Al-A'raf( الأعراف)
Original,King Fahad Quran Complex(الأصلي,مجمع الملك فهد القرآن)
show/hide
Abul A'ala Maududi(ابوالاعلی مودودی)
show/hide
بِسمِ اللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحيمِ المص(1)
ا، ل، م، ص(1)
كِتٰبٌ أُنزِلَ إِلَيكَ فَلا يَكُن فى صَدرِكَ حَرَجٌ مِنهُ لِتُنذِرَ بِهِ وَذِكرىٰ لِلمُؤمِنينَ(2)
یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے، پس اے محمدؐ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو(2)
اتَّبِعوا ما أُنزِلَ إِلَيكُم مِن رَبِّكُم وَلا تَتَّبِعوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ۗ قَليلًا ما تَذَكَّرونَ(3)
لوگو، جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے رب کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو(3)
وَكَم مِن قَريَةٍ أَهلَكنٰها فَجاءَها بَأسُنا بَيٰتًا أَو هُم قائِلونَ(4)
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جب وہ آرام کر رہے تھے(4)
فَما كانَ دَعوىٰهُم إِذ جاءَهُم بَأسُنا إِلّا أَن قالوا إِنّا كُنّا ظٰلِمينَ(5)
اور جب ہمارا عذاب اُن پر آ گیا تو ان کی زبان پر اِس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے(5)
فَلَنَسـَٔلَنَّ الَّذينَ أُرسِلَ إِلَيهِم وَلَنَسـَٔلَنَّ المُرسَلينَ(6)
پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں، جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں (کہ اُنہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا)(6)
فَلَنَقُصَّنَّ عَلَيهِم بِعِلمٍ ۖ وَما كُنّا غائِبينَ(7)
پھر ہم خود پور ے علم کے ساتھ سرگزشت ان کے آگے پیش کر دیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے(7)
وَالوَزنُ يَومَئِذٍ الحَقُّ ۚ فَمَن ثَقُلَت مَوٰزينُهُ فَأُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(8)
اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے(8)
وَمَن خَفَّت مَوٰزينُهُ فَأُولٰئِكَ الَّذينَ خَسِروا أَنفُسَهُم بِما كانوا بِـٔايٰتِنا يَظلِمونَ(9)
اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے(9)
وَلَقَد مَكَّنّٰكُم فِى الأَرضِ وَجَعَلنا لَكُم فيها مَعٰيِشَ ۗ قَليلًا ما تَشكُرونَ(10)
ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامان زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو(10)
وَلَقَد خَلَقنٰكُم ثُمَّ صَوَّرنٰكُم ثُمَّ قُلنا لِلمَلٰئِكَةِ اسجُدوا لِءادَمَ فَسَجَدوا إِلّا إِبليسَ لَم يَكُن مِنَ السّٰجِدينَ(11)
ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدمؑ کو سجدہ کرو اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا(11)
قالَ ما مَنَعَكَ أَلّا تَسجُدَ إِذ أَمَرتُكَ ۖ قالَ أَنا۠ خَيرٌ مِنهُ خَلَقتَنى مِن نارٍ وَخَلَقتَهُ مِن طينٍ(12)
پوچھا، "تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا؟" بولا، "میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے"(12)
قالَ فَاهبِط مِنها فَما يَكونُ لَكَ أَن تَتَكَبَّرَ فيها فَاخرُج إِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرينَ(13)
فرمایا، "اچھا تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے نکل جا کہ در حقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں"(13)
قالَ أَنظِرنى إِلىٰ يَومِ يُبعَثونَ(14)
بولا، "مجھے اُس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے"(14)
قالَ إِنَّكَ مِنَ المُنظَرينَ(15)
فرمایا، "تجھے مہلت ہے"(15)
قالَ فَبِما أَغوَيتَنى لَأَقعُدَنَّ لَهُم صِرٰطَكَ المُستَقيمَ(16)
بولا، "اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر(16)
ثُمَّ لَءاتِيَنَّهُم مِن بَينِ أَيديهِم وَمِن خَلفِهِم وَعَن أَيمٰنِهِم وَعَن شَمائِلِهِم ۖ وَلا تَجِدُ أَكثَرَهُم شٰكِرينَ(17)
اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا"(17)
قالَ اخرُج مِنها مَذءومًا مَدحورًا ۖ لَمَن تَبِعَكَ مِنهُم لَأَملَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنكُم أَجمَعينَ(18)
فرمایا، " نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا(18)
وَيٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ فَكُلا مِن حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَبا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكونا مِنَ الظّٰلِمينَ(19)
اور اے آدمؑ، تو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاؤ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاؤ گے"(19)
فَوَسوَسَ لَهُمَا الشَّيطٰنُ لِيُبدِىَ لَهُما ما وۥرِىَ عَنهُما مِن سَوءٰتِهِما وَقالَ ما نَهىٰكُما رَبُّكُما عَن هٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلّا أَن تَكونا مَلَكَينِ أَو تَكونا مِنَ الخٰلِدينَ(20)
پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے اس نے ان سے کہا، "تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے(20)
وَقاسَمَهُما إِنّى لَكُما لَمِنَ النّٰصِحينَ(21)
اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں(21)
فَدَلّىٰهُما بِغُرورٍ ۚ فَلَمّا ذاقَا الشَّجَرَةَ بَدَت لَهُما سَوءٰتُهُما وَطَفِقا يَخصِفانِ عَلَيهِما مِن وَرَقِ الجَنَّةِ ۖ وَنادىٰهُما رَبُّهُما أَلَم أَنهَكُما عَن تِلكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَكُما إِنَّ الشَّيطٰنَ لَكُما عَدُوٌّ مُبينٌ(22)
اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، " کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟"(22)
قالا رَبَّنا ظَلَمنا أَنفُسَنا وَإِن لَم تَغفِر لَنا وَتَرحَمنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ(23)
دونوں بول اٹھے، "اے رب، ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے در گزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے"(23)
قالَ اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُم فِى الأَرضِ مُستَقَرٌّ وَمَتٰعٌ إِلىٰ حينٍ(24)
فرمایا، "اتر جاؤ، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامان زیست ہے"(24)
قالَ فيها تَحيَونَ وَفيها تَموتونَ وَمِنها تُخرَجونَ(25)
اور فرمایا، "وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرکار نکالا جائے گا"(25)
يٰبَنى ءادَمَ قَد أَنزَلنا عَلَيكُم لِباسًا يُوٰرى سَوءٰتِكُم وَريشًا ۖ وَلِباسُ التَّقوىٰ ذٰلِكَ خَيرٌ ۚ ذٰلِكَ مِن ءايٰتِ اللَّهِ لَعَلَّهُم يَذَّكَّرونَ(26)
اے اولاد آدم، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں(26)
يٰبَنى ءادَمَ لا يَفتِنَنَّكُمُ الشَّيطٰنُ كَما أَخرَجَ أَبَوَيكُم مِنَ الجَنَّةِ يَنزِعُ عَنهُما لِباسَهُما لِيُرِيَهُما سَوءٰتِهِما ۗ إِنَّهُ يَرىٰكُم هُوَ وَقَبيلُهُ مِن حَيثُ لا تَرَونَهُم ۗ إِنّا جَعَلنَا الشَّيٰطينَ أَولِياءَ لِلَّذينَ لا يُؤمِنونَ(27)
اے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنت سے نکلوایا تھا اور ا ن کے لباس ان پر سے اتروا دیے تھے تاکہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے(27)
وَإِذا فَعَلوا فٰحِشَةً قالوا وَجَدنا عَلَيها ءاباءَنا وَاللَّهُ أَمَرَنا بِها ۗ قُل إِنَّ اللَّهَ لا يَأمُرُ بِالفَحشاءِ ۖ أَتَقولونَ عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(28)
یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے (وہ اللہ کی طرف سے ہیں)؟(28)
قُل أَمَرَ رَبّى بِالقِسطِ ۖ وَأَقيموا وُجوهَكُم عِندَ كُلِّ مَسجِدٍ وَادعوهُ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ ۚ كَما بَدَأَكُم تَعودونَ(29)
اے محمدؐ، ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے، اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اُسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر جس طرح اُس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاؤ گے(29)
فَريقًا هَدىٰ وَفَريقًا حَقَّ عَلَيهِمُ الضَّلٰلَةُ ۗ إِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّيٰطينَ أَولِياءَ مِن دونِ اللَّهِ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم مُهتَدونَ(30)
