Al-Anfal( الأنفال)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يَسـَٔلونَكَ عَنِ الأَنفالِ ۖ قُلِ الأَنفالُ لِلَّهِ وَالرَّسولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصلِحوا ذاتَ بَينِكُم ۖ وَأَطيعُوا اللَّهَ وَرَسولَهُ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(1)
تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں؟ کہو “یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کے ہیں، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو"(1)
إِنَّمَا المُؤمِنونَ الَّذينَ إِذا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَت قُلوبُهُم وَإِذا تُلِيَت عَلَيهِم ءايٰتُهُ زادَتهُم إيمٰنًا وَعَلىٰ رَبِّهِم يَتَوَكَّلونَ(2)
سچّے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سُن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں(2)
الَّذينَ يُقيمونَ الصَّلوٰةَ وَمِمّا رَزَقنٰهُم يُنفِقونَ(3)
جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں(3)
أُولٰئِكَ هُمُ المُؤمِنونَ حَقًّا ۚ لَهُم دَرَجٰتٌ عِندَ رَبِّهِم وَمَغفِرَةٌ وَرِزقٌ كَريمٌ(4)
ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں قصوروں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے(4)
كَما أَخرَجَكَ رَبُّكَ مِن بَيتِكَ بِالحَقِّ وَإِنَّ فَريقًا مِنَ المُؤمِنينَ لَكٰرِهونَ(5)
(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا(5)
يُجٰدِلونَكَ فِى الحَقِّ بَعدَما تَبَيَّنَ كَأَنَّما يُساقونَ إِلَى المَوتِ وَهُم يَنظُرونَ(6)
وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے دراں حالے کہ وہ صاف صاف نمایاں ہو چکا تھا ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں(6)
وَإِذ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحدَى الطّائِفَتَينِ أَنَّها لَكُم وَتَوَدّونَ أَنَّ غَيرَ ذاتِ الشَّوكَةِ تَكونُ لَكُم وَيُريدُ اللَّهُ أَن يُحِقَّ الحَقَّ بِكَلِمٰتِهِ وَيَقطَعَ دابِرَ الكٰفِرينَ(7)
یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مِل جائے گا تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے(7)
لِيُحِقَّ الحَقَّ وَيُبطِلَ البٰطِلَ وَلَو كَرِهَ المُجرِمونَ(8)
تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو(8)
إِذ تَستَغيثونَ رَبَّكُم فَاستَجابَ لَكُم أَنّى مُمِدُّكُم بِأَلفٍ مِنَ المَلٰئِكَةِ مُردِفينَ(9)
اور وہ موقع یاد کرو جبکہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے در پے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں(9)
وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلّا بُشرىٰ وَلِتَطمَئِنَّ بِهِ قُلوبُكُم ۚ وَمَا النَّصرُ إِلّا مِن عِندِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ(10)
یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتا دی کہ تمہیں خوشخبری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں، ورنہ مدد تو جب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے، یقیناً اللہ زبردست اور دانا ہے(10)
إِذ يُغَشّيكُمُ النُّعاسَ أَمَنَةً مِنهُ وَيُنَزِّلُ عَلَيكُم مِنَ السَّماءِ ماءً لِيُطَهِّرَكُم بِهِ وَيُذهِبَ عَنكُم رِجزَ الشَّيطٰنِ وَلِيَربِطَ عَلىٰ قُلوبِكُم وَيُثَبِّتَ بِهِ الأَقدامَ(11)
اور وہ وقت جبکہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بے خوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا، اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دُور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعہ سے تمہارے قدم جما دے(11)
إِذ يوحى رَبُّكَ إِلَى المَلٰئِكَةِ أَنّى مَعَكُم فَثَبِّتُوا الَّذينَ ءامَنوا ۚ سَأُلقى فى قُلوبِ الَّذينَ كَفَرُوا الرُّعبَ فَاضرِبوا فَوقَ الأَعناقِ وَاضرِبوا مِنهُم كُلَّ بَنانٍ(12)
اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ “میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رُعب ڈالے دیتا ہوں، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ"(12)
ذٰلِكَ بِأَنَّهُم شاقُّوا اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ وَمَن يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ(13)
یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے(13)
ذٰلِكُم فَذوقوهُ وَأَنَّ لِلكٰفِرينَ عَذابَ النّارِ(14)
