Al-Furqan( الفرقان)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ تَبارَكَ الَّذى نَزَّلَ الفُرقانَ عَلىٰ عَبدِهِ لِيَكونَ لِلعٰلَمينَ نَذيرًا(1)
نہایت متبرک ہے وہ جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو(1)
الَّذى لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلَم يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَهُ شَريكٌ فِى المُلكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيءٍ فَقَدَّرَهُ تَقديرًا(2)
وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی(2)
وَاتَّخَذوا مِن دونِهِ ءالِهَةً لا يَخلُقونَ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ وَلا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم ضَرًّا وَلا نَفعًا وَلا يَملِكونَ مَوتًا وَلا حَيوٰةً وَلا نُشورًا(3)
لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبود بنا لیے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، جو نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں، نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں(3)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا إِفكٌ افتَرىٰهُ وَأَعانَهُ عَلَيهِ قَومٌ ءاخَرونَ ۖ فَقَد جاءو ظُلمًا وَزورًا(4)
جن لوگوں نے نبیؐ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اِس کام میں اس کی مدد کی ہے بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں(4)
وَقالوا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ اكتَتَبَها فَهِىَ تُملىٰ عَلَيهِ بُكرَةً وَأَصيلًا(5)
کہتے ہیں یہ پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کرتا ہے اور وہ اِسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں(5)
قُل أَنزَلَهُ الَّذى يَعلَمُ السِّرَّ فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ إِنَّهُ كانَ غَفورًا رَحيمًا(6)
اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "اِسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے" حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور رحیم ہے(6)
وَقالوا مالِ هٰذَا الرَّسولِ يَأكُلُ الطَّعامَ وَيَمشى فِى الأَسواقِ ۙ لَولا أُنزِلَ إِلَيهِ مَلَكٌ فَيَكونَ مَعَهُ نَذيرًا(7)
کہتے ہیں "یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا؟(7)
أَو يُلقىٰ إِلَيهِ كَنزٌ أَو تَكونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأكُلُ مِنها ۚ وَقالَ الظّٰلِمونَ إِن تَتَّبِعونَ إِلّا رَجُلًا مَسحورًا(8)
یا اور کچھ نہیں تو اِس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا، یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا" اور ظالم کہتے ہیں "تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو"(8)
انظُر كَيفَ ضَرَبوا لَكَ الأَمثٰلَ فَضَلّوا فَلا يَستَطيعونَ سَبيلًا(9)
دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سوجھتی(9)
تَبارَكَ الَّذى إِن شاءَ جَعَلَ لَكَ خَيرًا مِن ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ وَيَجعَل لَكَ قُصورًا(10)
بڑا بابرکت ہے وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے، (ایک نہیں) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور بڑے بڑے محل(10)
بَل كَذَّبوا بِالسّاعَةِ ۖ وَأَعتَدنا لِمَن كَذَّبَ بِالسّاعَةِ سَعيرًا(11)
اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ "اُس گھڑی" کو جھٹلا چکے ہیں اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے(11)
إِذا رَأَتهُم مِن مَكانٍ بَعيدٍ سَمِعوا لَها تَغَيُّظًا وَزَفيرًا(12)
وہ جب دور سے اِن کو دیکھے گی تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سن لیں گے(12)
وَإِذا أُلقوا مِنها مَكانًا ضَيِّقًا مُقَرَّنينَ دَعَوا هُنالِكَ ثُبورًا(13)
اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے(13)
لا تَدعُوا اليَومَ ثُبورًا وٰحِدًا وَادعوا ثُبورًا كَثيرًا(14)
(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ) آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کو پکارو(14)
قُل أَذٰلِكَ خَيرٌ أَم جَنَّةُ الخُلدِ الَّتى وُعِدَ المُتَّقونَ ۚ كانَت لَهُم جَزاءً وَمَصيرًا(15)
اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنت جس کا وعدہ خداترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے اعمال کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہو گی(15)
لَهُم فيها ما يَشاءونَ خٰلِدينَ ۚ كانَ عَلىٰ رَبِّكَ وَعدًا مَسـٔولًا(16)
جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہو گی، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے پروردگار کے ذمے ایک واجب الادا وعدہ ہے(16)
وَيَومَ يَحشُرُهُم وَما يَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ فَيَقولُ ءَأَنتُم أَضلَلتُم عِبادى هٰؤُلاءِ أَم هُم ضَلُّوا السَّبيلَ(17)
