Al-Israa( الإسراء)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سُبحٰنَ الَّذى أَسرىٰ بِعَبدِهِ لَيلًا مِنَ المَسجِدِ الحَرامِ إِلَى المَسجِدِ الأَقصَا الَّذى بٰرَكنا حَولَهُ لِنُرِيَهُ مِن ءايٰتِنا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ البَصيرُ(1)
پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا(1)
وَءاتَينا موسَى الكِتٰبَ وَجَعَلنٰهُ هُدًى لِبَنى إِسرٰءيلَ أَلّا تَتَّخِذوا مِن دونى وَكيلًا(2)
ہم نے اِس سے پہلے موسیٰؑ کو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہ ہدایت بنایا تھا، اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا(2)
ذُرِّيَّةَ مَن حَمَلنا مَعَ نوحٍ ۚ إِنَّهُ كانَ عَبدًا شَكورًا(3)
تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا(3)
وَقَضَينا إِلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ فِى الكِتٰبِ لَتُفسِدُنَّ فِى الأَرضِ مَرَّتَينِ وَلَتَعلُنَّ عُلُوًّا كَبيرًا(4)
پھر ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے(4)
فَإِذا جاءَ وَعدُ أولىٰهُما بَعَثنا عَلَيكُم عِبادًا لَنا أُولى بَأسٍ شَديدٍ فَجاسوا خِلٰلَ الدِّيارِ ۚ وَكانَ وَعدًا مَفعولًا(5)
آخرکار جب اُن میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا(5)
ثُمَّ رَدَدنا لَكُمُ الكَرَّةَ عَلَيهِم وَأَمدَدنٰكُم بِأَموٰلٍ وَبَنينَ وَجَعَلنٰكُم أَكثَرَ نَفيرًا(6)
اِس کے بعد ہم نے تمہیں اُن پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی(6)
إِن أَحسَنتُم أَحسَنتُم لِأَنفُسِكُم ۖ وَإِن أَسَأتُم فَلَها ۚ فَإِذا جاءَ وَعدُ الءاخِرَةِ لِيَسۥـٔوا وُجوهَكُم وَلِيَدخُلُوا المَسجِدَ كَما دَخَلوهُ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَلِيُتَبِّروا ما عَلَوا تَتبيرًا(7)
دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اُسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں(7)
عَسىٰ رَبُّكُم أَن يَرحَمَكُم ۚ وَإِن عُدتُم عُدنا ۘ وَجَعَلنا جَهَنَّمَ لِلكٰفِرينَ حَصيرًا(8)
ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کا فر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے(8)
إِنَّ هٰذَا القُرءانَ يَهدى لِلَّتى هِىَ أَقوَمُ وَيُبَشِّرُ المُؤمِنينَ الَّذينَ يَعمَلونَ الصّٰلِحٰتِ أَنَّ لَهُم أَجرًا كَبيرًا(9)
حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے(9)
وَأَنَّ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ أَعتَدنا لَهُم عَذابًا أَليمًا(10)
اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے(10)
وَيَدعُ الإِنسٰنُ بِالشَّرِّ دُعاءَهُ بِالخَيرِ ۖ وَكانَ الإِنسٰنُ عَجولًا(11)
انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے(11)
وَجَعَلنَا الَّيلَ وَالنَّهارَ ءايَتَينِ ۖ فَمَحَونا ءايَةَ الَّيلِ وَجَعَلنا ءايَةَ النَّهارِ مُبصِرَةً لِتَبتَغوا فَضلًا مِن رَبِّكُم وَلِتَعلَموا عَدَدَ السِّنينَ وَالحِسابَ ۚ وَكُلَّ شَيءٍ فَصَّلنٰهُ تَفصيلًا(12)
دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کر کے رکھا ہے(12)
وَكُلَّ إِنسٰنٍ أَلزَمنٰهُ طٰئِرَهُ فى عُنُقِهِ ۖ وَنُخرِجُ لَهُ يَومَ القِيٰمَةِ كِتٰبًا يَلقىٰهُ مَنشورًا(13)
ہر انسان کا شگون ہم نے اُس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اُس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا(13)
اقرَأ كِتٰبَكَ كَفىٰ بِنَفسِكَ اليَومَ عَلَيكَ حَسيبًا(14)
پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے(14)