یہ ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزا چکھو، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے(14)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا لَقيتُمُ الَّذينَ كَفَروا زَحفًا فَلا تُوَلّوهُمُ الأَدبارَ(15)
اے ایمان لانے والو، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو(15)
وَمَن يُوَلِّهِم يَومَئِذٍ دُبُرَهُ إِلّا مُتَحَرِّفًا لِقِتالٍ أَو مُتَحَيِّزًا إِلىٰ فِئَةٍ فَقَد باءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأوىٰهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئسَ المَصيرُ(16)
جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری، الا یہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دُوسری فوج سے جا ملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھِر جائے گا، اُس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا، اور وہ بہت بُری جائے بازگشت ہے(16)
فَلَم تَقتُلوهُم وَلٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُم ۚ وَما رَمَيتَ إِذ رَمَيتَ وَلٰكِنَّ اللَّهَ رَمىٰ ۚ وَلِيُبلِىَ المُؤمِنينَ مِنهُ بَلاءً حَسَنًا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ(17)
پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور تو نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اِس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے، یقیناً اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے(17)
ذٰلِكُم وَأَنَّ اللَّهَ موهِنُ كَيدِ الكٰفِرينَ(18)
یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے(18)
إِن تَستَفتِحوا فَقَد جاءَكُمُ الفَتحُ ۖ وَإِن تَنتَهوا فَهُوَ خَيرٌ لَكُم ۖ وَإِن تَعودوا نَعُد وَلَن تُغنِىَ عَنكُم فِئَتُكُم شَيـًٔا وَلَو كَثُرَت وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ المُؤمِنينَ(19)
(اِن کافروں سے کہہ دو) “اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو، فیصلہ تمہارے سامنے آ گیا اب باز آ جاؤ تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے، ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی اللہ مومنوں کے ساتھ ہے"(19)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلا تَوَلَّوا عَنهُ وَأَنتُم تَسمَعونَ(20)
اے ایمان لانے والو، اللہ اور اُس کے رسُول کی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو(20)
وَلا تَكونوا كَالَّذينَ قالوا سَمِعنا وَهُم لا يَسمَعونَ(21)
اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سُنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے(21)
۞ إِنَّ شَرَّ الدَّوابِّ عِندَ اللَّهِ الصُّمُّ البُكمُ الَّذينَ لا يَعقِلونَ(22)
یقیناً خدا کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے(22)
وَلَو عَلِمَ اللَّهُ فيهِم خَيرًا لَأَسمَعَهُم ۖ وَلَو أَسمَعَهُم لَتَوَلَّوا وَهُم مُعرِضونَ(23)
اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سُننے کی توفیق دیتا (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رُخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے(23)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا استَجيبوا لِلَّهِ وَلِلرَّسولِ إِذا دَعاكُم لِما يُحييكُم ۖ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ يَحولُ بَينَ المَرءِ وَقَلبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيهِ تُحشَرونَ(24)
اے ایمان لانے والو، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسُول تمہیں اس چیز کی طرف بُلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے(24)
وَاتَّقوا فِتنَةً لا تُصيبَنَّ الَّذينَ ظَلَموا مِنكُم خاصَّةً ۖ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ شَديدُ العِقابِ(25)
اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے(25)
وَاذكُروا إِذ أَنتُم قَليلٌ مُستَضعَفونَ فِى الأَرضِ تَخافونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النّاسُ فَـٔاوىٰكُم وَأَيَّدَكُم بِنَصرِهِ وَرَزَقَكُم مِنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُم تَشكُرونَ(26)
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبُوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکر گزار بنو(26)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَخونُوا اللَّهَ وَالرَّسولَ وَتَخونوا أَمٰنٰتِكُم وَأَنتُم تَعلَمونَ(27)
