Al-Ahzab( الأحزاب)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلا تُطِعِ الكٰفِرينَ وَالمُنٰفِقينَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَليمًا حَكيمًا(1)
اے نبیؐ! اللہ سے ڈرو اور کفار و منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے(1)
وَاتَّبِع ما يوحىٰ إِلَيكَ مِن رَبِّكَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعمَلونَ خَبيرًا(2)
پیروی کرو اُس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رب کی طرف سے تمہیں کیا جا رہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو(2)
وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(3)
اللہ پر توکل کرو، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے(3)
ما جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِن قَلبَينِ فى جَوفِهِ ۚ وَما جَعَلَ أَزوٰجَكُمُ الّٰـٔى تُظٰهِرونَ مِنهُنَّ أُمَّهٰتِكُم ۚ وَما جَعَلَ أَدعِياءَكُم أَبناءَكُم ۚ ذٰلِكُم قَولُكُم بِأَفوٰهِكُم ۖ وَاللَّهُ يَقولُ الحَقَّ وَهُوَ يَهدِى السَّبيلَ(4)
اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دِل نہیں رکھے ہیں، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنا دیا ہے، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے(4)
ادعوهُم لِءابائِهِم هُوَ أَقسَطُ عِندَ اللَّهِ ۚ فَإِن لَم تَعلَموا ءاباءَهُم فَإِخوٰنُكُم فِى الدّينِ وَمَوٰليكُم ۚ وَلَيسَ عَلَيكُم جُناحٌ فيما أَخطَأتُم بِهِ وَلٰكِن ما تَعَمَّدَت قُلوبُكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(5)
منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں نا دانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے(5)
النَّبِىُّ أَولىٰ بِالمُؤمِنينَ مِن أَنفُسِهِم ۖ وَأَزوٰجُهُ أُمَّهٰتُهُم ۗ وَأُولُوا الأَرحامِ بَعضُهُم أَولىٰ بِبَعضٍ فى كِتٰبِ اللَّهِ مِنَ المُؤمِنينَ وَالمُهٰجِرينَ إِلّا أَن تَفعَلوا إِلىٰ أَولِيائِكُم مَعروفًا ۚ كانَ ذٰلِكَ فِى الكِتٰبِ مَسطورًا(6)
بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقدم ہے، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں، مگر کتاب اللہ کی رو سے عام مومنین و مہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کر سکتے ہو یہ حکم کتاب الٰہی میں لکھا ہوا ہے(6)
وَإِذ أَخَذنا مِنَ النَّبِيّۦنَ ميثٰقَهُم وَمِنكَ وَمِن نوحٍ وَإِبرٰهيمَ وَموسىٰ وَعيسَى ابنِ مَريَمَ ۖ وَأَخَذنا مِنهُم ميثٰقًا غَليظًا(7)
اور (اے نبیؐ) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور نوحؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں(7)
لِيَسـَٔلَ الصّٰدِقينَ عَن صِدقِهِم ۚ وَأَعَدَّ لِلكٰفِرينَ عَذابًا أَليمًا(8)
تاکہ سچے لوگوں سے (ان کا رب) ان کی سچائی کے بارے میں سوال کرے، اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیا کر ہی رکھا ہے(8)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُروا نِعمَةَ اللَّهِ عَلَيكُم إِذ جاءَتكُم جُنودٌ فَأَرسَلنا عَلَيهِم ريحًا وَجُنودًا لَم تَرَوها ۚ وَكانَ اللَّهُ بِما تَعمَلونَ بَصيرًا(9)
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اُس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے(9)
إِذ جاءوكُم مِن فَوقِكُم وَمِن أَسفَلَ مِنكُم وَإِذ زاغَتِ الأَبصٰرُ وَبَلَغَتِ القُلوبُ الحَناجِرَ وَتَظُنّونَ بِاللَّهِ الظُّنونا۠(10)
جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے(10)
هُنالِكَ ابتُلِىَ المُؤمِنونَ وَزُلزِلوا زِلزالًا شَديدًا(11)
اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے(11)
وَإِذ يَقولُ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسولُهُ إِلّا غُرورًا(12)
یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے(12)
وَإِذ قالَت طائِفَةٌ مِنهُم يٰأَهلَ يَثرِبَ لا مُقامَ لَكُم فَارجِعوا ۚ وَيَستَـٔذِنُ فَريقٌ مِنهُمُ النَّبِىَّ يَقولونَ إِنَّ بُيوتَنا عَورَةٌ وَما هِىَ بِعَورَةٍ ۖ إِن يُريدونَ إِلّا فِرارًا(13)
جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ "اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو" جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کر رہا تھا کہ "ہمارے گھر خطرے میں ہیں،" حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے، دراصل وہ (محاذ جنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے(13)
وَلَو دُخِلَت عَلَيهِم مِن أَقطارِها ثُمَّ سُئِلُوا الفِتنَةَ لَءاتَوها وَما تَلَبَّثوا بِها إِلّا يَسيرًا(14)
اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا(14)
وَلَقَد كانوا عٰهَدُوا اللَّهَ مِن قَبلُ لا يُوَلّونَ الأَدبٰرَ ۚ وَكانَ عَهدُ اللَّهِ مَسـٔولًا(15)
ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی(15)
قُل لَن يَنفَعَكُمُ الفِرارُ إِن فَرَرتُم مِنَ المَوتِ أَوِ القَتلِ وَإِذًا لا تُمَتَّعونَ إِلّا قَليلًا(16)
اے نبیؐ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہو گا اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقع تمہیں مل سکے گا(16)
قُل مَن ذَا الَّذى يَعصِمُكُم مِنَ اللَّهِ إِن أَرادَ بِكُم سوءًا أَو أَرادَ بِكُم رَحمَةً ۚ وَلا يَجِدونَ لَهُم مِن دونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(17)
اِن سے کہو، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مدد گار نہیں پا سکتے ہیں(17)
۞ قَد يَعلَمُ اللَّهُ المُعَوِّقينَ مِنكُم وَالقائِلينَ لِإِخوٰنِهِم هَلُمَّ إِلَينا ۖ وَلا يَأتونَ البَأسَ إِلّا قَليلًا(18)
اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ "آؤ ہماری طرف" جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو(18)
أَشِحَّةً عَلَيكُم ۖ فَإِذا جاءَ الخَوفُ رَأَيتَهُم يَنظُرونَ إِلَيكَ تَدورُ أَعيُنُهُم كَالَّذى يُغشىٰ عَلَيهِ مِنَ المَوتِ ۖ فَإِذا ذَهَبَ الخَوفُ سَلَقوكُم بِأَلسِنَةٍ حِدادٍ أَشِحَّةً عَلَى الخَيرِ ۚ أُولٰئِكَ لَم يُؤمِنوا فَأَحبَطَ اللَّهُ أَعمٰلَهُم ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(19)
جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں خطرے کا وقت آ جائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آ جاتے ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے، اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے(19)
يَحسَبونَ الأَحزابَ لَم يَذهَبوا ۖ وَإِن يَأتِ الأَحزابُ يَوَدّوا لَو أَنَّهُم بادونَ فِى الأَعرابِ يَسـَٔلونَ عَن أَنبائِكُم ۖ وَلَو كانوا فيكُم ما قٰتَلوا إِلّا قَليلًا(20)
یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ آور ہو جائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر یہ کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے(20)
لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا(21)
در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے(21)
وَلَمّا رَءَا المُؤمِنونَ الأَحزابَ قالوا هٰذا ما وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسولُهُ ۚ وَما زادَهُم إِلّا إيمٰنًا وَتَسليمًا(22)
اور سچے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ "یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی" اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا(22)
مِنَ المُؤمِنينَ رِجالٌ صَدَقوا ما عٰهَدُوا اللَّهَ عَلَيهِ ۖ فَمِنهُم مَن قَضىٰ نَحبَهُ وَمِنهُم مَن يَنتَظِرُ ۖ وَما بَدَّلوا تَبديلًا(23)
ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی(23)
لِيَجزِىَ اللَّهُ الصّٰدِقينَ بِصِدقِهِم وَيُعَذِّبَ المُنٰفِقينَ إِن شاءَ أَو يَتوبَ عَلَيهِم ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ غَفورًا رَحيمًا(24)
(یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ سچوں کو اُن کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے، بے شک اللہ غفور و رحیم ہے(24)