ایک گروہ کوتو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سر پرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں(30)
۞ يٰبَنى ءادَمَ خُذوا زينَتَكُم عِندَ كُلِّ مَسجِدٍ وَكُلوا وَاشرَبوا وَلا تُسرِفوا ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُسرِفينَ(31)
اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا(31)
قُل مَن حَرَّمَ زينَةَ اللَّهِ الَّتى أَخرَجَ لِعِبادِهِ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزقِ ۚ قُل هِىَ لِلَّذينَ ءامَنوا فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا خالِصَةً يَومَ القِيٰمَةِ ۗ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَعلَمونَ(32)
اے محمدؐ، ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟ کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتاً انہی کے لیے ہوں گی اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں(32)
قُل إِنَّما حَرَّمَ رَبِّىَ الفَوٰحِشَ ما ظَهَرَ مِنها وَما بَطَنَ وَالإِثمَ وَالبَغىَ بِغَيرِ الحَقِّ وَأَن تُشرِكوا بِاللَّهِ ما لَم يُنَزِّل بِهِ سُلطٰنًا وَأَن تَقولوا عَلَى اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(33)
اے محمدؐ، اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے(33)
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۖ فَإِذا جاءَ أَجَلُهُم لا يَستَأخِرونَ ساعَةً ۖ وَلا يَستَقدِمونَ(34)
ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم بھی نہیں ہوتی(34)
يٰبَنى ءادَمَ إِمّا يَأتِيَنَّكُم رُسُلٌ مِنكُم يَقُصّونَ عَلَيكُم ءايٰتى ۙ فَمَنِ اتَّقىٰ وَأَصلَحَ فَلا خَوفٌ عَلَيهِم وَلا هُم يَحزَنونَ(35)
(اور یہ بات اللہ نے آغاز تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ) اے بنی آدم، یاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنا رہے ہوں، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے(35)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَاستَكبَروا عَنها أُولٰئِكَ أَصحٰبُ النّارِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(36)
اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے(36)
فَمَن أَظلَمُ مِمَّنِ افتَرىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَو كَذَّبَ بِـٔايٰتِهِ ۚ أُولٰئِكَ يَنالُهُم نَصيبُهُم مِنَ الكِتٰبِ ۖ حَتّىٰ إِذا جاءَتهُم رُسُلُنا يَتَوَفَّونَهُم قالوا أَينَ ما كُنتُم تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ ۖ قالوا ضَلّوا عَنّا وَشَهِدوا عَلىٰ أَنفُسِهِم أَنَّهُم كانوا كٰفِرينَ(37)
ظاہر ہے کہ اُس سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے ایسے لوگ اپنے نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے، یہاں تک کہ وہ گھڑی آ جائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ بتاؤ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم کو خدا کے بجائے پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ، "سب ہم سے گم ہو گئے" اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے(37)
قالَ ادخُلوا فى أُمَمٍ قَد خَلَت مِن قَبلِكُم مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ فِى النّارِ ۖ كُلَّما دَخَلَت أُمَّةٌ لَعَنَت أُختَها ۖ حَتّىٰ إِذَا ادّارَكوا فيها جَميعًا قالَت أُخرىٰهُم لِأولىٰهُم رَبَّنا هٰؤُلاءِ أَضَلّونا فَـٔاتِهِم عَذابًا ضِعفًا مِنَ النّارِ ۖ قالَ لِكُلٍّ ضِعفٌ وَلٰكِن لا تَعلَمونَ(38)
اللہ فرمائے گا جاؤ، تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن و انس جا چکے ہیں ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتیٰ کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے جواب میں ارشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو(38)
وَقالَت أولىٰهُم لِأُخرىٰهُم فَما كانَ لَكُم عَلَينا مِن فَضلٍ فَذوقُوا العَذابَ بِما كُنتُم تَكسِبونَ(39)
اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کونسی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو(39)
إِنَّ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَاستَكبَروا عَنها لا تُفَتَّحُ لَهُم أَبوٰبُ السَّماءِ وَلا يَدخُلونَ الجَنَّةَ حَتّىٰ يَلِجَ الجَمَلُ فى سَمِّ الخِياطِ ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُجرِمينَ(40)
یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے(40)
لَهُم مِن جَهَنَّمَ مِهادٌ وَمِن فَوقِهِم غَواشٍ ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى الظّٰلِمينَ(41)
ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں(41)
وَالَّذينَ ءامَنوا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا نُكَلِّفُ نَفسًا إِلّا وُسعَها أُولٰئِكَ أَصحٰبُ الجَنَّةِ ۖ هُم فيها خٰلِدونَ(42)
بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے(42)
وَنَزَعنا ما فى صُدورِهِم مِن غِلٍّ تَجرى مِن تَحتِهِمُ الأَنهٰرُ ۖ وَقالُوا الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى هَدىٰنا لِهٰذا وَما كُنّا لِنَهتَدِىَ لَولا أَن هَدىٰنَا اللَّهُ ۖ لَقَد جاءَت رُسُلُ رَبِّنا بِالحَقِّ ۖ وَنودوا أَن تِلكُمُ الجَنَّةُ أورِثتُموها بِما كُنتُم تَعمَلونَ(43)
ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے اُن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور وہ کہیں گے کہ "تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے" اُس وقت ندا آئے گی کہ "یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے"(43)
وَنادىٰ أَصحٰبُ الجَنَّةِ أَصحٰبَ النّارِ أَن قَد وَجَدنا ما وَعَدَنا رَبُّنا حَقًّا فَهَل وَجَدتُم ما وَعَدَ رَبُّكُم حَقًّا ۖ قالوا نَعَم ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَينَهُم أَن لَعنَةُ اللَّهِ عَلَى الظّٰلِمينَ(44)
پھر یہ جنت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے، "ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی ان وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رب نے کیے تھے؟" وہ جواب دیں گے "ہاں" تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ "خدا کی لعنت اُن ظالموں پر(44)
الَّذينَ يَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ وَيَبغونَها عِوَجًا وَهُم بِالءاخِرَةِ كٰفِرونَ(45)
جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے"(45)
وَبَينَهُما حِجابٌ ۚ وَعَلَى الأَعرافِ رِجالٌ يَعرِفونَ كُلًّا بِسيمىٰهُم ۚ وَنادَوا أَصحٰبَ الجَنَّةِ أَن سَلٰمٌ عَلَيكُم ۚ لَم يَدخُلوها وَهُم يَطمَعونَ(46)
ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ "سلامتی ہو تم پر" یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہونگے(46)
۞ وَإِذا صُرِفَت أَبصٰرُهُم تِلقاءَ أَصحٰبِ النّارِ قالوا رَبَّنا لا تَجعَلنا مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ(47)
اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے، "اے رب! ہمیں اِن ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو"(47)
وَنادىٰ أَصحٰبُ الأَعرافِ رِجالًا يَعرِفونَهُم بِسيمىٰهُم قالوا ما أَغنىٰ عَنكُم جَمعُكُم وَما كُنتُم تَستَكبِرونَ(48)
پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ "دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے(48)
أَهٰؤُلاءِ الَّذينَ أَقسَمتُم لا يَنالُهُمُ اللَّهُ بِرَحمَةٍ ۚ ادخُلُوا الجَنَّةَ لا خَوفٌ عَلَيكُم وَلا أَنتُم تَحزَنونَ(49)
اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اِن کو تو خدا پنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ جنت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج"(49)
وَنادىٰ أَصحٰبُ النّارِ أَصحٰبَ الجَنَّةِ أَن أَفيضوا عَلَينا مِنَ الماءِ أَو مِمّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ ۚ قالوا إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَهُما عَلَى الكٰفِرينَ(50)
اور دوزخ کے لوگ جنت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُسی میں سے کچھ پھینک دو وہ جواب دیں گے کہ "اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کر دی ہیں(50)
