Al-Hijr( الحجر)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الر ۚ تِلكَ ءايٰتُ الكِتٰبِ وَقُرءانٍ مُبينٍ(1)
ا ل ر یہ آیات ہیں کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی(1)
رُبَما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَروا لَو كانوا مُسلِمينَ(2)
بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کر دیا ہے پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا(2)
ذَرهُم يَأكُلوا وَيَتَمَتَّعوا وَيُلهِهِمُ الأَمَلُ ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(3)
چھوڑو اِنہیں کھائیں، پییں، مزے کریں، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی امید عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا(3)
وَما أَهلَكنا مِن قَريَةٍ إِلّا وَلَها كِتابٌ مَعلومٌ(4)
ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی(4)
ما تَسبِقُ مِن أُمَّةٍ أَجَلَها وَما يَستَـٔخِرونَ(5)
کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے(5)
وَقالوا يٰأَيُّهَا الَّذى نُزِّلَ عَلَيهِ الذِّكرُ إِنَّكَ لَمَجنونٌ(6)
یہ لوگ کہتے ہیں "اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے(6)
لَو ما تَأتينا بِالمَلٰئِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(7)
اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا؟"(7)
ما نُنَزِّلُ المَلٰئِكَةَ إِلّا بِالحَقِّ وَما كانوا إِذًا مُنظَرينَ(8)
ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی(8)
إِنّا نَحنُ نَزَّلنَا الذِّكرَ وَإِنّا لَهُ لَحٰفِظونَ(9)
رہا یہ ذکر، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں(9)
وَلَقَد أَرسَلنا مِن قَبلِكَ فى شِيَعِ الأَوَّلينَ(10)
اے محمدؐ، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں(10)
وَما يَأتيهِم مِن رَسولٍ إِلّا كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(11)
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کہ پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو(11)
كَذٰلِكَ نَسلُكُهُ فى قُلوبِ المُجرِمينَ(12)
مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اِسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں(12)
لا يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَقَد خَلَت سُنَّةُ الأَوَّلينَ(13)
وہ اِس پر ایمان نہیں لایا کرتے قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے(13)
وَلَو فَتَحنا عَلَيهِم بابًا مِنَ السَّماءِ فَظَلّوا فيهِ يَعرُجونَ(14)
اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے(14)
لَقالوا إِنَّما سُكِّرَت أَبصٰرُنا بَل نَحنُ قَومٌ مَسحورونَ(15)
تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے(15)
وَلَقَد جَعَلنا فِى السَّماءِ بُروجًا وَزَيَّنّٰها لِلنّٰظِرينَ(16)
یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا(16)
وَحَفِظنٰها مِن كُلِّ شَيطٰنٍ رَجيمٍ(17)
اور ہر شیطان مردود سے ان کو محفوظ کر دیا(17)
إِلّا مَنِ استَرَقَ السَّمعَ فَأَتبَعَهُ شِهابٌ مُبينٌ(18)
کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا، الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے(18)
وَالأَرضَ مَدَدنٰها وَأَلقَينا فيها رَوٰسِىَ وَأَنبَتنا فيها مِن كُلِّ شَيءٍ مَوزونٍ(19)
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی(19)
وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعٰيِشَ وَمَن لَستُم لَهُ بِرٰزِقينَ(20)
اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو(20)
وَإِن مِن شَيءٍ إِلّا عِندَنا خَزائِنُهُ وَما نُنَزِّلُهُ إِلّا بِقَدَرٍ مَعلومٍ(21)
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں(21)
وَأَرسَلنَا الرِّيٰحَ لَوٰقِحَ فَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَسقَينٰكُموهُ وَما أَنتُم لَهُ بِخٰزِنينَ(22)
بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اُس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں اِس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو(22)
وَإِنّا لَنَحنُ نُحيۦ وَنُميتُ وَنَحنُ الوٰرِثونَ(23)
زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں(23)
وَلَقَد عَلِمنَا المُستَقدِمينَ مِنكُم وَلَقَد عَلِمنَا المُستَـٔخِرينَ(24)
پہلے جو لوگ تم میں سے ہو گزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں(24)
وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحشُرُهُم ۚ إِنَّهُ حَكيمٌ عَليمٌ(25)
یقیناً تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی(25)
وَلَقَد خَلَقنَا الإِنسٰنَ مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(26)
ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا(26)
وَالجانَّ خَلَقنٰهُ مِن قَبلُ مِن نارِ السَّمومِ(27)
اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے(27)
وَإِذ قالَ رَبُّكَ لِلمَلٰئِكَةِ إِنّى خٰلِقٌ بَشَرًا مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(28)
پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں(28)
فَإِذا سَوَّيتُهُ وَنَفَختُ فيهِ مِن روحى فَقَعوا لَهُ سٰجِدينَ(29)
جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا"(29)
فَسَجَدَ المَلٰئِكَةُ كُلُّهُم أَجمَعونَ(30)
چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا(30)
إِلّا إِبليسَ أَبىٰ أَن يَكونَ مَعَ السّٰجِدينَ(31)
سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا(31)
قالَ يٰإِبليسُ ما لَكَ أَلّا تَكونَ مَعَ السّٰجِدينَ(32)
رب نے پوچھا "اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟(32)
قالَ لَم أَكُن لِأَسجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقتَهُ مِن صَلصٰلٍ مِن حَمَإٍ مَسنونٍ(33)
اس نے کہا "میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے"(33)
قالَ فَاخرُج مِنها فَإِنَّكَ رَجيمٌ(34)
رب نے فرمایا "اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے(34)
وَإِنَّ عَلَيكَ اللَّعنَةَ إِلىٰ يَومِ الدّينِ(35)
اور اب روز جزا تک تجھ پر لعنت ہے"(35)
قالَ رَبِّ فَأَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(36)
اُس نے عرض کیا "میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے"(36)
قالَ فَإِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(37)
فرمایا "اچھا، تجھے مہلت ہے(37)
إِلىٰ يَومِ الوَقتِ المَعلومِ(38)
اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے"(38)
قالَ رَبِّ بِما أَغوَيتَنى لَأُزَيِّنَنَّ لَهُم فِى الأَرضِ وَلَأُغوِيَنَّهُم أَجمَعينَ(39)
وہ بولا "میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں اِن کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے اِن سب کو بہکا دوں گا(39)
إِلّا عِبادَكَ مِنهُمُ المُخلَصينَ(40)
سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے اِن میں سے خالص کر لیا ہو"(40)
قالَ هٰذا صِرٰطٌ عَلَىَّ مُستَقيمٌ(41)
فرمایا "یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے(41)
إِنَّ عِبادى لَيسَ لَكَ عَلَيهِم سُلطٰنٌ إِلّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الغاوينَ(42)
بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں(42)
وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوعِدُهُم أَجمَعينَ(43)
اور ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے"(43)
لَها سَبعَةُ أَبوٰبٍ لِكُلِّ بابٍ مِنهُم جُزءٌ مَقسومٌ(44)
یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے(44)
إِنَّ المُتَّقينَ فى جَنّٰتٍ وَعُيونٍ(45)
بخلاف اِس کے متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے(45)
ادخُلوها بِسَلٰمٍ ءامِنينَ(46)
اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر(46)
وَنَزَعنا ما فى صُدورِهِم مِن غِلٍّ إِخوٰنًا عَلىٰ سُرُرٍ مُتَقٰبِلينَ(47)
اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے(47)
لا يَمَسُّهُم فيها نَصَبٌ وَما هُم مِنها بِمُخرَجينَ(48)
اُنہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے(48)
۞ نَبِّئ عِبادى أَنّى أَنَا الغَفورُ الرَّحيمُ(49)
اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں(49)
وَأَنَّ عَذابى هُوَ العَذابُ الأَليمُ(50)
مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے(50)
وَنَبِّئهُم عَن ضَيفِ إِبرٰهيمَ(51)
اور انہیں ذرا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا قصہ سناؤ(51)
إِذ دَخَلوا عَلَيهِ فَقالوا سَلٰمًا قالَ إِنّا مِنكُم وَجِلونَ(52)
جب وہ آئے اُس کے ہاں اور کہا "سلام ہو تم پر،" تو اُس نے کہا "ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے"(52)
قالوا لا تَوجَل إِنّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَليمٍ(53)
اُنہوں نے جواب دیا "ڈرو نہیں، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں"(53)
قالَ أَبَشَّرتُمونى عَلىٰ أَن مَسَّنِىَ الكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرونَ(54)
ابراہیمؑ نے کہا "کیا تم اِس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟"(54)
قالوا بَشَّرنٰكَ بِالحَقِّ فَلا تَكُن مِنَ القٰنِطينَ(55)
اُنہوں نے جواب دیا "ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو"(55)
قالَ وَمَن يَقنَطُ مِن رَحمَةِ رَبِّهِ إِلَّا الضّالّونَ(56)
ابراہیمؑ نے کہا "اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں"(56)
قالَ فَما خَطبُكُم أَيُّهَا المُرسَلونَ(57)
پھر ابراہیمؑ نے پوچھا "اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟"(57)
قالوا إِنّا أُرسِلنا إِلىٰ قَومٍ مُجرِمينَ(58)
وہ بولے، "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں(58)
إِلّا ءالَ لوطٍ إِنّا لَمُنَجّوهُم أَجمَعينَ(59)
صرف لوطؑ کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، ان سب کو ہم بچا لیں گے(59)
إِلَّا امرَأَتَهُ قَدَّرنا ۙ إِنَّها لَمِنَ الغٰبِرينَ(60)
سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی"(60)
فَلَمّا جاءَ ءالَ لوطٍ المُرسَلونَ(61)
پھر جب یہ فرستادے لوطؑ کے ہاں پہنچے(61)
قالَ إِنَّكُم قَومٌ مُنكَرونَ(62)
تو اُس نے کہا "آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں"(62)
قالوا بَل جِئنٰكَ بِما كانوا فيهِ يَمتَرونَ(63)
اُنہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے(63)
وَأَتَينٰكَ بِالحَقِّ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(64)
ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں(64)
فَأَسرِ بِأَهلِكَ بِقِطعٍ مِنَ الَّيلِ وَاتَّبِع أَدبٰرَهُم وَلا يَلتَفِت مِنكُم أَحَدٌ وَامضوا حَيثُ تُؤمَرونَ(65)
لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے"(65)
وَقَضَينا إِلَيهِ ذٰلِكَ الأَمرَ أَنَّ دابِرَ هٰؤُلاءِ مَقطوعٌ مُصبِحينَ(66)
اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے اِن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی(66)
وَجاءَ أَهلُ المَدينَةِ يَستَبشِرونَ(67)
اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے(67)
قالَ إِنَّ هٰؤُلاءِ ضَيفى فَلا تَفضَحونِ(68)
لوطؑ نے کہا "بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو(68)
وَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخزونِ(69)
اللہ سے ڈرو، مجھے رسوا نہ کرو"(69)
قالوا أَوَلَم نَنهَكَ عَنِ العٰلَمينَ(70)
وہ بولے "کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کر چکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکے دار نہ بنو؟"(70)
قالَ هٰؤُلاءِ بَناتى إِن كُنتُم فٰعِلينَ(71)
لوطؑ نے عاجز ہو کر کہا "اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں!"(71)
لَعَمرُكَ إِنَّهُم لَفى سَكرَتِهِم يَعمَهونَ(72)
تیری جان کی قسم اے نبیؐ، اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے(72)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ مُشرِقينَ(73)
