Al-Haqqa( الحاقة)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحاقَّةُ(1)
ہونی شدنی!(1)
مَا الحاقَّةُ(2)
کیا ہے وہ ہونی شدنی؟(2)
وَما أَدرىٰكَ مَا الحاقَّةُ(3)
اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شدنی؟(3)
كَذَّبَت ثَمودُ وَعادٌ بِالقارِعَةِ(4)
ثمود اور عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت کو جھٹلایا(4)
فَأَمّا ثَمودُ فَأُهلِكوا بِالطّاغِيَةِ(5)
تو ثمود ایک سخت حادثہ میں ہلاک کیے گئے(5)
وَأَمّا عادٌ فَأُهلِكوا بِريحٍ صَرصَرٍ عاتِيَةٍ(6)
اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کر دیے گئے(6)
سَخَّرَها عَلَيهِم سَبعَ لَيالٍ وَثَمٰنِيَةَ أَيّامٍ حُسومًا فَتَرَى القَومَ فيها صَرعىٰ كَأَنَّهُم أَعجازُ نَخلٍ خاوِيَةٍ(7)
اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلط رکھا (تم وہاں ہوتے تو) دیکھتے کہ وہ وہاں اِس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں(7)
فَهَل تَرىٰ لَهُم مِن باقِيَةٍ(8)
اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچا نظر آتا ہے؟(8)
وَجاءَ فِرعَونُ وَمَن قَبلَهُ وَالمُؤتَفِكٰتُ بِالخاطِئَةِ(9)
اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تل پٹ ہو جانے والی بستیوں نے کیا(9)
فَعَصَوا رَسولَ رَبِّهِم فَأَخَذَهُم أَخذَةً رابِيَةً(10)
ان سب نے اپنے رب کے رسول کی بات نہ مانی تو اُس نے اُن کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا(10)
إِنّا لَمّا طَغَا الماءُ حَمَلنٰكُم فِى الجارِيَةِ(11)
جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کر دیا تھا(11)
لِنَجعَلَها لَكُم تَذكِرَةً وَتَعِيَها أُذُنٌ وٰعِيَةٌ(12)
تاکہ اِس واقعہ کو تمہارے لیے ایک سبق آموز یادگار بنا دیں اور یاد رکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں(12)
فَإِذا نُفِخَ فِى الصّورِ نَفخَةٌ وٰحِدَةٌ(13)
پھر جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائے گی(13)
وَحُمِلَتِ الأَرضُ وَالجِبالُ فَدُكَّتا دَكَّةً وٰحِدَةً(14)
اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا(14)
فَيَومَئِذٍ وَقَعَتِ الواقِعَةُ(15)
اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا(15)
وَانشَقَّتِ السَّماءُ فَهِىَ يَومَئِذٍ واهِيَةٌ(16)
اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑ جائے گی(16)
وَالمَلَكُ عَلىٰ أَرجائِها ۚ وَيَحمِلُ عَرشَ رَبِّكَ فَوقَهُم يَومَئِذٍ ثَمٰنِيَةٌ(17)
فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے(17)
يَومَئِذٍ تُعرَضونَ لا تَخفىٰ مِنكُم خافِيَةٌ(18)
وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کیے جاؤ گے، تمہارا کوئی راز بھی چھپا نہ رہ جائے گا(18)
فَأَمّا مَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِيَمينِهِ فَيَقولُ هاؤُمُ اقرَءوا كِتٰبِيَه(19)
اُس وقت جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "لو دیکھو، پڑھو میرا نامہ اعمال(19)
إِنّى ظَنَنتُ أَنّى مُلٰقٍ حِسابِيَه(20)
میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے"(20)
فَهُوَ فى عيشَةٍ راضِيَةٍ(21)
پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا(21)
فى جَنَّةٍ عالِيَةٍ(22)
عالی مقام جنت میں(22)
قُطوفُها دانِيَةٌ(23)
جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑ رہے ہوں گے(23)
كُلوا وَاشرَبوا هَنيـًٔا بِما أَسلَفتُم فِى الأَيّامِ الخالِيَةِ(24)