اے ایمان لانے والو، جانتے بُوجھتے اللہ اور اس کے رسُولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو(27)
وَاعلَموا أَنَّما أَموٰلُكُم وَأَولٰدُكُم فِتنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجرٌ عَظيمٌ(28)
اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے(28)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجعَل لَكُم فُرقانًا وَيُكَفِّر عَنكُم سَيِّـٔاتِكُم وَيَغفِر لَكُم ۗ وَاللَّهُ ذُو الفَضلِ العَظيمِ(29)
اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بُرائیوں کو تم سے دُور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے(29)
وَإِذ يَمكُرُ بِكَ الَّذينَ كَفَروا لِيُثبِتوكَ أَو يَقتُلوكَ أَو يُخرِجوكَ ۚ وَيَمكُرونَ وَيَمكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيرُ المٰكِرينَ(30)
وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جبکہ منکرینِ حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کر دیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کر دیں وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے(30)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا قالوا قَد سَمِعنا لَو نَشاءُ لَقُلنا مِثلَ هٰذا ۙ إِن هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(31)
جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ “ہاں سُن لیا ہم نے، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں، یہ تو وہی پُرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں "(31)
وَإِذ قالُوا اللَّهُمَّ إِن كانَ هٰذا هُوَ الحَقَّ مِن عِندِكَ فَأَمطِر عَلَينا حِجارَةً مِنَ السَّماءِ أَوِ ائتِنا بِعَذابٍ أَليمٍ(32)
اور وہ بات بھی یاد ہے جو اُنہوں نے کہی تھی کہ “خدایا اگر یہ واقعی حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا کوئی درد ناک عذاب ہم پر لے آ"(32)
وَما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم وَأَنتَ فيهِم ۚ وَما كانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُم وَهُم يَستَغفِرونَ(33)
اُس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جبکہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے(33)
وَما لَهُم أَلّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّهُ وَهُم يَصُدّونَ عَنِ المَسجِدِ الحَرامِ وَما كانوا أَولِياءَهُ ۚ إِن أَولِياؤُهُ إِلَّا المُتَّقونَ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(34)
لیکن اب کیوں نہ وہ ان پر عذاب نازل کرے جبکہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس مسجد کے جائز متولی نہیں ہیں اس کے جائز متولی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہو سکتے ہیں مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے(34)
وَما كانَ صَلاتُهُم عِندَ البَيتِ إِلّا مُكاءً وَتَصدِيَةً ۚ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(35)
بیت اللہ کے پاس ان لوگوں کی نماز کیا ہوتی ہے، بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں پس اب لو، اِس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکارِ حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو(35)
إِنَّ الَّذينَ كَفَروا يُنفِقونَ أَموٰلَهُم لِيَصُدّوا عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ فَسَيُنفِقونَها ثُمَّ تَكونُ عَلَيهِم حَسرَةً ثُمَّ يُغلَبونَ ۗ وَالَّذينَ كَفَروا إِلىٰ جَهَنَّمَ يُحشَرونَ(36)
جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال خدا کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے مگر آخر کار یہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی، پھر وہ مغلوب ہوں گے، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے(36)
لِيَميزَ اللَّهُ الخَبيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَيَجعَلَ الخَبيثَ بَعضَهُ عَلىٰ بَعضٍ فَيَركُمَهُ جَميعًا فَيَجعَلَهُ فى جَهَنَّمَ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(37)
تاکہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے یہی لوگ اصلی دیوالیے ہیں(37)