مَنِ اهتَدىٰ فَإِنَّما يَهتَدى لِنَفسِهِ ۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيها ۚ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۗ وَما كُنّا مُعَذِّبينَ حَتّىٰ نَبعَثَ رَسولًا(15)
جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبا ل اُسی پر ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے) ایک پیغام بر نہ بھیج دیں(15)
وَإِذا أَرَدنا أَن نُهلِكَ قَريَةً أَمَرنا مُترَفيها فَفَسَقوا فيها فَحَقَّ عَلَيهَا القَولُ فَدَمَّرنٰها تَدميرًا(16)
جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں(16)
وَكَم أَهلَكنا مِنَ القُرونِ مِن بَعدِ نوحٍ ۗ وَكَفىٰ بِرَبِّكَ بِذُنوبِ عِبادِهِ خَبيرًا بَصيرًا(17)
دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے(17)
مَن كانَ يُريدُ العاجِلَةَ عَجَّلنا لَهُ فيها ما نَشاءُ لِمَن نُريدُ ثُمَّ جَعَلنا لَهُ جَهَنَّمَ يَصلىٰها مَذمومًا مَدحورًا(18)
جو کوئی عاجلہ کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر(18)
وَمَن أَرادَ الءاخِرَةَ وَسَعىٰ لَها سَعيَها وَهُوَ مُؤمِنٌ فَأُولٰئِكَ كانَ سَعيُهُم مَشكورًا(19)
اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی(19)
كُلًّا نُمِدُّ هٰؤُلاءِ وَهٰؤُلاءِ مِن عَطاءِ رَبِّكَ ۚ وَما كانَ عَطاءُ رَبِّكَ مَحظورًا(20)
اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے(20)
انظُر كَيفَ فَضَّلنا بَعضَهُم عَلىٰ بَعضٍ ۚ وَلَلءاخِرَةُ أَكبَرُ دَرَجٰتٍ وَأَكبَرُ تَفضيلًا(21)
مگر دیکھ لو، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اُس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی(21)
لا تَجعَل مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتَقعُدَ مَذمومًا مَخذولًا(22)
تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مدد گار بیٹھا رہ جائیگا(22)
۞ وَقَضىٰ رَبُّكَ أَلّا تَعبُدوا إِلّا إِيّاهُ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسٰنًا ۚ إِمّا يَبلُغَنَّ عِندَكَ الكِبَرَ أَحَدُهُما أَو كِلاهُما فَلا تَقُل لَهُما أُفٍّ وَلا تَنهَرهُما وَقُل لَهُما قَولًا كَريمًا(23)
تیرے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک، یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو(23)
وَاخفِض لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحمَةِ وَقُل رَبِّ ارحَمهُما كَما رَبَّيانى صَغيرًا(24)
اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ "پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا"(24)
رَبُّكُم أَعلَمُ بِما فى نُفوسِكُم ۚ إِن تَكونوا صٰلِحينَ فَإِنَّهُ كانَ لِلأَوّٰبينَ غَفورًا(25)
تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے در گزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں(25)
وَءاتِ ذَا القُربىٰ حَقَّهُ وَالمِسكينَ وَابنَ السَّبيلِ وَلا تُبَذِّر تَبذيرًا(26)
رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق فضول خرچی نہ کرو(26)
إِنَّ المُبَذِّرينَ كانوا إِخوٰنَ الشَّيٰطينِ ۖ وَكانَ الشَّيطٰنُ لِرَبِّهِ كَفورًا(27)
فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے(27)
وَإِمّا تُعرِضَنَّ عَنهُمُ ابتِغاءَ رَحمَةٍ مِن رَبِّكَ تَرجوها فَقُل لَهُم قَولًا مَيسورًا(28)
اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو(28)
وَلا تَجعَل يَدَكَ مَغلولَةً إِلىٰ عُنُقِكَ وَلا تَبسُطها كُلَّ البَسطِ فَتَقعُدَ مَلومًا مَحسورًا(29)
نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ(29)
إِنَّ رَبَّكَ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ وَيَقدِرُ ۚ إِنَّهُ كانَ بِعِبادِهِ خَبيرًا بَصيرًا(30)