وَرَدَّ اللَّهُ الَّذينَ كَفَروا بِغَيظِهِم لَم يَنالوا خَيرًا ۚ وَكَفَى اللَّهُ المُؤمِنينَ القِتالَ ۚ وَكانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزيزًا(25)
اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہو گیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے(25)
وَأَنزَلَ الَّذينَ ظٰهَروهُم مِن أَهلِ الكِتٰبِ مِن صَياصيهِم وَقَذَفَ فى قُلوبِهِمُ الرُّعبَ فَريقًا تَقتُلونَ وَتَأسِرونَ فَريقًا(26)
پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو(26)
وَأَورَثَكُم أَرضَهُم وَدِيٰرَهُم وَأَموٰلَهُم وَأَرضًا لَم تَطَـٔوها ۚ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرًا(27)
اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا اللہ ہر چیز پر قادر ہے(27)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزوٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدنَ الحَيوٰةَ الدُّنيا وَزينَتَها فَتَعالَينَ أُمَتِّعكُنَّ وَأُسَرِّحكُنَّ سَراحًا جَميلًا(28)
اے نبیؐ، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں(28)
وَإِن كُنتُنَّ تُرِدنَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَالدّارَ الءاخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلمُحسِنٰتِ مِنكُنَّ أَجرًا عَظيمًا(29)
اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے(29)
يٰنِساءَ النَّبِىِّ مَن يَأتِ مِنكُنَّ بِفٰحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ يُضٰعَف لَهَا العَذابُ ضِعفَينِ ۚ وَكانَ ذٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسيرًا(30)
نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے(30)
۞ وَمَن يَقنُت مِنكُنَّ لِلَّهِ وَرَسولِهِ وَتَعمَل صٰلِحًا نُؤتِها أَجرَها مَرَّتَينِ وَأَعتَدنا لَها رِزقًا كَريمًا(31)
اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے(31)
يٰنِساءَ النَّبِىِّ لَستُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّساءِ ۚ إِنِ اتَّقَيتُنَّ فَلا تَخضَعنَ بِالقَولِ فَيَطمَعَ الَّذى فى قَلبِهِ مَرَضٌ وَقُلنَ قَولًا مَعروفًا(32)
نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو(32)
وَقَرنَ فى بُيوتِكُنَّ وَلا تَبَرَّجنَ تَبَرُّجَ الجٰهِلِيَّةِ الأولىٰ ۖ وَأَقِمنَ الصَّلوٰةَ وَءاتينَ الزَّكوٰةَ وَأَطِعنَ اللَّهَ وَرَسولَهُ ۚ إِنَّما يُريدُ اللَّهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّجسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَكُم تَطهيرًا(33)
اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے(33)
وَاذكُرنَ ما يُتلىٰ فى بُيوتِكُنَّ مِن ءايٰتِ اللَّهِ وَالحِكمَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ لَطيفًا خَبيرًا(34)
یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ لطیف اور باخبر ہے(34)
إِنَّ المُسلِمينَ وَالمُسلِمٰتِ وَالمُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ وَالقٰنِتينَ وَالقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقينَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرينَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالخٰشِعينَ وَالخٰشِعٰتِ وَالمُتَصَدِّقينَ وَالمُتَصَدِّقٰتِ وَالصّٰئِمينَ وَالصّٰئِمٰتِ وَالحٰفِظينَ فُروجَهُم وَالحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرينَ اللَّهَ كَثيرًا وَالذّٰكِرٰتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَغفِرَةً وَأَجرًا عَظيمًا(35)
بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے(35)
وَما كانَ لِمُؤمِنٍ وَلا مُؤمِنَةٍ إِذا قَضَى اللَّهُ وَرَسولُهُ أَمرًا أَن يَكونَ لَهُمُ الخِيَرَةُ مِن أَمرِهِم ۗ وَمَن يَعصِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلًا مُبينًا(36)
کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اُس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا(36)
