Al-Jathiya( الجاثية)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
ح م(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(2)
اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے(2)
إِنَّ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ لَءايٰتٍ لِلمُؤمِنينَ(3)
حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے(3)
وَفى خَلقِكُم وَما يَبُثُّ مِن دابَّةٍ ءايٰتٌ لِقَومٍ يوقِنونَ(4)
اور تمہاری اپنی پیدائش میں، اور اُن حیوانات میں جن کو اللہ (زمین میں) پھیلا رہا ہے، بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں(4)
وَاختِلٰفِ الَّيلِ وَالنَّهارِ وَما أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّماءِ مِن رِزقٍ فَأَحيا بِهِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها وَتَصريفِ الرِّيٰحِ ءايٰتٌ لِقَومٍ يَعقِلونَ(5)
اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں، اور اُس رزق میں جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جِلا اٹھاتا ہے، اور ہواؤں کی گردش میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں(5)
تِلكَ ءايٰتُ اللَّهِ نَتلوها عَلَيكَ بِالحَقِّ ۖ فَبِأَىِّ حَديثٍ بَعدَ اللَّهِ وَءايٰتِهِ يُؤمِنونَ(6)
یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے(6)
وَيلٌ لِكُلِّ أَفّاكٍ أَثيمٍ(7)
تباہی ہے ہر اُس جھوٹے بد اعمال شخص کے لیے(7)
يَسمَعُ ءايٰتِ اللَّهِ تُتلىٰ عَلَيهِ ثُمَّ يُصِرُّ مُستَكبِرًا كَأَن لَم يَسمَعها ۖ فَبَشِّرهُ بِعَذابٍ أَليمٍ(8)
جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں، اور وہ اُن کو سنتا ہے، پھر پورے استکبار کے ساتھ اپنے کفر پر اِس طرح اڑا رہتا ہے کہ گویا اس نے اُن کو سنا ہی نہیں ایسے شخص کو درد ناک عذاب کا مژدہ سنا دو(8)
وَإِذا عَلِمَ مِن ءايٰتِنا شَيـًٔا اتَّخَذَها هُزُوًا ۚ أُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ(9)
ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنا لیتا ہے ایسے سب لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے(9)
مِن وَرائِهِم جَهَنَّمُ ۖ وَلا يُغنى عَنهُم ما كَسَبوا شَيـًٔا وَلا مَا اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ أَولِياءَ ۖ وَلَهُم عَذابٌ عَظيمٌ(10)
اُن کے آگے جہنم ہے جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کر سکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے اُن کے لیے بڑا عذاب ہے(10)
هٰذا هُدًى ۖ وَالَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم لَهُم عَذابٌ مِن رِجزٍ أَليمٌ(11)
یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا(11)
۞ اللَّهُ الَّذى سَخَّرَ لَكُمُ البَحرَ لِتَجرِىَ الفُلكُ فيهِ بِأَمرِهِ وَلِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ(12)
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کیا تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو اور شکر گزار ہو(12)
وَسَخَّرَ لَكُم ما فِى السَّمٰوٰتِ وَما فِى الأَرضِ جَميعًا مِنهُ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يَتَفَكَّرونَ(13)
اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، سب کچھ اپنے پاس سے اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں(13)
قُل لِلَّذينَ ءامَنوا يَغفِروا لِلَّذينَ لا يَرجونَ أَيّامَ اللَّهِ لِيَجزِىَ قَومًا بِما كانوا يَكسِبونَ(14)
اے نبیؐ، ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے برے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے، اُن کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے(14)
مَن عَمِلَ صٰلِحًا فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن أَساءَ فَعَلَيها ۖ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم تُرجَعونَ(15)
جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو برائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا پھر جانا تو سب کو اپنے رب ہی کی طرف ہے(15)
وَلَقَد ءاتَينا بَنى إِسرٰءيلَ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ وَرَزَقنٰهُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلنٰهُم عَلَى العٰلَمينَ(16)
اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اُن کو ہم نے عمدہ سامان زیست سے نوازا، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی(16)
وَءاتَينٰهُم بَيِّنٰتٍ مِنَ الأَمرِ ۖ فَمَا اختَلَفوا إِلّا مِن بَعدِ ما جاءَهُمُ العِلمُ بَغيًا بَينَهُم ۚ إِنَّ رَبَّكَ يَقضى بَينَهُم يَومَ القِيٰمَةِ فيما كانوا فيهِ يَختَلِفونَ(17)
اور دین کے معاملہ میں اُنہیں واضح ہدایات دے دیں پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رو نما ہوا وہ (نا واقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ) علم آ جانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں(17)
ثُمَّ جَعَلنٰكَ عَلىٰ شَريعَةٍ مِنَ الأَمرِ فَاتَّبِعها وَلا تَتَّبِع أَهواءَ الَّذينَ لا يَعلَمونَ(18)
اس کے بعد اب اے نبیؐ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے(18)
إِنَّهُم لَن يُغنوا عَنكَ مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۚ وَإِنَّ الظّٰلِمينَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۖ وَاللَّهُ وَلِىُّ المُتَّقينَ(19)
اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے(19)
هٰذا بَصٰئِرُ لِلنّاسِ وَهُدًى وَرَحمَةٌ لِقَومٍ يوقِنونَ(20)
یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں(20)
أَم حَسِبَ الَّذينَ اجتَرَحُوا السَّيِّـٔاتِ أَن نَجعَلَهُم كَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَواءً مَحياهُم وَمَماتُهُم ۚ ساءَ ما يَحكُمونَ(21)
کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں(21)
وَخَلَقَ اللَّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ وَلِتُجزىٰ كُلُّ نَفسٍ بِما كَسَبَت وَهُم لا يُظلَمونَ(22)
اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے لوگوں پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا(22)
أَفَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلىٰ عِلمٍ وَخَتَمَ عَلىٰ سَمعِهِ وَقَلبِهِ وَجَعَلَ عَلىٰ بَصَرِهِ غِشٰوَةً فَمَن يَهديهِ مِن بَعدِ اللَّهِ ۚ أَفَلا تَذَكَّرونَ(23)
پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے علم کے باوجود اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟ اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟(23)
وَقالوا ما هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا نَموتُ وَنَحيا وَما يُهلِكُنا إِلَّا الدَّهرُ ۚ وَما لَهُم بِذٰلِكَ مِن عِلمٍ ۖ إِن هُم إِلّا يَظُنّونَ(24)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ "زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردش ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو" در حقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں(24)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ ما كانَ حُجَّتَهُم إِلّا أَن قالُوا ائتوا بِـٔابائِنا إِن كُنتُم صٰدِقينَ(25)
اور جب ہماری واضح آیات انہیں سنائی جاتی ہیں تو اِن کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اٹھا لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو(25)
قُلِ اللَّهُ يُحييكُم ثُمَّ يُميتُكُم ثُمَّ يَجمَعُكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(26)
اے نبیؐ، اِن سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں(26)
وَلِلَّهِ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَيَومَ تَقومُ السّاعَةُ يَومَئِذٍ يَخسَرُ المُبطِلونَ(27)
زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، اور جس روز قیامت کی گھڑی آ کھڑی ہو گی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے(27)
وَتَرىٰ كُلَّ أُمَّةٍ جاثِيَةً ۚ كُلُّ أُمَّةٍ تُدعىٰ إِلىٰ كِتٰبِهَا اليَومَ تُجزَونَ ما كُنتُم تَعمَلونَ(28)
اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامۂ اعمال دیکھے اُن سے کہا جائے گا: "آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے(28)
هٰذا كِتٰبُنا يَنطِقُ عَلَيكُم بِالحَقِّ ۚ إِنّا كُنّا نَستَنسِخُ ما كُنتُم تَعمَلونَ(29)
یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھواتے جا رہے تھے"(29)
فَأَمَّا الَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَيُدخِلُهُم رَبُّهُم فى رَحمَتِهِ ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ المُبينُ(30)
پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے(30)
وَأَمَّا الَّذينَ كَفَروا أَفَلَم تَكُن ءايٰتى تُتلىٰ عَلَيكُم فَاستَكبَرتُم وَكُنتُم قَومًا مُجرِمينَ(31)
اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا اُن سے کہا جائے گا "کیا میری آیات تم کو نہیں سنائی جاتی تھیں؟ مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کر رہے(31)
وَإِذا قيلَ إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسّاعَةُ لا رَيبَ فيها قُلتُم ما نَدرى مَا السّاعَةُ إِن نَظُنُّ إِلّا ظَنًّا وَما نَحنُ بِمُستَيقِنينَ(32)
اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے"(32)
وَبَدا لَهُم سَيِّـٔاتُ ما عَمِلوا وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(33)
اُس وقت اُن پر ان کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آ جائیں گے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے(33)
وَقيلَ اليَومَ نَنسىٰكُم كَما نَسيتُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا وَمَأوىٰكُمُ النّارُ وَما لَكُم مِن نٰصِرينَ(34)
اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ "آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھول گئے تھے تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے(34)
ذٰلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذتُم ءايٰتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتكُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ فَاليَومَ لا يُخرَجونَ مِنها وَلا هُم يُستَعتَبونَ(35)
یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رب کو راضی کرو"(35)
فَلِلَّهِ الحَمدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الأَرضِ رَبِّ العٰلَمينَ(36)
پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے(36)
وَلَهُ الكِبرِياءُ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(37)
زمین اور آسمانوں میں بڑائی اُسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے(37)