تیر ا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے(30)
وَلا تَقتُلوا أَولٰدَكُم خَشيَةَ إِملٰقٍ ۖ نَحنُ نَرزُقُهُم وَإِيّاكُم ۚ إِنَّ قَتلَهُم كانَ خِطـًٔا كَبيرًا(31)
اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی در حقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے(31)
وَلا تَقرَبُوا الزِّنىٰ ۖ إِنَّهُ كانَ فٰحِشَةً وَساءَ سَبيلًا(32)
زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہی برا راستہ(32)
وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ ۗ وَمَن قُتِلَ مَظلومًا فَقَد جَعَلنا لِوَلِيِّهِ سُلطٰنًا فَلا يُسرِف فِى القَتلِ ۖ إِنَّهُ كانَ مَنصورًا(33)
قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے، پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے، اُس کی مدد کی جائے گی(33)
وَلا تَقرَبوا مالَ اليَتيمِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ حَتّىٰ يَبلُغَ أَشُدَّهُ ۚ وَأَوفوا بِالعَهدِ ۖ إِنَّ العَهدَ كانَ مَسـٔولًا(34)
ما ل یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی(34)
وَأَوفُوا الكَيلَ إِذا كِلتُم وَزِنوا بِالقِسطاسِ المُستَقيمِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا(35)
پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو، اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی یہی بہتر ہے(35)
وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ ۚ إِنَّ السَّمعَ وَالبَصَرَ وَالفُؤادَ كُلُّ أُولٰئِكَ كانَ عَنهُ مَسـٔولًا(36)
کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے(36)
وَلا تَمشِ فِى الأَرضِ مَرَحًا ۖ إِنَّكَ لَن تَخرِقَ الأَرضَ وَلَن تَبلُغَ الجِبالَ طولًا(37)
زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو(37)
كُلُّ ذٰلِكَ كانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكروهًا(38)
اِن امور میں سے ہر ایک کا برا پہلو تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہے(38)
ذٰلِكَ مِمّا أَوحىٰ إِلَيكَ رَبُّكَ مِنَ الحِكمَةِ ۗ وَلا تَجعَل مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ فَتُلقىٰ فى جَهَنَّمَ مَلومًا مَدحورًا(39)
یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تو جہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر(39)
أَفَأَصفىٰكُم رَبُّكُم بِالبَنينَ وَاتَّخَذَ مِنَ المَلٰئِكَةِ إِنٰثًا ۚ إِنَّكُم لَتَقولونَ قَولًا عَظيمًا(40)
کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟ بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو(40)
وَلَقَد صَرَّفنا فى هٰذَا القُرءانِ لِيَذَّكَّروا وَما يَزيدُهُم إِلّا نُفورًا(41)
ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں(41)
قُل لَو كانَ مَعَهُ ءالِهَةٌ كَما يَقولونَ إِذًا لَابتَغَوا إِلىٰ ذِى العَرشِ سَبيلًا(42)
اے محمدؐ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالک عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے(42)
سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يَقولونَ عُلُوًّا كَبيرًا(43)
پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں(43)
تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبعُ وَالأَرضُ وَمَن فيهِنَّ ۚ وَإِن مِن شَيءٍ إِلّا يُسَبِّحُ بِحَمدِهِ وَلٰكِن لا تَفقَهونَ تَسبيحَهُم ۗ إِنَّهُ كانَ حَليمًا غَفورًا(44)
اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے(44)
وَإِذا قَرَأتَ القُرءانَ جَعَلنا بَينَكَ وَبَينَ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ حِجابًا مَستورًا(45)
جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں(45)
وَجَعَلنا عَلىٰ قُلوبِهِم أَكِنَّةً أَن يَفقَهوهُ وَفى ءاذانِهِم وَقرًا ۚ وَإِذا ذَكَرتَ رَبَّكَ فِى القُرءانِ وَحدَهُ وَلَّوا عَلىٰ أَدبٰرِهِم نُفورًا(46)
اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں(46)
نَحنُ أَعلَمُ بِما يَستَمِعونَ بِهِ إِذ يَستَمِعونَ إِلَيكَ وَإِذ هُم نَجوىٰ إِذ يَقولُ الظّٰلِمونَ إِن تَتَّبِعونَ إِلّا رَجُلًا مَسحورًا(47)
ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جا رہے ہو(47)
انظُر كَيفَ ضَرَبوا لَكَ الأَمثالَ فَضَلّوا فَلا يَستَطيعونَ سَبيلًا(48)
دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں یہ بھٹک گئے ہیں اِنہیں راستہ نہیں ملتا(48)
وَقالوا أَءِذا كُنّا عِظٰمًا وَرُفٰتًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ خَلقًا جَديدًا(49)
وہ کہتے ہیں "جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟"(49)
۞ قُل كونوا حِجارَةً أَو حَديدًا(50)
ان سے کہو "تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاؤ(50)
أَو خَلقًا مِمّا يَكبُرُ فى صُدورِكُم ۚ فَسَيَقولونَ مَن يُعيدُنا ۖ قُلِ الَّذى فَطَرَكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنغِضونَ إِلَيكَ رُءوسَهُم وَيَقولونَ مَتىٰ هُوَ ۖ قُل عَسىٰ أَن يَكونَ قَريبًا(51)
یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو" (پھر بھی تم اٹھ کر رہو گے) وہ ضرور پوچھیں گے "کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا؟" جواب میں کہو "وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا" وہ سر ہلا ہلا کر پوچھیں گے "اچھا، تو یہ ہوگا کب؟" تم کہو "کیا عجب، وہ وقت قریب ہی آ لگا ہو(51)
يَومَ يَدعوكُم فَتَستَجيبونَ بِحَمدِهِ وَتَظُنّونَ إِن لَبِثتُم إِلّا قَليلًا(52)
جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آؤ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں"(52)
وَقُل لِعِبادى يَقولُوا الَّتى هِىَ أَحسَنُ ۚ إِنَّ الشَّيطٰنَ يَنزَغُ بَينَهُم ۚ إِنَّ الشَّيطٰنَ كانَ لِلإِنسٰنِ عَدُوًّا مُبينًا(53)
اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے(53)
رَبُّكُم أَعلَمُ بِكُم ۖ إِن يَشَأ يَرحَمكُم أَو إِن يَشَأ يُعَذِّبكُم ۚ وَما أَرسَلنٰكَ عَلَيهِم وَكيلًا(54)
تمہارا رب تمہارے حال سے زیادہ واقف ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے(54)
وَرَبُّكَ أَعلَمُ بِمَن فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَلَقَد فَضَّلنا بَعضَ النَّبِيّۦنَ عَلىٰ بَعضٍ ۖ وَءاتَينا داوۥدَ زَبورًا(55)
تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے، اور ہم نے ہی داؤدؑ کو زبور دی تھی(55)
قُلِ ادعُوا الَّذينَ زَعَمتُم مِن دونِهِ فَلا يَملِكونَ كَشفَ الضُّرِّ عَنكُم وَلا تَحويلًا(56)
اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کارساز) سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں(56)
أُولٰئِكَ الَّذينَ يَدعونَ يَبتَغونَ إِلىٰ رَبِّهِمُ الوَسيلَةَ أَيُّهُم أَقرَبُ وَيَرجونَ رَحمَتَهُ وَيَخافونَ عَذابَهُ ۚ إِنَّ عَذابَ رَبِّكَ كانَ مَحذورًا(57)
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے امیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق(57)
وَإِن مِن قَريَةٍ إِلّا نَحنُ مُهلِكوها قَبلَ يَومِ القِيٰمَةِ أَو مُعَذِّبوها عَذابًا شَديدًا ۚ كانَ ذٰلِكَ فِى الكِتٰبِ مَسطورًا(58)
اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں یہ نوشتہ الٰہی میں لکھا ہوا ہے(58)
