Al-Ankabut( العنكبوت)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الم(1)
الف ل م(1)
أَحَسِبَ النّاسُ أَن يُترَكوا أَن يَقولوا ءامَنّا وَهُم لا يُفتَنونَ(2)
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ "ہم ایمان لائے " اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟(2)
وَلَقَد فَتَنَّا الَّذينَ مِن قَبلِهِم ۖ فَلَيَعلَمَنَّ اللَّهُ الَّذينَ صَدَقوا وَلَيَعلَمَنَّ الكٰذِبينَ(3)
حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچّے کون ہیں اور جھوٹے کون(3)
أَم حَسِبَ الَّذينَ يَعمَلونَ السَّيِّـٔاتِ أَن يَسبِقونا ۚ ساءَ ما يَحكُمونَ(4)
اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں(4)
مَن كانَ يَرجوا لِقاءَ اللَّهِ فَإِنَّ أَجَلَ اللَّهِ لَءاتٍ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(5)
جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے(5)
وَمَن جٰهَدَ فَإِنَّما يُجٰهِدُ لِنَفسِهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ عَنِ العٰلَمينَ(6)
جو شخص بھی مجاہدہ کریگا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا، اللہ یقیناً دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے(6)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنهُم سَيِّـٔاتِهِم وَلَنَجزِيَنَّهُم أَحسَنَ الَّذى كانوا يَعمَلونَ(7)
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی برائیاں ہم ان سے دُور کر دیں گے اور انہیں اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے(7)
وَوَصَّينَا الإِنسٰنَ بِوٰلِدَيهِ حُسنًا ۖ وَإِن جٰهَداكَ لِتُشرِكَ بى ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ فَلا تُطِعهُما ۚ إِلَىَّ مَرجِعُكُم فَأُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(8)
ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود) کو شریک ٹھیرائے جسے تو (میرے شریک کی حیثیت سے) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو(8)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدخِلَنَّهُم فِى الصّٰلِحينَ(9)
اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے(9)
وَمِنَ النّاسِ مَن يَقولُ ءامَنّا بِاللَّهِ فَإِذا أوذِىَ فِى اللَّهِ جَعَلَ فِتنَةَ النّاسِ كَعَذابِ اللَّهِ وَلَئِن جاءَ نَصرٌ مِن رَبِّكَ لَيَقولُنَّ إِنّا كُنّا مَعَكُم ۚ أَوَلَيسَ اللَّهُ بِأَعلَمَ بِما فى صُدورِ العٰلَمينَ(10)
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح و نصرت آ گئی تو یہی شخص کہے گا کہ "ہم تو تمہارے ساتھ تھے" کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟(10)
وَلَيَعلَمَنَّ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا وَلَيَعلَمَنَّ المُنٰفِقينَ(11)
اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون(11)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لِلَّذينَ ءامَنُوا اتَّبِعوا سَبيلَنا وَلنَحمِل خَطٰيٰكُم وَما هُم بِحٰمِلينَ مِن خَطٰيٰهُم مِن شَيءٍ ۖ إِنَّهُم لَكٰذِبونَ(12)
یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے حالانکہ اُن کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں، وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں(12)
وَلَيَحمِلُنَّ أَثقالَهُم وَأَثقالًا مَعَ أَثقالِهِم ۖ وَلَيُسـَٔلُنَّ يَومَ القِيٰمَةِ عَمّا كانوا يَفتَرونَ(13)
ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ بہت سے دوسرے بوجھ بھی اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی بازپرس ہو گی جو وہ کرتے رہے ہیں(13)
وَلَقَد أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ فَلَبِثَ فيهِم أَلفَ سَنَةٍ إِلّا خَمسينَ عامًا فَأَخَذَهُمُ الطّوفانُ وَهُم ظٰلِمونَ(14)
ہم نے نوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آ گھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے(14)
فَأَنجَينٰهُ وَأَصحٰبَ السَّفينَةِ وَجَعَلنٰها ءايَةً لِلعٰلَمينَ(15)
پھر نوحؑ کو اور کشتی والوں کو ہم نے بچا لیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشان عبرت بنا کر رکھ دیا(15)