الَّذينَ اتَّخَذوا دينَهُم لَهوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتهُمُ الحَيوٰةُ الدُّنيا ۚ فَاليَومَ نَنسىٰهُم كَما نَسوا لِقاءَ يَومِهِم هٰذا وَما كانوا بِـٔايٰتِنا يَجحَدونَ(51)
جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے"(51)
وَلَقَد جِئنٰهُم بِكِتٰبٍ فَصَّلنٰهُ عَلىٰ عِلمٍ هُدًى وَرَحمَةً لِقَومٍ يُؤمِنونَ(52)
ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصل بنایا ہے اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے(52)
هَل يَنظُرونَ إِلّا تَأويلَهُ ۚ يَومَ يَأتى تَأويلُهُ يَقولُ الَّذينَ نَسوهُ مِن قَبلُ قَد جاءَت رُسُلُ رَبِّنا بِالحَقِّ فَهَل لَنا مِن شُفَعاءَ فَيَشفَعوا لَنا أَو نُرَدُّ فَنَعمَلَ غَيرَ الَّذى كُنّا نَعمَلُ ۚ قَد خَسِروا أَنفُسَهُم وَضَلَّ عَنهُم ما كانوا يَفتَرونَ(53)
اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آ جائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟ جس روز وہ انجام سامنے آ گیا وہی لوگ جنہوں نے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے کہ "واقعی ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں" انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہو گئے(53)
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذى خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضَ فى سِتَّةِ أَيّامٍ ثُمَّ استَوىٰ عَلَى العَرشِ يُغشِى الَّيلَ النَّهارَ يَطلُبُهُ حَثيثًا وَالشَّمسَ وَالقَمَرَ وَالنُّجومَ مُسَخَّرٰتٍ بِأَمرِهِ ۗ أَلا لَهُ الخَلقُ وَالأَمرُ ۗ تَبارَكَ اللَّهُ رَبُّ العٰلَمينَ(54)
در حقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کیے سب اس کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے بڑا با برکت ہے اللہ، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار(54)
ادعوا رَبَّكُم تَضَرُّعًا وَخُفيَةً ۚ إِنَّهُ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ(55)
ا پنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقیناً و ہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(55)
وَلا تُفسِدوا فِى الأَرضِ بَعدَ إِصلٰحِها وَادعوهُ خَوفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحمَتَ اللَّهِ قَريبٌ مِنَ المُحسِنينَ(56)
زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ، یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے(56)
وَهُوَ الَّذى يُرسِلُ الرِّيٰحَ بُشرًا بَينَ يَدَى رَحمَتِهِ ۖ حَتّىٰ إِذا أَقَلَّت سَحابًا ثِقالًا سُقنٰهُ لِبَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَنزَلنا بِهِ الماءَ فَأَخرَجنا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۚ كَذٰلِكَ نُخرِجُ المَوتىٰ لَعَلَّكُم تَذَكَّرونَ(57)
اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھا لیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے، اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو(57)
وَالبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخرُجُ نَباتُهُ بِإِذنِ رَبِّهِ ۖ وَالَّذى خَبُثَ لا يَخرُجُ إِلّا نَكِدًا ۚ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الءايٰتِ لِقَومٍ يَشكُرونَ(58)
جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے ا س سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں(58)
لَقَد أَرسَلنا نوحًا إِلىٰ قَومِهِ فَقالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ إِنّى أَخافُ عَلَيكُم عَذابَ يَومٍ عَظيمٍ(59)
ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں"(59)
قالَ المَلَأُ مِن قَومِهِ إِنّا لَنَرىٰكَ فى ضَلٰلٍ مُبينٍ(60)
اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا "ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو"(60)
قالَ يٰقَومِ لَيسَ بى ضَلٰلَةٌ وَلٰكِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(61)
نوحؑ نے کہا "اے برادران قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہو ں بلکہ، میں رب العالمین کا رسول ہوں(61)
أُبَلِّغُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَأَنصَحُ لَكُم وَأَعلَمُ مِنَ اللَّهِ ما لا تَعلَمونَ(62)
تمہیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمھیں معلوم نہیں ہے(62)
أَوَعَجِبتُم أَن جاءَكُم ذِكرٌ مِن رَبِّكُم عَلىٰ رَجُلٍ مِنكُم لِيُنذِرَكُم وَلِتَتَّقوا وَلَعَلَّكُم تُرحَمونَ(63)
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے؟"(63)
فَكَذَّبوهُ فَأَنجَينٰهُ وَالَّذينَ مَعَهُ فِى الفُلكِ وَأَغرَقنَا الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۚ إِنَّهُم كانوا قَومًا عَمينَ(64)
مگر انہوں نے اس کو جھٹلا دیا آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور اُن لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا، یقیناً وہ اندھے لوگ تھے(64)
۞ وَإِلىٰ عادٍ أَخاهُم هودًا ۗ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۚ أَفَلا تَتَّقونَ(65)
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہودؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قو م، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟"(65)
قالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ إِنّا لَنَرىٰكَ فى سَفاهَةٍ وَإِنّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الكٰذِبينَ(66)
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا "ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو"(66)
قالَ يٰقَومِ لَيسَ بى سَفاهَةٌ وَلٰكِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(67)
اس نے کہا "اے برادران قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں(67)
أُبَلِّغُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَأَنا۠ لَكُم ناصِحٌ أَمينٌ(68)
تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے(68)
أَوَعَجِبتُم أَن جاءَكُم ذِكرٌ مِن رَبِّكُم عَلىٰ رَجُلٍ مِنكُم لِيُنذِرَكُم ۚ وَاذكُروا إِذ جَعَلَكُم خُلَفاءَ مِن بَعدِ قَومِ نوحٍ وَزادَكُم فِى الخَلقِ بَصۜطَةً ۖ فَاذكُروا ءالاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ(69)
کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ وہ تمھیں خبردار کرے؟ بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنو مند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے"(69)
قالوا أَجِئتَنا لِنَعبُدَ اللَّهَ وَحدَهُ وَنَذَرَ ما كانَ يَعبُدُ ءاباؤُنا ۖ فَأتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(70)
انہوں نے جواب دیا "کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے"(70)
قالَ قَد وَقَعَ عَلَيكُم مِن رَبِّكُم رِجسٌ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجٰدِلونَنى فى أَسماءٍ سَمَّيتُموها أَنتُم وَءاباؤُكُم ما نَزَّلَ اللَّهُ بِها مِن سُلطٰنٍ ۚ فَانتَظِروا إِنّى مَعَكُم مِنَ المُنتَظِرينَ(71)
اس نے کہا "تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں"(71)
فَأَنجَينٰهُ وَالَّذينَ مَعَهُ بِرَحمَةٍ مِنّا وَقَطَعنا دابِرَ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۖ وَما كانوا مُؤمِنينَ(72)
آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہودؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے(72)
وَإِلىٰ ثَمودَ أَخاهُم صٰلِحًا ۗ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ قَد جاءَتكُم بَيِّنَةٌ مِن رَبِّكُم ۖ هٰذِهِ ناقَةُ اللَّهِ لَكُم ءايَةً ۖ فَذَروها تَأكُل فى أَرضِ اللَّهِ ۖ وَلا تَمَسّوها بِسوءٍ فَيَأخُذَكُم عَذابٌ أَليمٌ(73)
اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آ گئی ہے یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، لہٰذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آ لے گا(73)
وَاذكُروا إِذ جَعَلَكُم خُلَفاءَ مِن بَعدِ عادٍ وَبَوَّأَكُم فِى الأَرضِ تَتَّخِذونَ مِن سُهولِها قُصورًا وَتَنحِتونَ الجِبالَ بُيوتًا ۖ فَاذكُروا ءالاءَ اللَّهِ وَلا تَعثَوا فِى الأَرضِ مُفسِدينَ(74)
یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہو جاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو"(74)
قالَ المَلَأُ الَّذينَ استَكبَروا مِن قَومِهِ لِلَّذينَ استُضعِفوا لِمَن ءامَنَ مِنهُم أَتَعلَمونَ أَنَّ صٰلِحًا مُرسَلٌ مِن رَبِّهِ ۚ قالوا إِنّا بِما أُرسِلَ بِهِ مُؤمِنونَ(75)
اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقہ کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے کہا "کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالحؑ اپنے رب کا پیغمبر ہے؟" انہوں نے جواب دیا "بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اُسے ہم مانتے ہیں"(75)
قالَ الَّذينَ استَكبَروا إِنّا بِالَّذى ءامَنتُم بِهِ كٰفِرونَ(76)
اُن برائی کے مدعیوں نے کہا جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں"(76)
فَعَقَرُوا النّاقَةَ وَعَتَوا عَن أَمرِ رَبِّهِم وَقالوا يٰصٰلِحُ ائتِنا بِما تَعِدُنا إِن كُنتَ مِنَ المُرسَلينَ(77)
پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالحؑ سے کہہ دیا کہ لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے(77)
فَأَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ فَأَصبَحوا فى دارِهِم جٰثِمينَ(78)
آخر کا ر ایک دہلا دینے والی آفت نے اُنہیں آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے(78)
فَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يٰقَومِ لَقَد أَبلَغتُكُم رِسالَةَ رَبّى وَنَصَحتُ لَكُم وَلٰكِن لا تُحِبّونَ النّٰصِحينَ(79)
اور صالحؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے میری قوم، میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں"(79)
وَلوطًا إِذ قالَ لِقَومِهِ أَتَأتونَ الفٰحِشَةَ ما سَبَقَكُم بِها مِن أَحَدٍ مِنَ العٰلَمينَ(80)
اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا "کیا تم ایسے بے حیا ہو گئے ہو، کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟(80)
إِنَّكُم لَتَأتونَ الرِّجالَ شَهوَةً مِن دونِ النِّساءِ ۚ بَل أَنتُم قَومٌ مُسرِفونَ(81)
تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو"(81)
وَما كانَ جَوابَ قَومِهِ إِلّا أَن قالوا أَخرِجوهُم مِن قَريَتِكُم ۖ إِنَّهُم أُناسٌ يَتَطَهَّرونَ(82)
مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ "نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ"(82)
فَأَنجَينٰهُ وَأَهلَهُ إِلَّا امرَأَتَهُ كانَت مِنَ الغٰبِرينَ(83)
آخر کار ہم نے لوطؑ اوراس کے گھر والوں کو بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی(83)
وَأَمطَرنا عَلَيهِم مَطَرًا ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُجرِمينَ(84)
بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا(84)
وَإِلىٰ مَديَنَ أَخاهُم شُعَيبًا ۗ قالَ يٰقَومِ اعبُدُوا اللَّهَ ما لَكُم مِن إِلٰهٍ غَيرُهُ ۖ قَد جاءَتكُم بَيِّنَةٌ مِن رَبِّكُم ۖ فَأَوفُوا الكَيلَ وَالميزانَ وَلا تَبخَسُوا النّاسَ أَشياءَهُم وَلا تُفسِدوا فِى الأَرضِ بَعدَ إِصلٰحِها ۚ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم مُؤمِنينَ(85)
اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا اس نے کہا "اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف رہنمائی آ گئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو(85)
وَلا تَقعُدوا بِكُلِّ صِرٰطٍ توعِدونَ وَتَصُدّونَ عَن سَبيلِ اللَّهِ مَن ءامَنَ بِهِ وَتَبغونَها عِوَجًا ۚ وَاذكُروا إِذ كُنتُم قَليلًا فَكَثَّرَكُم ۖ وَانظُروا كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُفسِدينَ(86)
اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہو جاؤ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے(86)
وَإِن كانَ طائِفَةٌ مِنكُم ءامَنوا بِالَّذى أُرسِلتُ بِهِ وَطائِفَةٌ لَم يُؤمِنوا فَاصبِروا حَتّىٰ يَحكُمَ اللَّهُ بَينَنا ۚ وَهُوَ خَيرُ الحٰكِمينَ(87)
اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے"(87)
۞ قالَ المَلَأُ الَّذينَ استَكبَروا مِن قَومِهِ لَنُخرِجَنَّكَ يٰشُعَيبُ وَالَّذينَ ءامَنوا مَعَكَ مِن قَريَتِنا أَو لَتَعودُنَّ فى مِلَّتِنا ۚ قالَ أَوَلَو كُنّا كٰرِهينَ(88)
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، ا س سے کہا کہ "اے شعیبؑ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا" شعیبؑ نے جواب دیا "کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟(88)
قَدِ افتَرَينا عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِن عُدنا فى مِلَّتِكُم بَعدَ إِذ نَجّىٰنَا اللَّهُ مِنها ۚ وَما يَكونُ لَنا أَن نَعودَ فيها إِلّا أَن يَشاءَ اللَّهُ رَبُّنا ۚ وَسِعَ رَبُّنا كُلَّ شَيءٍ عِلمًا ۚ عَلَى اللَّهِ تَوَكَّلنا ۚ رَبَّنَا افتَح بَينَنا وَبَينَ قَومِنا بِالحَقِّ وَأَنتَ خَيرُ الفٰتِحينَ(89)
ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ خدا ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا اے رب، ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے"(89)
وَقالَ المَلَأُ الَّذينَ كَفَروا مِن قَومِهِ لَئِنِ اتَّبَعتُم شُعَيبًا إِنَّكُم إِذًا لَخٰسِرونَ(90)
اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا "اگر تم نے شعیبؑ کی پیروی قبول کر لی تو برباد ہو جاؤ گے"(90)
فَأَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ فَأَصبَحوا فى دارِهِم جٰثِمينَ(91)
مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے اُن کو آ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے(91)
الَّذينَ كَذَّبوا شُعَيبًا كَأَن لَم يَغنَوا فيهَا ۚ الَّذينَ كَذَّبوا شُعَيبًا كانوا هُمُ الخٰسِرينَ(92)
جن لوگوں نے شعیبؑ کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے شعیبؑ کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کر رہے(92)
فَتَوَلّىٰ عَنهُم وَقالَ يٰقَومِ لَقَد أَبلَغتُكُم رِسٰلٰتِ رَبّى وَنَصَحتُ لَكُم ۖ فَكَيفَ ءاسىٰ عَلىٰ قَومٍ كٰفِرينَ(93)
اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ "اے برادران قوم، میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے"(93)
وَما أَرسَلنا فى قَريَةٍ مِن نَبِىٍّ إِلّا أَخَذنا أَهلَها بِالبَأساءِ وَالضَّرّاءِ لَعَلَّهُم يَضَّرَّعونَ(94)
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں(94)
ثُمَّ بَدَّلنا مَكانَ السَّيِّئَةِ الحَسَنَةَ حَتّىٰ عَفَوا وَقالوا قَد مَسَّ ءاباءَنَا الضَّرّاءُ وَالسَّرّاءُ فَأَخَذنٰهُم بَغتَةً وَهُم لا يَشعُرونَ(95)
پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ "ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں" آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی(95)
وَلَو أَنَّ أَهلَ القُرىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَكٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ وَلٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ(96)
اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے(96)
أَفَأَمِنَ أَهلُ القُرىٰ أَن يَأتِيَهُم بَأسُنا بَيٰتًا وَهُم نائِمونَ(97)
پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آ جائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں؟(97)
أَوَأَمِنَ أَهلُ القُرىٰ أَن يَأتِيَهُم بَأسُنا ضُحًى وَهُم يَلعَبونَ(98)
یا انہیں اطمینان ہو گیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟(98)
أَفَأَمِنوا مَكرَ اللَّهِ ۚ فَلا يَأمَنُ مَكرَ اللَّهِ إِلَّا القَومُ الخٰسِرونَ(99)
کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو(99)
أَوَلَم يَهدِ لِلَّذينَ يَرِثونَ الأَرضَ مِن بَعدِ أَهلِها أَن لَو نَشاءُ أَصَبنٰهُم بِذُنوبِهِم ۚ وَنَطبَعُ عَلىٰ قُلوبِهِم فَهُم لا يَسمَعونَ(100)
اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے(100)