وَما مَنَعَنا أَن نُرسِلَ بِالءايٰتِ إِلّا أَن كَذَّبَ بِهَا الأَوَّلونَ ۚ وَءاتَينا ثَمودَ النّاقَةَ مُبصِرَةً فَظَلَموا بِها ۚ وَما نُرسِلُ بِالءايٰتِ إِلّا تَخويفًا(59)
اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جھٹلا چکے ہیں (چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اس پر ظلم کیا ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں(59)
وَإِذ قُلنا لَكَ إِنَّ رَبَّكَ أَحاطَ بِالنّاسِ ۚ وَما جَعَلنَا الرُّءيَا الَّتى أَرَينٰكَ إِلّا فِتنَةً لِلنّاسِ وَالشَّجَرَةَ المَلعونَةَ فِى القُرءانِ ۚ وَنُخَوِّفُهُم فَما يَزيدُهُم إِلّا طُغيٰنًا كَبيرًا(60)
یاد کرو اے محمدؐ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے اِن لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے، اِس کو اور اُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سر کشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے(60)
وَإِذ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ قالَ ءَأَسجُدُ لِمَن خَلَقتَ طينًا(61)
اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا ا س نے کہا "کیا میں اُس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟"(61)
قالَ أَرَءَيتَكَ هٰذَا الَّذى كَرَّمتَ عَلَىَّ لَئِن أَخَّرتَنِ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لَأَحتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلّا قَليلًا(62)
پھر وہ بولا "دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے"(62)
قالَ اذهَب فَمَن تَبِعَكَ مِنهُم فَإِنَّ جَهَنَّمَ جَزاؤُكُم جَزاءً مَوفورًا(63)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اچھا تو جا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں، تجھ سمیت اُن سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزا ہے(63)
وَاستَفزِز مَنِ استَطَعتَ مِنهُم بِصَوتِكَ وَأَجلِب عَلَيهِم بِخَيلِكَ وَرَجِلِكَ وَشارِكهُم فِى الأَموٰلِ وَالأَولٰدِ وَعِدهُم ۚ وَما يَعِدُهُمُ الشَّيطٰنُ إِلّا غُرورًا(64)
تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا، اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں(64)
إِنَّ عِبادى لَيسَ لَكَ عَلَيهِم سُلطٰنٌ ۚ وَكَفىٰ بِرَبِّكَ وَكيلًا(65)
یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا، اور توکل کے لیے تیرا رب کافی ہے"(65)
رَبُّكُمُ الَّذى يُزجى لَكُمُ الفُلكَ فِى البَحرِ لِتَبتَغوا مِن فَضلِهِ ۚ إِنَّهُ كانَ بِكُم رَحيمًا(66)
تمہارا (حقیقی) رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلا ش کرو حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے(66)
وَإِذا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِى البَحرِ ضَلَّ مَن تَدعونَ إِلّا إِيّاهُ ۖ فَلَمّا نَجّىٰكُم إِلَى البَرِّ أَعرَضتُم ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ كَفورًا(67)
جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گم ہو جاتے ہیں، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے(67)
أَفَأَمِنتُم أَن يَخسِفَ بِكُم جانِبَ البَرِّ أَو يُرسِلَ عَلَيكُم حاصِبًا ثُمَّ لا تَجِدوا لَكُم وَكيلًا(68)
اچھا، تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاؤ؟(68)
أَم أَمِنتُم أَن يُعيدَكُم فيهِ تارَةً أُخرىٰ فَيُرسِلَ عَلَيكُم قاصِفًا مِنَ الرّيحِ فَيُغرِقَكُم بِما كَفَرتُم ۙ ثُمَّ لا تَجِدوا لَكُم عَلَينا بِهِ تَبيعًا(69)
اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے؟(69)