وَإِبرٰهيمَ إِذ قالَ لِقَومِهِ اعبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقوهُ ۖ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ(16)
اور ابراہیمؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو(16)
إِنَّما تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ أَوثٰنًا وَتَخلُقونَ إِفكًا ۚ إِنَّ الَّذينَ تَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ لا يَملِكونَ لَكُم رِزقًا فَابتَغوا عِندَ اللَّهِ الرِّزقَ وَاعبُدوهُ وَاشكُروا لَهُ ۖ إِلَيهِ تُرجَعونَ(17)
تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پوج رہے ہو وہ تو محض بت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑ رہے ہو در حقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے اللہ سے رزق مانگو اور اُسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو(17)
وَإِن تُكَذِّبوا فَقَد كَذَّبَ أُمَمٌ مِن قَبلِكُم ۖ وَما عَلَى الرَّسولِ إِلَّا البَلٰغُ المُبينُ(18)
اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے"(18)
أَوَلَم يَرَوا كَيفَ يُبدِئُ اللَّهُ الخَلقَ ثُمَّ يُعيدُهُ ۚ إِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرٌ(19)
کیا اِن لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اُس کا اعادہ کرتا ہے؟ یقیناً یہ (اعادہ تو) اللہ کے لیے آسان تر ہے(19)
قُل سيروا فِى الأَرضِ فَانظُروا كَيفَ بَدَأَ الخَلقَ ۚ ثُمَّ اللَّهُ يُنشِئُ النَّشأَةَ الءاخِرَةَ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(20)
ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے، پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے(20)
يُعَذِّبُ مَن يَشاءُ وَيَرحَمُ مَن يَشاءُ ۖ وَإِلَيهِ تُقلَبونَ(21)
جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو(21)
وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ فِى الأَرضِ وَلا فِى السَّماءِ ۖ وَما لَكُم مِن دونِ اللَّهِ مِن وَلِىٍّ وَلا نَصيرٍ(22)
تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مدد گار تمہارے لیے نہیں ہے(22)
وَالَّذينَ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَلِقائِهِ أُولٰئِكَ يَئِسوا مِن رَحمَتى وَأُولٰئِكَ لَهُم عَذابٌ أَليمٌ(23)
جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے(23)
فَما كانَ جَوابَ قَومِهِ إِلّا أَن قالُوا اقتُلوهُ أَو حَرِّقوهُ فَأَنجىٰهُ اللَّهُ مِنَ النّارِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(24)
پھر اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "قتل کر دو اِسے یا جلا ڈالو اِس کو" آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچا لیا، یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں(24)
وَقالَ إِنَّمَا اتَّخَذتُم مِن دونِ اللَّهِ أَوثٰنًا مَوَدَّةَ بَينِكُم فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۖ ثُمَّ يَومَ القِيٰمَةِ يَكفُرُ بَعضُكُم بِبَعضٍ وَيَلعَنُ بَعضُكُم بَعضًا وَمَأوىٰكُمُ النّارُ وَما لَكُم مِن نٰصِرينَ(25)
اور اُس نے کہا "تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے اور آگ تمہارا ٹھکانا ہو گی اور کوئی تمہارا مدد گار نہ ہو گا"(25)
۞ فَـٔامَنَ لَهُ لوطٌ ۘ وَقالَ إِنّى مُهاجِرٌ إِلىٰ رَبّى ۖ إِنَّهُ هُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(26)
اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں، وہ زبردست ہے اور حکیم ہے(26)
وَوَهَبنا لَهُ إِسحٰقَ وَيَعقوبَ وَجَعَلنا فى ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالكِتٰبَ وَءاتَينٰهُ أَجرَهُ فِى الدُّنيا ۖ وَإِنَّهُ فِى الءاخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحينَ(27)
اور ہم نے اسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا(27)
وَلوطًا إِذ قالَ لِقَومِهِ إِنَّكُم لَتَأتونَ الفٰحِشَةَ ما سَبَقَكُم بِها مِن أَحَدٍ مِنَ العٰلَمينَ(28)
اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا "تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے(28)