تِلكَ القُرىٰ نَقُصُّ عَلَيكَ مِن أَنبائِها ۚ وَلَقَد جاءَتهُم رُسُلُهُم بِالبَيِّنٰتِ فَما كانوا لِيُؤمِنوا بِما كَذَّبوا مِن قَبلُ ۚ كَذٰلِكَ يَطبَعُ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِ الكٰفِرينَ(101)
یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسول ان کے پا س کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے دیکھو اس طرح ہم منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں(101)
وَما وَجَدنا لِأَكثَرِهِم مِن عَهدٍ ۖ وَإِن وَجَدنا أَكثَرَهُم لَفٰسِقينَ(102)
ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا(102)
ثُمَّ بَعَثنا مِن بَعدِهِم موسىٰ بِـٔايٰتِنا إِلىٰ فِرعَونَ وَمَلَإِي۟هِ فَظَلَموا بِها ۖ فَانظُر كَيفَ كانَ عٰقِبَةُ المُفسِدينَ(103)
پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا(103)
وَقالَ موسىٰ يٰفِرعَونُ إِنّى رَسولٌ مِن رَبِّ العٰلَمينَ(104)
موسیٰؑ نے کہا "اے فرعون، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہو ں(104)
حَقيقٌ عَلىٰ أَن لا أَقولَ عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ ۚ قَد جِئتُكُم بِبَيِّنَةٍ مِن رَبِّكُم فَأَرسِل مَعِىَ بَنى إِسرٰءيلَ(105)
میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے"(105)
قالَ إِن كُنتَ جِئتَ بِـٔايَةٍ فَأتِ بِها إِن كُنتَ مِنَ الصّٰدِقينَ(106)
فرعون نے کہا "اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر"(106)
فَأَلقىٰ عَصاهُ فَإِذا هِىَ ثُعبانٌ مُبينٌ(107)
موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا(107)
وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذا هِىَ بَيضاءُ لِلنّٰظِرينَ(108)
اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا(108)
قالَ المَلَأُ مِن قَومِ فِرعَونَ إِنَّ هٰذا لَسٰحِرٌ عَليمٌ(109)
ا س پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے(109)
يُريدُ أَن يُخرِجَكُم مِن أَرضِكُم ۖ فَماذا تَأمُرونَ(110)
تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتے ہو؟"(110)
قالوا أَرجِه وَأَخاهُ وَأَرسِل فِى المَدائِنِ حٰشِرينَ(111)
پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے(111)
يَأتوكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَليمٍ(112)
کہ ہر ماہر فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں(112)
وَجاءَ السَّحَرَةُ فِرعَونَ قالوا إِنَّ لَنا لَأَجرًا إِن كُنّا نَحنُ الغٰلِبينَ(113)
چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آ گئے اُنہوں نے "اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟"(113)
قالَ نَعَم وَإِنَّكُم لَمِنَ المُقَرَّبينَ(114)
فرعون نے جواب دیا "ہاں، اور تم مقرب بارگاہ ہو گے"(114)
قالوا يٰموسىٰ إِمّا أَن تُلقِىَ وَإِمّا أَن نَكونَ نَحنُ المُلقينَ(115)
پھر اُنہوں نے موسیٰؑ سے کہا "تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟"(115)
قالَ أَلقوا ۖ فَلَمّا أَلقَوا سَحَروا أَعيُنَ النّاسِ وَاستَرهَبوهُم وَجاءو بِسِحرٍ عَظيمٍ(116)
موسیٰؑ نے جواب دیا "تم ہی پھینکو" انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنا لائے(116)
۞ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ أَن أَلقِ عَصاكَ ۖ فَإِذا هِىَ تَلقَفُ ما يَأفِكونَ(117)
ہم نے موسیٰؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا(117)
فَوَقَعَ الحَقُّ وَبَطَلَ ما كانوا يَعمَلونَ(118)
اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ اُنہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا(118)
فَغُلِبوا هُنالِكَ وَانقَلَبوا صٰغِرينَ(119)
فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہو گئے(119)
وَأُلقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدينَ(120)
اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا(120)
قالوا ءامَنّا بِرَبِّ العٰلَمينَ(121)
کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو(121)
رَبِّ موسىٰ وَهٰرونَ(122)
اُس رب کو جسے موسیٰؑ اور ہارونؑ مانتے ہیں"(122)
قالَ فِرعَونُ ءامَنتُم بِهِ قَبلَ أَن ءاذَنَ لَكُم ۖ إِنَّ هٰذا لَمَكرٌ مَكَرتُموهُ فِى المَدينَةِ لِتُخرِجوا مِنها أَهلَها ۖ فَسَوفَ تَعلَمونَ(123)
فرعون نے کہا "تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے(123)
لَأُقَطِّعَنَّ أَيدِيَكُم وَأَرجُلَكُم مِن خِلٰفٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُم أَجمَعينَ(124)
میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا"(124)
قالوا إِنّا إِلىٰ رَبِّنا مُنقَلِبونَ(125)
انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے(125)
وَما تَنقِمُ مِنّا إِلّا أَن ءامَنّا بِـٔايٰتِ رَبِّنا لَمّا جاءَتنا ۚ رَبَّنا أَفرِغ عَلَينا صَبرًا وَتَوَفَّنا مُسلِمينَ(126)
تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آ گئیں تو ہم نے انہیں مان لیا اے رب، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اِس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں"(126)
وَقالَ المَلَأُ مِن قَومِ فِرعَونَ أَتَذَرُ موسىٰ وَقَومَهُ لِيُفسِدوا فِى الأَرضِ وَيَذَرَكَ وَءالِهَتَكَ ۚ قالَ سَنُقَتِّلُ أَبناءَهُم وَنَستَحيۦ نِساءَهُم وَإِنّا فَوقَهُم قٰهِرونَ(127)
فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا "کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟" فرعون نے جواب دیا "میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے"(127)
قالَ موسىٰ لِقَومِهِ استَعينوا بِاللَّهِ وَاصبِروا ۖ إِنَّ الأَرضَ لِلَّهِ يورِثُها مَن يَشاءُ مِن عِبادِهِ ۖ وَالعٰقِبَةُ لِلمُتَّقينَ(128)
موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا "اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں"(128)
قالوا أوذينا مِن قَبلِ أَن تَأتِيَنا وَمِن بَعدِ ما جِئتَنا ۚ قالَ عَسىٰ رَبُّكُم أَن يُهلِكَ عَدُوَّكُم وَيَستَخلِفَكُم فِى الأَرضِ فَيَنظُرَ كَيفَ تَعمَلونَ(129)
اس کی قوم کے لوگوں نے کہا "تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں" اس نے جواب دیا "قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو"(129)
وَلَقَد أَخَذنا ءالَ فِرعَونَ بِالسِّنينَ وَنَقصٍ مِنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُم يَذَّكَّرونَ(130)
ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے(130)
فَإِذا جاءَتهُمُ الحَسَنَةُ قالوا لَنا هٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبهُم سَيِّئَةٌ يَطَّيَّروا بِموسىٰ وَمَن مَعَهُ ۗ أَلا إِنَّما طٰئِرُهُم عِندَ اللَّهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَهُم لا يَعلَمونَ(131)
مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فال بد ٹھیراتے، حالانکہ در حقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے(131)
وَقالوا مَهما تَأتِنا بِهِ مِن ءايَةٍ لِتَسحَرَنا بِها فَما نَحنُ لَكَ بِمُؤمِنينَ(132)
انہوں نے موسیٰؑ سے کہا کہ "تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں"(132)
فَأَرسَلنا عَلَيهِمُ الطّوفانَ وَالجَرادَ وَالقُمَّلَ وَالضَّفادِعَ وَالدَّمَ ءايٰتٍ مُفَصَّلٰتٍ فَاستَكبَروا وَكانوا قَومًا مُجرِمينَ(133)
آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا، ٹڈی دل چھوڑے، سرسریاں پھیلائیں، مینڈک نکالے، اور خو ن برسایا یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں، مگر وہ سر کشی کیے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے(133)
وَلَمّا وَقَعَ عَلَيهِمُ الرِّجزُ قالوا يٰموسَى ادعُ لَنا رَبَّكَ بِما عَهِدَ عِندَكَ ۖ لَئِن كَشَفتَ عَنَّا الرِّجزَ لَنُؤمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرسِلَنَّ مَعَكَ بَنى إِسرٰءيلَ(134)
جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے "اے موسیٰؑ، تجھے اپنے رب کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے"(134)
فَلَمّا كَشَفنا عَنهُمُ الرِّجزَ إِلىٰ أَجَلٍ هُم بٰلِغوهُ إِذا هُم يَنكُثونَ(135)
مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقت مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے(135)
