Al-Ahqaf( الأحقاف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ حم(1)
ح م(1)
تَنزيلُ الكِتٰبِ مِنَ اللَّهِ العَزيزِ الحَكيمِ(2)
اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے(2)
ما خَلَقنَا السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَما بَينَهُما إِلّا بِالحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ وَالَّذينَ كَفَروا عَمّا أُنذِروا مُعرِضونَ(3)
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدت خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منہ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے(3)
قُل أَرَءَيتُم ما تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ أَرونى ماذا خَلَقوا مِنَ الأَرضِ أَم لَهُم شِركٌ فِى السَّمٰوٰتِ ۖ ائتونى بِكِتٰبٍ مِن قَبلِ هٰذا أَو أَثٰرَةٍ مِن عِلمٍ إِن كُنتُم صٰدِقينَ(4)
اے نبیؐ، اِن سے کہو، "کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے، یا آسمانوں کی تخلیق و تدبیر میں ان کا کیا حصہ ہے اِس سے پہلے آئی ہوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ (اِن عقائد کے ثبوت میں) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آؤ اگر تم سچے ہو"(4)
وَمَن أَضَلُّ مِمَّن يَدعوا مِن دونِ اللَّهِ مَن لا يَستَجيبُ لَهُ إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ وَهُم عَن دُعائِهِم غٰفِلونَ(5)
آخر اُس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہو گا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے اُن کو پکار رہے ہیں(5)
وَإِذا حُشِرَ النّاسُ كانوا لَهُم أَعداءً وَكانوا بِعِبادَتِهِم كٰفِرينَ(6)
اور جب تمام انسان جمع کیے جائیں گے اُس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے(6)
وَإِذا تُتلىٰ عَلَيهِم ءايٰتُنا بَيِّنٰتٍ قالَ الَّذينَ كَفَروا لِلحَقِّ لَمّا جاءَهُم هٰذا سِحرٌ مُبينٌ(7)
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آ جاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادو ہے(7)
أَم يَقولونَ افتَرىٰهُ ۖ قُل إِنِ افتَرَيتُهُ فَلا تَملِكونَ لى مِنَ اللَّهِ شَيـًٔا ۖ هُوَ أَعلَمُ بِما تُفيضونَ فيهِ ۖ كَفىٰ بِهِ شَهيدًا بَينى وَبَينَكُم ۖ وَهُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ(8)
کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسول نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو، "اگر میں نے اِسے خود گھڑ لیا ہے تو تم مجھے خدا کی پکڑ سے کچھ بھی نہ بچا سکو گے، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے، اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے"(8)
قُل ما كُنتُ بِدعًا مِنَ الرُّسُلِ وَما أَدرى ما يُفعَلُ بى وَلا بِكُم ۖ إِن أَتَّبِعُ إِلّا ما يوحىٰ إِلَىَّ وَما أَنا۠ إِلّا نَذيرٌ مُبينٌ(9)
اِن سے کہو، "میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا، میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کر دینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں"(9)
قُل أَرَءَيتُم إِن كانَ مِن عِندِ اللَّهِ وَكَفَرتُم بِهِ وَشَهِدَ شاهِدٌ مِن بَنى إِسرٰءيلَ عَلىٰ مِثلِهِ فَـٔامَنَ وَاستَكبَرتُم ۖ إِنَّ اللَّهَ لا يَهدِى القَومَ الظّٰلِمينَ(10)
اے نبیؐ، ان سے کہو "کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم نے اِس کا انکار کر دیا (تو تمہارا کیا انجام ہوگا)؟ اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا"(10)
وَقالَ الَّذينَ كَفَروا لِلَّذينَ ءامَنوا لَو كانَ خَيرًا ما سَبَقونا إِلَيهِ ۚ وَإِذ لَم يَهتَدوا بِهِ فَسَيَقولونَ هٰذا إِفكٌ قَديمٌ(11)
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پرانا جھوٹ ہے(11)
وَمِن قَبلِهِ كِتٰبُ موسىٰ إِمامًا وَرَحمَةً ۚ وَهٰذا كِتٰبٌ مُصَدِّقٌ لِسانًا عَرَبِيًّا لِيُنذِرَ الَّذينَ ظَلَموا وَبُشرىٰ لِلمُحسِنينَ(12)
حالانکہ اِس سے پہلے موسیٰؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے تاکہ ظالموں کو متنبہ کر دے اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے(12)
إِنَّ الَّذينَ قالوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقٰموا فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(13)
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے(13)
أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ خٰلِدينَ فيها جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ(14)
ایسے سب لوگ جنت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں(14)
وَوَصَّينَا الإِنسٰنَ بِوٰلِدَيهِ إِحسٰنًا ۖ حَمَلَتهُ أُمُّهُ كُرهًا وَوَضَعَتهُ كُرهًا ۖ وَحَملُهُ وَفِصٰلُهُ ثَلٰثونَ شَهرًا ۚ حَتّىٰ إِذا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَربَعينَ سَنَةً قالَ رَبِّ أَوزِعنى أَن أَشكُرَ نِعمَتَكَ الَّتى أَنعَمتَ عَلَىَّ وَعَلىٰ وٰلِدَىَّ وَأَن أَعمَلَ صٰلِحًا تَرضىٰهُ وَأَصلِح لى فى ذُرِّيَّتى ۖ إِنّى تُبتُ إِلَيكَ وَإِنّى مِنَ المُسلِمينَ(15)
ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک بر تاؤ کرے اُس کی ماں نے مشقت اٹھا کر اسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا کر ہی اس کو جنا، اور اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس سال کا ہو گیا تو اس نے کہا "اے میرے رب، مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو، اور میری اولاد کو بھی نیک بنا کر مجھے سُکھ دے، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں"(15)
أُولٰئِكَ الَّذينَ نَتَقَبَّلُ عَنهُم أَحسَنَ ما عَمِلوا وَنَتَجاوَزُ عَن سَيِّـٔاتِهِم فى أَصحٰبِ الجَنَّةِ ۖ وَعدَ الصِّدقِ الَّذى كانوا يوعَدونَ(16)
اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے(16)
وَالَّذى قالَ لِوٰلِدَيهِ أُفٍّ لَكُما أَتَعِدانِنى أَن أُخرَجَ وَقَد خَلَتِ القُرونُ مِن قَبلى وَهُما يَستَغيثانِ اللَّهَ وَيلَكَ ءامِن إِنَّ وَعدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقولُ ما هٰذا إِلّا أَسٰطيرُ الأَوَّلينَ(17)
اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا "اُف، تنگ کر دیا تم نے، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد پھر قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں (اُن میں سے تو کوئی اٹھ کر نہ آیا)" ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کر کہتے ہیں "ارے بدنصیب، مان جا، اللہ کا وعدہ سچا ہے" مگر وہ کہتا ہے "یہ سب اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں"(17)
أُولٰئِكَ الَّذينَ حَقَّ عَلَيهِمُ القَولُ فى أُمَمٍ قَد خَلَت مِن قَبلِهِم مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ ۖ إِنَّهُم كانوا خٰسِرينَ(18)
یہ وہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہو چکا ہے اِن سے پہلے جنوں اور انسانوں کے جو ٹولے (اِسی قماش کے) ہو گزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں(18)
وَلِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِمّا عَمِلوا ۖ وَلِيُوَفِّيَهُم أَعمٰلَهُم وَهُم لا يُظلَمونَ(19)
دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے ان کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تاکہ اللہ ان کے کیے کا پورا پورا بدلہ ان کو دے ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا(19)
وَيَومَ يُعرَضُ الَّذينَ كَفَروا عَلَى النّارِ أَذهَبتُم طَيِّبٰتِكُم فى حَياتِكُمُ الدُّنيا وَاستَمتَعتُم بِها فَاليَومَ تُجزَونَ عَذابَ الهونِ بِما كُنتُم تَستَكبِرونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَبِما كُنتُم تَفسُقونَ(20)
پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لا کھڑے کیے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا: "تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کر چکے اور ان کا لطف تم نے اٹھا لیا، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جائے گا"(20)
۞ وَاذكُر أَخا عادٍ إِذ أَنذَرَ قَومَهُ بِالأَحقافِ وَقَد خَلَتِ النُّذُرُ مِن بَينِ يَدَيهِ وَمِن خَلفِهِ أَلّا تَعبُدوا إِلَّا اللَّهَ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(21)
ذرا اِنہیں عاد کے بھائی (ہودؑ) کا قصہ سناؤ جبکہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا اور ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزر چکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ "اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے"(21)
قالوا أَجِئتَنا لِتَأفِكَنا عَن ءالِهَتِنا فَأتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(22)
انہوں نے کہا "کیا تو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں بہکا کر ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دے؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے"(22)
قالَ إِنَّمَا العِلمُ عِندَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُم ما أُرسِلتُ بِهِ وَلٰكِنّى أَرىٰكُم قَومًا تَجهَلونَ(23)
اُس نے کہا کہ "اِس کا علم تو اللہ کو ہے، میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو"(23)
فَلَمّا رَأَوهُ عارِضًا مُستَقبِلَ أَودِيَتِهِم قالوا هٰذا عارِضٌ مُمطِرُنا ۚ بَل هُوَ مَا استَعجَلتُم بِهِ ۖ ريحٌ فيها عَذابٌ أَليمٌ(24)
پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے "یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کر دے گا" "نہیں، بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچا رہے تھے یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں دردناک عذاب چلا آ رہا ہے(24)
تُدَمِّرُ كُلَّ شَيءٍ بِأَمرِ رَبِّها فَأَصبَحوا لا يُرىٰ إِلّا مَسٰكِنُهُم ۚ كَذٰلِكَ نَجزِى القَومَ المُجرِمينَ(25)
اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا" آخرکار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سوا وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں(25)
وَلَقَد مَكَّنّٰهُم فيما إِن مَكَّنّٰكُم فيهِ وَجَعَلنا لَهُم سَمعًا وَأَبصٰرًا وَأَفـِٔدَةً فَما أَغنىٰ عَنهُم سَمعُهُم وَلا أَبصٰرُهُم وَلا أَفـِٔدَتُهُم مِن شَيءٍ إِذ كانوا يَجحَدونَ بِـٔايٰتِ اللَّهِ وَحاقَ بِهِم ما كانوا بِهِ يَستَهزِءونَ(26)
اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے اُن کو ہم نے کان، آنکھیں اور دل، سب کچھ دے رکھے تھے، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے، نہ آنکھیں، نہ دل، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے، اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آ گئے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے(26)
وَلَقَد أَهلَكنا ما حَولَكُم مِنَ القُرىٰ وَصَرَّفنَا الءايٰتِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(27)
تمہارے گرد و پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا، شاید کہ وہ باز آ جائیں(27)
فَلَولا نَصَرَهُمُ الَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِ اللَّهِ قُربانًا ءالِهَةً ۖ بَل ضَلّوا عَنهُم ۚ وَذٰلِكَ إِفكُهُم وَما كانوا يَفتَرونَ(28)
پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبود بنا لیا تھا؟ بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور اُن بناوٹی عقیدوں کا انجام جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے(28)
وَإِذ صَرَفنا إِلَيكَ نَفَرًا مِنَ الجِنِّ يَستَمِعونَ القُرءانَ فَلَمّا حَضَروهُ قالوا أَنصِتوا ۖ فَلَمّا قُضِىَ وَلَّوا إِلىٰ قَومِهِم مُنذِرينَ(29)
(اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ قرآن سنیں جب وہ اُس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہو جاؤ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے(29)
قالوا يٰقَومَنا إِنّا سَمِعنا كِتٰبًا أُنزِلَ مِن بَعدِ موسىٰ مُصَدِّقًا لِما بَينَ يَدَيهِ يَهدى إِلَى الحَقِّ وَإِلىٰ طَريقٍ مُستَقيمٍ(30)
انہوں نے جا کر کہا، "اے ہماری قوم کے لوگو، ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰؑ کے بعد نازل کی گئی ہے، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف(30)
يٰقَومَنا أَجيبوا داعِىَ اللَّهِ وَءامِنوا بِهِ يَغفِر لَكُم مِن ذُنوبِكُم وَيُجِركُم مِن عَذابٍ أَليمٍ(31)
اے ہماری قوم کے لوگو، اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول کر لو اور اس پر ایمان لے آؤ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا دے گا"(31)
وَمَن لا يُجِب داعِىَ اللَّهِ فَلَيسَ بِمُعجِزٍ فِى الأَرضِ وَلَيسَ لَهُ مِن دونِهِ أَولِياءُ ۚ أُولٰئِكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(32)
اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کر دے، اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچا لیں ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑ ے ہوئے ہیں(32)
أَوَلَم يَرَوا أَنَّ اللَّهَ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ وَلَم يَعىَ بِخَلقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلىٰ أَن يُحۦِىَ المَوتىٰ ۚ بَلىٰ إِنَّهُ عَلىٰ كُلِّ شَيءٍ قَديرٌ(33)
اور کیا اِن لوگوں کو یہ سجھائی نہیں دیتا کہ جس خدا نے یہ زمین اور آسمان پیدا کیے ہیں اور ان کو بناتے ہوئے جو نہ تھکا، وہ ضرور اس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جلا اٹھائے؟ کیوں نہیں، یقیناً وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے(33)
وَيَومَ يُعرَضُ الَّذينَ كَفَروا عَلَى النّارِ أَلَيسَ هٰذا بِالحَقِّ ۖ قالوا بَلىٰ وَرَبِّنا ۚ قالَ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكفُرونَ(34)
جس روز یہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے، اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا "کیا یہ حق نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں، ہمارے رب کی قسم (یہ واقعی حق ہے)" اللہ فرمائے گا، "اچھا تو اب عذاب کا مزا چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے"(34)
فَاصبِر كَما صَبَرَ أُولُوا العَزمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلا تَستَعجِل لَهُم ۚ كَأَنَّهُم يَومَ يَرَونَ ما يوعَدونَ لَم يَلبَثوا إِلّا ساعَةً مِن نَهارٍ ۚ بَلٰغٌ ۚ فَهَل يُهلَكُ إِلَّا القَومُ الفٰسِقونَ(35)
پس اے نبیؐ، صبر کرو جس طرح اولوالعزم رسولوں نے صبر کیا ہے، اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہو گا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے بات پہنچا دی گئی، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہو گا؟(35)