Al-Jinn( الجن)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ قُل أوحِىَ إِلَىَّ أَنَّهُ استَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الجِنِّ فَقالوا إِنّا سَمِعنا قُرءانًا عَجَبًا(1)
اے نبیؐ، کہو، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا پھر (جا کر اپنی قوم کے لوگوں سے) کہا: "ہم نے ایک بڑا ہی عجیب قرآن سنا ہے(1)
يَهدى إِلَى الرُّشدِ فَـٔامَنّا بِهِ ۖ وَلَن نُشرِكَ بِرَبِّنا أَحَدًا(2)
جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اِس لیے ہم اُس پر ایمان لے آئے ہیں اور اب ہم ہرگز اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے"(2)
وَأَنَّهُ تَعٰلىٰ جَدُّ رَبِّنا مَا اتَّخَذَ صٰحِبَةً وَلا وَلَدًا(3)
اور یہ کہ "ہمارے رب کی شان بہت اعلیٰ و ارفع ہے، اُس نے کسی کو بیوی یا بیٹا نہیں بنایا ہے"(3)
وَأَنَّهُ كانَ يَقولُ سَفيهُنا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا(4)
اور یہ کہ "ہمارے نادان لوگ اللہ کے بارے میں بہت خلاف حق باتیں کہتے رہے ہیں"(4)
وَأَنّا ظَنَنّا أَن لَن تَقولَ الإِنسُ وَالجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا(5)
اور یہ کہ "ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جن کبھی خدا کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے"(5)
وَأَنَّهُ كانَ رِجالٌ مِنَ الإِنسِ يَعوذونَ بِرِجالٍ مِنَ الجِنِّ فَزادوهُم رَهَقًا(6)
اور یہ کہ "انسانوں میں سے کچھ لوگ جنوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے، اِس طرح اُنہوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا"(6)
وَأَنَّهُم ظَنّوا كَما ظَنَنتُم أَن لَن يَبعَثَ اللَّهُ أَحَدًا(7)
اور یہ کہ "انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بنا کر نہ بھیجے گا"(7)
وَأَنّا لَمَسنَا السَّماءَ فَوَجَدنٰها مُلِئَت حَرَسًا شَديدًا وَشُهُبًا(8)
اور یہ کہ "ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہرے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہو رہی ہے"(8)
وَأَنّا كُنّا نَقعُدُ مِنها مَقٰعِدَ لِلسَّمعِ ۖ فَمَن يَستَمِعِ الءانَ يَجِد لَهُ شِهابًا رَصَدًا(9)
اور یہ کہ "پہلے ہم سن گن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پا لیتے تھے، مگر اب جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لیے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگا ہوا پاتا ہے"(9)
وَأَنّا لا نَدرى أَشَرٌّ أُريدَ بِمَن فِى الأَرضِ أَم أَرادَ بِهِم رَبُّهُم رَشَدًا(10)
اور یہ کہ "ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیا زمین والوں کے ساتھ کوئی برا معاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا رب اُنہیں راہ راست دکھانا چاہتا ہے"(10)
وَأَنّا مِنَّا الصّٰلِحونَ وَمِنّا دونَ ذٰلِكَ ۖ كُنّا طَرائِقَ قِدَدًا(11)
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں"(11)
وَأَنّا ظَنَنّا أَن لَن نُعجِزَ اللَّهَ فِى الأَرضِ وَلَن نُعجِزَهُ هَرَبًا(12)
اور یہ کہ "ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کر سکتے ہیں اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں"(12)
وَأَنّا لَمّا سَمِعنَا الهُدىٰ ءامَنّا بِهِ ۖ فَمَن يُؤمِن بِرَبِّهِ فَلا يَخافُ بَخسًا وَلا رَهَقًا(13)
اور یہ کہ "ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے اب جو کوئی بھی اپنے رب پر ایمان لے آئے گا اسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا"(13)
وَأَنّا مِنَّا المُسلِمونَ وَمِنَّا القٰسِطونَ ۖ فَمَن أَسلَمَ فَأُولٰئِكَ تَحَرَّوا رَشَدًا(14)
اور یہ کہ "ہم میں سے کچھ مسلم (اللہ کے اطاعت گزار) ہیں اور کچھ حق سے منحرف تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ) اختیار کر لیا انہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈ لی(14)
وَأَمَّا القٰسِطونَ فَكانوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا(15)
اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں"(15)
وَأَلَّوِ استَقٰموا عَلَى الطَّريقَةِ لَأَسقَينٰهُم ماءً غَدَقًا(16)
اور (اے نبیؐ، کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے(16)
لِنَفتِنَهُم فيهِ ۚ وَمَن يُعرِض عَن ذِكرِ رَبِّهِ يَسلُكهُ عَذابًا صَعَدًا(17)
تاکہ اس نعمت سے ان کی آزمائش کریں اور جو اپنے رب کے ذکر سے منہ موڑے گا اس کا رب اسے سخت عذاب میں مبتلا کر دے گا(17)
وَأَنَّ المَسٰجِدَ لِلَّهِ فَلا تَدعوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا(18)
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو(18)
وَأَنَّهُ لَمّا قامَ عَبدُ اللَّهِ يَدعوهُ كادوا يَكونونَ عَلَيهِ لِبَدًا(19)
اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لئے کھڑا ہوا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لئے تیار ہو گئے(19)
قُل إِنَّما أَدعوا رَبّى وَلا أُشرِكُ بِهِ أَحَدًا(20)
اے نبیؐ، کہو کہ "میں تو اپنے رب کو پکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا"(20)
قُل إِنّى لا أَملِكُ لَكُم ضَرًّا وَلا رَشَدًا(21)
کہو، "میں تم لوگوں کے لئے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا"(21)
قُل إِنّى لَن يُجيرَنى مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَن أَجِدَ مِن دونِهِ مُلتَحَدًا(22)
کہو، "مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں(22)
إِلّا بَلٰغًا مِنَ اللَّهِ وَرِسٰلٰتِهِ ۚ وَمَن يَعصِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَإِنَّ لَهُ نارَ جَهَنَّمَ خٰلِدينَ فيها أَبَدًا(23)
میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں اب جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے"(23)
حَتّىٰ إِذا رَأَوا ما يوعَدونَ فَسَيَعلَمونَ مَن أَضعَفُ ناصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا(24)
(یہ لوگ اپنی اِس روش سے باز نہ آئیں گے) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِن سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کے مددگار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے(24)
قُل إِن أَدرى أَقَريبٌ ما توعَدونَ أَم يَجعَلُ لَهُ رَبّى أَمَدًا(25)
کہو، "میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے وہ قریب ہے یا میرا رب اس کے لیے کوئی لمبی مدت مقرر فرماتا ہے(25)
عٰلِمُ الغَيبِ فَلا يُظهِرُ عَلىٰ غَيبِهِ أَحَدًا(26)
وہ عالم الغیب ہے، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا(26)
إِلّا مَنِ ارتَضىٰ مِن رَسولٍ فَإِنَّهُ يَسلُكُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَمِن خَلفِهِ رَصَدًا(27)
سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے (غیب کا کوئی علم دینے کے لیے) پسند کر لیا ہو، تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے(27)
لِيَعلَمَ أَن قَد أَبلَغوا رِسٰلٰتِ رَبِّهِم وَأَحاطَ بِما لَدَيهِم وَأَحصىٰ كُلَّ شَيءٍ عَدَدًا(28)
تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے، اور وہ اُن کے پورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے"(28)