أَئِنَّكُم لَتَأتونَ الرِّجالَ وَتَقطَعونَ السَّبيلَ وَتَأتونَ فى ناديكُمُ المُنكَرَ ۖ فَما كانَ جَوابَ قَومِهِ إِلّا أَن قالُوا ائتِنا بِعَذابِ اللَّهِ إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(29)
کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو، اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟" پھر کوئی جواب اس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا "لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے"(29)
قالَ رَبِّ انصُرنى عَلَى القَومِ المُفسِدينَ(30)
لوطؑ نے کہا "اے میرے رب، اِن مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما"(30)
وَلَمّا جاءَت رُسُلُنا إِبرٰهيمَ بِالبُشرىٰ قالوا إِنّا مُهلِكوا أَهلِ هٰذِهِ القَريَةِ ۖ إِنَّ أَهلَها كانوا ظٰلِمينَ(31)
اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے تو انہوں نے اُس سے کہا "ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں، اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں"(31)
قالَ إِنَّ فيها لوطًا ۚ قالوا نَحنُ أَعلَمُ بِمَن فيها ۖ لَنُنَجِّيَنَّهُ وَأَهلَهُ إِلَّا امرَأَتَهُ كانَت مِنَ الغٰبِرينَ(32)
ابراہیمؑ نے کہا "وہاں تو لوطؑ موجود ہے" انہوں نے کہا "ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے ہم اُسے، اور اس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے" اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی(32)
وَلَمّا أَن جاءَت رُسُلُنا لوطًا سيءَ بِهِم وَضاقَ بِهِم ذَرعًا وَقالوا لا تَخَف وَلا تَحزَن ۖ إِنّا مُنَجّوكَ وَأَهلَكَ إِلَّا امرَأَتَكَ كانَت مِنَ الغٰبِرينَ(33)
پھر جب ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا اُنہوں نے کہا "نہ ڈرو اور نہ رنج کرو ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے(33)
إِنّا مُنزِلونَ عَلىٰ أَهلِ هٰذِهِ القَريَةِ رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَفسُقونَ(34)
ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں"(34)
وَلَقَد تَرَكنا مِنها ءايَةً بَيِّنَةً لِقَومٍ يَعقِلونَ(35)
اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھُلی نشانی چھوڑ دی ہے اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں(35)
وَإِلىٰ مَديَنَ أَخاهُم شُعَيبًا فَقالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ وَارجُوا اليَومَ الءاخِرَ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ(36)
اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے امیدوار رہو اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو"(36)
فَكَذَّبوهُ فَأَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ فَأَصبَحوا فى دارِهِم جٰثِمينَ(37)
مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں پڑے کے پڑے رہ گئے(37)
وَعادًا وَثَمودَا۟ وَقَد تَبَيَّنَ لَكُم مِن مَسٰكِنِهِم ۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم فَصَدَّهُم عَنِ السَّبيلِ وَكانوا مُستَبصِرينَ(38)
اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے(38)
وَقٰرونَ وَفِرعَونَ وَهٰمٰنَ ۖ وَلَقَد جاءَهُم موسىٰ بِالبَيِّنٰتِ فَاستَكبَروا فِى الأَرضِ وَما كانوا سٰبِقينَ(39)
اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے(39)
فَكُلًّا أَخَذنا بِذَنبِهِ ۖ فَمِنهُم مَن أَرسَلنا عَلَيهِ حاصِبًا وَمِنهُم مَن أَخَذَتهُ الصَّيحَةُ وَمِنهُم مَن خَسَفنا بِهِ الأَرضَ وَمِنهُم مَن أَغرَقنا ۚ وَما كانَ اللَّهُ لِيَظلِمَهُم وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(40)
آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے(40)
مَثَلُ الَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ أَولِياءَ كَمَثَلِ العَنكَبوتِ اتَّخَذَت بَيتًا ۖ وَإِنَّ أَوهَنَ البُيوتِ لَبَيتُ العَنكَبوتِ ۖ لَو كانوا يَعلَمونَ(41)
جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دُوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے کاش یہ لوگ علم رکھتے(41)
إِنَّ اللَّهَ يَعلَمُ ما يَدعونَ مِن دونِهِ مِن شَيءٍ ۚ وَهُوَ العَزيزُ الحَكيمُ(42)
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے(42)
