Al-Hadid( الحديد)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(1)
اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، اور وہی زبردست دانا ہے(1)
لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ يُحيۦ وَيُميتُ ۖ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(2)
زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے(2)
هُوَ الأَوَّلُ وَالءاخِرُ وَالظّٰهِرُ وَالباطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(3)
وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے(3)
هُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۚ يَعلَمُ ما يَلِجُ فِى الأَرضِ وَما يَخرُجُ مِنها وَما يَنزِلُ مِنَ السَّماءِ وَما يَعرُجُ فيها ۖ وَهُوَ مَعَكُم أَينَ ما كُنتُم ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(4)
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے(4)
لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ(5)
وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں(5)
يولِجُ الَّيلَ فِى النَّهارِ وَيولِجُ النَّهارَ فِى الَّيلِ ۚ وَهُوَ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(6)
وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے(6)
ءامِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ وَأَنفِقوا مِمّا جَعَلَكُم مُستَخلَفينَ فيهِ ۖ فَالَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَأَنفَقوا لَهُم أَجرٌ كَبيرٌ(7)
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے(7)
وَما لَكُم لا تُؤمِنونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسولُ يَدعوكُم لِتُؤمِنوا بِرَبِّكُم وَقَد أَخَذَ ميثٰقَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(8)
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو(8)
هُوَ الَّذى يُنَزِّلُ عَلىٰ عَبدِهِ ءايٰتٍ بَيِّنٰتٍ لِيُخرِجَكُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُم لَرَءوفٌ رَحيمٌ(9)
وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے(9)
وَما لَكُم أَلّا تُنفِقوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ ميرٰثُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ لا يَستَوى مِنكُم مَن أَنفَقَ مِن قَبلِ الفَتحِ وَقٰتَلَ ۚ أُولٰئِكَ أَعظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذينَ أَنفَقوا مِن بَعدُ وَقٰتَلوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الحُسنىٰ ۚ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ خَبيرٌ(10)
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے(10)
مَن ذَا الَّذى يُقرِضُ اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجرٌ كَريمٌ(11)
کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے(11)
يَومَ تَرَى المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ يَسعىٰ نورُهُم بَينَ أَيديهِم وَبِأَيمٰنِهِم بُشرىٰكُمُ اليَومَ جَنّٰتٌ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ ذٰلِكَ هُوَ الفَوزُ العَظيمُ(12)
اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) "آج بشارت ہے تمہارے لیے" جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی(12)
يَومَ يَقولُ المُنٰفِقونَ وَالمُنٰفِقٰتُ لِلَّذينَ ءامَنُوا انظُرونا نَقتَبِس مِن نورِكُم قيلَ ارجِعوا وَراءَكُم فَالتَمِسوا نورًا فَضُرِبَ بَينَهُم بِسورٍ لَهُ بابٌ باطِنُهُ فيهِ الرَّحمَةُ وَظٰهِرُهُ مِن قِبَلِهِ العَذابُ(13)
اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب(13)
يُنادونَهُم أَلَم نَكُن مَعَكُم ۖ قالوا بَلىٰ وَلٰكِنَّكُم فَتَنتُم أَنفُسَكُم وَتَرَبَّصتُم وَارتَبتُم وَغَرَّتكُمُ الأَمانِىُّ حَتّىٰ جاءَ أَمرُ اللَّهِ وَغَرَّكُم بِاللَّهِ الغَرورُ(14)
وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا(14)
فَاليَومَ لا يُؤخَذُ مِنكُم فِديَةٌ وَلا مِنَ الَّذينَ كَفَروا ۚ مَأوىٰكُمُ النّارُ ۖ هِىَ مَولىٰكُم ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(15)
لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے(15)
۞ أَلَم يَأنِ لِلَّذينَ ءامَنوا أَن تَخشَعَ قُلوبُهُم لِذِكرِ اللَّهِ وَما نَزَلَ مِنَ الحَقِّ وَلا يَكونوا كَالَّذينَ أوتُوا الكِتٰبَ مِن قَبلُ فَطالَ عَلَيهِمُ الأَمَدُ فَقَسَت قُلوبُهُم ۖ وَكَثيرٌ مِنهُم فٰسِقونَ(16)
کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟(16)
اعلَموا أَنَّ اللَّهَ يُحىِ الأَرضَ بَعدَ مَوتِها ۚ قَد بَيَّنّا لَكُمُ الءايٰتِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ(17)
خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو(17)
إِنَّ المُصَّدِّقينَ وَالمُصَّدِّقٰتِ وَأَقرَضُوا اللَّهَ قَرضًا حَسَنًا يُضٰعَفُ لَهُم وَلَهُم أَجرٌ كَريمٌ(18)
مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے(18)
وَالَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولٰئِكَ هُمُ الصِّدّيقونَ ۖ وَالشُّهَداءُ عِندَ رَبِّهِم لَهُم أَجرُهُم وَنورُهُم ۖ وَالَّذينَ كَفَروا وَكَذَّبوا بِـٔايٰتِنا أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَحيمِ(19)
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں(19)
اعلَموا أَنَّمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا لَعِبٌ وَلَهوٌ وَزينَةٌ وَتَفاخُرٌ بَينَكُم وَتَكاثُرٌ فِى الأَموٰلِ وَالأَولٰدِ ۖ كَمَثَلِ غَيثٍ أَعجَبَ الكُفّارَ نَباتُهُ ثُمَّ يَهيجُ فَتَرىٰهُ مُصفَرًّا ثُمَّ يَكونُ حُطٰمًا ۖ وَفِى الءاخِرَةِ عَذابٌ شَديدٌ وَمَغفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضوٰنٌ ۚ وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا مَتٰعُ الغُرورِ(20)
خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں(20)
سابِقوا إِلىٰ مَغفِرَةٍ مِن رَبِّكُم وَجَنَّةٍ عَرضُها كَعَرضِ السَّماءِ وَالأَرضِ أُعِدَّت لِلَّذينَ ءامَنوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذٰلِكَ فَضلُ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(21)
دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے(21)
ما أَصابَ مِن مُصيبَةٍ فِى الأَرضِ وَلا فى أَنفُسِكُم إِلّا فى كِتٰبٍ مِن قَبلِ أَن نَبرَأَها ۚ إِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرٌ(22)
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے(22)
لِكَيلا تَأسَوا عَلىٰ ما فاتَكُم وَلا تَفرَحوا بِما ءاتىٰكُم ۗ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ مُختالٍ فَخورٍ(23)
(یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں(23)
الَّذينَ يَبخَلونَ وَيَأمُرونَ النّاسَ بِالبُخلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الغَنِىُّ الحَميدُ(24)
جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں اب اگر کوئی رو گردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے(24)
لَقَد أَرسَلنا رُسُلَنا بِالبَيِّنٰتِ وَأَنزَلنا مَعَهُمُ الكِتٰبَ وَالميزانَ لِيَقومَ النّاسُ بِالقِسطِ ۖ وَأَنزَلنَا الحَديدَ فيهِ بَأسٌ شَديدٌ وَمَنٰفِعُ لِلنّاسِ وَلِيَعلَمَ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالغَيبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ عَزيزٌ(25)
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے(25)
وَلَقَد أَرسَلنا نوحًا وَإِبرٰهيمَ وَجَعَلنا فى ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالكِتٰبَ ۖ فَمِنهُم مُهتَدٍ ۖ وَكَثيرٌ مِنهُم فٰسِقونَ(26)
ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا اور اُن دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے(26)
ثُمَّ قَفَّينا عَلىٰ ءاثٰرِهِم بِرُسُلِنا وَقَفَّينا بِعيسَى ابنِ مَريَمَ وَءاتَينٰهُ الإِنجيلَ وَجَعَلنا فى قُلوبِ الَّذينَ اتَّبَعوهُ رَأفَةً وَرَحمَةً وَرَهبانِيَّةً ابتَدَعوها ما كَتَبنٰها عَلَيهِم إِلَّا ابتِغاءَ رِضوٰنِ اللَّهِ فَما رَعَوها حَقَّ رِعايَتِها ۖ فَـٔاتَينَا الَّذينَ ءامَنوا مِنهُم أَجرَهُم ۖ وَكَثيرٌ مِنهُم فٰسِقونَ(27)
اُن کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں(27)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَءامِنوا بِرَسولِهِ يُؤتِكُم كِفلَينِ مِن رَحمَتِهِ وَيَجعَل لَكُم نورًا تَمشونَ بِهِ وَيَغفِر لَكُم ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(28)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے(28)
لِئَلّا يَعلَمَ أَهلُ الكِتٰبِ أَلّا يَقدِرونَ عَلىٰ شَيءٍ مِن فَضلِ اللَّهِ ۙ وَأَنَّ الفَضلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤتيهِ مَن يَشاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(29)
(تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے(29)