اور وہ وہی دن ہو گا جب کہ (تمہارا رب) اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبودوں کو بھی بُلا لے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا "کیا تم نے میرے اِن بندوں کر گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟"(17)
قالوا سُبحٰنَكَ ما كانَ يَنبَغى لَنا أَن نَتَّخِذَ مِن دونِكَ مِن أَولِياءَ وَلٰكِن مَتَّعتَهُم وَءاباءَهُم حَتّىٰ نَسُوا الذِّكرَ وَكانوا قَومًا بورًا(18)
وہ عرض کریں گے "پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولا بنائیں مگر آپ نے اِن کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے"(18)
فَقَد كَذَّبوكُم بِما تَقولونَ فَما تَستَطيعونَ صَرفًا وَلا نَصرًا ۚ وَمَن يَظلِم مِنكُم نُذِقهُ عَذابًا كَبيرًا(19)
یوں جھٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبود) تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے اسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے(19)
وَما أَرسَلنا قَبلَكَ مِنَ المُرسَلينَ إِلّا إِنَّهُم لَيَأكُلونَ الطَّعامَ وَيَمشونَ فِى الأَسواقِ ۗ وَجَعَلنا بَعضَكُم لِبَعضٍ فِتنَةً أَتَصبِرونَ ۗ وَكانَ رَبُّكَ بَصيرًا(20)
اے محمدؐ، تم سے پہلے جو رسول بھی ہم نے بھیجے ہیں وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے(20)
۞ وَقالَ الَّذينَ لا يَرجونَ لِقاءَنا لَولا أُنزِلَ عَلَينَا المَلٰئِكَةُ أَو نَرىٰ رَبَّنا ۗ لَقَدِ استَكبَروا فى أَنفُسِهِم وَعَتَو عُتُوًّا كَبيرًا(21)
جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں "کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں" بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سرکشی میں(21)
يَومَ يَرَونَ المَلٰئِكَةَ لا بُشرىٰ يَومَئِذٍ لِلمُجرِمينَ وَيَقولونَ حِجرًا مَحجورًا(22)
جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہوگا، چیخ اٹھیں گے کہ پناہ بخدا(22)
وَقَدِمنا إِلىٰ ما عَمِلوا مِن عَمَلٍ فَجَعَلنٰهُ هَباءً مَنثورًا(23)
اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے(23)
أَصحٰبُ الجَنَّةِ يَومَئِذٍ خَيرٌ مُستَقَرًّا وَأَحسَنُ مَقيلًا(24)
بس وہی لوگ جو جنت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھیریں گے اور دوپہرگزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے(24)
وَيَومَ تَشَقَّقُ السَّماءُ بِالغَمٰمِ وَنُزِّلَ المَلٰئِكَةُ تَنزيلًا(25)
آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اس روز نمودار ہو گا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتار دیے جائیں گے(25)
المُلكُ يَومَئِذٍ الحَقُّ لِلرَّحمٰنِ ۚ وَكانَ يَومًا عَلَى الكٰفِرينَ عَسيرًا(26)
اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان کی ہو گی اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہو گا(26)
وَيَومَ يَعَضُّ الظّالِمُ عَلىٰ يَدَيهِ يَقولُ يٰلَيتَنِى اتَّخَذتُ مَعَ الرَّسولِ سَبيلًا(27)
ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا "کاش میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا(27)
يٰوَيلَتىٰ لَيتَنى لَم أَتَّخِذ فُلانًا خَليلًا(28)
ہائے میری کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا(28)
لَقَد أَضَلَّنى عَنِ الذِّكرِ بَعدَ إِذ جاءَنى ۗ وَكانَ الشَّيطٰنُ لِلإِنسٰنِ خَذولًا(29)
اُس کے بہکائے میں آ کر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا"(29)
وَقالَ الرَّسولُ يٰرَبِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هٰذَا القُرءانَ مَهجورًا(30)
اور رسول کہے گا کہ "اے میرے رب، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہ تضحیک بنا لیا تھا"(30)
وَكَذٰلِكَ جَعَلنا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا مِنَ المُجرِمينَ ۗ وَكَفىٰ بِرَبِّكَ هادِيًا وَنَصيرًا(31)
اے محمدؐ، ہم نے تو اسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے اور تمہارے لیے تمہارا رب ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے(31)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لَولا نُزِّلَ عَلَيهِ القُرءانُ جُملَةً وٰحِدَةً ۚ كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤادَكَ ۖ وَرَتَّلنٰهُ تَرتيلًا(32)
منکرین کہتے ہیں "اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اتار دیا گیا؟" ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں اور (اسی غرض کے لیے) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے(32)
وَلا يَأتونَكَ بِمَثَلٍ إِلّا جِئنٰكَ بِالحَقِّ وَأَحسَنَ تَفسيرًا(33)
اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی(33)
الَّذينَ يُحشَرونَ عَلىٰ وُجوهِهِم إِلىٰ جَهَنَّمَ أُولٰئِكَ شَرٌّ مَكانًا وَأَضَلُّ سَبيلًا(34)