وَتِلكَ الأَمثٰلُ نَضرِبُها لِلنّاسِ ۖ وَما يَعقِلُها إِلَّا العٰلِمونَ(43)
یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں(43)
خَلَقَ اللَّهُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَءايَةً لِلمُؤمِنينَ(44)
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے، در حقیقت اِس میں ایک نشانی ہے اہلِ ایمان کے لیے(44)
اتلُ ما أوحِىَ إِلَيكَ مِنَ الكِتٰبِ وَأَقِمِ الصَّلوٰةَ ۖ إِنَّ الصَّلوٰةَ تَنهىٰ عَنِ الفَحشاءِ وَالمُنكَرِ ۗ وَلَذِكرُ اللَّهِ أَكبَرُ ۗ وَاللَّهُ يَعلَمُ ما تَصنَعونَ(45)
(اے نبیؐ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو، یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو(45)
۞ وَلا تُجٰدِلوا أَهلَ الكِتٰبِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ إِلَّا الَّذينَ ظَلَموا مِنهُم ۖ وَقولوا ءامَنّا بِالَّذى أُنزِلَ إِلَينا وَأُنزِلَ إِلَيكُم وَإِلٰهُنا وَإِلٰهُكُم وٰحِدٌ وَنَحنُ لَهُ مُسلِمونَ(46)
اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے اُن لوگوں کے جو اُن میں سے ظالم ہوں، اور اُن سے کہو کہ "ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے مُسلم (فرماں بردار) ہیں"(46)
وَكَذٰلِكَ أَنزَلنا إِلَيكَ الكِتٰبَ ۚ فَالَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَمِن هٰؤُلاءِ مَن يُؤمِنُ بِهِ ۚ وَما يَجحَدُ بِـٔايٰتِنا إِلَّا الكٰفِرونَ(47)
(اے نبیؐ) ہم نے اِسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں، اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں(47)
وَما كُنتَ تَتلوا مِن قَبلِهِ مِن كِتٰبٍ وَلا تَخُطُّهُ بِيَمينِكَ ۖ إِذًا لَارتابَ المُبطِلونَ(48)
(اے نبیؐ) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے(48)
بَل هُوَ ءايٰتٌ بَيِّنٰتٌ فى صُدورِ الَّذينَ أوتُوا العِلمَ ۚ وَما يَجحَدُ بِـٔايٰتِنا إِلَّا الظّٰلِمونَ(49)
دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں عِلم بخشا گیا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں(49)
وَقالوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ ءايٰتٌ مِن رَبِّهِ ۖ قُل إِنَّمَا الءايٰتُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّما أَنا۠ نَذيرٌ مُبينٌ(50)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ "کیوں نہ اتاری گئی اس شخص پر نشانیاں اِس کے رب کی طرف سے؟" کہو، "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر"(50)
أَوَلَم يَكفِهِم أَنّا أَنزَلنا عَلَيكَ الكِتٰبَ يُتلىٰ عَلَيهِم ۚ إِنَّ فى ذٰلِكَ لَرَحمَةً وَذِكرىٰ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(51)
اور کیا اِن لوگوں کے لیے یہ (نشانی) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اِنہیں پڑھ کر سُنائی جاتی ہے؟ در حقیقت اِس میں رحمت ہے اور نصیحت ہے اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(51)
قُل كَفىٰ بِاللَّهِ بَينى وَبَينَكُم شَهيدًا ۖ يَعلَمُ ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۗ وَالَّذينَ ءامَنوا بِالبٰطِلِ وَكَفَروا بِاللَّهِ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(52)
(اے نبیؐ) کہو کہ "میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں"(52)
وَيَستَعجِلونَكَ بِالعَذابِ ۚ وَلَولا أَجَلٌ مُسَمًّى لَجاءَهُمُ العَذابُ وَلَيَأتِيَنَّهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ(53)
یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ایک وقت مقرر نہ کر دیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آ چکا ہوتا اور یقیناً (اپنے وقت پر) وہ آ کر رہے گا اچانک، اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی(53)
يَستَعجِلونَكَ بِالعَذابِ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحيطَةٌ بِالكٰفِرينَ(54)
یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے(54)
يَومَ يَغشىٰهُمُ العَذابُ مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَرجُلِهِم وَيَقولُ ذوقوا ما كُنتُم تَعمَلونَ(55)
(اور انہیں پتہ چلے گا) اُس روز جبکہ عذاب انہیں اُوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے(55)
