Al-An'am( الأنعام)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَجَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَالنّورَ ۖ ثُمَّ الَّذينَ كَفَروا بِرَبِّهِم يَعدِلونَ(1)
تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کر دیا ہے دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر ٹھیرا رہے ہیں(1)
هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن طينٍ ثُمَّ قَضىٰ أَجَلًا ۖ وَأَجَلٌ مُسَمًّى عِندَهُ ۖ ثُمَّ أَنتُم تَمتَرونَ(2)
وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدت مقرر کر دی، اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جواس کے ہاں طے شدہ ہے مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو(2)
وَهُوَ اللَّهُ فِى السَّمٰوٰتِ وَفِى الأَرضِ ۖ يَعلَمُ سِرَّكُم وَجَهرَكُم وَيَعلَمُ ما تَكسِبونَ(3)
وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے(3)
وَما تَأتيهِم مِن ءايَةٍ مِن ءايٰتِ رَبِّهِم إِلّا كانوا عَنها مُعرِضينَ(4)
لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو(4)
فَقَد كَذَّبوا بِالحَقِّ لَمّا جاءَهُم ۖ فَسَوفَ يَأتيهِم أَنبٰؤُا۟ ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(5)
چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی(5)
أَلَم يَرَوا كَم أَهلَكنا مِن قَبلِهِم مِن قَرنٍ مَكَّنّٰهُم فِى الأَرضِ ما لَم نُمَكِّن لَكُم وَأَرسَلنَا السَّماءَ عَلَيهِم مِدرارًا وَجَعَلنَا الأَنهٰرَ تَجرى مِن تَحتِهِم فَأَهلَكنٰهُم بِذُنوبِهِم وَأَنشَأنا مِن بَعدِهِم قَرنًا ءاخَرينَ(6)
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دور دورہ رہا ہے؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا(6)
وَلَو نَزَّلنا عَلَيكَ كِتٰبًا فى قِرطاسٍ فَلَمَسوهُ بِأَيديهِم لَقالَ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا سِحرٌ مُبينٌ(7)
اے پیغمبرؐ! اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے(7)
وَقالوا لَولا أُنزِلَ عَلَيهِ مَلَكٌ ۖ وَلَو أَنزَلنا مَلَكًا لَقُضِىَ الأَمرُ ثُمَّ لا يُنظَرونَ(8)
کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی(8)
وَلَو جَعَلنٰهُ مَلَكًا لَجَعَلنٰهُ رَجُلًا وَلَلَبَسنا عَلَيهِم ما يَلبِسونَ(9)
اور اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں(9)
وَلَقَدِ استُهزِئَ بِرُسُلٍ مِن قَبلِكَ فَحاقَ بِالَّذينَ سَخِروا مِنهُم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(10)
اے محمدؐ! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے(10)
قُل سيروا فِى الأَرضِ ثُمَّ انظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُكَذِّبينَ(11)
اِن سے کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے(11)
قُل لِمَن ما فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ قُل لِلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلىٰ نَفسِهِ الرَّحمَةَ ۚ لَيَجمَعَنَّكُم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ لا رَيبَ فيهِ ۚ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم فَهُم لا يُؤمِنونَ(12)
ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کاہے؟کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے، اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے (اسی لیے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑ لیتا)، قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے، مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کر لیا ہے وہ اسے نہیں مانتے(12)
۞ وَلَهُ ما سَكَنَ فِى الَّيلِ وَالنَّهارِ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(13)
رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہوا ہے، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے(13)
قُل أَغَيرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَهُوَ يُطعِمُ وَلا يُطعَمُ ۗ قُل إِنّى أُمِرتُ أَن أَكونَ أَوَّلَ مَن أَسلَمَ ۖ وَلا تَكونَنَّ مِنَ المُشرِكينَ(14)
کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سر پرست بنا لوں؟ اُس خدا کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے؟ کہو، مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سر تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو(14)
قُل إِنّى أَخافُ إِن عَصَيتُ رَبّى عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(15)
کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی(15)
مَن يُصرَف عَنهُ يَومَئِذٍ فَقَد رَحِمَهُ ۚ وَذٰلِكَ الفَوزُ المُبينُ(16)
اُس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے(16)
وَإِن يَمسَسكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا كاشِفَ لَهُ إِلّا هُوَ ۖ وَإِن يَمسَسكَ بِخَيرٍ فَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(17)
اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے(17)
وَهُوَ القاهِرُ فَوقَ عِبادِهِ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ الخَبيرُ(18)
وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے(18)
قُل أَىُّ شَيءٍ أَكبَرُ شَهٰدَةً ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ شَهيدٌ بَينى وَبَينَكُم ۚ وَأوحِىَ إِلَىَّ هٰذَا القُرءانُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ ۚ أَئِنَّكُم لَتَشهَدونَ أَنَّ مَعَ اللَّهِ ءالِهَةً أُخرىٰ ۚ قُل لا أَشهَدُ ۚ قُل إِنَّما هُوَ إِلٰهٌ وٰحِدٌ وَإِنَّنى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ(19)
ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو متنبہ کر دوں کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں؟ کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو(19)
الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَعرِفونَهُ كَما يَعرِفونَ أَبناءَهُمُ ۘ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم فَهُم لا يُؤمِنونَ(20)
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اِسے نہیں مانتے(20)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو كَذَّبَ بِـٔايٰتِهِ ۗ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(21)
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے، یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے(21)
وَيَومَ نَحشُرُهُم جَميعًا ثُمَّ نَقولُ لِلَّذينَ أَشرَكوا أَينَ شُرَكاؤُكُمُ الَّذينَ كُنتُم تَزعُمونَ(22)
جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے(22)
ثُمَّ لَم تَكُن فِتنَتُهُم إِلّا أَن قالوا وَاللَّهِ رَبِّنا ما كُنّا مُشرِكينَ(23)
تو وہ اِس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ (یہ جھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشر ک نہ تھے(23)
انظُر كَيفَ كَذَبوا عَلىٰ أَنفُسِهِم ۚ وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(24)
دیکھو، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں اُن کے سارے بناوٹی معبود گم ہو جائیں گے(24)