آخرکار پو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا(73)
فَجَعَلنا عٰلِيَها سافِلَها وَأَمطَرنا عَلَيهِم حِجارَةً مِن سِجّيلٍ(74)
اور ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی(74)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِلمُتَوَسِّمينَ(75)
اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں(75)
وَإِنَّها لَبِسَبيلٍ مُقيمٍ(76)
اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے(76)
إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِلمُؤمِنينَ(77)
اُس میں سامان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں(77)
وَإِن كانَ أَصحٰبُ الأَيكَةِ لَظٰلِمينَ(78)
اور ایکہ والے ظالم تھے(78)
فَانتَقَمنا مِنهُم وَإِنَّهُما لَبِإِمامٍ مُبينٍ(79)
تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں(79)
وَلَقَد كَذَّبَ أَصحٰبُ الحِجرِ المُرسَلينَ(80)
حجر کے لوگ بھی رسولوں کی تکذیب کر چکے ہیں(80)
وَءاتَينٰهُم ءايٰتِنا فَكانوا عَنها مُعرِضينَ(81)
ہم نے اپنی آیات اُن کے پاس بھیجیں، اپنی نشانیاں اُن کو دکھائیں، مگر وہ سب کو نظر انداز ہی کرتے رہے(81)
وَكانوا يَنحِتونَ مِنَ الجِبالِ بُيوتًا ءامِنينَ(82)
وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے(82)
فَأَخَذَتهُمُ الصَّيحَةُ مُصبِحينَ(83)
آخرکار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آ لیا(83)
فَما أَغنىٰ عَنهُم ما كانوا يَكسِبونَ(84)
اور اُن کی کمائی اُن کے کچھ کام نہ آئی(84)
وَما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ ۗ وَإِنَّ السّاعَةَ لَءاتِيَةٌ ۖ فَاصفَحِ الصَّفحَ الجَميلَ(85)
ہم نے زمین اور آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے، پس اے محمدؐ، تم (اِن لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو(85)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الخَلّٰقُ العَليمُ(86)
یقیناً تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے(86)
وَلَقَد ءاتَينٰكَ سَبعًا مِنَ المَثانى وَالقُرءانَ العَظيمَ(87)
ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے(87)
لا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلىٰ ما مَتَّعنا بِهِ أَزوٰجًا مِنهُم وَلا تَحزَن عَلَيهِم وَاخفِض جَناحَكَ لِلمُؤمِنينَ(88)
تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو(88)
وَقُل إِنّى أَنَا النَّذيرُ المُبينُ(89)
اور (نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں(89)
كَما أَنزَلنا عَلَى المُقتَسِمينَ(90)
یہ اُسی کی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی(90)
الَّذينَ جَعَلُوا القُرءانَ عِضينَ(91)
جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا ہے(91)
فَوَرَبِّكَ لَنَسـَٔلَنَّهُم أَجمَعينَ(92)
تو قسم ہے تیرے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے(92)
عَمّا كانوا يَعمَلونَ(93)
کہ تم کیا کرتے رہے ہو(93)
فَاصدَع بِما تُؤمَرُ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ(94)
پس اے نبیؐ، جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے، اُسے ہانکے پکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو(94)
إِنّا كَفَينٰكَ المُستَهزِءينَ(95)
تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں(95)
الَّذينَ يَجعَلونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ ۚ فَسَوفَ يَعلَمونَ(96)
جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا(96)
وَلَقَد نَعلَمُ أَنَّكَ يَضيقُ صَدرُكَ بِما يَقولونَ(97)
ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے(97)
فَسَبِّح بِحَمدِ رَبِّكَ وَكُن مِنَ السّٰجِدينَ(98)
اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ(98)
وَاعبُد رَبَّكَ حَتّىٰ يَأتِيَكَ اليَقينُ(99)
اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے(99)