يٰعِبادِىَ الَّذينَ ءامَنوا إِنَّ أَرضى وٰسِعَةٌ فَإِيّٰىَ فَاعبُدونِ(56)
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے، پس تم میری بندگی بجا لاؤ(56)
كُلُّ نَفسٍ ذائِقَةُ المَوتِ ۖ ثُمَّ إِلَينا تُرجَعونَ(57)
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے(57)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُم مِنَ الجَنَّةِ غُرَفًا تَجرى مِن تَحتِهَا الأَنهٰرُ خٰلِدينَ فيها ۚ نِعمَ أَجرُ العٰمِلينَ(58)
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلند و بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے(58)
الَّذينَ صَبَروا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(59)
اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں(59)
وَكَأَيِّن مِن دابَّةٍ لا تَحمِلُ رِزقَهَا اللَّهُ يَرزُقُها وَإِيّاكُم ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(60)
کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے، اللہ اُن کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے(60)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَسَخَّرَ الشَّمسَ وَالقَمَرَ لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۖ فَأَنّىٰ يُؤفَكونَ(61)
اگر تم اِن لوگوں سے پُوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سُورج کو کس نے مسخّر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کدھر سے دھوکا کھا رہے ہیں؟(61)
اللَّهُ يَبسُطُ الرِّزقَ لِمَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ وَيَقدِرُ لَهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(62)
اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے(62)
وَلَئِن سَأَلتَهُم مَن نَزَّلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَحيا بِهِ الأَرضَ مِن بَعدِ مَوتِها لَيَقولُنَّ اللَّهُ ۚ قُلِ الحَمدُ لِلَّهِ ۚ بَل أَكثَرُهُم لا يَعقِلونَ(63)
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اِس کے ذریعہ سے مُردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے کہو، الحمدللہ، مگر اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں(63)
وَما هٰذِهِ الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا لَهوٌ وَلَعِبٌ ۚ وَإِنَّ الدّارَ الءاخِرَةَ لَهِىَ الحَيَوانُ ۚ لَو كانوا يَعلَمونَ(64)
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا اصل زندگی کا گھر تو دار آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے(64)
فَإِذا رَكِبوا فِى الفُلكِ دَعَوُا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ فَلَمّا نَجّىٰهُم إِلَى البَرِّ إِذا هُم يُشرِكونَ(65)
جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اُس سے دُعا مانگتے ہیں، پھر جب وہ اِنہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں(65)
لِيَكفُروا بِما ءاتَينٰهُم وَلِيَتَمَتَّعوا ۖ فَسَوفَ يَعلَمونَ(66)
تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کا کفران نعمت کریں اور (حیات دنیا کے) مزے لوٹیں اچھا، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا(66)
أَوَلَم يَرَوا أَنّا جَعَلنا حَرَمًا ءامِنًا وَيُتَخَطَّفُ النّاسُ مِن حَولِهِم ۚ أَفَبِالبٰطِلِ يُؤمِنونَ وَبِنِعمَةِ اللَّهِ يَكفُرونَ(67)
کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ اِن کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟ کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟(67)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو كَذَّبَ بِالحَقِّ لَمّا جاءَهُ ۚ أَلَيسَ فى جَهَنَّمَ مَثوًى لِلكٰفِرينَ(68)
اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھُٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آ چکا ہو؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہی نہیں ہے؟(68)
وَالَّذينَ جٰهَدوا فينا لَنَهدِيَنَّهُم سُبُلَنا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ المُحسِنينَ(69)
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے، اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے(69)