وَمِنهُم مَن يَستَمِعُ إِلَيكَ ۖ وَجَعَلنا عَلىٰ قُلوبِهِم أَكِنَّةً أَن يَفقَهوهُ وَفى ءاذانِهِم وَقرًا ۚ وَإِن يَرَوا كُلَّ ءايَةٍ لا يُؤمِنوا بِها ۚ حَتّىٰ إِذا جاءوكَ يُجٰدِلونَكَ يَقولُ الَّذينَ كَفَروا إِن هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(25)
ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں(25)
وَهُم يَنهَونَ عَنهُ وَيَنـَٔونَ عَنهُ ۖ وَإِن يُهلِكونَ إِلّا أَنفُسَهُم وَما يَشعُرونَ(26)
وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خو د اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے(26)
وَلَو تَرىٰ إِذ وُقِفوا عَلَى النّارِ فَقالوا يٰلَيتَنا نُرَدُّ وَلا نُكَذِّبَ بِـٔايٰتِ رَبِّنا وَنَكونَ مِنَ المُؤمِنينَ(27)
کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں(27)
بَل بَدا لَهُم ما كانوا يُخفونَ مِن قَبلُ ۖ وَلَو رُدّوا لَعادوا لِما نُهوا عَنهُ وَإِنَّهُم لَكٰذِبونَ(28)
در حقیقت یہ با ت وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہوگی، ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے)(28)
وَقالوا إِن هِىَ إِلّا حَياتُنَا الدُّنيا وَما نَحنُ بِمَبعوثينَ(29)
آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے(29)
وَلَو تَرىٰ إِذ وُقِفوا عَلىٰ رَبِّهِم ۚ قالَ أَلَيسَ هٰذا بِالحَقِّ ۚ قالوا بَلىٰ وَرَبِّنا ۚ قالَ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(30)
کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا "کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں اے ہمارے رب! یہ حقیقت ہی ہے" وہ فرمائے گا "اچھا! تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو"(30)
قَد خَسِرَ الَّذينَ كَذَّبوا بِلِقاءِ اللَّهِ ۖ حَتّىٰ إِذا جاءَتهُمُ السّاعَةُ بَغتَةً قالوا يٰحَسرَتَنا عَلىٰ ما فَرَّطنا فيها وَهُم يَحمِلونَ أَوزارَهُم عَلىٰ ظُهورِهِم ۚ أَلا ساءَ ما يَزِرونَ(31)
نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے "افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی" اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو! کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں(31)
وَمَا الحَيوٰةُ الدُّنيا إِلّا لَعِبٌ وَلَهوٌ ۖ وَلَلدّارُ الءاخِرَةُ خَيرٌ لِلَّذينَ يَتَّقونَ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(32)
دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے، حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے؟(32)
قَد نَعلَمُ إِنَّهُ لَيَحزُنُكَ الَّذى يَقولونَ ۖ فَإِنَّهُم لا يُكَذِّبونَكَ وَلٰكِنَّ الظّٰلِمينَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ يَجحَدونَ(33)
اے محمدؐ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں(33)
وَلَقَد كُذِّبَت رُسُلٌ مِن قَبلِكَ فَصَبَروا عَلىٰ ما كُذِّبوا وَأوذوا حَتّىٰ أَتىٰهُم نَصرُنا ۚ وَلا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللَّهِ ۚ وَلَقَد جاءَكَ مِن نَبَإِي۟ المُرسَلينَ(34)
تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے، اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں(34)
وَإِن كانَ كَبُرَ عَلَيكَ إِعراضُهُم فَإِنِ استَطَعتَ أَن تَبتَغِىَ نَفَقًا فِى الأَرضِ أَو سُلَّمًا فِى السَّماءِ فَتَأتِيَهُم بِـٔايَةٍ ۚ وَلَو شاءَ اللَّهُ لَجَمَعَهُم عَلَى الهُدىٰ ۚ فَلا تَكونَنَّ مِنَ الجٰهِلينَ(35)
تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر سکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو(35)
۞ إِنَّما يَستَجيبُ الَّذينَ يَسمَعونَ ۘ وَالمَوتىٰ يَبعَثُهُمُ اللَّهُ ثُمَّ إِلَيهِ يُرجَعونَ(36)
دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سننے والے ہیں، رہے مُردے، تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے) واپس لائے جائیں گے(36)
وَقالوا لَولا نُزِّلَ عَلَيهِ ءايَةٌ مِن رَبِّهِ ۚ قُل إِنَّ اللَّهَ قادِرٌ عَلىٰ أَن يُنَزِّلَ ءايَةً وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(37)
یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں(37)
وَما مِن دابَّةٍ فِى الأَرضِ وَلا طٰئِرٍ يَطيرُ بِجَناحَيهِ إِلّا أُمَمٌ أَمثالُكُم ۚ ما فَرَّطنا فِى الكِتٰبِ مِن شَيءٍ ۚ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّهِم يُحشَرونَ(38)
زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں(38)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا صُمٌّ وَبُكمٌ فِى الظُّلُمٰتِ ۗ مَن يَشَإِ اللَّهُ يُضلِلهُ وَمَن يَشَأ يَجعَلهُ عَلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(39)
مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے(39)
قُل أَرَءَيتَكُم إِن أَتىٰكُم عَذابُ اللَّهِ أَو أَتَتكُمُ السّاعَةُ أَغَيرَ اللَّهِ تَدعونَ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(40)
ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچے ہو(40)
بَل إِيّاهُ تَدعونَ فَيَكشِفُ ما تَدعونَ إِلَيهِ إِن شاءَ وَتَنسَونَ ما تُشرِكونَ(41)
ا س وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو(41)
وَلَقَد أَرسَلنا إِلىٰ أُمَمٍ مِن قَبلِكَ فَأَخَذنٰهُم بِالبَأساءِ وَالضَّرّاءِ لَعَلَّهُم يَتَضَرَّعونَ(42)
تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں(42)
فَلَولا إِذ جاءَهُم بَأسُنا تَضَرَّعوا وَلٰكِن قَسَت قُلوبُهُم وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيطٰنُ ما كانوا يَعمَلونَ(43)
پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو(43)
فَلَمّا نَسوا ما ذُكِّروا بِهِ فَتَحنا عَلَيهِم أَبوٰبَ كُلِّ شَيءٍ حَتّىٰ إِذا فَرِحوا بِما أوتوا أَخَذنٰهُم بَغتَةً فَإِذا هُم مُبلِسونَ(44)
پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے(44)
فَقُطِعَ دابِرُ القَومِ الَّذينَ ظَلَموا ۚ وَالحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(45)
اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ رب العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)(45)
قُل أَرَءَيتُم إِن أَخَذَ اللَّهُ سَمعَكُم وَأَبصٰرَكُم وَخَتَمَ عَلىٰ قُلوبِكُم مَن إِلٰهٌ غَيرُ اللَّهِ يَأتيكُم بِهِ ۗ انظُر كَيفَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ ثُمَّ هُم يَصدِفونَ(46)
اے محمدؐ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر کر دے تو اللہ کے سوا اور کون سا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلاسکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چرا جاتے ہیں(46)
قُل أَرَءَيتَكُم إِن أَتىٰكُم عَذابُ اللَّهِ بَغتَةً أَو جَهرَةً هَل يُهلَكُ إِلَّا القَومُ الظّٰلِمونَ(47)
کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟(47)
وَما نُرسِلُ المُرسَلينَ إِلّا مُبَشِّرينَ وَمُنذِرينَ ۖ فَمَن ءامَنَ وَأَصلَحَ فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(48)
