرگز نہیں، قسم ہے چاند کی(32)
وَالَّيلِ إِذ أَدبَرَ(33)
اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے(33)
وَالصُّبحِ إِذا أَسفَرَ(34)
اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے(34)
إِنَّها لَإِحدَى الكُبَرِ(35)
یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے(35)
نَذيرًا لِلبَشَرِ(36)
انسانوں کے لیے ڈراوا(36)
لِمَن شاءَ مِنكُم أَن يَتَقَدَّمَ أَو يَتَأَخَّرَ(37)
تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ڈراوا جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے(37)
كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت رَهينَةٌ(38)
ہر متنفس، اپنے کسب کے بدلے رہن ہے(38)
إِلّا أَصحٰبَ اليَمينِ(39)
دائیں بازو والوں کے سوا(39)
فى جَنّٰتٍ يَتَساءَلونَ(40)
جو جنتوں میں ہوں گے وہاں وہ،(40)
عَنِ المُجرِمينَ(41)
مجرموں سے پوچھیں گے(41)
ما سَلَكَكُم فى سَقَرَ(42)
"تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟"(42)
قالوا لَم نَكُ مِنَ المُصَلّينَ(43)
وہ کہیں گے "ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے(43)
وَلَم نَكُ نُطعِمُ المِسكينَ(44)
اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے(44)
وَكُنّا نَخوضُ مَعَ الخائِضينَ(45)
اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے(45)
وَكُنّا نُكَذِّبُ بِيَومِ الدّينِ(46)
اور روز جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے(46)
حَتّىٰ أَتىٰنَا اليَقينُ(47)
یہاں تک کہ ہمیں اُس یقینی چیز سے سابقہ پیش آ گیا"(47)
فَما تَنفَعُهُم شَفٰعَةُ الشّٰفِعينَ(48)
اُس وقت سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی(48)
فَما لَهُم عَنِ التَّذكِرَةِ مُعرِضينَ(49)
آخر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں(49)
كَأَنَّهُم حُمُرٌ مُستَنفِرَةٌ(50)
گویا یہ جنگلی گدھے ہیں(50)
فَرَّت مِن قَسوَرَةٍ(51)
جو شیر سے ڈر کر بھاگ پڑے ہیں(51)
بَل يُريدُ كُلُّ امرِئٍ مِنهُم أَن يُؤتىٰ صُحُفًا مُنَشَّرَةً(52)
بلکہ اِن میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں(52)
كَلّا ۖ بَل لا يَخافونَ الءاخِرَةَ(53)
ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے(53)
كَلّا إِنَّهُ تَذكِرَةٌ(54)
ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے(54)
فَمَن شاءَ ذَكَرَهُ(55)
اب جس کا جی چاہے اس سے سبق حاصل کر لے(55)
وَما يَذكُرونَ إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ ۚ هُوَ أَهلُ التَّقوىٰ وَأَهلُ المَغفِرَةِ(56)
اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے(56)