جو لوگ اوندھے منہ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت برا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے(34)
وَلَقَد ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ وَجَعَلنا مَعَهُ أَخاهُ هٰرونَ وَزيرًا(35)
ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا(35)
فَقُلنَا اذهَبا إِلَى القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا فَدَمَّرنٰهُم تَدميرًا(36)
اور اُن سے کہا کہ جاؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا(36)
وَقَومَ نوحٍ لَمّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ أَغرَقنٰهُم وَجَعَلنٰهُم لِلنّاسِ ءايَةً ۖ وَأَعتَدنا لِلظّٰلِمينَ عَذابًا أَليمًا(37)
یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے(37)
وَعادًا وَثَمودَا۟ وَأَصحٰبَ الرَّسِّ وَقُرونًا بَينَ ذٰلِكَ كَثيرًا(38)
اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے(38)
وَكُلًّا ضَرَبنا لَهُ الأَمثٰلَ ۖ وَكُلًّا تَبَّرنا تَتبيرًا(39)
اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا(39)
وَلَقَد أَتَوا عَلَى القَريَةِ الَّتى أُمطِرَت مَطَرَ السَّوءِ ۚ أَفَلَم يَكونوا يَرَونَها ۚ بَل كانوا لا يَرجونَ نُشورًا(40)
اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے(40)
وَإِذا رَأَوكَ إِن يَتَّخِذونَكَ إِلّا هُزُوًا أَهٰذَا الَّذى بَعَثَ اللَّهُ رَسولًا(41)
یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) "کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟(41)
إِن كادَ لَيُضِلُّنا عَن ءالِهَتِنا لَولا أَن صَبَرنا عَلَيها ۚ وَسَوفَ يَعلَمونَ حينَ يَرَونَ العَذابَ مَن أَضَلُّ سَبيلًا(42)
اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے" اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دور نکل گیا تھا(42)
أَرَءَيتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلٰهَهُ هَوىٰهُ أَفَأَنتَ تَكونُ عَلَيهِ وَكيلًا(43)
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟(43)
أَم تَحسَبُ أَنَّ أَكثَرَهُم يَسمَعونَ أَو يَعقِلونَ ۚ إِن هُم إِلّا كَالأَنعٰمِ ۖ بَل هُم أَضَلُّ سَبيلًا(44)
کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے(44)
أَلَم تَرَ إِلىٰ رَبِّكَ كَيفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَو شاءَ لَجَعَلَهُ ساكِنًا ثُمَّ جَعَلنَا الشَّمسَ عَلَيهِ دَليلًا(45)
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رب کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا ہم نے سورج کو اُس پر دلیل بنایا(45)
ثُمَّ قَبَضنٰهُ إِلَينا قَبضًا يَسيرًا(46)
پھر (جیسے جیسے سورج اٹھتا جاتا ہے) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں(46)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ الَّيلَ لِباسًا وَالنَّومَ سُباتًا وَجَعَلَ النَّهارَ نُشورًا(47)
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا(47)
وَهُوَ الَّذى أَرسَلَ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۚ وَأَنزَلنا مِنَ السَّماءِ ماءً طَهورًا(48)
اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے پھر آسمان سے پاک پانی نازل کرتا ہے(48)
لِنُحۦِىَ بِهِ بَلدَةً مَيتًا وَنُسقِيَهُ مِمّا خَلَقنا أَنعٰمًا وَأَناسِىَّ كَثيرًا(49)
تاکہ ایک مردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے(49)
وَلَقَد صَرَّفنٰهُ بَينَهُم لِيَذَّكَّروا فَأَبىٰ أَكثَرُ النّاسِ إِلّا كُفورًا(50)
اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دوسرا رویہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں(50)
وَلَو شِئنا لَبَعَثنا فى كُلِّ قَريَةٍ نَذيرًا(51)
اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اٹھا کھڑا کرتے(51)
فَلا تُطِعِ الكٰفِرينَ وَجٰهِدهُم بِهِ جِهادًا كَبيرًا(52)
پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر کرو(52)
۞ وَهُوَ الَّذى مَرَجَ البَحرَينِ هٰذا عَذبٌ فُراتٌ وَهٰذا مِلحٌ أُجاجٌ وَجَعَلَ بَينَهُما بَرزَخًا وَحِجرًا مَحجورًا(53)
اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا رکھا ہے ایک لذیذ و شیریں، دوسرا تلخ و شور اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے(53)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ مِنَ الماءِ بَشَرًا فَجَعَلَهُ نَسَبًا وَصِهرًا ۗ وَكانَ رَبُّكَ قَديرًا(54)
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سسرال کے دو الگ سلسلے چلائے تیرا رب بڑا ہی قدرت والا ہے(54)
وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَنفَعُهُم وَلا يَضُرُّهُم ۗ وَكانَ الكافِرُ عَلىٰ رَبِّهِ ظَهيرًا(55)
اس خدا کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رب کے مقابلے میں ہر باغی کا مدد گار بنا ہوا ہے(55)