وَإِذ تَقولُ لِلَّذى أَنعَمَ اللَّهُ عَلَيهِ وَأَنعَمتَ عَلَيهِ أَمسِك عَلَيكَ زَوجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخفى فى نَفسِكَ مَا اللَّهُ مُبديهِ وَتَخشَى النّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخشىٰهُ ۖ فَلَمّا قَضىٰ زَيدٌ مِنها وَطَرًا زَوَّجنٰكَها لِكَى لا يَكونَ عَلَى المُؤمِنينَ حَرَجٌ فى أَزوٰجِ أَدعِيائِهِم إِذا قَضَوا مِنهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكانَ أَمرُ اللَّهِ مَفعولًا(37)
اے نبیؐ، یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ "اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر" اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو پھر جب زیدؓ اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کر دیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا(37)
ما كانَ عَلَى النَّبِىِّ مِن حَرَجٍ فيما فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّهِ فِى الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلُ ۚ وَكانَ أَمرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقدورًا(38)
نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے(38)
الَّذينَ يُبَلِّغونَ رِسٰلٰتِ اللَّهِ وَيَخشَونَهُ وَلا يَخشَونَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ ۗ وَكَفىٰ بِاللَّهِ حَسيبًا(39)
(یہ اللہ کی سنت ہے اُن لوگوں کے لیے) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے(39)
ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلٰكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّۦنَ ۗ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا(40)
(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے(40)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اذكُرُوا اللَّهَ ذِكرًا كَثيرًا(41)
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو(41)
وَسَبِّحوهُ بُكرَةً وَأَصيلًا(42)
اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو(42)
هُوَ الَّذى يُصَلّى عَلَيكُم وَمَلٰئِكَتُهُ لِيُخرِجَكُم مِنَ الظُّلُمٰتِ إِلَى النّورِ ۚ وَكانَ بِالمُؤمِنينَ رَحيمًا(43)
وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے(43)
تَحِيَّتُهُم يَومَ يَلقَونَهُ سَلٰمٌ ۚ وَأَعَدَّ لَهُم أَجرًا كَريمًا(44)
جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہو گا اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے(44)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِنّا أَرسَلنٰكَ شٰهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذيرًا(45)
اے نبیؐ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر(45)
وَداعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذنِهِ وَسِراجًا مُنيرًا(46)
اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر(46)
وَبَشِّرِ المُؤمِنينَ بِأَنَّ لَهُم مِنَ اللَّهِ فَضلًا كَبيرًا(47)
بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو (تم پر) ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے(47)
وَلا تُطِعِ الكٰفِرينَ وَالمُنٰفِقينَ وَدَع أَذىٰهُم وَتَوَكَّل عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفىٰ بِاللَّهِ وَكيلًا(48)
اور ہرگز نہ دبو کفار و منافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے(48)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نَكَحتُمُ المُؤمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقتُموهُنَّ مِن قَبلِ أَن تَمَسّوهُنَّ فَما لَكُم عَلَيهِنَّ مِن عِدَّةٍ تَعتَدّونَها ۖ فَمَتِّعوهُنَّ وَسَرِّحوهُنَّ سَراحًا جَميلًا(49)