ہم جو رسول بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوش خبری دینے والے اور بد کرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے(48)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا يَمَسُّهُمُ العَذابُ بِما كانوا يَفسُقونَ(49)
اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بھگت کر رہیں گے(49)
قُل لا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ وَلا أَقولُ لَكُم إِنّى مَلَكٌ ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ ۚ قُل هَل يَستَوِى الأَعمىٰ وَالبَصيرُ ۚ أَفَلا تَتَفَكَّرونَ(50)
ا ے محمدؐ! ان سے کہو، "میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے" پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟(50)
وَأَنذِر بِهِ الَّذينَ يَخافونَ أَن يُحشَروا إِلىٰ رَبِّهِم ۙ لَيسَ لَهُم مِن دونِهِ وَلِىٌّ وَلا شَفيعٌ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ(51)
اے محمدؐ! تم اس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں(51)
وَلا تَطرُدِ الَّذينَ يَدعونَ رَبَّهُم بِالغَدوٰةِ وَالعَشِىِّ يُريدونَ وَجهَهُ ۖ ما عَلَيكَ مِن حِسابِهِم مِن شَيءٍ وَما مِن حِسابِكَ عَلَيهِم مِن شَيءٍ فَتَطرُدَهُم فَتَكونَ مِنَ الظّٰلِمينَ(52)
اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے(52)
وَكَذٰلِكَ فَتَنّا بَعضَهُم بِبَعضٍ لِيَقولوا أَهٰؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيهِم مِن بَينِنا ۗ أَلَيسَ اللَّهُ بِأَعلَمَ بِالشّٰكِرينَ(53)
دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ اِنہیں دیکھ کر کہیں "کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے؟" ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے؟(53)
وَإِذا جاءَكَ الَّذينَ يُؤمِنونَ بِـٔايٰتِنا فَقُل سَلٰمٌ عَلَيكُم ۖ كَتَبَ رَبُّكُم عَلىٰ نَفسِهِ الرَّحمَةَ ۖ أَنَّهُ مَن عَمِلَ مِنكُم سوءًا بِجَهٰلَةٍ ثُمَّ تابَ مِن بَعدِهِ وَأَصلَحَ فَأَنَّهُ غَفورٌ رَحيمٌ(54)
جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو "تم پر سلامتی ہے تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اُسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے"(54)
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ وَلِتَستَبينَ سَبيلُ المُجرِمينَ(55)
اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے(55)
قُل إِنّى نُهيتُ أَن أَعبُدَ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ ۚ قُل لا أَتَّبِعُ أَهواءَكُم ۙ قَد ضَلَلتُ إِذًا وَما أَنا۠ مِنَ المُهتَدينَ(56)
اے محمدؐ! اِن سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا(56)
قُل إِنّى عَلىٰ بَيِّنَةٍ مِن رَبّى وَكَذَّبتُم بِهِ ۚ ما عِندى ما تَستَعجِلونَ بِهِ ۚ إِنِ الحُكمُ إِلّا لِلَّهِ ۖ يَقُصُّ الحَقَّ ۖ وَهُوَ خَيرُ الفٰصِلينَ(57)
کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے، وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے(57)
قُل لَو أَنَّ عِندى ما تَستَعجِلونَ بِهِ لَقُضِىَ الأَمرُ بَينى وَبَينَكُم ۗ وَاللَّهُ أَعلَمُ بِالظّٰلِمينَ(58)
کہو، اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے(58)
۞ وَعِندَهُ مَفاتِحُ الغَيبِ لا يَعلَمُها إِلّا هُوَ ۚ وَيَعلَمُ ما فِى البَرِّ وَالبَحرِ ۚ وَما تَسقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلّا يَعلَمُها وَلا حَبَّةٍ فى ظُلُمٰتِ الأَرضِ وَلا رَطبٍ وَلا يابِسٍ إِلّا فى كِتٰبٍ مُبينٍ(59)
اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے(59)
وَهُوَ الَّذى يَتَوَفّىٰكُم بِالَّيلِ وَيَعلَمُ ما جَرَحتُم بِالنَّهارِ ثُمَّ يَبعَثُكُم فيهِ لِيُقضىٰ أَجَلٌ مُسَمًّى ۖ ثُمَّ إِلَيهِ مَرجِعُكُم ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم تَعمَلونَ(60)
وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر و ہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو(60)
وَهُوَ القاهِرُ فَوقَ عِبادِهِ ۖ وَيُرسِلُ عَلَيكُم حَفَظَةً حَتّىٰ إِذا جاءَ أَحَدَكُمُ المَوتُ تَوَفَّتهُ رُسُلُنا وَهُم لا يُفَرِّطونَ(61)
اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے(61)
ثُمَّ رُدّوا إِلَى اللَّهِ مَولىٰهُمُ الحَقِّ ۚ أَلا لَهُ الحُكمُ وَهُوَ أَسرَعُ الحٰسِبينَ(62)
پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے(62)
قُل مَن يُنَجّيكُم مِن ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالبَحرِ تَدعونَهُ تَضَرُّعًا وَخُفيَةً لَئِن أَنجىٰنا مِن هٰذِهِ لَنَكونَنَّ مِنَ الشّٰكِرينَ(63)
اے محمدؐ! ا ن سے پوچھو، صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کو ن ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا، گڑگڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟(63)
قُلِ اللَّهُ يُنَجّيكُم مِنها وَمِن كُلِّ كَربٍ ثُمَّ أَنتُم تُشرِكونَ(64)
کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو(64)
قُل هُوَ القادِرُ عَلىٰ أَن يَبعَثَ عَلَيكُم عَذابًا مِن فَوقِكُم أَو مِن تَحتِ أَرجُلِكُم أَو يَلبِسَكُم شِيَعًا وَيُذيقَ بَعضَكُم بَأسَ بَعضٍ ۗ انظُر كَيفَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ لَعَلَّهُم يَفقَهونَ(65)
کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں(65)
وَكَذَّبَ بِهِ قَومُكَ وَهُوَ الحَقُّ ۚ قُل لَستُ عَلَيكُم بِوَكيلٍ(66)
تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں(66)
لِكُلِّ نَبَإٍ مُستَقَرٌّ ۚ وَسَوفَ تَعلَمونَ(67)
ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا(67)
وَإِذا رَأَيتَ الَّذينَ يَخوضونَ فى ءايٰتِنا فَأَعرِض عَنهُم حَتّىٰ يَخوضوا فى حَديثٍ غَيرِهِ ۚ وَإِمّا يُنسِيَنَّكَ الشَّيطٰنُ فَلا تَقعُد بَعدَ الذِّكرىٰ مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ(68)
اور اے محمدؐ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھلاوے میں ڈال دے تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو(68)
وَما عَلَى الَّذينَ يَتَّقونَ مِن حِسابِهِم مِن شَيءٍ وَلٰكِن ذِكرىٰ لَعَلَّهُم يَتَّقونَ(69)
اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں(69)
وَذَرِ الَّذينَ اتَّخَذوا دينَهُم لَعِبًا وَلَهوًا وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ وَذَكِّر بِهِ أَن تُبسَلَ نَفسٌ بِما كَسَبَت لَيسَ لَها مِن دونِ اللَّهِ وَلِىٌّ وَلا شَفيعٌ وَإِن تَعدِل كُلَّ عَدلٍ لا يُؤخَذ مِنها ۗ أُولٰئِكَ الَّذينَ أُبسِلوا بِما كَسَبوا ۖ لَهُم شَرابٌ مِن حَميمٍ وَعَذابٌ أَليمٌ بِما كانوا يَكفُرونَ(70)
چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور گر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا(70)
قُل أَنَدعوا مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَنفَعُنا وَلا يَضُرُّنا وَنُرَدُّ عَلىٰ أَعقابِنا بَعدَ إِذ هَدىٰنَا اللَّهُ كَالَّذِى استَهوَتهُ الشَّيٰطينُ فِى الأَرضِ حَيرانَ لَهُ أَصحٰبٌ يَدعونَهُ إِلَى الهُدَى ائتِنا ۗ قُل إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الهُدىٰ ۖ وَأُمِرنا لِنُسلِمَ لِرَبِّ العٰلَمينَ(71)