فَانتَقَمنا مِنهُم فَأَغرَقنٰهُم فِى اليَمِّ بِأَنَّهُم كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا عَنها غٰفِلينَ(136)
تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہو گئے تھے(136)
وَأَورَثنَا القَومَ الَّذينَ كانوا يُستَضعَفونَ مَشٰرِقَ الأَرضِ وَمَغٰرِبَهَا الَّتى بٰرَكنا فيها ۖ وَتَمَّت كَلِمَتُ رَبِّكَ الحُسنىٰ عَلىٰ بَنى إِسرٰءيلَ بِما صَبَروا ۖ وَدَمَّرنا ما كانَ يَصنَعُ فِرعَونُ وَقَومُهُ وَما كانوا يَعرِشونَ(137)
اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے(137)
وَجٰوَزنا بِبَنى إِسرٰءيلَ البَحرَ فَأَتَوا عَلىٰ قَومٍ يَعكُفونَ عَلىٰ أَصنامٍ لَهُم ۚ قالوا يٰموسَى اجعَل لَنا إِلٰهًا كَما لَهُم ءالِهَةٌ ۚ قالَ إِنَّكُم قَومٌ تَجهَلونَ(138)
بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی کہنے لگے، "اے موسیٰؑ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں" موسیٰؑ نے کہا "تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو(138)
إِنَّ هٰؤُلاءِ مُتَبَّرٌ ما هُم فيهِ وَبٰطِلٌ ما كانوا يَعمَلونَ(139)
یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے"(139)
قالَ أَغَيرَ اللَّهِ أَبغيكُم إِلٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُم عَلَى العٰلَمينَ(140)
پھر موسیٰؑ نے کہا "کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے(140)
وَإِذ أَنجَينٰكُم مِن ءالِ فِرعَونَ يَسومونَكُم سوءَ العَذابِ ۖ يُقَتِّلونَ أَبناءَكُم وَيَستَحيونَ نِساءَكُم ۚ وَفى ذٰلِكُم بَلاءٌ مِن رَبِّكُم عَظيمٌ(141)
اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی(141)
۞ وَوٰعَدنا موسىٰ ثَلٰثينَ لَيلَةً وَأَتمَمنٰها بِعَشرٍ فَتَمَّ ميقٰتُ رَبِّهِ أَربَعينَ لَيلَةً ۚ وَقالَ موسىٰ لِأَخيهِ هٰرونَ اخلُفنى فى قَومى وَأَصلِح وَلا تَتَّبِع سَبيلَ المُفسِدينَ(142)
ہم نے موسیٰؑ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے رب کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہو گئی موسیٰؑ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارونؑ سے کہا کہ "میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا"(142)
وَلَمّا جاءَ موسىٰ لِميقٰتِنا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قالَ رَبِّ أَرِنى أَنظُر إِلَيكَ ۚ قالَ لَن تَرىٰنى وَلٰكِنِ انظُر إِلَى الجَبَلِ فَإِنِ استَقَرَّ مَكانَهُ فَسَوفَ تَرىٰنى ۚ فَلَمّا تَجَلّىٰ رَبُّهُ لِلجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ موسىٰ صَعِقًا ۚ فَلَمّا أَفاقَ قالَ سُبحٰنَكَ تُبتُ إِلَيكَ وَأَنا۠ أَوَّلُ المُؤمِنينَ(143)
جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ "اے رب، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں" فرمایا "تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا" چنانچہ اس کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰؑ غش کھا کر گر پڑا جب ہوش آیا تو بولا "پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں"(143)
قالَ يٰموسىٰ إِنِّى اصطَفَيتُكَ عَلَى النّاسِ بِرِسٰلٰتى وَبِكَلٰمى فَخُذ ما ءاتَيتُكَ وَكُن مِنَ الشّٰكِرينَ(144)
فرمایا "اے موسیٰؑ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میر ی پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا"(144)
وَكَتَبنا لَهُ فِى الأَلواحِ مِن كُلِّ شَيءٍ مَوعِظَةً وَتَفصيلًا لِكُلِّ شَيءٍ فَخُذها بِقُوَّةٍ وَأمُر قَومَكَ يَأخُذوا بِأَحسَنِها ۚ سَأُو۟ريكُم دارَ الفٰسِقينَ(145)
اس کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی اور اس سے کہا: "اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا(145)
سَأَصرِفُ عَن ءايٰتِىَ الَّذينَ يَتَكَبَّرونَ فِى الأَرضِ بِغَيرِ الحَقِّ وَإِن يَرَوا كُلَّ ءايَةٍ لا يُؤمِنوا بِها وَإِن يَرَوا سَبيلَ الرُّشدِ لا يَتَّخِذوهُ سَبيلًا وَإِن يَرَوا سَبيلَ الغَىِّ يَتَّخِذوهُ سَبيلًا ۚ ذٰلِكَ بِأَنَّهُم كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَكانوا عَنها غٰفِلينَ(146)
میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیٹرھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے(146)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَلِقاءِ الءاخِرَةِ حَبِطَت أَعمٰلُهُم ۚ هَل يُجزَونَ إِلّا ما كانوا يَعمَلونَ(147)
ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہو گئے کیا لوگ اِس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟"(147)
وَاتَّخَذَ قَومُ موسىٰ مِن بَعدِهِ مِن حُلِيِّهِم عِجلًا جَسَدًا لَهُ خُوارٌ ۚ أَلَم يَرَوا أَنَّهُ لا يُكَلِّمُهُم وَلا يَهديهِم سَبيلًا ۘ اتَّخَذوهُ وَكانوا ظٰلِمينَ(148)
موسیٰؑ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنا لیا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے(148)
وَلَمّا سُقِطَ فى أَيديهِم وَرَأَوا أَنَّهُم قَد ضَلّوا قالوا لَئِن لَم يَرحَمنا رَبُّنا وَيَغفِر لَنا لَنَكونَنَّ مِنَ الخٰسِرينَ(149)
پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا او ر اُنہوں نے دیکھ لیا کہ در حقیقت وہ گمراہ ہو گئے ہیں تو کہنے لگے کہ "اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہو جائیں گے"(149)
وَلَمّا رَجَعَ موسىٰ إِلىٰ قَومِهِ غَضبٰنَ أَسِفًا قالَ بِئسَما خَلَفتُمونى مِن بَعدى ۖ أَعَجِلتُم أَمرَ رَبِّكُم ۖ وَأَلقَى الأَلواحَ وَأَخَذَ بِرَأسِ أَخيهِ يَجُرُّهُ إِلَيهِ ۚ قالَ ابنَ أُمَّ إِنَّ القَومَ استَضعَفونى وَكادوا يَقتُلونَنى فَلا تُشمِت بِىَ الأَعداءَ وَلا تَجعَلنى مَعَ القَومِ الظّٰلِمينَ(150)
ادھر سے موسیٰؑ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا آتے ہی اس نے کہا "بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کر لیتے؟" اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھا ئی (ہارونؑ) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا ہارونؑ نے کہا "اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر"(150)
قالَ رَبِّ اغفِر لى وَلِأَخى وَأَدخِلنا فى رَحمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرحَمُ الرّٰحِمينَ(151)
تب موسیٰؑ نے کہا "اے رب، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے"(151)
إِنَّ الَّذينَ اتَّخَذُوا العِجلَ سَيَنالُهُم غَضَبٌ مِن رَبِّهِم وَذِلَّةٌ فِى الحَيوٰةِ الدُّنيا ۚ وَكَذٰلِكَ نَجزِى المُفتَرينَ(152)
(جواب میں ارشاد ہوا کہ) "جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں(152)
وَالَّذينَ عَمِلُوا السَّيِّـٔاتِ ثُمَّ تابوا مِن بَعدِها وَءامَنوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعدِها لَغَفورٌ رَحيمٌ(153)
اور جو لوگ برے عمل کریں پھر توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے"(153)
وَلَمّا سَكَتَ عَن موسَى الغَضَبُ أَخَذَ الأَلواحَ ۖ وَفى نُسخَتِها هُدًى وَرَحمَةٌ لِلَّذينَ هُم لِرَبِّهِم يَرهَبونَ(154)
پھر جب موسیٰؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں(154)
وَاختارَ موسىٰ قَومَهُ سَبعينَ رَجُلًا لِميقٰتِنا ۖ فَلَمّا أَخَذَتهُمُ الرَّجفَةُ قالَ رَبِّ لَو شِئتَ أَهلَكتَهُم مِن قَبلُ وَإِيّٰىَ ۖ أَتُهلِكُنا بِما فَعَلَ السُّفَهاءُ مِنّا ۖ إِن هِىَ إِلّا فِتنَتُكَ تُضِلُّ بِها مَن تَشاءُ وَتَهدى مَن تَشاءُ ۖ أَنتَ وَلِيُّنا فَاغفِر لَنا وَارحَمنا ۖ وَأَنتَ خَيرُ الغٰفِرينَ(155)
اور اُس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آ پکڑا تو موسیٰؑ نے عرض کیا "اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں ہمارے سر پرست تو آپ ہی ہیں پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں(155)
۞ وَاكتُب لَنا فى هٰذِهِ الدُّنيا حَسَنَةً وَفِى الءاخِرَةِ إِنّا هُدنا إِلَيكَ ۚ قالَ عَذابى أُصيبُ بِهِ مَن أَشاءُ ۖ وَرَحمَتى وَسِعَت كُلَّ شَيءٍ ۚ فَسَأَكتُبُها لِلَّذينَ يَتَّقونَ وَيُؤتونَ الزَّكوٰةَ وَالَّذينَ هُم بِـٔايٰتِنا يُؤمِنونَ(156)
اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا" جواب میں ارشاد ہوا "سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے"(156)