قُل لِلَّذينَ كَفَروا إِن يَنتَهوا يُغفَر لَهُم ما قَد سَلَفَ وَإِن يَعودوا فَقَد مَضَت سُنَّتُ الأَوَّلينَ(38)
اے نبیؐ، ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آ جائیں تو جو کچھ پہلے ہو چکا ہے اس سے درگزر کر لیا جائے گا، لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہو چکا ہے وہ سب کو معلوم ہے(38)
وَقٰتِلوهُم حَتّىٰ لا تَكونَ فِتنَةٌ وَيَكونَ الدّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انتَهَوا فَإِنَّ اللَّهَ بِما يَعمَلونَ بَصيرٌ(39)
اے ایمان لانے والو، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے(39)
وَإِن تَوَلَّوا فَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ مَولىٰكُم ۚ نِعمَ المَولىٰ وَنِعمَ النَّصيرُ(40)
اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی و مدد گار ہے(40)
۞ وَاعلَموا أَنَّما غَنِمتُم مِن شَيءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسولِ وَلِذِى القُربىٰ وَاليَتٰمىٰ وَالمَسٰكينِ وَابنِ السَّبيلِ إِن كُنتُم ءامَنتُم بِاللَّهِ وَما أَنزَلنا عَلىٰ عَبدِنا يَومَ الفُرقانِ يَومَ التَقَى الجَمعانِ ۗ وَاللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(41)
اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُولؐ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز، یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ کے دن، ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے(41)
إِذ أَنتُم بِالعُدوَةِ الدُّنيا وَهُم بِالعُدوَةِ القُصوىٰ وَالرَّكبُ أَسفَلَ مِنكُم ۚ وَلَو تَواعَدتُم لَاختَلَفتُم فِى الميعٰدِ ۙ وَلٰكِن لِيَقضِىَ اللَّهُ أَمرًا كانَ مَفعولًا لِيَهلِكَ مَن هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحيىٰ مَن حَىَّ عَن بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَميعٌ عَليمٌ(42)
یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے(42)
إِذ يُريكَهُمُ اللَّهُ فى مَنامِكَ قَليلًا ۖ وَلَو أَرىٰكَهُم كَثيرًا لَفَشِلتُم وَلَتَنٰزَعتُم فِى الأَمرِ وَلٰكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدورِ(43)
اور یاد کرو وہ وقت جبکہ اے نبیؐ، خدا اُن کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا تھا، اگر کہیں وہ تمہیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملہ میں جھگڑا شروع کر دیتے، لیکن اللہ ہی نے اِس سے تمہیں بچایا، یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے(43)
وَإِذ يُريكُموهُم إِذِ التَقَيتُم فى أَعيُنِكُم قَليلًا وَيُقَلِّلُكُم فى أَعيُنِهِم لِيَقضِىَ اللَّهُ أَمرًا كانَ مَفعولًا ۗ وَإِلَى اللَّهِ تُرجَعُ الأُمورُ(44)
اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اُسے اللہ ظہُور میں لے آئے، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں(44)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا لَقيتُم فِئَةً فَاثبُتوا وَاذكُرُوا اللَّهَ كَثيرًا لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(45)
اے ایمان لانے والو، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو گی(45)
وَأَطيعُوا اللَّهَ وَرَسولَهُ وَلا تَنٰزَعوا فَتَفشَلوا وَتَذهَبَ ريحُكُم ۖ وَاصبِروا ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصّٰبِرينَ(46)
اور اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے(46)
وَلا تَكونوا كَالَّذينَ خَرَجوا مِن دِيٰرِهِم بَطَرًا وَرِئاءَ النّاسِ وَيَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ وَاللَّهُ بِما يَعمَلونَ مُحيطٌ(47)
اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے(47)
وَإِذ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ أَعمٰلَهُم وَقالَ لا غالِبَ لَكُمُ اليَومَ مِنَ النّاسِ وَإِنّى جارٌ لَكُم ۖ فَلَمّا تَراءَتِ الفِئَتانِ نَكَصَ عَلىٰ عَقِبَيهِ وَقالَ إِنّى بَريءٌ مِنكُم إِنّى أَرىٰ ما لا تَرَونَ إِنّى أَخافُ اللَّهَ ۚ وَاللَّهُ شَديدُ العِقابِ(48)
ذرا خیال کرو اس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بنا کر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ اُلٹے پاؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے، مجھے خدا سے ڈر لگتا ہے اور خدا بڑی سخت سزا دینے والا ہے(48)
إِذ يَقولُ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ غَرَّ هٰؤُلاءِ دينُهُم ۗ وَمَن يَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزيزٌ حَكيمٌ(49)
جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے، کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں کو تو اِن کے دین نے خبط میں مبتلا کر رکھا ہے حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے(49)
وَلَو تَرىٰ إِذ يَتَوَفَّى الَّذينَ كَفَرُوا ۙ المَلٰئِكَةُ يَضرِبونَ وُجوهَهُم وَأَدبٰرَهُم وَذوقوا عَذابَ الحَريقِ(50)
کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی رُوحیں قبض کر رہے تھے وہ ان کے چہروں اور ان کے کولھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے “لو اب جلنے کی سزا بھگتو(50)
ذٰلِكَ بِما قَدَّمَت أَيديكُم وَأَنَّ اللَّهَ لَيسَ بِظَلّٰمٍ لِلعَبيدِ(51)
یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "(51)
كَدَأبِ ءالِ فِرعَونَ ۙ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كَفَروا بِـٔايٰتِ اللَّهِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنوبِهِم ۗ إِنَّ اللَّهَ قَوِىٌّ شَديدُ العِقابِ(52)
یہ معاملہ ان کے ساتھ اُسی طرح پیش آیا جس طرح آلِ فرعون اور ان سے پہلے کے دُوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے(52)
ذٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَم يَكُ مُغَيِّرًا نِعمَةً أَنعَمَها عَلىٰ قَومٍ حَتّىٰ يُغَيِّروا ما بِأَنفُسِهِم ۙ وَأَنَّ اللَّهَ سَميعٌ عَليمٌ(53)
یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے(53)
كَدَأبِ ءالِ فِرعَونَ ۙ وَالَّذينَ مِن قَبلِهِم ۚ كَذَّبوا بِـٔايٰتِ رَبِّهِم فَأَهلَكنٰهُم بِذُنوبِهِم وَأَغرَقنا ءالَ فِرعَونَ ۚ وَكُلٌّ كانوا ظٰلِمينَ(54)
آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اِسی ضابطہ کے مطابق تھا انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کیا اور آل فرعون کو غرق کر دیا یہ سب ظالم لوگ تھے(54)
إِنَّ شَرَّ الدَّوابِّ عِندَ اللَّهِ الَّذينَ كَفَروا فَهُم لا يُؤمِنونَ(55)
یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں(55)
الَّذينَ عٰهَدتَ مِنهُم ثُمَّ يَنقُضونَ عَهدَهُم فى كُلِّ مَرَّةٍ وَهُم لا يَتَّقونَ(56)
(خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے(56)
فَإِمّا تَثقَفَنَّهُم فِى الحَربِ فَشَرِّد بِهِم مَن خَلفَهُم لَعَلَّهُم يَذَّكَّرونَ(57)
پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دُوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہو جائیں توقع ہے کہ کہ بد عہدوں کے اِس انجام سے وہ سبق لیں گے(57)
وَإِمّا تَخافَنَّ مِن قَومٍ خِيانَةً فَانبِذ إِلَيهِم عَلىٰ سَواءٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الخائِنينَ(58)
اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا(58)
وَلا يَحسَبَنَّ الَّذينَ كَفَروا سَبَقوا ۚ إِنَّهُم لا يُعجِزونَ(59)
منکرینِ حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے، یقیناً وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے(59)
وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ وَمِن رِباطِ الخَيلِ تُرهِبونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُم وَءاخَرينَ مِن دونِهِم لا تَعلَمونَهُمُ اللَّهُ يَعلَمُهُم ۚ وَما تُنفِقوا مِن شَيءٍ فى سَبيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيكُم وَأَنتُم لا تُظلَمونَ(60)
اور تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا(60)
۞ وَإِن جَنَحوا لِلسَّلمِ فَاجنَح لَها وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّميعُ العَليمُ(61)
اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے(61)
وَإِن يُريدوا أَن يَخدَعوكَ فَإِنَّ حَسبَكَ اللَّهُ ۚ هُوَ الَّذى أَيَّدَكَ بِنَصرِهِ وَبِالمُؤمِنينَ(62)
اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعہ سے تمہاری تائید کی(62)
وَأَلَّفَ بَينَ قُلوبِهِم ۚ لَو أَنفَقتَ ما فِى الأَرضِ جَميعًا ما أَلَّفتَ بَينَ قُلوبِهِم وَلٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَينَهُم ۚ إِنَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ(63)
اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے(63)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ حَسبُكَ اللَّهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ المُؤمِنينَ(64)