(ایسے لوگوں سے کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کیے ہیں(24)
وَأَمّا مَن أوتِىَ كِتٰبَهُ بِشِمالِهِ فَيَقولُ يٰلَيتَنى لَم أوتَ كِتٰبِيَه(25)
اور جس کا نامہ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا "کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا(25)
وَلَم أَدرِ ما حِسابِيَه(26)
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے(26)
يٰلَيتَها كانَتِ القاضِيَةَ(27)
کاش میری وہی موت (جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کن ہوتی(27)
ما أَغنىٰ عَنّى مالِيَه ۜ(28)
آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا(28)
هَلَكَ عَنّى سُلطٰنِيَه(29)
میرا سارا اقتدار ختم ہو گیا"(29)
خُذوهُ فَغُلّوهُ(30)
(حکم ہو گا) پکڑو اِسے اور اِس کی گردن میں طوق ڈال دو(30)
ثُمَّ الجَحيمَ صَلّوهُ(31)
پھر اِسے جہنم میں جھونک دو(31)
ثُمَّ فى سِلسِلَةٍ ذَرعُها سَبعونَ ذِراعًا فَاسلُكوهُ(32)
پھر اِس کو ستر ہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو(32)
إِنَّهُ كانَ لا يُؤمِنُ بِاللَّهِ العَظيمِ(33)
یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا(33)
وَلا يَحُضُّ عَلىٰ طَعامِ المِسكينِ(34)
اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا(34)
فَلَيسَ لَهُ اليَومَ هٰهُنا حَميمٌ(35)
لہٰذا آج نہ یہاں اِس کا کوئی یار غم خوار ہے(35)
وَلا طَعامٌ إِلّا مِن غِسلينٍ(36)
اور نہ زخموں کے دھوون کے سوا اِس کے لیے کوئی کھانا(36)
لا يَأكُلُهُ إِلَّا الخٰطِـٔونَ(37)
جسے خطا کاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا(37)
فَلا أُقسِمُ بِما تُبصِرونَ(38)
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو(38)
وَما لا تُبصِرونَ(39)
اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے(39)
إِنَّهُ لَقَولُ رَسولٍ كَريمٍ(40)
یہ ایک رسول کریم کا قول ہے(40)
وَما هُوَ بِقَولِ شاعِرٍ ۚ قَليلًا ما تُؤمِنونَ(41)
کسی شاعر کا قول نہیں ہے، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو(41)
وَلا بِقَولِ كاهِنٍ ۚ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ(42)
اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو(42)
تَنزيلٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(43)
یہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے(43)
وَلَو تَقَوَّلَ عَلَينا بَعضَ الأَقاويلِ(44)
اور اگر اس (نبی) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی(44)
لَأَخَذنا مِنهُ بِاليَمينِ(45)
تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے(45)
ثُمَّ لَقَطَعنا مِنهُ الوَتينَ(46)
اور اِس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے(46)
فَما مِنكُم مِن أَحَدٍ عَنهُ حٰجِزينَ(47)
پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اس کام سے روکنے والا نہ ہوتا(47)
وَإِنَّهُ لَتَذكِرَةٌ لِلمُتَّقينَ(48)
درحقیقت یہ پرہیزگار لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے(48)
وَإِنّا لَنَعلَمُ أَنَّ مِنكُم مُكَذِّبينَ(49)
اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں(49)
وَإِنَّهُ لَحَسرَةٌ عَلَى الكٰفِرينَ(50)
ایسے کافروں کے لیے یقیناً یہ موجب حسرت ہے(50)
وَإِنَّهُ لَحَقُّ اليَقينِ(51)
اور یہ بالکل یقینی حق ہے(51)
فَسَبِّح بِاسمِ رَبِّكَ العَظيمِ(52)
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو(52)