الَّذينَ يَتَّبِعونَ الرَّسولَ النَّبِىَّ الأُمِّىَّ الَّذى يَجِدونَهُ مَكتوبًا عِندَهُم فِى التَّورىٰةِ وَالإِنجيلِ يَأمُرُهُم بِالمَعروفِ وَيَنهىٰهُم عَنِ المُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيهِمُ الخَبٰئِثَ وَيَضَعُ عَنهُم إِصرَهُم وَالأَغلٰلَ الَّتى كانَت عَلَيهِم ۚ فَالَّذينَ ءامَنوا بِهِ وَعَزَّروهُ وَنَصَروهُ وَاتَّبَعُوا النّورَ الَّذى أُنزِلَ مَعَهُ ۙ أُولٰئِكَ هُمُ المُفلِحونَ(157)
(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے) جو اِس پیغمبر، نبی امی کی پیروی اختیار کریں جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال او ر ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں(157)
قُل يٰأَيُّهَا النّاسُ إِنّى رَسولُ اللَّهِ إِلَيكُم جَميعًا الَّذى لَهُ مُلكُ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۖ لا إِلٰهَ إِلّا هُوَ يُحيۦ وَيُميتُ ۖ فَـٔامِنوا بِاللَّهِ وَرَسولِهِ النَّبِىِّ الأُمِّىِّ الَّذى يُؤمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمٰتِهِ وَاتَّبِعوهُ لَعَلَّكُم تَهتَدونَ(158)
اے محمدؐ، کہو کہ "اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اُس کی، امید ہے کہ تم راہ راست پا لو گے"(158)
وَمِن قَومِ موسىٰ أُمَّةٌ يَهدونَ بِالحَقِّ وَبِهِ يَعدِلونَ(159)
موسیٰؑ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا(159)
وَقَطَّعنٰهُمُ اثنَتَى عَشرَةَ أَسباطًا أُمَمًا ۚ وَأَوحَينا إِلىٰ موسىٰ إِذِ استَسقىٰهُ قَومُهُ أَنِ اضرِب بِعَصاكَ الحَجَرَ ۖ فَانبَجَسَت مِنهُ اثنَتا عَشرَةَ عَينًا ۖ قَد عَلِمَ كُلُّ أُناسٍ مَشرَبَهُم ۚ وَظَلَّلنا عَلَيهِمُ الغَمٰمَ وَأَنزَلنا عَلَيهِمُ المَنَّ وَالسَّلوىٰ ۖ كُلوا مِن طَيِّبٰتِ ما رَزَقنٰكُم ۚ وَما ظَلَمونا وَلٰكِن كانوا أَنفُسَهُم يَظلِمونَ(160)
اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کر کے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی اور جب موسیٰؑ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو چنانچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلویٰ اتارا کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے(160)
وَإِذ قيلَ لَهُمُ اسكُنوا هٰذِهِ القَريَةَ وَكُلوا مِنها حَيثُ شِئتُم وَقولوا حِطَّةٌ وَادخُلُوا البابَ سُجَّدًا نَغفِر لَكُم خَطيـٰٔتِكُم ۚ سَنَزيدُ المُحسِنينَ(161)
یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے حسب منشا روزی حاصل کرو اور حطۃ حطۃ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے"(161)
فَبَدَّلَ الَّذينَ ظَلَموا مِنهُم قَولًا غَيرَ الَّذى قيلَ لَهُم فَأَرسَلنا عَلَيهِم رِجزًا مِنَ السَّماءِ بِما كانوا يَظلِمونَ(162)
مگر جو لوگ اُن میں سے ظالم تھے اُنہوں نے اُس بات کو جو اُن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا(162)
وَسـَٔلهُم عَنِ القَريَةِ الَّتى كانَت حاضِرَةَ البَحرِ إِذ يَعدونَ فِى السَّبتِ إِذ تَأتيهِم حيتانُهُم يَومَ سَبتِهِم شُرَّعًا وَيَومَ لا يَسبِتونَ ۙ لا تَأتيهِم ۚ كَذٰلِكَ نَبلوهُم بِما كانوا يَفسُقونَ(163)
اور ذرا اِن سے اُ س بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے(163)
وَإِذ قالَت أُمَّةٌ مِنهُم لِمَ تَعِظونَ قَومًا ۙ اللَّهُ مُهلِكُهُم أَو مُعَذِّبُهُم عَذابًا شَديدًا ۖ قالوا مَعذِرَةً إِلىٰ رَبِّكُم وَلَعَلَّهُم يَتَّقونَ(164)
اور انہیں یہ بھی یاد لاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ "تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے " تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ "ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس امید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں"(164)
فَلَمّا نَسوا ما ذُكِّروا بِهِ أَنجَينَا الَّذينَ يَنهَونَ عَنِ السّوءِ وَأَخَذنَا الَّذينَ ظَلَموا بِعَذابٍ بَـٔيسٍ بِما كانوا يَفسُقونَ(165)
آخرکارجب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا(165)
فَلَمّا عَتَوا عَن ما نُهوا عَنهُ قُلنا لَهُم كونوا قِرَدَةً خٰسِـٔينَ(166)
پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہو جاؤ ذلیل اور خوار(166)
وَإِذ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبعَثَنَّ عَلَيهِم إِلىٰ يَومِ القِيٰمَةِ مَن يَسومُهُم سوءَ العَذابِ ۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَريعُ العِقابِ ۖ وَإِنَّهُ لَغَفورٌ رَحيمٌ(167)
اور یاد کرو جبکہ تمہارے رب نے اعلان کر دیا کہ "وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے،" یقیناً تمہارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے اور یقیناً وہ در گزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے(167)
وَقَطَّعنٰهُم فِى الأَرضِ أُمَمًا ۖ مِنهُمُ الصّٰلِحونَ وَمِنهُم دونَ ذٰلِكَ ۖ وَبَلَونٰهُم بِالحَسَنٰتِ وَالسَّيِّـٔاتِ لَعَلَّهُم يَرجِعونَ(168)
ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کر کے بہت سی قوموں میں تقسیم کر دیا کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ ا س سے مختلف اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں(168)
فَخَلَفَ مِن بَعدِهِم خَلفٌ وَرِثُوا الكِتٰبَ يَأخُذونَ عَرَضَ هٰذَا الأَدنىٰ وَيَقولونَ سَيُغفَرُ لَنا وَإِن يَأتِهِم عَرَضٌ مِثلُهُ يَأخُذوهُ ۚ أَلَم يُؤخَذ عَلَيهِم ميثٰقُ الكِتٰبِ أَن لا يَقولوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الحَقَّ وَدَرَسوا ما فيهِ ۗ وَالدّارُ الءاخِرَةُ خَيرٌ لِلَّذينَ يَتَّقونَ ۗ أَفَلا تَعقِلونَ(169)
پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اِسی دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاع دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟(169)
وَالَّذينَ يُمَسِّكونَ بِالكِتٰبِ وَأَقامُوا الصَّلوٰةَ إِنّا لا نُضيعُ أَجرَ المُصلِحينَ(170)
جو لوگ کتاب کی پابندی کر تے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم رکھی ہے، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے(170)
۞ وَإِذ نَتَقنَا الجَبَلَ فَوقَهُم كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ وَظَنّوا أَنَّهُ واقِعٌ بِهِم خُذوا ما ءاتَينٰكُم بِقُوَّةٍ وَاذكُروا ما فيهِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ(171)
انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آ پڑے گا اور اُس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے(171)
وَإِذ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنى ءادَمَ مِن ظُهورِهِم ذُرِّيَّتَهُم وَأَشهَدَهُم عَلىٰ أَنفُسِهِم أَلَستُ بِرَبِّكُم ۖ قالوا بَلىٰ ۛ شَهِدنا ۛ أَن تَقولوا يَومَ القِيٰمَةِ إِنّا كُنّا عَن هٰذا غٰفِلينَ(172)
اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟" انہوں نے کہا "ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں" یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ "ہم تو اس بات سے بے خبر تھے،"(172)
أَو تَقولوا إِنَّما أَشرَكَ ءاباؤُنا مِن قَبلُ وَكُنّا ذُرِّيَّةً مِن بَعدِهِم ۖ أَفَتُهلِكُنا بِما فَعَلَ المُبطِلونَ(173)
یا یہ نہ کہنے لگو کہ "شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا"(173)
وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الءايٰتِ وَلَعَلَّهُم يَرجِعونَ(174)
دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں(174)
وَاتلُ عَلَيهِم نَبَأَ الَّذى ءاتَينٰهُ ءايٰتِنا فَانسَلَخَ مِنها فَأَتبَعَهُ الشَّيطٰنُ فَكانَ مِنَ الغاوينَ(175)
اور اے محمدؐ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا آخرکار شیطان اس کے پیچھے پڑ گیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا(175)
وَلَو شِئنا لَرَفَعنٰهُ بِها وَلٰكِنَّهُ أَخلَدَ إِلَى الأَرضِ وَاتَّبَعَ هَوىٰهُ ۚ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الكَلبِ إِن تَحمِل عَلَيهِ يَلهَث أَو تَترُكهُ يَلهَث ۚ ذٰلِكَ مَثَلُ القَومِ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا ۚ فَاقصُصِ القَصَصَ لَعَلَّهُم يَتَفَكَّرونَ(176)
اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں(176)
ساءَ مَثَلًا القَومُ الَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا وَأَنفُسَهُم كانوا يَظلِمونَ(177)
بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں(177)
مَن يَهدِ اللَّهُ فَهُوَ المُهتَدى ۖ وَمَن يُضلِل فَأُولٰئِكَ هُمُ الخٰسِرونَ(178)
جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام و نامراد ہو کر رہتا ہے(178)
وَلَقَد ذَرَأنا لِجَهَنَّمَ كَثيرًا مِنَ الجِنِّ وَالإِنسِ ۖ لَهُم قُلوبٌ لا يَفقَهونَ بِها وَلَهُم أَعيُنٌ لا يُبصِرونَ بِها وَلَهُم ءاذانٌ لا يَسمَعونَ بِها ۚ أُولٰئِكَ كَالأَنعٰمِ بَل هُم أَضَلُّ ۚ أُولٰئِكَ هُمُ الغٰفِلونَ(179)
اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو ئے گئے ہیں(179)
وَلِلَّهِ الأَسماءُ الحُسنىٰ فَادعوهُ بِها ۖ وَذَرُوا الَّذينَ يُلحِدونَ فى أَسمٰئِهِ ۚ سَيُجزَونَ ما كانوا يَعمَلونَ(180)
اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے(180)
وَمِمَّن خَلَقنا أُمَّةٌ يَهدونَ بِالحَقِّ وَبِهِ يَعدِلونَ(181)
ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا ہے(181)
وَالَّذينَ كَذَّبوا بِـٔايٰتِنا سَنَستَدرِجُهُم مِن حَيثُ لا يَعلَمونَ(182)
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی(182)
وَأُملى لَهُم ۚ إِنَّ كَيدى مَتينٌ(183)
میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے(183)
أَوَلَم يَتَفَكَّروا ۗ ما بِصاحِبِهِم مِن جِنَّةٍ ۚ إِن هُوَ إِلّا نَذيرٌ مُبينٌ(184)
اور کیا اِن لوگوں نے کبھی سوچا نہیں؟ اِن کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے وہ تو ایک خبردار ہے جو (برا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے(184)
أَوَلَم يَنظُروا فى مَلَكوتِ السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ وَما خَلَقَ اللَّهُ مِن شَيءٍ وَأَن عَسىٰ أَن يَكونَ قَدِ اقتَرَبَ أَجَلُهُم ۖ فَبِأَىِّ حَديثٍ بَعدَهُ يُؤمِنونَ(185)
کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید اِن کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو؟ پھر آخر پیغمبرؐ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں؟(185)
مَن يُضلِلِ اللَّهُ فَلا هادِىَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُم فى طُغيٰنِهِم يَعمَهونَ(186)
جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ اِنہیں اِن کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے(186)
يَسـَٔلونَكَ عَنِ السّاعَةِ أَيّانَ مُرسىٰها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ رَبّى ۖ لا يُجَلّيها لِوَقتِها إِلّا هُوَ ۚ ثَقُلَت فِى السَّمٰوٰتِ وَالأَرضِ ۚ لا تَأتيكُم إِلّا بَغتَةً ۗ يَسـَٔلونَكَ كَأَنَّكَ حَفِىٌّ عَنها ۖ قُل إِنَّما عِلمُها عِندَ اللَّهِ وَلٰكِنَّ أَكثَرَ النّاسِ لا يَعلَمونَ(187)
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو "اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا وہ تم پر اچانک آ جائے گا" یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو کہو "اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے نا واقف ہیں"(187)
قُل لا أَملِكُ لِنَفسى نَفعًا وَلا ضَرًّا إِلّا ما شاءَ اللَّهُ ۚ وَلَو كُنتُ أَعلَمُ الغَيبَ لَاستَكثَرتُ مِنَ الخَيرِ وَما مَسَّنِىَ السّوءُ ۚ إِن أَنا۠ إِلّا نَذيرٌ وَبَشيرٌ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(188)
اے محمدؐ، ان سے کہو "میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہو تا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوش خبری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں"(188)
۞ هُوَ الَّذى خَلَقَكُم مِن نَفسٍ وٰحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنها زَوجَها لِيَسكُنَ إِلَيها ۖ فَلَمّا تَغَشّىٰها حَمَلَت حَملًا خَفيفًا فَمَرَّت بِهِ ۖ فَلَمّا أَثقَلَت دَعَوَا اللَّهَ رَبَّهُما لَئِن ءاتَيتَنا صٰلِحًا لَنَكونَنَّ مِنَ الشّٰكِرينَ(189)
وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے(189)
فَلَمّا ءاتىٰهُما صٰلِحًا جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فيما ءاتىٰهُما ۚ فَتَعٰلَى اللَّهُ عَمّا يُشرِكونَ(190)
مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھیرانے لگے اللہ بہت بلند و برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں(190)
أَيُشرِكونَ ما لا يَخلُقُ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ(191)
کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شریک ٹھیراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں(191)
وَلا يَستَطيعونَ لَهُم نَصرًا وَلا أَنفُسَهُم يَنصُرونَ(192)
جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں(192)
وَإِن تَدعوهُم إِلَى الهُدىٰ لا يَتَّبِعوكُم ۚ سَواءٌ عَلَيكُم أَدَعَوتُموهُم أَم أَنتُم صٰمِتونَ(193)
اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے(193)
إِنَّ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ عِبادٌ أَمثالُكُم ۖ فَادعوهُم فَليَستَجيبوا لَكُم إِن كُنتُم صٰدِقينَ(194)
تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں(194)
أَلَهُم أَرجُلٌ يَمشونَ بِها ۖ أَم لَهُم أَيدٍ يَبطِشونَ بِها ۖ أَم لَهُم أَعيُنٌ يُبصِرونَ بِها ۖ أَم لَهُم ءاذانٌ يَسمَعونَ بِها ۗ قُلِ ادعوا شُرَكاءَكُم ثُمَّ كيدونِ فَلا تُنظِرونِ(195)
کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں؟ اے محمدؐ، ان سے کہو کہ "بلا لو اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو(195)
إِنَّ وَلِۦِّىَ اللَّهُ الَّذى نَزَّلَ الكِتٰبَ ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحينَ(196)
میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے(196)
وَالَّذينَ تَدعونَ مِن دونِهِ لا يَستَطيعونَ نَصرَكُم وَلا أَنفُسَهُم يَنصُرونَ(197)
بخلاف اِس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں(197)
وَإِن تَدعوهُم إِلَى الهُدىٰ لا يَسمَعوا ۖ وَتَرىٰهُم يَنظُرونَ إِلَيكَ وَهُم لا يُبصِرونَ(198)
بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے"(198)
خُذِ العَفوَ وَأمُر بِالعُرفِ وَأَعرِض عَنِ الجٰهِلينَ(199)
اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاؤ، اور جاہلوں سے نہ الجھو(199)
وَإِمّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيطٰنِ نَزغٌ فَاستَعِذ بِاللَّهِ ۚ إِنَّهُ سَميعٌ عَليمٌ(200)
اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے(200)
إِنَّ الَّذينَ اتَّقَوا إِذا مَسَّهُم طٰئِفٌ مِنَ الشَّيطٰنِ تَذَكَّروا فَإِذا هُم مُبصِرونَ(201)
حقیقت میں جو لو گ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے(201)
وَإِخوٰنُهُم يَمُدّونَهُم فِى الغَىِّ ثُمَّ لا يُقصِرونَ(202)
رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے(202)
وَإِذا لَم تَأتِهِم بِـٔايَةٍ قالوا لَولَا اجتَبَيتَها ۚ قُل إِنَّما أَتَّبِعُ ما يوحىٰ إِلَىَّ مِن رَبّى ۚ هٰذا بَصائِرُ مِن رَبِّكُم وَهُدًى وَرَحمَةٌ لِقَومٍ يُؤمِنونَ(203)
اے نبیؐ، جب تم اِن لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟ ان سے کہو "میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے قبول کریں(203)
وَإِذا قُرِئَ القُرءانُ فَاستَمِعوا لَهُ وَأَنصِتوا لَعَلَّكُم تُرحَمونَ(204)
جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہو جائے"(204)
وَاذكُر رَبَّكَ فى نَفسِكَ تَضَرُّعًا وَخيفَةً وَدونَ الجَهرِ مِنَ القَولِ بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ وَلا تَكُن مِنَ الغٰفِلينَ(205)
اے نبیؐ، اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں(205)
إِنَّ الَّذينَ عِندَ رَبِّكَ لا يَستَكبِرونَ عَن عِبادَتِهِ وَيُسَبِّحونَهُ وَلَهُ يَسجُدونَ ۩(206)
جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آ کر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں(206)