اے محمدؐ! ان سے پو چھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جبکہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے؟کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو(71)
وَأَن أَقيمُوا الصَّلوٰةَ وَاتَّقوهُ ۚ وَهُوَ الَّذى إِلَيهِ تُحشَرونَ(72)
نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے(72)
وَهُوَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ بِالحَقِّ ۖ وَيَومَ يَقولُ كُن فَيَكونُ ۚ قَولُهُ الحَقُّ ۚ وَلَهُ المُلكُ يَومَ يُنفَخُ فِى الصّورِ ۚ عٰلِمُ الغَيبِ وَالشَّهٰدَةِ ۚ وَهُوَ الحَكيمُ الخَبيرُ(73)
وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے اور جس د ن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا اس کا ارشاد عین حق ہے اور جس روز صور پھونکا جائیگا اس روز پادشاہی اُسی کی ہوگی، وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے(73)
۞ وَإِذ قالَ إِبرٰهيمُ لِأَبيهِ ءازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصنامًا ءالِهَةً ۖ إِنّى أَرىٰكَ وَقَومَكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(74)
ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا "کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے؟ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں"(74)
وَكَذٰلِكَ نُرى إِبرٰهيمَ مَلَكوتَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَلِيَكونَ مِنَ الموقِنينَ(75)
ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے(75)
فَلَمّا جَنَّ عَلَيهِ الَّيلُ رَءا كَوكَبًا ۖ قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لا أُحِبُّ الءافِلينَ(76)
چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تار ا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں(76)
فَلَمّا رَءَا القَمَرَ بازِغًا قالَ هٰذا رَبّى ۖ فَلَمّا أَفَلَ قالَ لَئِن لَم يَهدِنى رَبّى لَأَكونَنَّ مِنَ القَومِ الضّالّينَ(77)
پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میر ی رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا(77)
فَلَمّا رَءَا الشَّمسَ بازِغَةً قالَ هٰذا رَبّى هٰذا أَكبَرُ ۖ فَلَمّا أَفَلَت قالَ يٰقَومِ إِنّى بَريءٌ مِمّا تُشرِكونَ(78)
پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا "اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو(78)
إِنّى وَجَّهتُ وَجهِىَ لِلَّذى فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ حَنيفًا ۖ وَما أَنا۠ مِنَ المُشرِكينَ(79)
میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"(79)
وَحاجَّهُ قَومُهُ ۚ قالَ أَتُحٰجّونّى فِى اللَّهِ وَقَد هَدىٰنِ ۚ وَلا أَخافُ ما تُشرِكونَ بِهِ إِلّا أَن يَشاءَ رَبّى شَيـًٔا ۗ وَسِعَ رَبّى كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۗ أَفَلا تَتَذَكَّرونَ(80)
اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا "کیا تم لوگ اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟(80)
وَكَيفَ أَخافُ ما أَشرَكتُم وَلا تَخافونَ أَنَّكُم أَشرَكتُم بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ عَلَيكُم سُلطٰنًا ۚ فَأَىُّ الفَريقَينِ أَحَقُّ بِالأَمنِ ۖ إِن كُنتُم تَعلَمونَ(81)
اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو(81)
الَّذينَ ءامَنوا وَلَم يَلبِسوا إيمٰنَهُم بِظُلمٍ أُولٰئِكَ لَهُمُ الأَمنُ وَهُم مُهتَدونَ(82)
حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا"(82)
وَتِلكَ حُجَّتُنا ءاتَينٰها إِبرٰهيمَ عَلىٰ قَومِهِ ۚ نَرفَعُ دَرَجٰتٍ مَن نَشاءُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكيمٌ عَليمٌ(83)
یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیمؑ کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے(83)
وَوَهَبنا لَهُ إِسحٰقَ وَيَعقوبَ ۚ كُلًّا هَدَينا ۚ وَنوحًا هَدَينا مِن قَبلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ داوۥدَ وَسُلَيمٰنَ وَأَيّوبَ وَيوسُفَ وَموسىٰ وَهٰرونَ ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُحسِنينَ(84)
پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی (وہی راہ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی) اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں(84)
وَزَكَرِيّا وَيَحيىٰ وَعيسىٰ وَإِلياسَ ۖ كُلٌّ مِنَ الصّٰلِحينَ(85)
(اُسی کی اولاد سے) زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ اور الیاسؑ کو (راہ یاب کیا) ہر ایک ان میں سے صالح تھا(85)
وَإِسمٰعيلَ وَاليَسَعَ وَيونُسَ وَلوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلنا عَلَى العٰلَمينَ(86)
(اسی کے خاندان سے) اسماعیلؑ، الیسعؑ، اور یونسؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا) اِن میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دنیا والوں پر فضیلت عطا کی(86)
وَمِن ءابائِهِم وَذُرِّيّٰتِهِم وَإِخوٰنِهِم ۖ وَاجتَبَينٰهُم وَهَدَينٰهُم إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ(87)
نیز ان کے آبا و اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا، انہیں اپنی خدمت کے لیے چن لیا اور سیدھے راستے کی طرف اُن کی رہنمائی کی(87)
ذٰلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهدى بِهِ مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۚ وَلَو أَشرَكوا لَحَبِطَ عَنهُم ما كانوا يَعمَلونَ(88)
یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا(88)
أُولٰئِكَ الَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ وَالحُكمَ وَالنُّبُوَّةَ ۚ فَإِن يَكفُر بِها هٰؤُلاءِ فَقَد وَكَّلنا بِها قَومًا لَيسوا بِها بِكٰفِرينَ(89)
وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں(89)
أُولٰئِكَ الَّذينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدىٰهُمُ اقتَدِه ۗ قُل لا أَسـَٔلُكُم عَلَيهِ أَجرًا ۖ إِن هُوَ إِلّا ذِكرىٰ لِلعٰلَمينَ(90)
اے محمدؐ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ و ہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے(90)
وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدرِهِ إِذ قالوا ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ بَشَرٍ مِن شَيءٍ ۗ قُل مَن أَنزَلَ الكِتٰبَ الَّذى جاءَ بِهِ موسىٰ نورًا وَهُدًى لِلنّاسِ ۖ تَجعَلونَهُ قَراطيسَ تُبدونَها وَتُخفونَ كَثيرًا ۖ وَعُلِّمتُم ما لَم تَعلَموا أَنتُم وَلا ءاباؤُكُم ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ ثُمَّ ذَرهُم فى خَوضِهِم يَلعَبونَ(91)
ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دو(91)
وَهٰذا كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ مُبارَكٌ مُصَدِّقُ الَّذى بَينَ يَدَيهِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ القُرىٰ وَمَن حَولَها ۚ وَالَّذينَ يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ يُؤمِنونَ بِهِ ۖ وَهُم عَلىٰ صَلاتِهِم يُحافِظونَ(92)
(اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بڑی خیر و برکت والی ہے اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اِس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو جو لو گ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں(92)
وَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو قالَ أوحِىَ إِلَىَّ وَلَم يوحَ إِلَيهِ شَيءٌ وَمَن قالَ سَأُنزِلُ مِثلَ ما أَنزَلَ اللَّهُ ۗ وَلَو تَرىٰ إِذِ الظّٰلِمونَ فى غَمَرٰتِ المَوتِ وَالمَلٰئِكَةُ باسِطوا أَيديهِم أَخرِجوا أَنفُسَكُمُ ۖ اليَومَ تُجزَونَ عَذابَ الهونِ بِما كُنتُم تَقولونَ عَلَى اللَّهِ غَيرَ الحَقِّ وَكُنتُم عَن ءايٰتِهِ تَستَكبِرونَ(93)
اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان گھڑے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالیکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کر کے دکھا دوں گا؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "لاؤ، نکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے"(93)
وَلَقَد جِئتُمونا فُرٰدىٰ كَما خَلَقنٰكُم أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكتُم ما خَوَّلنٰكُم وَراءَ ظُهورِكُم ۖ وَما نَرىٰ مَعَكُم شُفَعاءَكُمُ الَّذينَ زَعَمتُم أَنَّهُم فيكُم شُرَكٰؤُا۟ ۚ لَقَد تَقَطَّعَ بَينَكُم وَضَلَّ عَنكُم ما كُنتُم تَزعُمونَ(94)
(اور اللہ فرمائے گا) "لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے"(94)
۞ إِنَّ اللَّهَ فالِقُ الحَبِّ وَالنَّوىٰ ۖ يُخرِجُ الحَىَّ مِنَ المَيِّتِ وَمُخرِجُ المَيِّتِ مِنَ الحَىِّ ۚ ذٰلِكُمُ اللَّهُ ۖ فَأَنّىٰ تُؤفَكونَ(95)
دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے یہ سارے کام کرنے والا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟(95)
فالِقُ الإِصباحِ وَجَعَلَ الَّيلَ سَكَنًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ حُسبانًا ۚ ذٰلِكَ تَقديرُ العَزيزِ العَليمِ(96)
پردہ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں(96)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَ لَكُمُ النُّجومَ لِتَهتَدوا بِها فى ظُلُمٰتِ البَرِّ وَالبَحرِ ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ(97)
اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں(97)
وَهُوَ الَّذى أَنشَأَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ فَمُستَقَرٌّ وَمُستَودَعٌ ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَفقَهونَ(98)
اور وہی ہے جس نے ایک متنفس سے تم کو پید ا کیا پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں(98)
وَهُوَ الَّذى أَنزَلَ مِنَ السَّماءِ ماءً فَأَخرَجنا بِهِ نَباتَ كُلِّ شَيءٍ فَأَخرَجنا مِنهُ خَضِرًا نُخرِجُ مِنهُ حَبًّا مُتَراكِبًا وَمِنَ النَّخلِ مِن طَلعِها قِنوانٌ دانِيَةٌ وَجَنّٰتٍ مِن أَعنابٍ وَالزَّيتونَ وَالرُّمّانَ مُشتَبِهًا وَغَيرَ مُتَشٰبِهٍ ۗ انظُروا إِلىٰ ثَمَرِهِ إِذا أَثمَرَ وَيَنعِهِ ۚ إِنَّ فى ذٰلِكُم لَءايٰتٍ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(99)
اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں(99)
وَجَعَلوا لِلَّهِ شُرَكاءَ الجِنَّ وَخَلَقَهُم ۖ وَخَرَقوا لَهُ بَنينَ وَبَنٰتٍ بِغَيرِ عِلمٍ ۚ سُبحٰنَهُ وَتَعٰلىٰ عَمّا يَصِفونَ(100)
اِس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا، حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کر دیں، حالانکہ وہ پاک اور بالا تر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں(100)
بَديعُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ أَنّىٰ يَكونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَم تَكُن لَهُ صٰحِبَةٌ ۖ وَخَلَقَ كُلَّ شَيءٍ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمٌ(101)
وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے(101)
ذٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُم ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ خٰلِقُ كُلِّ شَيءٍ فَاعبُدوهُ ۚ وَهُوَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ وَكيلٌ(102)
یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے(102)
لا تُدرِكُهُ الأَبصٰرُ وَهُوَ يُدرِكُ الأَبصٰرَ ۖ وَهُوَ اللَّطيفُ الخَبيرُ(103)
نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے(103)
قَد جاءَكُم بَصائِرُ مِن رَبِّكُم ۖ فَمَن أَبصَرَ فَلِنَفسِهِ ۖ وَمَن عَمِىَ فَعَلَيها ۚ وَما أَنا۠ عَلَيكُم بِحَفيظٍ(104)
دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں(104)
وَكَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ وَلِيَقولوا دَرَستَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَومٍ يَعلَمونَ(105)
اِس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کر دیں(105)
اتَّبِع ما أوحِىَ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ ۖ وَأَعرِض عَنِ المُشرِكينَ(106)
اے محمدؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو(106)
وَلَو شاءَ اللَّهُ ما أَشرَكوا ۗ وَما جَعَلنٰكَ عَلَيهِم حَفيظًا ۖ وَما أَنتَ عَلَيهِم بِوَكيلٍ(107)
اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو(107)
وَلا تَسُبُّوا الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدوًا بِغَيرِ عِلمٍ ۗ كَذٰلِكَ زَيَّنّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُم ثُمَّ إِلىٰ رَبِّهِم مَرجِعُهُم فَيُنَبِّئُهُم بِما كانوا يَعمَلونَ(108)
اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں(108)
وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمٰنِهِم لَئِن جاءَتهُم ءايَةٌ لَيُؤمِنُنَّ بِها ۚ قُل إِنَّمَا الءايٰتُ عِندَ اللَّهِ ۖ وَما يُشعِرُكُم أَنَّها إِذا جاءَت لا يُؤمِنونَ(109)
یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے اے محمدؐ! ان سے کہو کہ "نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں" اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں(109)
وَنُقَلِّبُ أَفـِٔدَتَهُم وَأَبصٰرَهُم كَما لَم يُؤمِنوا بِهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرُهُم فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ(110)
ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں(110)
۞ وَلَو أَنَّنا نَزَّلنا إِلَيهِمُ المَلٰئِكَةَ وَكَلَّمَهُمُ المَوتىٰ وَحَشَرنا عَلَيهِم كُلَّ شَيءٍ قُبُلًا ما كانوا لِيُؤمِنوا إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم يَجهَلونَ(111)
اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، الا یہ کہ مشیت الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں، مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں(111)
وَكَذٰلِكَ جَعَلنا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيٰطينَ الإِنسِ وَالجِنِّ يوحى بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ زُخرُفَ القَولِ غُرورًا ۚ وَلَو شاءَ رَبُّكَ ما فَعَلوهُ ۖ فَذَرهُم وَما يَفتَرونَ(112)
اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں اگر تمہارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں(112)
وَلِتَصغىٰ إِلَيهِ أَفـِٔدَةُ الَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ وَلِيَرضَوهُ وَلِيَقتَرِفوا ما هُم مُقتَرِفونَ(113)
(یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں(113)
أَفَغَيرَ اللَّهِ أَبتَغى حَكَمًا وَهُوَ الَّذى أَنزَلَ إِلَيكُمُ الكِتٰبَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذينَ ءاتَينٰهُمُ الكِتٰبَ يَعلَمونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِن رَبِّكَ بِالحَقِّ ۖ فَلا تَكونَنَّ مِنَ المُمتَرينَ(114)
پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو(114)
وَتَمَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدقًا وَعَدلًا ۚ لا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهِ ۚ وَهُوَ السَّميعُ العَليمُ(115)
تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے(115)
وَإِن تُطِع أَكثَرَ مَن فِى الأَرضِ يُضِلّوكَ عَن سَبيلِ اللَّهِ ۚ إِن يَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِن هُم إِلّا يَخرُصونَ(116)
اور اے محمدؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں(116)
إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ مَن يَضِلُّ عَن سَبيلِهِ ۖ وَهُوَ أَعلَمُ بِالمُهتَدينَ(117)
در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے(117)
فَكُلوا مِمّا ذُكِرَ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ إِن كُنتُم بِـٔايٰتِهِ مُؤمِنينَ(118)
پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ(118)
وَما لَكُم أَلّا تَأكُلوا مِمّا ذُكِرَ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ وَقَد فَصَّلَ لَكُم ما حَرَّمَ عَلَيكُم إِلّا مَا اضطُرِرتُم إِلَيهِ ۗ وَإِنَّ كَثيرًا لَيُضِلّونَ بِأَهوائِهِم بِغَيرِ عِلمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعلَمُ بِالمُعتَدينَ(119)
آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کر دیا ہے اُن کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے(119)
وَذَروا ظٰهِرَ الإِثمِ وَباطِنَهُ ۚ إِنَّ الَّذينَ يَكسِبونَ الإِثمَ سَيُجزَونَ بِما كانوا يَقتَرِفونَ(120)
تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے(120)
وَلا تَأكُلوا مِمّا لَم يُذكَرِ اسمُ اللَّهِ عَلَيهِ وَإِنَّهُ لَفِسقٌ ۗ وَإِنَّ الشَّيٰطينَ لَيوحونَ إِلىٰ أَولِيائِهِم لِيُجٰدِلوكُم ۖ وَإِن أَطَعتُموهُم إِنَّكُم لَمُشرِكونَ(121)
اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو(121)
أَوَمَن كانَ مَيتًا فَأَحيَينٰهُ وَجَعَلنا لَهُ نورًا يَمشى بِهِ فِى النّاسِ كَمَن مَثَلُهُ فِى الظُّلُمٰتِ لَيسَ بِخارِجٍ مِنها ۚ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلكٰفِرينَ ما كانوا يَعمَلونَ(122)
کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں(122)
وَكَذٰلِكَ جَعَلنا فى كُلِّ قَريَةٍ أَكٰبِرَ مُجرِميها لِيَمكُروا فيها ۖ وَما يَمكُرونَ إِلّا بِأَنفُسِهِم وَما يَشعُرونَ(123)
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے(123)
وَإِذا جاءَتهُم ءايَةٌ قالوا لَن نُؤمِنَ حَتّىٰ نُؤتىٰ مِثلَ ما أوتِىَ رُسُلُ اللَّهِ ۘ اللَّهُ أَعلَمُ حَيثُ يَجعَلُ رِسالَتَهُ ۗ سَيُصيبُ الَّذينَ أَجرَموا صَغارٌ عِندَ اللَّهِ وَعَذابٌ شَديدٌ بِما كانوا يَمكُرونَ(124)
جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں "ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے" اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے(124)
فَمَن يُرِدِ اللَّهُ أَن يَهدِيَهُ يَشرَح صَدرَهُ لِلإِسلٰمِ ۖ وَمَن يُرِد أَن يُضِلَّهُ يَجعَل صَدرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّما يَصَّعَّدُ فِى السَّماءِ ۚ كَذٰلِكَ يَجعَلُ اللَّهُ الرِّجسَ عَلَى الَّذينَ لا يُؤمِنونَ(125)
پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے اِس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی اُن لوگوں پر مسلط کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے(125)
وَهٰذا صِرٰطُ رَبِّكَ مُستَقيمًا ۗ قَد فَصَّلنَا الءايٰتِ لِقَومٍ يَذَّكَّرونَ(126)
حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کے لیے واضح کر دیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں(126)
۞ لَهُم دارُ السَّلٰمِ عِندَ رَبِّهِم ۖ وَهُوَ وَلِيُّهُم بِما كانوا يَعمَلونَ(127)
اُن کیلیے اُن کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا سر پرست ہے اُس صحیح طرز عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختیار کیا(127)
وَيَومَ يَحشُرُهُم جَميعًا يٰمَعشَرَ الجِنِّ قَدِ استَكثَرتُم مِنَ الإِنسِ ۖ وَقالَ أَولِياؤُهُم مِنَ الإِنسِ رَبَّنَا استَمتَعَ بَعضُنا بِبَعضٍ وَبَلَغنا أَجَلَنَا الَّذى أَجَّلتَ لَنا ۚ قالَ النّارُ مَثوىٰكُم خٰلِدينَ فيها إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ۗ إِنَّ رَبَّكَ حَكيمٌ عَليمٌ(128)
جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جنوں سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ "ا ے گروہ جن! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا" انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے "پروردگار! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خو ب استعمال کیا ہے، اور اب ہم اُس وقت پر آ پہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا" اللہ فرمائے گا "اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے" ا"س سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بے شک تمہارا رب دانا اور علیم ہے(128)
وَكَذٰلِكَ نُوَلّى بَعضَ الظّٰلِمينَ بَعضًا بِما كانوا يَكسِبونَ(129)
دیکھو، اس طرح ہم (آخر ت میں) ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے اُس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر) کرتے تھے(129)
يٰمَعشَرَ الجِنِّ وَالإِنسِ أَلَم يَأتِكُم رُسُلٌ مِنكُم يَقُصّونَ عَلَيكُم ءايٰتى وَيُنذِرونَكُم لِقاءَ يَومِكُم هٰذا ۚ قالوا شَهِدنا عَلىٰ أَنفُسِنا ۖ وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا وَشَهِدوا عَلىٰ أَنفُسِهِم أَنَّهُم كانوا كٰفِرينَ(130)
(اس موقع پر اللہ ان سے پوچھے گا کہ) "اے گروہ جن وانس، کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے؟" وہ کہیں گے "ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں" آج دنیا کی زندگی نے اِن لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے(130)
ذٰلِكَ أَن لَم يَكُن رَبُّكَ مُهلِكَ القُرىٰ بِظُلمٍ وَأَهلُها غٰفِلونَ(131)
(یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہو جائے کہ) تمہارا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جبکہ ان کے باشندے حقیقت سے نا واقف ہوں(131)
وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِمّا عَمِلوا ۚ وَما رَبُّكَ بِغٰفِلٍ عَمّا يَعمَلونَ(132)
ہر شخص کا درجہ اُس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے(132)
وَرَبُّكَ الغَنِىُّ ذُو الرَّحمَةِ ۚ إِن يَشَأ يُذهِبكُم وَيَستَخلِف مِن بَعدِكُم ما يَشاءُ كَما أَنشَأَكُم مِن ذُرِّيَّةِ قَومٍ ءاخَرينَ(133)
تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے اگر و ہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے(133)
إِنَّ ما توعَدونَ لَءاتٍ ۖ وَما أَنتُم بِمُعجِزينَ(134)
تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے اور تم خدا کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے(134)
قُل يٰقَومِ اعمَلوا عَلىٰ مَكانَتِكُم إِنّى عامِلٌ ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ مَن تَكونُ لَهُ عٰقِبَةُ الدّارِ ۗ إِنَّهُ لا يُفلِحُ الظّٰلِمونَ(135)
اے محمدؐ! کہہ دو کہ لوگو! تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے(135)
وَجَعَلوا لِلَّهِ مِمّا ذَرَأَ مِنَ الحَرثِ وَالأَنعٰمِ نَصيبًا فَقالوا هٰذا لِلَّهِ بِزَعمِهِم وَهٰذا لِشُرَكائِنا ۖ فَما كانَ لِشُرَكائِهِم فَلا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَما كانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلىٰ شُرَكائِهِم ۗ ساءَ ما يَحكُمونَ(136)
اِن لوگوں نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعم خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے پھر جو حصہ ان کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ!(136)
وَكَذٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثيرٍ مِنَ المُشرِكينَ قَتلَ أَولٰدِهِم شُرَكاؤُهُم لِيُردوهُم وَلِيَلبِسوا عَلَيهِم دينَهُم ۖ وَلَو شاءَ اللَّهُ ما فَعَلوهُ ۖ فَذَرهُم وَما يَفتَرونَ(137)
اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پرداز یوں میں لگے رہیں(137)
وَقالوا هٰذِهِ أَنعٰمٌ وَحَرثٌ حِجرٌ لا يَطعَمُها إِلّا مَن نَشاءُ بِزَعمِهِم وَأَنعٰمٌ حُرِّمَت ظُهورُها وَأَنعٰمٌ لا يَذكُرونَ اسمَ اللَّهِ عَلَيهَا افتِراءً عَلَيهِ ۚ سَيَجزيهِم بِما كانوا يَفتَرونَ(138)
کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، ا نہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے، عنقریب اللہ انہیں ان افترا پرداز یوں کا بدلہ دے گا(138)
وَقالوا ما فى بُطونِ هٰذِهِ الأَنعٰمِ خالِصَةٌ لِذُكورِنا وَمُحَرَّمٌ عَلىٰ أَزوٰجِنا ۖ وَإِن يَكُن مَيتَةً فَهُم فيهِ شُرَكاءُ ۚ سَيَجزيهِم وَصفَهُم ۚ إِنَّهُ حَكيمٌ عَليمٌ(139)
اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے(139)
قَد خَسِرَ الَّذينَ قَتَلوا أَولٰدَهُم سَفَهًا بِغَيرِ عِلمٍ وَحَرَّموا ما رَزَقَهُمُ اللَّهُ افتِراءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَد ضَلّوا وَما كانوا مُهتَدينَ(140)
یقیناً خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کر کے حرام ٹھیرا لیا یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہرگز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے(140)
۞ وَهُوَ الَّذى أَنشَأَ جَنّٰتٍ مَعروشٰتٍ وَغَيرَ مَعروشٰتٍ وَالنَّخلَ وَالزَّرعَ مُختَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيتونَ وَالرُّمّانَ مُتَشٰبِهًا وَغَيرَ مُتَشٰبِهٍ ۚ كُلوا مِن ثَمَرِهِ إِذا أَثمَرَ وَءاتوا حَقَّهُ يَومَ حَصادِهِ ۖ وَلا تُسرِفوا ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِفينَ(141)
وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب اس کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(141)
وَمِنَ الأَنعٰمِ حَمولَةً وَفَرشًا ۚ كُلوا مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ وَلا تَتَّبِعوا خُطُوٰتِ الشَّيطٰنِ ۚ إِنَّهُ لَكُم عَدُوٌّ مُبينٌ(142)
پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و بار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں کھاؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیرو ی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے(142)
ثَمٰنِيَةَ أَزوٰجٍ ۖ مِنَ الضَّأنِ اثنَينِ وَمِنَ المَعزِ اثنَينِ ۗ قُل ءالذَّكَرَينِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَينِ أَمَّا اشتَمَلَت عَلَيهِ أَرحامُ الأُنثَيَينِ ۖ نَبِّـٔونى بِعِلمٍ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(143)
یہ آٹھ نر و مادہ ہیں، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے، اے محمدؐ! ان سے پوچھو کہ اللہ نے اُن کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتاؤ اگر تم سچے ہو(143)
وَمِنَ الإِبِلِ اثنَينِ وَمِنَ البَقَرِ اثنَينِ ۗ قُل ءالذَّكَرَينِ حَرَّمَ أَمِ الأُنثَيَينِ أَمَّا اشتَمَلَت عَلَيهِ أَرحامُ الأُنثَيَينِ ۖ أَم كُنتُم شُهَداءَ إِذ وَصّىٰكُمُ اللَّهُ بِهٰذا ۚ فَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا لِيُضِلَّ النّاسَ بِغَيرِ عِلمٍ ۗ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(144)
اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے پوچھو، اِن کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟ کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا(144)
قُل لا أَجِدُ فى ما أوحِىَ إِلَىَّ مُحَرَّمًا عَلىٰ طاعِمٍ يَطعَمُهُ إِلّا أَن يَكونَ مَيتَةً أَو دَمًا مَسفوحًا أَو لَحمَ خِنزيرٍ فَإِنَّهُ رِجسٌ أَو فِسقًا أُهِلَّ لِغَيرِ اللَّهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضطُرَّ غَيرَ باغٍ وَلا عادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفورٌ رَحيمٌ(145)
اے محمدؐ! ان سے کہو کہ جو وحی تمہارے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، الا یہ کہ وہ مُردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یاسور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں (کوئی چیز اِن میں سے کھا لے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً تمہارا رب در گزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے(145)
وَعَلَى الَّذينَ هادوا حَرَّمنا كُلَّ ذى ظُفُرٍ ۖ وَمِنَ البَقَرِ وَالغَنَمِ حَرَّمنا عَلَيهِم شُحومَهُما إِلّا ما حَمَلَت ظُهورُهُما أَوِ الحَوايا أَو مَا اختَلَطَ بِعَظمٍ ۚ ذٰلِكَ جَزَينٰهُم بِبَغيِهِم ۖ وَإِنّا لَصٰدِقونَ(146)
اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا اُنہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں(146)
فَإِن كَذَّبوكَ فَقُل رَبُّكُم ذو رَحمَةٍ وٰسِعَةٍ وَلا يُرَدُّ بَأسُهُ عَنِ القَومِ المُجرِمينَ(147)
اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جاسکتا(147)
سَيَقولُ الَّذينَ أَشرَكوا لَو شاءَ اللَّهُ ما أَشرَكنا وَلا ءاباؤُنا وَلا حَرَّمنا مِن شَيءٍ ۚ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذينَ مِن قَبلِهِم حَتّىٰ ذاقوا بَأسَنا ۗ قُل هَل عِندَكُم مِن عِلمٍ فَتُخرِجوهُ لَنا ۖ إِن تَتَّبِعونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِن أَنتُم إِلّا تَخرُصونَ(148)
یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ "اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھراتے" ایسی ہی باتیں بنا بنا کر اِن سے پہلے کے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا ان سے کہو "کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو"(148)
قُل فَلِلَّهِ الحُجَّةُ البٰلِغَةُ ۖ فَلَو شاءَ لَهَدىٰكُم أَجمَعينَ(149)
پھر کہو (تمہاری اس حجت کے مقابلہ میں) "حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے، بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا"(149)
قُل هَلُمَّ شُهَداءَكُمُ الَّذينَ يَشهَدونَ أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ هٰذا ۖ فَإِن شَهِدوا فَلا تَشهَد مَعَهُم ۚ وَلا تَتَّبِع أَهواءَ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَالَّذينَ لا يُؤمِنونَ بِالءاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِم يَعدِلونَ(150)
ان سے کہو کہ "لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے اِن چیزوں کو حرام کیا ہے" پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا، اور ہرگز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے، اور جو آخرت کے منکر ہیں، اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں(150)
۞ قُل تَعالَوا أَتلُ ما حَرَّمَ رَبُّكُم عَلَيكُم ۖ أَلّا تُشرِكوا بِهِ شَيـًٔا ۖ وَبِالوٰلِدَينِ إِحسٰنًا ۖ وَلا تَقتُلوا أَولٰدَكُم مِن إِملٰقٍ ۖ نَحنُ نَرزُقُكُم وَإِيّاهُم ۖ وَلا تَقرَبُوا الفَوٰحِشَ ما ظَهَرَ مِنها وَما بَطَنَ ۖ وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ ۚ ذٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَعقِلونَ(151)
اے محمدؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو، اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ا ن کو بھی دیں گے اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کھلی ہوں یا چھپی اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو(151)
وَلا تَقرَبوا مالَ اليَتيمِ إِلّا بِالَّتى هِىَ أَحسَنُ حَتّىٰ يَبلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوفُوا الكَيلَ وَالميزانَ بِالقِسطِ ۖ لا نُكَلِّفُ نَفسًا إِلّا وُسعَها ۖ وَإِذا قُلتُم فَاعدِلوا وَلَو كانَ ذا قُربىٰ ۖ وَبِعَهدِ اللَّهِ أَوفوا ۚ ذٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(152)
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے، اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو، اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو(152)
وَأَنَّ هٰذا صِرٰطى مُستَقيمًا فَاتَّبِعوهُ ۖ وَلا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُم عَن سَبيلِهِ ۚ ذٰلِكُم وَصّىٰكُم بِهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ(153)
نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو(153)
ثُمَّ ءاتَينا موسَى الكِتٰبَ تَمامًا عَلَى الَّذى أَحسَنَ وَتَفصيلًا لِكُلِّ شَيءٍ وَهُدًى وَرَحمَةً لَعَلَّهُم بِلِقاءِ رَبِّهِم يُؤمِنونَ(154)
پھر ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں(154)
وَهٰذا كِتٰبٌ أَنزَلنٰهُ مُبارَكٌ فَاتَّبِعوهُ وَاتَّقوا لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(155)
اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے، ایک برکت والی کتاب پس تم اِس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے(155)
أَن تَقولوا إِنَّما أُنزِلَ الكِتٰبُ عَلىٰ طائِفَتَينِ مِن قَبلِنا وَإِن كُنّا عَن دِراسَتِهِم لَغٰفِلينَ(156)
اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی، اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے(156)
أَو تَقولوا لَو أَنّا أُنزِلَ عَلَينَا الكِتٰبُ لَكُنّا أَهدىٰ مِنهُم ۚ فَقَد جاءَكُم بَيِّنَةٌ مِن رَبِّكُم وَهُدًى وَرَحمَةٌ ۚ فَمَن أَظلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَصَدَفَ عَنها ۗ سَنَجزِى الَّذينَ يَصدِفونَ عَن ءايٰتِنا سوءَ العَذابِ بِما كانوا يَصدِفونَ(157)
اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس رو گردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے(157)
هَل يَنظُرونَ إِلّا أَن تَأتِيَهُمُ المَلٰئِكَةُ أَو يَأتِىَ رَبُّكَ أَو يَأتِىَ بَعضُ ءايٰتِ رَبِّكَ ۗ يَومَ يَأتى بَعضُ ءايٰتِ رَبِّكَ لا يَنفَعُ نَفسًا إيمٰنُها لَم تَكُن ءامَنَت مِن قَبلُ أَو كَسَبَت فى إيمٰنِها خَيرًا ۗ قُلِ انتَظِروا إِنّا مُنتَظِرونَ(158)
کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آ کھڑے ہوں، یا تمہارا رب خود آ جائے، یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہو جائیں؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں نمودار ہو جائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو اے محمدؐ! ان سے کہہ دو کہ اچھا، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں(158)
إِنَّ الَّذينَ فَرَّقوا دينَهُم وَكانوا شِيَعًا لَستَ مِنهُم فى شَيءٍ ۚ إِنَّما أَمرُهُم إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِما كانوا يَفعَلونَ(159)
جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے(159)
مَن جاءَ بِالحَسَنَةِ فَلَهُ عَشرُ أَمثالِها ۖ وَمَن جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجزىٰ إِلّا مِثلَها وَهُم لا يُظلَمونَ(160)
جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصور کیا ہے، اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا(160)
قُل إِنَّنى هَدىٰنى رَبّى إِلىٰ صِرٰطٍ مُستَقيمٍ دينًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبرٰهيمَ حَنيفًا ۚ وَما كانَ مِنَ المُشرِكينَ(161)
اے محمدؐ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا(161)
قُل إِنَّ صَلاتى وَنُسُكى وَمَحياىَ وَمَماتى لِلَّهِ رَبِّ العٰلَمينَ(162)
کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے(162)
لا شَريكَ لَهُ ۖ وَبِذٰلِكَ أُمِرتُ وَأَنا۠ أَوَّلُ المُسلِمينَ(163)
جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں(163)
قُل أَغَيرَ اللَّهِ أَبغى رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيءٍ ۚ وَلا تَكسِبُ كُلُّ نَفسٍ إِلّا عَلَيها ۚ وَلا تَزِرُ وازِرَةٌ وِزرَ أُخرىٰ ۚ ثُمَّ إِلىٰ رَبِّكُم مَرجِعُكُم فَيُنَبِّئُكُم بِما كُنتُم فيهِ تَختَلِفونَ(164)
کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالاں کہ وہی ہر چیز کا رب ہے؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا، پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا(164)
وَهُوَ الَّذى جَعَلَكُم خَلٰئِفَ الأَرضِ وَرَفَعَ بَعضَكُم فَوقَ بَعضٍ دَرَجٰتٍ لِيَبلُوَكُم فى ما ءاتىٰكُم ۗ إِنَّ رَبَّكَ سَريعُ العِقابِ وَإِنَّهُ لَغَفورٌ رَحيمٌ(165)
وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اسی میں تمہاری آزمائش کرے بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے(165)