۞ وَلَقَد كَرَّمنا بَنى ءادَمَ وَحَمَلنٰهُم فِى البَرِّ وَالبَحرِ وَرَزَقنٰهُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلنٰهُم عَلىٰ كَثيرٍ مِمَّن خَلَقنا تَفضيلًا(70)
یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی(70)
يَومَ نَدعوا كُلَّ أُناسٍ بِإِمٰمِهِم ۖ فَمَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِيَمينِهِ فَأُولٰئِكَ يَقرَءونَ كِتٰبَهُم وَلا يُظلَمونَ فَتيلًا(71)
پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا(71)
وَمَن كانَ فى هٰذِهِ أَعمىٰ فَهُوَ فِى الءاخِرَةِ أَعمىٰ وَأَضَلُّ سَبيلًا(72)
اور جو اِس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام(72)
وَإِن كادوا لَيَفتِنونَكَ عَنِ الَّذى أَوحَينا إِلَيكَ لِتَفتَرِىَ عَلَينا غَيرَهُ ۖ وَإِذًا لَاتَّخَذوكَ خَليلًا(73)
اے محمدؐ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنا لیتے(73)
وَلَولا أَن ثَبَّتنٰكَ لَقَد كِدتَ تَركَنُ إِلَيهِم شَيـًٔا قَليلًا(74)
اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے(74)
إِذًا لَأَذَقنٰكَ ضِعفَ الحَيوٰةِ وَضِعفَ المَماتِ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ عَلَينا نَصيرًا(75)
لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے(75)
وَإِن كادوا لَيَستَفِزّونَكَ مِنَ الأَرضِ لِيُخرِجوكَ مِنها ۖ وَإِذًا لا يَلبَثونَ خِلٰفَكَ إِلّا قَليلًا(76)
اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سر زمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھیر سکیں گے(76)
سُنَّةَ مَن قَد أَرسَلنا قَبلَكَ مِن رُسُلِنا ۖ وَلا تَجِدُ لِسُنَّتِنا تَحويلًا(77)
یہ ہمارا مستقل طریق کار ہے جو اُن سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا، اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے(77)
أَقِمِ الصَّلوٰةَ لِدُلوكِ الشَّمسِ إِلىٰ غَسَقِ الَّيلِ وَقُرءانَ الفَجرِ ۖ إِنَّ قُرءانَ الفَجرِ كانَ مَشهودًا(78)
نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر اندھیرے تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہود ہوتا ہے(78)
وَمِنَ الَّيلِ فَتَهَجَّد بِهِ نافِلَةً لَكَ عَسىٰ أَن يَبعَثَكَ رَبُّكَ مَقامًا مَحمودًا(79)
اور رات کو تہجد پڑھو، یہ تمہارے لیے نفل ہے، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کر دے(79)
وَقُل رَبِّ أَدخِلنى مُدخَلَ صِدقٍ وَأَخرِجنى مُخرَجَ صِدقٍ وَاجعَل لى مِن لَدُنكَ سُلطٰنًا نَصيرًا(80)
اور دعا کرو کہ پروردگار، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے(80)
وَقُل جاءَ الحَقُّ وَزَهَقَ البٰطِلُ ۚ إِنَّ البٰطِلَ كانَ زَهوقًا(81)
اور اعلان کر دو کہ "حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے"(81)
وَنُنَزِّلُ مِنَ القُرءانِ ما هُوَ شِفاءٌ وَرَحمَةٌ لِلمُؤمِنينَ ۙ وَلا يَزيدُ الظّٰلِمينَ إِلّا خَسارًا(82)
ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا(82)
وَإِذا أَنعَمنا عَلَى الإِنسٰنِ أَعرَضَ وَنَـٔا بِجانِبِهِ ۖ وَإِذا مَسَّهُ الشَّرُّ كانَ يَـٔوسًا(83)
انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دو چار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے(83)
قُل كُلٌّ يَعمَلُ عَلىٰ شاكِلَتِهِ فَرَبُّكُم أَعلَمُ بِمَن هُوَ أَهدىٰ سَبيلًا(84)
اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ "ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے"(84)
وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ الرّوحِ ۖ قُلِ الرّوحُ مِن أَمرِ رَبّى وَما أوتيتُم مِنَ العِلمِ إِلّا قَليلًا(85)
یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں کہو "یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے"(85)
وَلَئِن شِئنا لَنَذهَبَنَّ بِالَّذى أَوحَينا إِلَيكَ ثُمَّ لا تَجِدُ لَكَ بِهِ عَلَينا وَكيلًا(86)
اور اے محمدؐ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطا کیا ہے، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پاؤ گے جو اسے واپس دلا سکے(86)
إِلّا رَحمَةً مِن رَبِّكَ ۚ إِنَّ فَضلَهُ كانَ عَلَيكَ كَبيرًا(87)
یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے(87)
قُل لَئِنِ اجتَمَعَتِ الإِنسُ وَالجِنُّ عَلىٰ أَن يَأتوا بِمِثلِ هٰذَا القُرءانِ لا يَأتونَ بِمِثلِهِ وَلَو كانَ بَعضُهُم لِبَعضٍ ظَهيرًا(88)
کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں(88)
وَلَقَد صَرَّفنا لِلنّاسِ فى هٰذَا القُرءانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ فَأَبىٰ أَكثَرُ النّاسِ إِلّا كُفورًا(89)
ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر انکار ہی پر جمے رہے(89)
وَقالوا لَن نُؤمِنَ لَكَ حَتّىٰ تَفجُرَ لَنا مِنَ الأَرضِ يَنبوعًا(90)
اور انہوں نے کہا "ہم تیر ی بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے(90)
أَو تَكونَ لَكَ جَنَّةٌ مِن نَخيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأَنهٰرَ خِلٰلَها تَفجيرًا(91)
یا تیرے لیے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے(91)
أَو تُسقِطَ السَّماءَ كَما زَعَمتَ عَلَينا كِسَفًا أَو تَأتِىَ بِاللَّهِ وَالمَلٰئِكَةِ قَبيلًا(92)
یا تو آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے(92)
أَو يَكونَ لَكَ بَيتٌ مِن زُخرُفٍ أَو تَرقىٰ فِى السَّماءِ وَلَن نُؤمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّىٰ تُنَزِّلَ عَلَينا كِتٰبًا نَقرَؤُهُ ۗ قُل سُبحانَ رَبّى هَل كُنتُ إِلّا بَشَرًا رَسولًا(93)
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں" اے محمدؐ، اِن سے کہو "پاک ہے میرا پروردگار! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟"(93)
وَما مَنَعَ النّاسَ أَن يُؤمِنوا إِذ جاءَهُمُ الهُدىٰ إِلّا أَن قالوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَسولًا(94)
لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ "کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟"(94)
قُل لَو كانَ فِى الأَرضِ مَلٰئِكَةٌ يَمشونَ مُطمَئِنّينَ لَنَزَّلنا عَلَيهِم مِنَ السَّماءِ مَلَكًا رَسولًا(95)
اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے(95)
قُل كَفىٰ بِاللَّهِ شَهيدًا بَينى وَبَينَكُم ۚ إِنَّهُ كانَ بِعِبادِهِ خَبيرًا بَصيرًا(96)
اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے(96)
وَمَن يَهدِ اللَّهُ فَهُوَ المُهتَدِ ۖ وَمَن يُضلِل فَلَن تَجِدَ لَهُم أَولِياءَ مِن دونِهِ ۖ وَنَحشُرُهُم يَومَ القِيٰمَةِ عَلىٰ وُجوهِهِم عُميًا وَبُكمًا وَصُمًّا ۖ مَأوىٰهُم جَهَنَّمُ ۖ كُلَّما خَبَت زِدنٰهُم سَعيرًا(97)
جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اسکے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پا سکتا ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گونگے اور بہرے اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے(97)
ذٰلِكَ جَزاؤُهُم بِأَنَّهُم كَفَروا بِـٔايٰتِنا وَقالوا أَءِذا كُنّا عِظٰمًا وَرُفٰتًا أَءِنّا لَمَبعوثونَ خَلقًا جَديدًا(98)
یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا "کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟"(98)