اے نبیؐ، تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے(64)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ حَرِّضِ المُؤمِنينَ عَلَى القِتالِ ۚ إِن يَكُن مِنكُم عِشرونَ صٰبِرونَ يَغلِبوا مِا۟ئَتَينِ ۚ وَإِن يَكُن مِنكُم مِا۟ئَةٌ يَغلِبوا أَلفًا مِنَ الَّذينَ كَفَروا بِأَنَّهُم قَومٌ لا يَفقَهونَ(65)
اے نبیؐ، مومنوں کو جنگ پر اُبھارو اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے(65)
الـٰٔنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنكُم وَعَلِمَ أَنَّ فيكُم ضَعفًا ۚ فَإِن يَكُن مِنكُم مِا۟ئَةٌ صابِرَةٌ يَغلِبوا مِا۟ئَتَينِ ۚ وَإِن يَكُن مِنكُم أَلفٌ يَغلِبوا أَلفَينِ بِإِذنِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ مَعَ الصّٰبِرينَ(66)
اچھا، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دو ہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے، اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں(66)
ما كانَ لِنَبِىٍّ أَن يَكونَ لَهُ أَسرىٰ حَتّىٰ يُثخِنَ فِى الأَرضِ ۚ تُريدونَ عَرَضَ الدُّنيا وَاللَّهُ يُريدُ الءاخِرَةَ ۗ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ(67)
کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو، حالانکہ اللہ کے پیشِ نظر آخرت ہے، اور اللہ غالب اور حکیم ہے(67)
لَولا كِتٰبٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُم فيما أَخَذتُم عَذابٌ عَظيمٌ(68)
اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جا چکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزا دی جاتی(68)
فَكُلوا مِمّا غَنِمتُم حَلٰلًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ(69)
پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو یقیناً اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے(69)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِمَن فى أَيديكُم مِنَ الأَسرىٰ إِن يَعلَمِ اللَّهُ فى قُلوبِكُم خَيرًا يُؤتِكُم خَيرًا مِمّا أُخِذَ مِنكُم وَيَغفِر لَكُم ۗ وَاللَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(70)
اے نبیؐ، تم لوگوں کے قبضہ میں جو قیدی ہیں ان سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اُس سے بڑھ چڑھ کر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے(70)
وَإِن يُريدوا خِيانَتَكَ فَقَد خانُوا اللَّهَ مِن قَبلُ فَأَمكَنَ مِنهُم ۗ وَاللَّهُ عَليمٌ حَكيمٌ(71)
لیکن اگر وہ تیرے ساتھ خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کر چکے ہیں، چنانچہ اسی کی سزا اللہ نے انہیں دی کہ وہ تیرے قابو میں آ گئے، اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم ہے(71)
إِنَّ الَّذينَ ءامَنوا وَهاجَروا وَجٰهَدوا بِأَموٰلِهِم وَأَنفُسِهِم فى سَبيلِ اللَّهِ وَالَّذينَ ءاوَوا وَنَصَروا أُولٰئِكَ بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ وَالَّذينَ ءامَنوا وَلَم يُهاجِروا ما لَكُم مِن وَلٰيَتِهِم مِن شَيءٍ حَتّىٰ يُهاجِروا ۚ وَإِنِ استَنصَروكُم فِى الدّينِ فَعَلَيكُمُ النَّصرُ إِلّا عَلىٰ قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثٰقٌ ۗ وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرٌ(72)
جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کر کے (دارالاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آ جائیں ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے(72)
وَالَّذينَ كَفَروا بَعضُهُم أَولِياءُ بَعضٍ ۚ إِلّا تَفعَلوهُ تَكُن فِتنَةٌ فِى الأَرضِ وَفَسادٌ كَبيرٌ(73)
جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہو گا(73)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَهاجَروا وَجٰهَدوا فى سَبيلِ اللَّهِ وَالَّذينَ ءاوَوا وَنَصَروا أُولٰئِكَ هُمُ المُؤمِنونَ حَقًّا ۚ لَهُم مَغفِرَةٌ وَرِزقٌ كَريمٌ(74)
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے(74)
وَالَّذينَ ءامَنوا مِن بَعدُ وَهاجَروا وَجٰهَدوا مَعَكُم فَأُولٰئِكَ مِنكُم ۚ وَأُولُوا الأَرحامِ بَعضُهُم أَولىٰ بِبَعضٍ فى كِتٰبِ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(75)
اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کر کے آ گئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے(75)