وَما أَرسَلنٰكَ إِلّا مُبَشِّرًا وَنَذيرًا(56)
اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے(56)
قُل ما أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ مِن أَجرٍ إِلّا مَن شاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلىٰ رَبِّهِ سَبيلًا(57)
اِن سے کہہ دو کہ "میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کر لے"(57)
وَتَوَكَّل عَلَى الحَىِّ الَّذى لا يَموتُ وَسَبِّح بِحَمدِهِ ۚ وَكَفىٰ بِهِ بِذُنوبِ عِبادِهِ خَبيرًا(58)
اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے(58)
الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ ۚ الرَّحمٰنُ فَسـَٔل بِهِ خَبيرًا(59)
وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمان کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تخت سلطنت) "عرش" پر جلوہ فرما ہوا رحمٰن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو(59)
وَإِذا قيلَ لَهُمُ اسجُدوا لِلرَّحمٰنِ قالوا وَمَا الرَّحمٰنُ أَنَسجُدُ لِما تَأمُرُنا وَزادَهُم نُفورًا ۩(60)
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں "رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟" یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے(60)
تَبارَكَ الَّذى جَعَلَ فِى السَّماءِ بُروجًا وَجَعَلَ فيها سِرٰجًا وَقَمَرًا مُنيرًا(61)
بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا(61)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَ الَّيلَ وَالنَّهارَ خِلفَةً لِمَن أَرادَ أَن يَذَّكَّرَ أَو أَرادَ شُكورًا(62)
وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے(62)
وَعِبادُ الرَّحمٰنِ الَّذينَ يَمشونَ عَلَى الأَرضِ هَونًا وَإِذا خاطَبَهُمُ الجٰهِلونَ قالوا سَلٰمًا(63)
رحمان کے (اصلی) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام(63)
وَالَّذينَ يَبيتونَ لِرَبِّهِم سُجَّدًا وَقِيٰمًا(64)
جو اپنے رب کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں(64)
وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنَا اصرِف عَنّا عَذابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذابَها كانَ غَرامًا(65)
جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے(65)
إِنَّها ساءَت مُستَقَرًّا وَمُقامًا(66)
وہ بڑا ہی برا مستقر اور مقام ہے"(66)
وَالَّذينَ إِذا أَنفَقوا لَم يُسرِفوا وَلَم يَقتُروا وَكانَ بَينَ ذٰلِكَ قَوامًا(67)
جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے(67)
وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ يَلقَ أَثامًا(68)
جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا(68)
يُضٰعَف لَهُ العَذابُ يَومَ القِيٰمَةِ وَيَخلُد فيهِ مُهانًا(69)
قیامت کے روز اس کو مکرّر عذاب دیا جائے گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا(69)
إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِهِم حَسَنٰتٍ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(70)
اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد) توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عمل صالح کرنے لگا ہو ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے گا اور وہ بڑا غفور رحیم ہے(70)
وَمَن تابَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَإِنَّهُ يَتوبُ إِلَى اللَّهِ مَتابًا(71)
جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے(71)
وَالَّذينَ لا يَشهَدونَ الزّورَ وَإِذا مَرّوا بِاللَّغوِ مَرّوا كِرامًا(72)
(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں(72)
وَالَّذينَ إِذا ذُكِّروا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم لَم يَخِرّوا عَلَيها صُمًّا وَعُميانًا(73)
جنہیں اگر اُن کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے(73)
وَالَّذينَ يَقولونَ رَبَّنا هَب لَنا مِن أَزوٰجِنا وَذُرِّيّٰتِنا قُرَّةَ أَعيُنٍ وَاجعَلنا لِلمُتَّقينَ إِمامًا(74)
جو دعائیں مانگا کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا امام بنا"(74)
أُولٰئِكَ يُجزَونَ الغُرفَةَ بِما صَبَروا وَيُلَقَّونَ فيها تَحِيَّةً وَسَلٰمًا(75)
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر کا پھل منزل بلند کی شکل میں پائیں گے آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہو گا(75)
خٰلِدينَ فيها ۚ حَسُنَت مُستَقَرًّا وَمُقامًا(76)
وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام(76)
قُل ما يَعبَؤُا۟ بِكُم رَبّى لَولا دُعاؤُكُم ۖ فَقَد كَذَّبتُم فَسَوفَ يَكونُ لِزامًا(77)
اے محمدؐ، لوگوں سے کہو "میرے رب کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو اب کہ تم نے جھٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاؤ گے کہ جان چھڑانی محال ہو گی"(77)