۞ أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ قادِرٌ عَلىٰ أَن يَخلُقَ مِثلَهُم وَجَعَلَ لَهُم أَجَلًا لا رَيبَ فيهِ فَأَبَى الظّٰلِمونَ إِلّا كُفورًا(99)
کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانو ں کو پیدا کیا ہے وہ اِن جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے(99)
قُل لَو أَنتُم تَملِكونَ خَزائِنَ رَحمَةِ رَبّى إِذًا لَأَمسَكتُم خَشيَةَ الإِنفاقِ ۚ وَكانَ الإِنسٰنُ قَتورًا(100)
اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے(100)
وَلَقَد ءاتَينا موسىٰ تِسعَ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ ۖ فَسـَٔل بَنى إِسرٰءيلَ إِذ جاءَهُم فَقالَ لَهُ فِرعَونُ إِنّى لَأَظُنُّكَ يٰموسىٰ مَسحورًا(101)
ہم نے موسیٰؑ کو تو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نا کہ "اے موسیٰؑ، میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے"(101)
قالَ لَقَد عَلِمتَ ما أَنزَلَ هٰؤُلاءِ إِلّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ بَصائِرَ وَإِنّى لَأَظُنُّكَ يٰفِرعَونُ مَثبورًا(102)
موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا "تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں رب السماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون، تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے"(102)
فَأَرادَ أَن يَستَفِزَّهُم مِنَ الأَرضِ فَأَغرَقنٰهُ وَمَن مَعَهُ جَميعًا(103)
آخرکار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اوراس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کر دیا(103)
وَقُلنا مِن بَعدِهِ لِبَنى إِسرٰءيلَ اسكُنُوا الأَرضَ فَإِذا جاءَ وَعدُ الءاخِرَةِ جِئنا بِكُم لَفيفًا(104)
اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے(104)
وَبِالحَقِّ أَنزَلنٰهُ وَبِالحَقِّ نَزَلَ ۗ وَما أَرسَلنٰكَ إِلّا مُبَشِّرًا وَنَذيرًا(105)
اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اُسے) متنبہ کر دو(105)
وَقُرءانًا فَرَقنٰهُ لِتَقرَأَهُ عَلَى النّاسِ عَلىٰ مُكثٍ وَنَزَّلنٰهُ تَنزيلًا(106)
اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھیر ٹھیر کر اسے لوگوں کو سناؤ، اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے(106)
قُل ءامِنوا بِهِ أَو لا تُؤمِنوا ۚ إِنَّ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ مِن قَبلِهِ إِذا يُتلىٰ عَلَيهِم يَخِرّونَ لِلأَذقانِ سُجَّدًا(107)
اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں(107)
وَيَقولونَ سُبحٰنَ رَبِّنا إِن كانَ وَعدُ رَبِّنا لَمَفعولًا(108)
اور پکار اٹھتے ہیں "پاک ہے ہمارا رب، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا"(108)
وَيَخِرّونَ لِلأَذقانِ يَبكونَ وَيَزيدُهُم خُشوعًا ۩(109)
اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے(109)
قُلِ ادعُوا اللَّهَ أَوِ ادعُوا الرَّحمٰنَ ۖ أَيًّا ما تَدعوا فَلَهُ الأَسماءُ الحُسنىٰ ۚ وَلا تَجهَر بِصَلاتِكَ وَلا تُخافِت بِها وَابتَغِ بَينَ ذٰلِكَ سَبيلًا(110)
اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو(110)
وَقُلِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى لَم يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَهُ شَريكٌ فِى المُلكِ وَلَم يَكُن لَهُ وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرهُ تَكبيرًا(111)
اور کہو "تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو" اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی(111)