اَے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو(49)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِنّا أَحلَلنا لَكَ أَزوٰجَكَ الّٰتى ءاتَيتَ أُجورَهُنَّ وَما مَلَكَت يَمينُكَ مِمّا أَفاءَ اللَّهُ عَلَيكَ وَبَناتِ عَمِّكَ وَبَناتِ عَمّٰتِكَ وَبَناتِ خالِكَ وَبَناتِ خٰلٰتِكَ الّٰتى هاجَرنَ مَعَكَ وَامرَأَةً مُؤمِنَةً إِن وَهَبَت نَفسَها لِلنَّبِىِّ إِن أَرادَ النَّبِىُّ أَن يَستَنكِحَها خالِصَةً لَكَ مِن دونِ المُؤمِنينَ ۗ قَد عَلِمنا ما فَرَضنا عَلَيهِم فى أَزوٰجِهِم وَما مَلَكَت أَيمٰنُهُم لِكَيلا يَكونَ عَلَيكَ حَرَجٌ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(50)
اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبیؐ اسے نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت خالصۃً تمہارے لیے ہے، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے) تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے، اور اللہ غفور و رحیم ہے(50)
۞ تُرجى مَن تَشاءُ مِنهُنَّ وَتُـٔوى إِلَيكَ مَن تَشاءُ ۖ وَمَنِ ابتَغَيتَ مِمَّن عَزَلتَ فَلا جُناحَ عَلَيكَ ۚ ذٰلِكَ أَدنىٰ أَن تَقَرَّ أَعيُنُهُنَّ وَلا يَحزَنَّ وَيَرضَينَ بِما ءاتَيتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَاللَّهُ يَعلَمُ ما فى قُلوبِكُم ۚ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَليمًا(51)
تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے اِس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم اُن کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے، اور اللہ علیم و حلیم ہے(51)
لا يَحِلُّ لَكَ النِّساءُ مِن بَعدُ وَلا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِن أَزوٰجٍ وَلَو أَعجَبَكَ حُسنُهُنَّ إِلّا ما مَلَكَت يَمينُكَ ۗ وَكانَ اللَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ رَقيبًا(52)
اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے اللہ ہر چیز پر نگران ہے(52)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَدخُلوا بُيوتَ النَّبِىِّ إِلّا أَن يُؤذَنَ لَكُم إِلىٰ طَعامٍ غَيرَ نٰظِرينَ إِنىٰهُ وَلٰكِن إِذا دُعيتُم فَادخُلوا فَإِذا طَعِمتُم فَانتَشِروا وَلا مُستَـٔنِسينَ لِحَديثٍ ۚ إِنَّ ذٰلِكُم كانَ يُؤذِى النَّبِىَّ فَيَستَحيۦ مِنكُم ۖ وَاللَّهُ لا يَستَحيۦ مِنَ الحَقِّ ۚ وَإِذا سَأَلتُموهُنَّ مَتٰعًا فَسـَٔلوهُنَّ مِن وَراءِ حِجابٍ ۚ ذٰلِكُم أَطهَرُ لِقُلوبِكُم وَقُلوبِهِنَّ ۚ وَما كانَ لَكُم أَن تُؤذوا رَسولَ اللَّهِ وَلا أَن تَنكِحوا أَزوٰجَهُ مِن بَعدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذٰلِكُم كانَ عِندَ اللَّهِ عَظيمًا(53)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبیؐ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ، باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبیؐ کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسولؐ کو تکلیف دو، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے(53)
إِن تُبدوا شَيـًٔا أَو تُخفوهُ فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِكُلِّ شَيءٍ عَليمًا(54)
تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے(54)
لا جُناحَ عَلَيهِنَّ فى ءابائِهِنَّ وَلا أَبنائِهِنَّ وَلا إِخوٰنِهِنَّ وَلا أَبناءِ إِخوٰنِهِنَّ وَلا أَبناءِ أَخَوٰتِهِنَّ وَلا نِسائِهِنَّ وَلا ما مَلَكَت أَيمٰنُهُنَّ ۗ وَاتَّقينَ اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كانَ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ شَهيدًا(55)
ازواج نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے، ان کے بھانجے، ان کے میل جول کی عورتیں اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں (اے عورتو) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہیے اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے(55)
إِنَّ اللَّهَ وَمَلٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا(56)
اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو(56)
إِنَّ الَّذينَ يُؤذونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِى الدُّنيا وَالءاخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُم عَذابًا مُهينًا(57)
جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے(57)
وَالَّذينَ يُؤذونَ المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ بِغَيرِ مَا اكتَسَبوا فَقَدِ احتَمَلوا بُهتٰنًا وَإِثمًا مُبينًا(58)
اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے(58)
يٰأَيُّهَا النَّبِىُّ قُل لِأَزوٰجِكَ وَبَناتِكَ وَنِساءِ المُؤمِنينَ يُدنينَ عَلَيهِنَّ مِن جَلٰبيبِهِنَّ ۚ ذٰلِكَ أَدنىٰ أَن يُعرَفنَ فَلا يُؤذَينَ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(59)
اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے(59)
۞ لَئِن لَم يَنتَهِ المُنٰفِقونَ وَالَّذينَ فى قُلوبِهِم مَرَضٌ وَالمُرجِفونَ فِى المَدينَةِ لَنُغرِيَنَّكَ بِهِم ثُمَّ لا يُجاوِرونَكَ فيها إِلّا قَليلًا(60)
اگر منافقین، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے(60)
مَلعونينَ ۖ أَينَما ثُقِفوا أُخِذوا وَقُتِّلوا تَقتيلًا(61)
ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے(61)
سُنَّةَ اللَّهِ فِى الَّذينَ خَلَوا مِن قَبلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبديلًا(62)
یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے(62)
يَسـَٔلُكَ النّاسُ عَنِ السّاعَةِ ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ اللَّهِ ۚ وَما يُدريكَ لَعَلَّ السّاعَةَ تَكونُ قَريبًا(63)
لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی کہو، اُس کا علم تو اللہ ہی کو ہے تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو(63)
إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ الكٰفِرينَ وَأَعَدَّ لَهُم سَعيرًا(64)
بہرحال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے(64)
خٰلِدينَ فيها أَبَدًا ۖ لا يَجِدونَ وَلِيًّا وَلا نَصيرًا(65)
جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، کوئی حامی و مدد گار نہ پا سکیں گے(65)
يَومَ تُقَلَّبُ وُجوهُهُم فِى النّارِ يَقولونَ يٰلَيتَنا أَطَعنَا اللَّهَ وَأَطَعنَا الرَّسولا۠(66)
جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ "کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی"(66)
وَقالوا رَبَّنا إِنّا أَطَعنا سادَتَنا وَكُبَراءَنا فَأَضَلّونَا السَّبيلا۠(67)
اور کہیں گے "اے رب ہمارے، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا(67)
رَبَّنا ءاتِهِم ضِعفَينِ مِنَ العَذابِ وَالعَنهُم لَعنًا كَبيرًا(68)
اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر"(68)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تَكونوا كَالَّذينَ ءاذَوا موسىٰ فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمّا قالوا ۚ وَكانَ عِندَ اللَّهِ وَجيهًا(69)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اُن لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں، پھر اللہ نے اُن کی بنائی ہوئی باتوں سے اُس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا(69)
يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقولوا قَولًا سَديدًا(70)
اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو(70)
يُصلِح لَكُم أَعمٰلَكُم وَيَغفِر لَكُم ذُنوبَكُم ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسولَهُ فَقَد فازَ فَوزًا عَظيمًا(71)
اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی(71)
إِنّا عَرَضنَا الأَمانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَالجِبالِ فَأَبَينَ أَن يَحمِلنَها وَأَشفَقنَ مِنها وَحَمَلَهَا الإِنسٰنُ ۖ إِنَّهُ كانَ ظَلومًا جَهولًا(72)
ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے(72)
لِيُعَذِّبَ اللَّهُ المُنٰفِقينَ وَالمُنٰفِقٰتِ وَالمُشرِكينَ وَالمُشرِكٰتِ وَيَتوبَ اللَّهُ عَلَى المُؤمِنينَ وَالمُؤمِنٰتِ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا(73)
اِس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے(73)